04/09/2023
حنفی فرقہ کوئی اسلامی فرقہ نہیں، یہ نبی صل اللہ علیہ وسلم کی دشمنی میں احادیث کی مخالفت میں قائم کیا گیا ایک متوازی نظریہ ہے جس کا مقصد عجمی ابوحنیفہ کی احادیث مخالف رائے کو عرب نبی صل اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے رد کے لئے استمعال کرکے عجمی انا کو تسکین پہنچانا ہے تاکہ عرب نبی صل اللہ علیہ وسلم کی مِن و عَن اتباع سے ان کی عجمی انا کو ٹھیس نہ پہنچے اور یہ خود کو مسلمان ظاہر کرکے امتِ مسلمہ کو دھوکہ بھی دیتے رہیں:
1- امام بخاری کہتے ہیں کہ ابوحنفیہ عقیدہ میں مرجئہ تھا، ابو حنیفہ کی رائے اور ابوحنیفہ کی روایت مستند نہیں ہے
(تاریخ الکبیر للبخاری جلد 8 صفحہ 81 اسنادہ صحیح)
2- امام مالک کہتے ہیں کہ دین کا معاملہ ٹھیک چل رہا تھا یہاں تک کہ ابوحنیفہ نے آ کر اپنی رائے سے بات کرنا شروع کردی اور وہ ناکام اور نامراد ہوا
(جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر روایت 2102 سندہ صحیح)
3- امام مالک فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہ اگر اس امت کے خلاف تلوار لیکر نکل جاتا تو اس سے امت کو اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا نقصان ابوحنفیہ کی رائے سے اس امت کو پہنچا ہے
(جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر روایت 2102 سندہ حسن صحیح)
4- امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ ابوحنیفہ کی اپنی بات بھی ضعیف ہے اور ابوحنیفہ کی روایات بھی ضعیف ہیں
(کتاب الضعفاء الکبیر للبخاری جلد 4 صفحہ 285 سندہ صحیح)
5- امام احمد بن حنبل نے کہا کہ ابوحنفیہ جھوٹا شخص ہے
(کتاب الضعفاء الکبیر للبخاری جلد 4 صفحہ 284 سندہ صحیح)
6- امام اوزاعی کہتے ہیں کہ ہم ابوحنیفہ کو اس لیے برا سمجھتے ہیں کیونکہ ہم حدیث سناتے ہیں اور ابو حنیفہ کا فتوی حدیث کے خلاف ہوتا ہے
(كتاب السنة لعبد اللہ بن احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 607 سندہ صحیح)
7- امام سفیان ثوری نے ابوحنیفہ کے بارے میں کہا کہ وہ اسلام کی کڑیوں کو ایک ایک کرکے توڑ رہا تھا
(کتاب الضعفاء الکبیر للبخاری روایت 382 سندہ حسن صحیح)
8- امام ابو ایوب سختیانی نے ابوحنیفہ کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہاں سے چل دو کہ یہ شخص اپنی خارش سے ہمیں بھی خارش زدہ کر دے گا
(كتاب السنة لعبد اللہ بن احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 188-189 اسنادہ صحیح)
9- امام اوزاعی کہتے ہیں کہ اسلام میں ابوحنیفہ سے زیادہ منحوس کوئی شخص پیدا نہیں ہوا
(كتاب السنة لعبد اللہ بن احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 187 اسنادہ صحیح)
10- امام ابن عون کہتے ہیں کہ اسلام میں ابوحنیفہ سے زیادہ بد بخت کوئی شخص پیدا نہیں ہوا، اور تم لوگ ایسے آدمی سے کیسے اپنا دین لے سکتے ہو جو اپنے دین کے بڑے حصے میں رسوا ہوا ہو
(كتاب السنة لعبد اللہ بن احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 189 اسنادہ صحیح)
11- امام ابن کثیر کہتے ہیں کہ ابوحنفیہ نے وضو کے معاملے میں اجماع امت کی مخالفت کی ہے
(تفسیر ابن کثیر ، سورۃ المائدہ آیت 6)
12- امام ترمذی نے کہا کہ ابوحنیفہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مخالفت کی ہے
(الجامع الترمذی مع تحفۃ الاحوزی جلد 3 صفحہ 165 اسنادہ صحیح)