20/09/2026
جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر کشمیریوں کا احتجاج، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کا مطالبہ
جنیوا میں یورپ میں مقیم کشمیریوں اور ایک وفد نے اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر احتجاج کیا، جس میں بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی توجہ اور کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق مظاہرین نے اقوام متحدہ سے خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال کی مؤثر نگرانی، مبینہ خلاف ورزیوں پر احتساب اور عالمی سطح پر مزید توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کشمیر سے متعلق اپنی طویل عرصے سے موجود قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا حق دیا جانا چاہیے۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے کشمیر کی آبادیاتی ساخت میں مبینہ تبدیلیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور زمین سے متعلق پالیسیوں، مذہبی معاملات اور دیگر اقدامات کا حوالہ دیا۔
مظاہرین نے یو اے پی اے، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ سمیت مختلف قوانین کے استعمال پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ ان کا الزام تھا کہ ان قوانین کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں کو محدود اور سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے کشمیری سیاسی قیدیوں کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور یاسین ملک سمیت دیگر زیر حراست افراد کے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے قانونی کارروائیوں اور قیدیوں کے ساتھ سلوک کی بین الاقوامی نگرانی کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں کشمیر میں عسکری موجودگی، مذہبی مقامات اور راستوں، ماحولیاتی نقصان اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق بھی خدشات کا اظہار کیا گیا۔
مظاہرے سے آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم چوہدری پرویز اشرف، کشمیر انسٹی ٹیوٹ اور کشمیر کمیشن کے چیئرمین الطاف حسین وانی، پیس فورم کے صدر زاہد ہاشمی، حریت رہنما ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ اور دیگر کشمیری نمائندوں نے خطاب کیا۔