13/09/2026
چپورسن کے عوام کا وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے نام کھلا خط۔
زلزلے کو آٹھ ماہ گزر گئے، سردیاں دروازے پر ہیں - حکومت آخر کس چیز کا انتظار کر رہی ہے؟
محترم جناب امجد حسین ایڈووکیٹ صاحب
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان
السلام وعلیکم!
یہ خط کسی سیاسی مخالفت یا پوائنٹ اسکورنگ کے لیے نہیں، بلکہ چپورسن کے ان سینکڑوں متاثرہ خاندانوں کی آواز ہے جو گزشتہ آٹھ ماہ سے زلزلوں، تباہ شدہ گھروں خیموں اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔
جنوری 2026 کے تباہ کن زلزلے کے بعد بھی چپورسن میں مختلف اوقات میں زلزلوں اور زیرِ زمین جھٹکوں کا سلسلہ جاری رہا، جس سے پہلے سے متاثرہ گھروں اور انفراسٹرکچر کو مزید نقصان پہنچا۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ تقریباً آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود وادی میں کوئی واضح، جامع اور عملی ری ہیبی لیٹیشن پلان زمین پر نظر نہیں آ رہا۔
حالیہ فیلڈ اسیسمنٹ کے مطابق چپورسن کے 12 گاؤں میں تقریباً 600 متاثرہ خاندان، یعنی لگ بھگ 4,200 افراد، اس بحران سے براہِ راست متاثر ہیں۔ بیشتر گھر یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا رہائش کے لیے غیر محفوظ ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کی بڑی تعداد اب بھی خیموں اور عارضی شیلٹرز میں رہنے پر مجبور ہے۔
اب یہ صرف گھروں کا نہیں، انسانی تحفظ کا مسئلہ ہے
زلزلے سے وادی کا کمیونٹی پاور ہاؤس، پانی کے چینلز اور پینے کے پانی کی سپلائی اسکیمیں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ بجلی، صاف پانی، اور بنیادی ہیلتھ سہولیات شدید متاثر ہیں۔
اور اب سب سے بڑا خطرہ سامنے ہے: سردیاں۔ چپورسن میں سردیوں کے دوران درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے، جبکہ بہت سے خاندان اب بھی ایسے خیموں اور عارضی شیلٹرز میں رہ رہے ہیں جہاں مناسب انسولیشن، بجلی اور گرم پانی تک موجود نہیں۔ یہ صورتحال خصوصاً بچوں، خواتین، بزرگوں، بیمار اور معذور افراد کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
جناب وزیراعلیٰ، اب ہمارے پاس مہینے نہیں، صرف چند ہفتے باقی ہیں۔
چپورسن کے عوام پوچھتے ہیں: حکومت کہاں ہے؟
ابتدائی ایمرجنسی ریلیف اپنی جگہ قابلِ قدر تھا، لیکن ریلیف، ری ہیبی لیٹیشن کا متبادل نہیں۔ آٹھ ماہ بعد بھی اگر لوگ خیموں میں بیٹھے یہ پوچھ رہے ہوں کہ سردیوں میں کہاں رہیں گے، تو یہ صرف قدرتی آفت کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ گورننس اور حکومتی ذمہ داری کا سوال بن جاتا ہے۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اب تک خود چپورسن نہیں پہنچے۔ متاثرہ لوگوں کے درمیان آکر ان کی حالت دیکھنا، ان کی بات سننا اور انہیں یہ یقین دلانا کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے، کم از کم وہ قدم تھا جس کی ایک پوری متاثرہ وادی اپنے وزیراعلیٰ سے توقع رکھتی تھی۔
ہم ایک سخت مگر جائز سوال پوچھتے ہیں:
اگر یہی صورتحال گلگت بلتستان کے کسی دوسرے علاقے، بالخصوص آپ کے اپنے علاقے میں ہوتی -سینکڑوں خاندان آٹھ ماہ سے بے گھر ہوتے اور منفی 20 ڈگری کی سردی چند ہفتے دور ہوتی -تو کیا حکومت کا ردِعمل یہی ہوتا؟
اگر نہیں، تو پھر چپورسن کے ساتھ یہ خاموشی، تاخیر اور بظاہر عدم دلچسپی کیوں؟
چپورسن دور افتادہ ضرور ہے، لیکن گلگت بلتستان سے باہر نہیں۔ یہاں کے لوگوں کی جان، عزت، تحفظ اور مستقبل بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا صوبے کے کسی دوسرے علاقے کے عوام کا۔
اب وعدے نہیں، واضح ایکشن پلان چاہیے
چپورسن کے عوام حکومت سے فوری طور پر مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ خود متاثرہ وادی کا دورہ کریں؛ سردیوں سے پہلے بے گھر خاندانوں کے لیے ونٹرائزڈ/انسولیٹڈ شیلٹرز فراہم کیے جائیں؛ پانی، بجلی، اور ہیلتھ سمیت بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی شروع کی جائے؛ اور مکمل ری ہیبی لیٹیشن کے لیے بجٹ، ذمہ دار اداروں اور واضح ٹائم لائن کے ساتھ ایک پبلک ایکشن پلان جاری کیا جائے۔
ساتھ ہی مسلسل زلزلوں اور زیرِ زمین غیر معمولی سرگرمی کے بارے میں عوام کے خدشات دور کرنے کے لیے آزاد اور قابلِ اعتماد سائنسی و جیولوجیکل تحقیقات ضروری ہیں۔ لوگوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ جس زمین پر انہیں دوبارہ گھر تعمیر کرنے ہیں، وہ محفوظ ہے یا نہیں۔
سردیاں حکومتی فیصلوں کا انتظار نہیں کریں گی
جناب وزیراعلیٰ، چپورسن کے لوگوں نے آٹھ ماہ انتظار کیا ہے۔ اب مزید سرویز، میٹنگز، فائلوں اور یقین دہانیوں سے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔
چپورسن ہمدردی نہیں، اپنا حق مانگ رہا ہے۔ وعدے نہیں، واضح پلان مانگ رہا ہے۔ مزید انتظار نہیں، عملی کام مانگ رہا ہے۔
اگر سردیوں سے پہلے بروقت اقدامات نہ ہوئے اور خدانخواستہ انسانی جانوں یا صحت کو مزید نقصان پہنچا، تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ جب خطرہ معلوم تھا، وقت موجود تھا اور عوام مسلسل آواز اٹھا رہے تھے، تو حکومت نے بروقت ایکشن کیوں نہیں لیا؟
وزیراعلیٰ صاحب، خدارا چپورسن کو مزید انتظار نہ کروائیں۔ سردیاں دروازے پر ہیں - اور وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
تحرير: نذیر احمد Copied from Nazeer Ahmed @