13/05/2026
بیٹیوں کی تعلیم اور تربیت پر برسوں کی محنت صرف اس لیے نہیں ہوتی کہ انہیں محض ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل کر دیا جائے، بلکہ اس کا مقصد انہیں ایک باوقار زندگی فراہم کرنا ہوتا ہے۔
معاشرے کی ترقی کا سفر بیٹیوں کی تعلیم سے شروع ہوتا ہے، لیکن یہ سفر صرف ڈگری کے حصول پر ختم نہیں ہونا چاہیے۔ ایک باپ جب اپنی بیٹی کو پڑھاتا ہے، تو وہ صرف اسے حرف شناسی نہیں سکھاتا، بلکہ اسے شعور کی ایک ایسی بلندی پر کھڑا کر دیتا ہے جہاں سے وہ کائنات کو ایک نئے زاویے سے دیکھتی ہے۔ لیکن المیہ تب جنم لیتا ہے جب اس "تعلیم یافتہ شہزادی" کو ایسے ماحول میں بیاہ دیا جاتا ہے جہاں علم سے زیادہ برتنوں کی چمک اور شعور سے زیادہ خاموشی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
بیٹیوں کو صرف پڑھانا کافی نہیں، بلکہ ان کے لیے ایسے ہم سفر اور گھرانے کا انتخاب کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے جو علم کی اہمیت سے واقف ہوں۔
اگر شوہر اور سسرال بیٹی کے علم کو ایک بوجھ یا خطرہ سمجھیں گے، تو وہ ڈگری محض دیوار پر لٹکا ہوا ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جائے گی۔
ایک باشعور گھرانہ وہ ہے جو بہو کو صرف "گھر کی خادمہ" نہیں بلکہ "نسلوں کی معمار" سمجھے۔ وہ جانتے ہوں کہ اگر یہ بیٹی پڑھی لکھی ہے، تو اس کے نورِ علم سے پورا گھرانہ روشن ہوگا۔
ایک تعلیم یافتہ لڑکی اس ہیرے کی مانند ہے جس کی تراش خراش میں والدین نے اپنے خون پسینے کی کمائی اور برسوں کی محنت صرف کی ہوتی ہے۔ اگر اس ہیرے کو ایسے جوہر شناس میسر نہ آئیں جو اس کی قدر جان سکیں، تو اس کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔ اسے کسی ایسے مقام پر ضائع نہ کریں جہاں اس کی عقل کو زنگ لگ جائے اور اس کے خواب دم توڑ دیں۔
والدین کو چاہیے کہ رشتہ طے کرتے وقت صرف بینک بیلنس، جائیداد یا اونچا نام نہ دیکھیں، بلکہ یہ دیکھیں کہ کیا وہ گھرانہ اس کی ذہنی سطح کا احترام کرے گا؟
کیا وہاں اسے اپنے علم کو بانٹنے اور شخصیت کو نکھارنے کی اجازت ہوگی؟
کیا اس کا ہم سفر اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ رکھتا ہے؟
بیٹی کی شادی محض ایک سماجی فریضہ نہیں، بلکہ ایک امانت کی صحیح جگہ منتقلی ہے۔ اسے ایسے ہاتھوں میں سونپیں جو اس کی کتابوں سے بھی اتنی ہی محبت کریں جتنی اس کی ذات سے کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، ایک روشن خیال بیٹی جب ایک قدردان گھرانے میں جاتی ہے، تو وہ صرف ایک گھر نہیں بلکہ ایک پوری نسل کو منور کر دیتی ہے۔