UBL Travels

UBL Travels A project of UBL,
"UBL Travels" offers you reasonable deals of worldwide Airlines. Find the best one and save money! We are providing the cheapest flights

18/06/2026

شمال باكستان مكان يخطف العين قبل القلب .جبال و أنهار وطبيعة هادية كل زاوية هناك شكلها لوحة متحركة، وكل نفس فيه راحة مختلفة.





Sun Rise in Jinnah Garden lahore, Pakistan Photo.. Werdan Hashmi.
17/06/2026

Sun Rise in Jinnah Garden lahore, Pakistan
Photo.. Werdan Hashmi.

16/06/2026

Standing where history was made ✨
Discover the magic of Egypt with unforgettable experiences and timeless views 🇪🇬🐪





"ماں"پردیس میں رہنے والے بچے اکثر اپنے ماں باپ کی تنہائی کو internet connection کی طرح سمجھنے لگتے ہیں… جب تک آواز آ رہی...
16/06/2026

"ماں"

پردیس میں رہنے والے بچے اکثر اپنے ماں باپ کی تنہائی کو internet connection کی طرح سمجھنے لگتے ہیں… جب تک آواز آ رہی ہو، سب ٹھیک ہے۔
میری امّی ستر برس کی ہیں اور لاہور کے اُس گھر میں اکیلی رہتی ہیں جہاں کبھی ہم تین ایک دوسرے کی آوازوں میں جیا کرتے تھے ابا ، امی اور میں ۔

میں سترہ سال پہلے امریکہ گیا تھا۔ پہلے تعلیم کے لیے۔ پھر نوکری مل گئی۔ پھر گرین کارڈ۔ پھر شادی۔پھر بچے اور پھر زندگی اتنی تیز ہو گئی کہ وقت صرف calendar کی تاریخوں میں رہ گیا۔

شروع شروع میں امّی روز فون کرتی تھیں۔

“کھانا وقت پر کھا لینا…”
“اتنی برف میں باہر نہ نکلا کرو…”
“اپنی بیوی کو میرے لیے سلام کہنا…”

پھر آہستہ آہستہ اُنہوں نے کالز کم کر دیں۔

کیونکہ بوڑھے والدین ایک وقت کے بعد اپنی محبت بھی دھیمی کر دیتے ہیں… تاکہ اولاد کو بوجھ محسوس نہ ہو۔ہم ہر ہفتے ویڈیو کال کر لیتے تھے۔ امّی ہمیشہ ٹھیک لگتیں۔ بالوں میں سفیدی بڑھتی جا رہی تھی۔ آواز پہلے سے ہلکی ہو گئی تھی۔مگر وہ ہمیشہ یہی کہتیں

“میں بالکل ٹھیک ہوں بیٹا۔۔۔۔۔بس خوش رہا کرو۔”

اور ہم یقین کر لیتے۔

پچھلے مہینے دفتر کے کام سے اچانک گلف جانا پڑا تو پاکستان چکر لگانے کا فیصلہ بھی کر لیا۔

میں نے امّی کو نہیں بتایا۔ سوچا surprise دوں گا۔ رات تقریباً گیارہ بجے میں گلی میں داخل ہوا تو پورا محلہ ویسا ہی تھا۔
وہی پکوڑوں والے کی خوشبو۔ وہی دور کسی گھر سے آتی نیوز کی آواز۔ وہی بجلی کے تاروں پر بیٹھے پرندے۔۔۔۔۔۔صرف ایک چیز بدلی تھی۔۔۔۔۔میرا اپنا گھر اب پہلے سے بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔

میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔

کافی دیر بعد اندر سے چپل گھسیٹنے کی آواز آئی۔ پھر کنڈی کھلی اور امّی سامنے کھڑی تھیں۔
چند سیکنڈ تک وہ صرف مجھے دیکھتی رہیں۔۔۔۔۔۔جیسے آنکھیں یقین اور خواب کے درمیان پھنس گئی ہوں پھر اُنہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے میرا چہرہ چھوا۔

“سچ میں تم ہو…؟”

بس اتنا کہا اور میری ساری کامیابیاں اُس ایک جملے کے سامنے چھوٹی پڑ گئیں۔۔۔گھر میں داخل ہوا تو عجیب خاموشی تھی۔
وہی فرنیچر۔ وہی پردے۔ وہی ابو کی پرانی کرسی۔ مگر گھر میں “رہنا” ختم ہو چکا تھا۔ اب وہاں صرف “وقت گزر” رہا تھا۔
امّی فوراً کچن میں چلی گئیں۔

میں نے کہا

“امّی رہنے دیں، میں باہر سے کچھ منگوا لیتا ہوں۔”

وہ ہنس پڑیں۔

“سترہ سال امریکہ رہ کر بھی تمہیں یہ نہیں سمجھ آئی کہ ماں کے گھر میں کھانا منگوایا نہیں جاتا؟”

چند منٹ بعد وہ چائے لے آئیں۔

دو کپ۔

بالکل ویسے ہی جیسے ابو کے زندہ ہونے کے زمانے میں بنایا کرتی تھیں۔

ہم دونوں اُس پرانی میز کے پاس بیٹھ گئے… جس کے ایک کونے کی لکڑی اب بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔

میں نے پہلی بار غور سے گھر کو دیکھا۔

دیوار پر ہمارا پرانا اسکول گروپ فوٹو اب بھی لگا تھا۔
میرے کمرے کے دروازے پر آج بھی میرا نام اسٹیکر سے چپکا ہوا تھا۔
اور کچن کے کیلنڈر پر امریکہ اور پاکستان کے وقت لکھے ہوئے تھے۔

نیویارک۔
لاہور۔
فرق: دس گھنٹے۔

مجھے عجیب سا احساس ہوا۔

امّی نے اپنی زندگی دو time zones میں تقسیم کر رکھی تھی۔

ایک اپنے لیے۔
اور ایک ہمارے لیے۔

چائے پیتے ہوئے وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی رہیں۔

محلے کے اشفاق انکل فوت ہو گئے۔
سامنے والے گھر میں نئی فیملی آ گئی۔
اور اس سال آم بہت میٹھے آئے ہیں۔

پھر اچانک وہ خاموش ہو گئیں۔

کافی دیر تک کپ کے کنارے پر انگلی پھیرتی رہیں۔

پھر بولیں:

“تمہیں پتا ہے…
میں اب بھی رات کو تمہارے کمرے کی لائٹ جلا دیتی ہوں کبھی کبھی۔”

میں چونکا۔

“کیوں؟”

وہ ہلکا سا مسکرائیں۔

“عادت ہے نا۔
پہلے تم دیر تک پڑھتے رہتے تھے۔
اب کبھی کبھی لگتا ہے شاید تم لوگ اچانک واپس آ جاؤ گے۔”

خدا گواہ ہے…

اُس لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ ہجرت صرف اُن لوگوں کی نہیں ہوتی جو ملک چھوڑتے ہیں۔

اصل ہجرت اُن ماں باپ کی ہوتی ہے…
جو اپنی اولاد کے بعد اُسی گھر میں رہ جاتے ہیں۔

اگلی صبح جب میں اٹھا تو امّی پہلے ہی جاگ رہی تھیں۔

فجر کے بعد کا وقت تھا۔

وہ صحن میں پودوں کو پانی دے رہی تھیں۔

میں دروازے کے ساتھ کھڑا اُنہیں دیکھتا رہا۔

پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا…
بوڑھے لوگ چلتے نہیں، اپنی یادوں کو آہستہ آہستہ اٹھائے پھرتے ہیں۔

میں نے کہا:

“امّی، اتنی صبح کیوں اٹھ گئی ہیں؟”

وہ مسکرائیں۔

“بڑھاپے میں نیند بھی انسان سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہے۔”

پھر میرے پاس بیٹھ گئیں۔

کافی دیر خاموش رہیں۔

پھر آہستہ سے بولیں:

“تمہیں پتا ہے…
میں اب بھی شام کو دو کپ چائے بنا لیتی ہوں کبھی کبھی۔”

“دو کپ؟”

وہ ہنسیں۔

“پھر یاد آتا ہے تم لوگ تو یہاں نہیں ہوتے۔”

اُن کی ہنسی ختم ہوتے ہوتے آواز بھیگ گئی۔

اور اُس لمحے مجھے محسوس ہوا…

تنہائی شور نہیں کرتی۔

وہ انسان کی عادتوں میں آ کر رہنے لگتی ہے۔

میں نے وہیں فیصلہ کر لیا۔

میں اگلے دن واپس نہیں گیا۔

دفتر میں چھٹی بڑھا دی۔

ٹکٹ آگے کر دی۔

اور کئی برسوں بعد پہلی بار گھڑی دیکھنا چھوڑ دیا۔

اگلے چند دنوں میں میں نے ایک عجیب تبدیلی دیکھی۔

امّی بدلنے لگیں۔

آہستہ آہستہ۔

جیسے کسی سوکھے پودے کو دوبارہ پانی مل جائے۔

وہ صبح ناشتہ بناتے ہوئے گنگنانے لگتیں۔
پرانے صندوق کھول کر ہماری بچپن کی چیزیں نکالتیں۔
محلے والی خالہ کو فخر سے بتاتیں:

“میرا بیٹا آیا ہوا ہے امریکہ سے…”

اور ہر رات سونے سے پہلے پوچھتیں:

“کل کہیں باہر چلیں؟”

ایک دن میں اُنہیں انارکلی لے گیا۔

وہی بازار جہاں بچپن میں وہ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتی تھیں کہ کہیں رش میں کھو نہ جاؤں۔

اُس دن وہ میرا بازو پکڑ کر چل رہی تھیں۔

وقت شاید اسی کو کہتے ہیں۔

راستے میں انہوں نے ایک چھوٹی سی دکان سے میرے لیے کھسہ خریدنے کی ضد کی۔

میں ہنس پڑا۔

“امّی، میں امریکہ میں یہ کہاں پہنوں گا؟”

وہ چند لمحے خاموش رہیں۔

پھر بولیں:

“پتہ نہیں بیٹا…
ماں کو بس یہ لگتا ہے کہ بچہ کچھ لے کر جائے۔”

اُس رات میں بہت دیر تک سو نہیں سکا۔

میں سوچتا رہا…

ہم امریکہ جا کر بڑے گھر خرید لیتے ہیں۔
بڑی گاڑیاں۔
بڑی تنخواہیں۔
بڑی مصروفیات۔

مگر ہمارے ماں باپ اُسی پرانے گھر میں ہماری چھوٹی چھوٹی عادتوں کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔

میرے واپس آنے سے ایک رات پہلے امّی میرے کمرے میں آئیں۔

میں کپڑے پیک کر رہا تھا۔

وہ دروازے پر کافی دیر کھڑی رہیں۔

پھر بولیں:

“ایک بات پوچھوں؟”

“جی امّی۔”

“تم خوش ہو وہاں؟”

میں جواب نہ دے سکا۔

کیونکہ پہلی بار مجھے لگا…

سکون اور کامیابی ایک چیز نہیں ہوتے۔

میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔

وہ بہت ہلکا ہو چکا تھا۔

جیسے وقت آہستہ آہستہ اُنہیں دنیا سے کم کرتا جا رہا ہو۔

پھر وہ مسکرائیں اور بولیں:

“فکر نہ کرو۔
میں ٹھیک ہوں۔

یہ دنیا کا سب سے جھوٹا جملہ ہے۔

اگلی صبح جب میں ایئرپورٹ کے لیے نکلا تو امّی ہمیشہ کی طرح دروازے تک آئیں۔

میں گاڑی میں بیٹھا تو وہ کافی دیر تک دروازے کے پاس کھڑی رہیں۔

بالکل ویسے ہی… جیسے بچپن میں اسکول جاتے وقت کھڑی رہا کرتی تھیں۔

میں ایئر پورٹ کے آدھے راستے تک پہنچا تو محسوس ہوا کہ چہرہ آنسووں سے بھیگ چکا ہے میں نے ڈرائیور سے کہا گاڑی واپس موڑ لو گھر چلنا ہے ۔

گھر پہنچا ڈرائیور کو پیسے دے کر رخصت کیا ، بیگ سائیڈ پر رکھے خاموشی سے دبے پاؤں امی کے کمرے میں آیا ، امی کروٹ سے بستر پر لیٹی تھیں جسم ہل رہا تھا وہ ہچکیوں سے رو رہی تھیں میں نے آہستگی سے انکے پیروں پر ہاتھ رکھا ، ایک دم ڈر کر اٹھ بیٹھیں ۔

چہرے پر حیرت " تم گۓ نہیں ، فلائٹ نکل جاۓ گی ۔

میں نے کہا ، کہیں نہیں جا رہا نکل جانے دیں فلائٹ ۔

میں فیصلہ کر چکا تھا جب تک امی ہیں میں اب یہیں ہوں چلا گیا تو اس بوجھ تلے امی سے پہلے مر جاؤں گا کہ جب امی کو میری ضرورت تھی میں نہیں تھا پیسہ اور سکون اکثر دونوں ساتھ نہیں ملتے ، میں نے سکون کو چن لیا تھا ۔

Did you know this incredible statue is over 4,500 years old? 🗿​This is King Khafre (2500 BC)—a true masterpiece and a ma...
14/06/2026

Did you know this incredible statue is over 4,500 years old? 🗿
​This is King Khafre (2500 BC)—a true masterpiece and a marvel of ancient Egyptian engineering! 📐
​It was carved from a single, massive block of ultra-hard diorite stone, transported all the way from quarries 1,000 km away. 🪨🗺️
​This historic treasure now sits proudly in the Egyptian Museum in Cairo. 🏛️✨






Riyadh Air officially launches its first-ever commercial flight from Riyadh to London. 🇸🇦💜
12/06/2026

Riyadh Air officially launches its first-ever commercial flight from Riyadh to London. 🇸🇦💜

Petra JordanExploring Petra, Jordan, presents an exceptional journey through historical landscapes. The ancient architec...
12/06/2026

Petra Jordan
Exploring Petra, Jordan, presents an exceptional journey through historical landscapes. The ancient architecture carved into the rose-red cliffs offers a profound cultural experience.

جنوبی ایشیا (بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان) سے تعلق رکھنے والے تمام طلبہ، جو مصر کی کسی بھی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں ...
12/06/2026

جنوبی ایشیا (بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان) سے تعلق رکھنے والے تمام طلبہ، جو مصر کی کسی بھی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں اور جن کے پاس مصری اقامہ کارڈ (ریزیڈنس کارڈ) موجود ہے، ان سے گزارش ہے کہ:

مصر واپسی یا قاہرہ ایئرپورٹ پہنچنے کے وقت اپنے ساتھ تصدیق دراسی یا تدرج دراسی ضرور رکھیں، خواہ آپ کے پاس کارآمد اقامہ کارڈ موجود ہی کیوں نہ ہو۔

قاہرہ ایئرپورٹ پر امیگریشن یا متعلقہ انتظامی حکام آپ سے ایسے سرکاری ثبوت کا مطالبہ کر سکتے ہیں جس سے درج ذیل امور واضح ہوں:

• آپ کس جامعہ میں زیرِ تعلیم ہیں؟
• آپ اس وقت کس تعلیمی مرحلے میں ہیں؟
• مصر میں آپ کی قیام کی مدت کتنی ہے؟

اگر آپ مطلوبہ سرکاری اور مصدقہ دستاویزات پیش نہ کر سکیں تو آپ کے داخلے یا روانگی کے مراحل میں تاخیر ہو سکتی ہے، یہاں تک کہ آپ کی تعلیمی حیثیت کی تصدیق مکمل ہو جائے۔

لہٰذا تمام طلبہ سے درخواست ہے کہ سفر کے دوران اپنی اصل یا مصدقہ تعلیمی دستاویزات اپنے ساتھ رکھنے کا خصوصی اہتمام کریں تاکہ کسی بھی قسم کی دشواری یا تاخیر سے بچا جا سکے۔



Address

Cairo
11571

Opening Hours

Monday 8am - 10pm
Tuesday 8am - 10pm
Wednesday 8am - 10pm
Thursday 8am - 10pm
Friday 9am - 4pm
Saturday 8am - 10pm
Sunday 8am - 10pm

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UBL Travels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category