11/11/2023
دلکشاع باغ
کابل سے لاہور اور دہلی جانے کے لیے دو راستے استعمال کیے جاتے تھے ایک ہارڈ روٹ جو پشاور سے ہوتا ہوا سوات کے راستے پہاڑی راستہ تھا دوسرا سافٹ روٹ جو ڈیرہ اسمعیل خان سے ہوتے ہوئے بھکر اور پھر آگے دہلی لاہور اور ملتان کی طرف بھی جاتا تھا یہ سفر پہاڑی راستے سے بہت آسان تھا۔ ڈیرہ اسمعیل خان سے بھکر کو آنے کے لیے دریائے سندھ عبور کرنا پڑتا تھا۔ بھکر کی طرف سے ایک پتن تھا جس کو دلکشاع کہا گیا اصل میں یہ دریائی پتن تھا اس کو پار کرتے ہی ملتان کو جانے کے لیے کوس مینار تھا جو بعد میں چمنی محلہ میں آیا اور دوسری سمت جانے کے لیے دریا کے ساتھ ساتھ ہی ایک جرنیلی روٹ بنایا گیا تھا جو دریاخان سے آگے جاتا تھا جس کے لیے کوس مینار الگ بنے ہوئے تھے۔
تاریخی پس منظر دیکھا جائے تو افغانستان کے ہر جنگجو نے یہی راستہ استعمال کرتے تھے جن میں منگولوں کے حملے بھی کچھ اسی راستے سے ہوئے اور منگولوں سے تنگ ہو کر لوگ بھی اسی راستے سے پار ہو کر ملتان کی طرف گئے۔
پتن سے دلکشاع باغ کب بنا:
اس مقام سے 1640 میں مغل قافلہ گزر رہا تھا جس میں شہنشاہ جہانگیر کی بیٹی مہرنسا بھی تھی جو آپنے پیارے گھوڑے پر سوار تھی اسی مقام پر ان کا گھوڑا بیمار ہوا اور مر گیا۔ مہرنسا نے اس پتن کو اس گھوڑے کی یاد میں باغ میں تبدیل کر دیا یہ جگہ دونوں طرف سے دریا کی ندیوں میں گھری ہوئی تھی کھجور کے درخت تھے جن کو ترتیب دے کر دوبارہ لگایا گیا اور گھوڑے کو اسی مقام پر دفنا دیا گیا جس پر گھوڑا مینار بنایا گیا۔ ہندوستان میں دو مقام پر جانورں کی یاد میں ایسے مقام بنائے گئے ایک ہرن مینار شیخوپرہ اور دوسرا گھوڑا مینار بھکر۔اس باغ کو اس خوبصورتی سے ترتیب و تزین و آرائش دی گئی کہ شہزادی نے اس باغ کا نام دلکشاع باغ رکھ دیا۔ اس باغ کہ ایک خوبصورتی وجہ یہ بھی تھی کہ اس میں کھجور کے درخت زیادہ لگائے گئے تھے۔ دلکشاع باغ ہندوستان میں دو جگہ بنائے گئے ایک لاہور جہاں اب جہانگیر کا مقبرہ ہے اور دوسرا بھکر کا دلکشاع باغ۔ وقت گزرتا گیا یہ باغ پتن کے طور پر بھی استعمال ہوتا رہا۔
جب جدت آگئی اور کشتی پل بننے لگے تو بھکر کی بجائے دریاخان کو اس پل کے لیے اہمیت دی گئی کیونکہ دریاخان سے پل کم فاصلے پر ڈیرہ اسمعیل خان شہر کو لنک کرتا تھا۔ انگریز دور میں یہ پل آرمی کے لیے بنایا گیا اور آرمی یہی پل استعمال کرتی رہی۔ اس پل کے بننے سے دلکشاع باغ کی اہمیت ختم ہو گئی باغ ویران ہونے لگا مسلسل دریا چڑھنے کی وجہ سے باغ میں بنائے گئے نشانات بھی ختم ہونے لگے اور مہرنسا کا بنایا گیا گھوڑا مینار بھی ختم ہو گیا۔
بلوچ دور میں اس باغ کے ساتھ ہی ایک باغ تعمیر کیا گیا تھا جہاں بھکر کے سردار بکھو یا بکھر خان کا مقبرہ بھی تھا جو باغ مقبرے سمیت قبضے میں چلا گیا ہے۔
(نوٹ: یہ الفاظ لفظِ آخر نہیں ہیں )
Photo: Malik Arbab