16/11/2020
؟
ایبٹ آباد کا جو سیاحتی خطہ ابھی تک ڈویلپ نہیں ہوا، اگر وہ سیاحت کے لیے ڈویلپ کر دیا جاۓ تو اس کی بدولت ہر سال کتنی رقم ایبٹ آباد میں سرکولیٹ کرے گی؟
جی وہی خطہ جو نتھیاگلی سے ڈگری بنگلہ میرن جانی لال خان ڈیرہ، گلی بنگلہ تا ٹھنڈیانی تک ہے جس کی اوسط اونچائی 9000 فٹ اور لمبائی تقریبا“ 45 کلومیٹر ہے۔ اگر جنگل کے باہر کنارے کنارے کے ساتھ سیاحتی روڈ تعمیر کر دیا جاۓ تو کم از کم 6 ملین سیاح ہر سال ملک بھر اور بیرونِ ملک سے سے اس خطہ میں آ سکتے ہیں۔
آئیے ایک رف اندازہ لگاتے ہیں کہ اتنی کثیر تعداد سے سیاحوں کی آمد سے ایبٹ آباد میں کتنا پیسہ سرکولیٹ ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پہ فی سیاح کم از کم 30000 روپے بھی خرچ کرے تو
6000000*30000=1,80,00,00,0000
یعنی ہر سال کم از کم ایک سو اسی ارب روپے صرف اس بیلٹ کی بدولت ضلع ایبٹ آباد میں لوگ باہر سے آ کر خرچ کریں گے۔ جس سے روزگار اور کاروبار میں کس قدر اضافہ گا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ایک اور اہم بات پنجاب و دیگر علاقوں کو سب سے قریب ترین سیاحتی مقامات گلیات کے ہی لگتے ہیں۔ لاہور سے چھ گھنٹے کی مسافت، ملتان سے نو گھنٹے کی مسافت پہ ہیں۔
زردار اعوان