28/12/2025
سہیل آفریدی کے 2 جواب ایک ایثار رانا کو اور ایک منصور علی خان کو سننے لائق ہیں ملاحضہ فرمائیں....
منصور علی خان نے پوچھا کہ آپ نے دیکھا پھر لاہور کیا سوچا کہ ایسا کیا وہاں KPK میں بھی ہونا چاہئے، گویا طنز کر رہے تھے وہی زبان جو عظمیٰ بخاری کی ہے... سہیل آفریدی نے بڑے تحمل سے مسکرا کر کہا پہلی بات تو یہ کہ لاہور میں انکے پاس دو ہی چیزیں ہیں ایک سڑکیں اور دوسری بتیاں.... سڑکیں انہوں نے ہر جگہ بند کی ہوئی تھیں اور بتیاں ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اصل بتی ہوتی ہے سیاسی وہ سیاسی بتی انکی گل ہو چکی ہے میرا لیڈر کہتا ہے سڑکیں بنانے سے قومیں نہیں بنتیں قومیں عوام کو طاقتور بنانے سے بنتی ہیں عوام طاقتور ہو تو وہ سڑکیں بنا لیتی ہے، منصور علی خان سن کر خاموش........ پھر ایثار رانا بولے جس طرح پنجاب حکومت نے آپ سے بدسلوکی کی ہے تو کیا آپ بھی وہاں جا کر پنجاب حکومت کے بارے میں ایسے ہی سلوک کرنے کا اعلان کریں گے? سہیل نے کہا ایثار صاحب میری ایسی تربیت نہیں میں اپنی تربیت سے مجبور ہوں میں ایسا کچھ نہیں کروں گا. یہ وہ سہیل آفریدی ہے جو ایک ورکر تھا جس کا کل تک نام بھی کسی کو نہیں پتہ تھا مگر آج بغیر کسی پرچی بغیر کسی زرخرید صحافت کے وہ بہترین سیاست کا عملی نمونہ پیش کر گیا.