26/06/2025
بابوسر ٹاپ اور گلگت بلتستان سفر کرنے والے سیاحوں کے لیے خصوصی احتیاطی ہدایات
یاد رکھیں، میدانی علاقوں میں ڈرائیونگ اور پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ خاص طور پر بابوسر ٹاپ سے چلاس تک کا راستہ، جو تقریباً 40 کلومیٹر ہے، مسلسل اترائی پر مشتمل ہے، اس لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے
نمبر ۱ آٹومیٹک گاڑی والے حضرات L یا 2 گیر کا استعمال کریں
مینول گاڑی والے حضرات "پہلا" یا "دوسرا گیر استعمال کریں۔
اس طریقے سے بریک پر کم انحصار کرنا پڑے گا اور بریک فیل ہونے کے امکانات کم ہوں گے۔
نمبر 2۔
چلاس کی طرف آنے والے 30 سے 35 کلومیٹر تک انتہائی احتیاط سے گاڑی چلائیں تیز رفتاری یا جلد بازی سے گریز کریں تاکہ آپ اور آپ کی فیملی محفوظ رہیں۔
نمبر 3 موڑ پر کراسنگ سے گریز کریں:
پہاڑی راستوں میں موڑ پر اوورٹیک یا کراسنگ کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے سختی سے گریز کریں۔
نمبر 4۔
رات کے وقت سامنے سے آنے والی گاڑی کے قریب آتے ہی اپنی گاڑی کی ہائی بیم لائٹ کو کم کریں۔
ہائی بیم کی روشنی سامنے والے ڈرائیور کی نظر کو متاثر کر سکتی ہے، جو حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
نمبر 5۔
جہاں بھی آپ کو ٹورسٹ پولیس نظر آئے، ان سے موجودہ روڈ کنڈیشن اور گاڑی چلانے کے طریقے کے بارے میں ضرور پوچھیں۔
گلگت بلتستان خوبصورتی، ثقافت اور مہمان نوازی کی سرزمین ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس کا سفر انجوائے کریں، مگر اس کے ساتھ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔ احتیاط کریں، سفر محفوظ بنائیں اور اپنی فیملی کے ساتھ یادگار لمحات گزاریں۔
شکریہ!
راض محمّد قریشی فرام چلاس۔