18/02/2026
حقِ حکمرانی وحق ملکیت کانفرنس
مقام: پینڈا ہیڈکوارٹر
تاریخ:17 فروری
پینڈا ہیڈکوارٹر میں 17 فروری کو منعقدہ “حقِ حکمرانی و حکومتیت کانفرنس” عوامی شعور، جراتِ اظہار اور حق گوئی کی ایک درخشاں مثال ثابت ہوئی۔ اس عظیم الشان اجتماع میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور قیادت کے ولولہ انگیز خطابات کو بھرپور توجہ سے سنا۔
آزاد جموں و کشمیر کی آن، شان اور وقار کے امین
خواجہ مہران نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک تاریخی اور ولولہ انگیز تقریر کی۔ ان کے الفاظ میں قوم کا درد، سچائی کی طاقت اور اصلاحِ احوال کا عزم نمایاں تھا۔ انہوں نے حکمرانوں کی بدانتظامی، کرپشن، اقربا پروری اور عوامی حقوق کی پامالی کو نہایت مدلل اور دوٹوک انداز میں بے نقاب کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ قومی وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان کی غیر منصفانہ تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے آئین و قانون کی بالادستی، شفاف حکمرانی اور عوامی احتساب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ عناصر جو عوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں، انہیں ہر حال میں جواب دہ ہونا ہوگا۔ ان کے خطاب نے سامعین کے دلوں میں ایک نئی امید اور حوصلہ پیدا کیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کور ممبر ایکشن کمیٹی
امتیاز اسلم نے بھی نہایت پُرجوش اور مدلل انداز اختیار کیا۔ انہوں نے معاشرتی برائیوں، ناانصافی اور بدعنوانی کے خلاف کھل کر آواز بلند کی۔ ان کے الفاظ میں جرات، استقامت اور قوم کے لیے بے لوث خلوص جھلک رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے اجتماعی جدوجہد ناگزیر ہے اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کی تقریر نے نوجوان نسل میں شعور اور عزم کی ایک نئی روح پھونک دی۔
اسی موقع پر کور ممبر ایکشن کمیٹی
سردار عمر نے بھی انتہائی خوبصورت، باوقار اور مؤثر خطاب کیا۔ ان کی گفتگو میں سنجیدگی، اخلاص اور قومی غیرت نمایاں تھی۔ انہوں نے اتحاد، نظم و ضبط اور اصولی قیادت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قوم کی بقا اور ترقی کے لیے حق و انصاف کا قیام ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ معاشرے میں اصلاح اور شفاف حکمرانی کے لیے ہم سب کو مل کر عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ ان کے خطاب نے حاضرین کے دلوں کو گرما دیا اور حق کی جدوجہد کے لیے ایک مضبوط پیغام دیا۔
یہ کانفرنس اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ قوم بیدار ہے، باشعور ہے اور اپنے حقوق کے لیے متحد ہے۔ مقررین نے نہ صرف مسائل کی نشاندہی کی بلکہ عملی اصلاحات، شفاف نظام اور عوامی خدمت کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
بلاشبہ ایسی جرات مند، اصول پسند اور باوقار قیادت ہی قوموں کی اصل طاقت ہوتی ہے۔ یہی قیادت عوام کے اعتماد کی امین ہے اور یہی قیادت قوم کو روشن، باوقار اور خودمختار مستقبل کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
حق کی آواز دبائی نہیں جا سکتی — عوامی شعور ہی اصل طاقت ہے۔