Bhakkar view

Bhakkar view Information for Bhakkar, you can see beautiful place's and best food point in Bhakkar

دلکشاع باغ کابل سے لاہور اور دہلی جانے کے لیے دو راستے استعمال کیے جاتے تھے ایک ہارڈ روٹ جو پشاور سے ہوتا ہوا سوات کے را...
11/11/2023

دلکشاع باغ

کابل سے لاہور اور دہلی جانے کے لیے دو راستے استعمال کیے جاتے تھے ایک ہارڈ روٹ جو پشاور سے ہوتا ہوا سوات کے راستے پہاڑی راستہ تھا دوسرا سافٹ روٹ جو ڈیرہ اسمعیل خان سے ہوتے ہوئے بھکر اور پھر آگے دہلی لاہور اور ملتان کی طرف بھی جاتا تھا یہ سفر پہاڑی راستے سے بہت آسان تھا۔ ڈیرہ اسمعیل خان سے بھکر کو آنے کے لیے دریائے سندھ عبور کرنا پڑتا تھا۔ بھکر کی طرف سے ایک پتن تھا جس کو دلکشاع کہا گیا اصل میں یہ دریائی پتن تھا اس کو پار کرتے ہی ملتان کو جانے کے لیے کوس مینار تھا جو بعد میں چمنی محلہ میں آیا اور دوسری سمت جانے کے لیے دریا کے ساتھ ساتھ ہی ایک جرنیلی روٹ بنایا گیا تھا جو دریاخان سے آگے جاتا تھا جس کے لیے کوس مینار الگ بنے ہوئے تھے۔
تاریخی پس منظر دیکھا جائے تو افغانستان کے ہر جنگجو نے یہی راستہ استعمال کرتے تھے جن میں منگولوں کے حملے بھی کچھ اسی راستے سے ہوئے اور منگولوں سے تنگ ہو کر لوگ بھی اسی راستے سے پار ہو کر ملتان کی طرف گئے۔

پتن سے دلکشاع باغ کب بنا:

اس مقام سے 1640 میں مغل قافلہ گزر رہا تھا جس میں شہنشاہ جہانگیر کی بیٹی مہرنسا بھی تھی جو آپنے پیارے گھوڑے پر سوار تھی اسی مقام پر ان کا گھوڑا بیمار ہوا اور مر گیا۔ مہرنسا نے اس پتن کو اس گھوڑے کی یاد میں باغ میں تبدیل کر دیا یہ جگہ دونوں طرف سے دریا کی ندیوں میں گھری ہوئی تھی کھجور کے درخت تھے جن کو ترتیب دے کر دوبارہ لگایا گیا اور گھوڑے کو اسی مقام پر دفنا دیا گیا جس پر گھوڑا مینار بنایا گیا۔ ہندوستان میں دو مقام پر جانورں کی یاد میں ایسے مقام بنائے گئے ایک ہرن مینار شیخوپرہ اور دوسرا گھوڑا مینار بھکر۔اس باغ کو اس خوبصورتی سے ترتیب و تزین و آرائش دی گئی کہ شہزادی نے اس باغ کا نام دلکشاع باغ رکھ دیا۔ اس باغ کہ ایک خوبصورتی وجہ یہ بھی تھی کہ اس میں کھجور کے درخت زیادہ لگائے گئے تھے۔ دلکشاع باغ ہندوستان میں دو جگہ بنائے گئے ایک لاہور جہاں اب جہانگیر کا مقبرہ ہے اور دوسرا بھکر کا دلکشاع باغ۔ وقت گزرتا گیا یہ باغ پتن کے طور پر بھی استعمال ہوتا رہا۔
جب جدت آگئی اور کشتی پل بننے لگے تو بھکر کی بجائے دریاخان کو اس پل کے لیے اہمیت دی گئی کیونکہ دریاخان سے پل کم فاصلے پر ڈیرہ اسمعیل خان شہر کو لنک کرتا تھا۔ انگریز دور میں یہ پل آرمی کے لیے بنایا گیا اور آرمی یہی پل استعمال کرتی رہی۔ اس پل کے بننے سے دلکشاع باغ کی اہمیت ختم ہو گئی باغ ویران ہونے لگا مسلسل دریا چڑھنے کی وجہ سے باغ میں بنائے گئے نشانات بھی ختم ہونے لگے اور مہرنسا کا بنایا گیا گھوڑا مینار بھی ختم ہو گیا۔
بلوچ دور میں اس باغ کے ساتھ ہی ایک باغ تعمیر کیا گیا تھا جہاں بھکر کے سردار بکھو یا بکھر خان کا مقبرہ بھی تھا جو باغ مقبرے سمیت قبضے میں چلا گیا ہے۔

(نوٹ: یہ الفاظ لفظِ آخر نہیں ہیں )
Photo: Malik Arbab

یہ کٹاس راج ہے۔بھکر سے تقریبا چار گھنٹے کی مسافت پر چکوال میں واقع ایک تاریخی مقام‘ جہاں ہزاروں سال پہلے کی تاریخ سانس ل...
13/10/2023

یہ کٹاس راج ہے۔
بھکر سے تقریبا چار گھنٹے کی مسافت پر چکوال میں واقع ایک تاریخی مقام‘ جہاں ہزاروں سال پہلے کی تاریخ سانس لے رہی ہے۔ سطحِ سمندرسے تقریباً اڑھائی ہزار فٹ بلند ‘اس جگہ پربنے ہوئے مندر اور ان سے ملحق حویلیاں دورسے ہی نظرآجاتی ہیں۔
کبھی یہ جگہ علم و فن کا مرکز تھی۔یہاں ایک قدیم یونیورسٹی تھی ‘جہاں اور علوم کے علاوہ سنسکرت کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔کہتے ہیں کہ مشہور مسلمان ماہرِ ارضیات ‘ ریاضی‘ تاریخ اور نجوم ابو ریحان البیرونی نے کٹاس راج میں واقع اسی یونیورسٹی میں سنسکرت کی تعلیم حاصل کی تھی ۔

یہ البیرونی ہی تھا‘ جس نے کٹاس راج سے کچھ ہی دور پنڈ دادن خان کے مقام نندہ میں کئی سوسال پہلے زمین کے محیط اور قطر کی درست پیمائش کی تھی۔یہاں مندروں کے قریب ایک بدھ سٹوپا کے بھی آثار ہیں‘ جو بدھ پیروکاروں کی عقیدت کا مظہر اور بین المذاہب تعلق کا آئینہ دار ہے۔

کٹاس راج کی ایک اہمیت یہ بھی تھی کہ یہاں ہندوؤں کے چار وید تحریر کئے گئے۔ کہتے ہیں‘ جب پانڈو برادران کو جلاوطن کیا گیا‘ تو انہوں نے یہیں پناہ لی اور اپنی جلاوطنی کے دن یہاں گزارے۔
روایت ہے کہ شیو کواپنی بیوی ستی سے بہت محبت تھی۔ دونوں کاایک دوسرے کے بغیرزندگی کاتصورمحال تھا۔ سچ ہے کہ زندگی میںمحبت کی چاشنی ہی اس کوخوبصورت بنادیتی ہے‘ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زندگی کے سفرمیں مسافرملتے ہیں اوربچھڑ جاتے ہیں۔ ایک روز ستی بھی شیوکوچھوڑ کرہمیشہ کے لیے اجل کی وادی میں اترگئی‘ جہاں سے لوٹ کر کوئی کبھی واپس نہیں آتا۔

اس روز شیومہاراج پر انکشاف ہوا کہ زندگی ستی کے بغیر کتنی بے معنی‘ کتنی بے رنگ ہے۔ اس روز‘ وہ اپنی بے بسی پرٹوٹ کررویا۔اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی قطاریں موتیوں کی لڑیوں کی صورت بہہ رہی تھیں۔کہتے ہیں آنسوئوں کی ایک لڑی اجمیر کے قریب ایک مقام پر گری‘ جہاں ایک چشمہ بن گیا۔ آنسوئوں کی دوسری لڑی کٹاس راج کے مقام پر گری‘ جہاں ایک اور چشمہ بن گیا۔

یہ آنسوئوں کاچشمہ بڑھتے بڑھتے ایک تالاب بن گیا۔ اس تالاب کا رقبہ دوکنال سے زیادہ اورگہرائی تیس فٹ کے قریب ہے ۔ تالاب کے اردگرد چھوٹے بڑے مندر ہیں۔ محبت جب عقیدت میں ڈھلتی ہے ‘تو فن کے شاہکار وجود میں آتے ہیں۔ ہمیں اس دعوے پر اعتبار آجاتا ہے‘ جب ہم ان مندروں کی طرزِتعمیراور ان میں بنے خوبصورت نقش ونگار کودیکھتے ہیں۔

وسیع وعریض کٹاس راج کے گیٹ سے داخل ہوں‘ تو ایک متاثرکن منظر نگاہوں کے سامنے آتاہے۔ قدیم راستوں پر چلتے ہوئے بائیں ہاتھ بلندی کی طرف جاتا ہوا راستہ ہے‘ جس پرست گراہ کابورڈ لگا ہے۔ یہاں سات مندروں کاجھرمٹ ہے۔شیو مہاراج کے مندر کی خوبصورت عمارت کی بالائی منزل پر دریچوں سے روشنی اورہوا آتی ہے اوریہاں سے اردگرد کے منظربھی دکھائی دیتے ہیں۔ تالاب کی سڑھیوں سے اوپر بارہ دری ہے۔ بارہ دری کے دروازوں سے تالاب اورتالاب کے اس طرف شیوکا مندر صاف دکھائی دیتاہے

07/09/2023

Bhakkar mini zoo about mini zoo bhakkar

05/08/2023

02/06/2023

My 1st volg in Pizza Garden Bhakkar view

داجلداجل نام کی اولین آبادی جام پور سے 30 کلومیٹر مغرب میں بسائی گئی۔ ناہڑ قبیلے کے ایک فرد داؤد ناہڑ نے یہاں ایک جال کے...
28/05/2023

داجل

داجل نام کی اولین آبادی جام پور سے 30 کلومیٹر مغرب میں بسائی گئی۔ ناہڑ قبیلے کے ایک فرد داؤد ناہڑ نے یہاں ایک جال کے درخت کے نیچے پڑاؤ ڈالا جو اسی سے منسوب ہوا۔
داؤد ناہڑ کے ریوڑ اس علاقے کی چراگاہوں میں چرتے رہتے اور یوں یہ جگہ داؤد جال کے نام سے مشہور ہوئی اور پھر داجل بنی۔
اچ شریف و سیت پور سے خراسان کی طرف جاتے قدیمی راستوں اور محل وقوع کی بنیاد پر داجل کا علاقہ ایک تجارتی گزرگاہ کے طور پر بھی مستعمل رہا اور چاچڑ درے کے راستے قافلے اسی علاقے سے گزرتے تھے۔ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے اپنے سفر ناموں میں اسی داجل و ہڑنڈ کا ذکر کیا ھے۔

سولہویں صدی عیسوی میں جب ڈیرہ جات کی تشکیل ہوئی اور دریائے سندھ کے دونوں اطراف انتظامی خدوخال تشکیل دئیے گئے تو اس کیلئے بنیادی کردار اس وقت کے دریائی پتن اور گھاٹ بنے۔
اور انہی میں سے ایک پتن ڈیرہ اسماعیل خان اور دریا خان کے درمیان بنا جسے داجل پتن کا نام دیا گیا۔ اور یہ نام رکھتے وقت یقیناً پرانے داجل سے وابستگی و عقیدت کو مدنظر رکھا گیا ہو گا۔ یہاں دامان کے علاقوں سے کھوکھر قبائل اکثریت میں آباد ہوئے جبکہ داجل کے جنوب میں شہانی اور مشرق میں ممدانی قبائل بھی اس کی وجہ تسمیہ کو کوہ سلیمان کے دامانی داجل سے ملاتے ہیں۔ داجل گھاٹ مدتوں ڈیرہ جات و تھل کے بیچ آمد و رفت کیلئے مستعمل رہا ھے۔

اس کے پتن اور دریائی گھاٹ جہاں میر سہراب ہوت، جام اسماعیل ہوت اور دریا خان کی کہانیوں کے امین ہیں وہیں یہاں میٹھی سرائیکی بولتے پرامن لوگ دریائے سندھ کی کرشماتی تاثیر کی جیتی جاگتی داستان ہیں۔

پنج پری مچھلی کو دیکھ کر جنہوں نے پنج پاڑی کو بسایا اور نشیبی علاقے کی خصوصیات کے اظہار کیلئے گھلکنڑ (Ghilkinr) نام استعمال ہوا اور پوزل کندھی کی شاخیں بھی داجل کے اطراف بہتے سریلے پانیوں کو رواں رکھنے کا سبب بنیں۔ جہاں ہر ڈھنڈ، وہیرا، ڈھورا اور کندھی آج بھی ایک لاجواب نام رکھتے ہیں۔

1984 میں دریائے سندھ پر پل بننے کے بعد ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ضلع بھکر کے علاقے کوٹلہ جام تک بین الصوبائی سڑک اسی داجل سے ہو کر گزرتی ھے۔

داجل اور ابن بطوطہ کی آمد سے متعلق تاریخی مواد دامان والے داجل سے متعلق ہیں جبکہ ہمارے کچھ مصنفین نے اسے بھکر کی قدامت سے جوڑتے ہوئے داجل پتن سے ملا دیا ھے جو کہ ایک غلط فہمی ھے۔

ابن بطوطہ داجل ضرور گئے لیکن وہ داجل پتن نہیں بلکہ خراسان و ہندوستان کے درمیان موجود پرانا داجل تھا جس سے ہمارے بھکر کا داجل منسوب ہوا ھے۔

اقتباس۔۔۔
1. تاریخ راجن پور
2. ڈسٹرکٹ گزئٹئر ڈیرہ غازی خان
3. تاریخ منکیرہ
4. محترم نذیر سلطان داجلوی صاحب

 دریا خان (قبول محمد لاشاری سے دولھا دریا خان کی کہانی)وادئ سندھ کی سمہ سلطنت کے جام نظام الدین سمہ ایک عظیم حکمران تھے۔...
28/05/2023


دریا خان
(قبول محمد لاشاری سے دولھا دریا خان کی کہانی)
وادئ سندھ کی سمہ سلطنت کے جام نظام الدین سمہ ایک عظیم حکمران تھے۔ جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے کچھ عرصہ اولاد نہیں دی تھی۔ سبی میں دوران شکار ان کی ملاقات ایک لاشاری نوجوانوں قبول محمد سے ہوئی جسے انہوں نے اپنا منہ بولا بیٹا بنایا اس کی ٹھٹھہ میں پزیرائی کی اور کچھ ہی عرصے میں وہ نوجوان اپنی قابلیت اور استعداد کی بدولت سلطنت کا جرنیل دریا خان لاشاری مشہور ہوا۔ وادئ سندھ کی تاریخ اور لوک داستانوں میں سب سے زیادہ ذکر اسی جرنیل کاھے۔ دریا خان لاشاری نے ارغون اور منگولوں کو درہ بولان کے پاس بی بی نانی کی جنگ میں شکست فاش دی اور فتح مند ہو کر ٹھٹھہ پہنچا تو سندھ دھرتی کے لوگوں نے اسے دولھا دریا خان کا لقب دیا۔ بہادری اور بصیرت کی تاریخ رقم کرتا یہ جرنیل ٹھٹھہ کے قریب فتح پور کی جنگ میں ارغون اور منگول افواج کے ہاتھوں اس وقت شہید ھوا جب اس کی فوج کے کچھ ابن الوقتوں اور جام فیروز نے میدان جنگ میں پیٹھ دکھائی۔ ٹھٹھہ، بکھر سکھر اور سندھ کے باقی علاقوں سے بلوچ اور جاٹ قبائل نے براستہ اچ شریف، ملتان اور شورکوٹ سے ڈیرہ جات کی طرف ہجرت کی۔ اچ شریف اور شورکوٹ کے سمہ گورنروں جام ابراہیم اور جام بایزید سمہ نے ان قبائل کی خوب پزیرائی کی اور لنگاہ سلطنت میں ڈیرہ جات کی تشکیل ہوئی۔ ڈیرہ جات کے بلوچ قبائل نے ڈیرہ اسماعیل خان کے مشرق میں بسایا دریا خان جو آج بھی وادئ سندھ کے اس عظیم جرنیل کی نسبت کا آمین ھے اور ضلع بھکر کی تحصیل دریا خان کہلاتا ہے۔
References...
1. بھکر داستان
2۔ تاریخ سندھ میر معصوم باکھری
3. History of Sindh by it's own historians
4. Glossary of tribes & castes of Punjab and NWFP

  بھکر سے 20 کلومیٹر جنوب میں موجود نوتک ضلع بھکر کی قدیم ترین آبادیوں میں سے ایک ھے۔ جام اسماعیل خان اول نے جہاں ڈیرہ ا...
28/05/2023



بھکر سے 20 کلومیٹر جنوب میں موجود نوتک ضلع بھکر کی قدیم ترین آبادیوں میں سے ایک ھے۔ جام اسماعیل خان اول نے جہاں ڈیرہ اسماعیل خان کی بنیادیں رکھیں وہیں ان کے فرزند نوتک خان ہوت (اسماعیل خان دوئم) نے لال ماہڑہ کی سیدھ میں دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر نوتک کی بنیادیں رکھیں۔ ایک ایسی آبادکاری جو لال ماہڑہ، ببر گھاٹ اور منکیرہ ریاست کے بالکل درمیان میں پڑتی تھی اور کسی زمانے میں دریائے سندھ کا مشرقی کنارہ نوتک کے ساتھ جا لگتا تھا۔ نوتک خان کے نام سے منسوب یہ نوتک شہر ان کا اجڑا ہوا مقبرہ بھی رکھتا ھے جہاں اس شہر کے بانی مدفون ہیں۔
آرکیٹیکچر میں لال ماہڑہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے مقابر سے مشابہت رکھتا یہ مقبرہ تین اطراف داخلی راستوں کے ساتھ ساتھ چوتھی طرف محراب رکھتا ھے۔ چوکور شکل کے اس مقبرہ کے چار اطراف قلعہ نما برج ہیں جن کے اندرونی حصوں میں ترچھی ڈاٹ کے آثار بالکل لال ماہڑہ کے جیسے ہیں۔ بیرونی دیواروں میں روغنی و فیروزی ٹائلز کا کام آج تک موجود ھے۔
مشرقی دیوار تقریباً گر چکی ھے جبکہ باقی دیواریں اب بھی موجود ہیں۔ ہمارے علاقے اور ڈیرہ جات کا یہ تاریخی ورثہ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ، سیاستدانوں اور عوام کی لاپرواہی کی بدولت کھنڈرات میں تبدیل ہوتا جا رہا ھے۔
مدتوں اس تاریخی اثاثے کو ہندیرا پکار کر اس سے لاپرواہی برتی گئی۔ اور ہمارے علاقے کی پہچان یہ تاریخی عمارت ہماری آنکھوں کے سامنے ریزہ ریزہ ہوئی جاتی ھے۔
کچھ عرصہ قبل جب ہم ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے لال ماہڑہ میں مقابر دیکھنے گئے تو وھاں مہے قبیلے کے سفید ریش بزرگ نے نوتک کے مقبرہ کی حالت زار کا شکوہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ مقبرہ نوتک لال ماہڑہ کے تمام مقابر سے بڑا اور عظیم شان و شوکت والا تاریخی اثاثہ تھا۔
نوتک شہر جہاں ضلع بھکر کا تیزی سے ترقی کرتا تجارتی قصبہ بن چکا ھے اس کے بانی کا مقبرہ آج بھی کسی ہوت بلوچ کی راہ تک رھا ھے۔
سردار عثمان بزدار کی صوبائی حکومت اور بلوچ سیاستدانوں سے اپیل ھے کہ اس تاریخی اثاثے کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔
ورلڈ ہیریٹیج ڈے کی مناسبت سے مقبرہ نوتک خان میں گزارے کچھ لمحات۔۔۔
نوتک خان ہوت کے نام۔💞
اقتباس۔۔۔
1۔ Off brick & myth
2. تاریخ بھکر
3. بھکر داستان

view

مقبرہ سید میراں شاہبھکر سے 20 کلومیٹر شمال میں کہاوڑ کلاں میں موجود مقبرہ سید میراں شاہ اپنے آرکیٹیکچر میں بے مثال ھے۔ پ...
28/05/2023

مقبرہ سید میراں شاہ
بھکر سے 20 کلومیٹر شمال میں کہاوڑ کلاں میں موجود مقبرہ سید میراں شاہ اپنے آرکیٹیکچر میں بے مثال ھے۔ پتلی ٹائلز، محرابوں اور چاروں کونوں پر بنے قلعہ نما مینار اس ڈیزائن کو اور بھی خوبصورت بناتے ہیں۔
سید میراں شاہ سے متعلق دستیاب معلومات انہیں اچ شریف کے بخآری سادات سے منسوب کرتی ہیں۔ ڈیرہ جات میں مختلف مقامات پر سادات کے مقابر ان کے مریدین نامور بلوچ سلاطین نے تعمیر کروائے جو اس علاقے کی تاریخ اور ارتقائی مراحل کا لازوال حوالہ ہیں۔
اس مقبرہ کا جغرافیہ جہاں اسے کہاوڑ قبیلہ کے مرکز کہاوڑ کلاں میں ھے وہیں اس کی کوٹلہ جام ، دریا خان اور کلورکوٹ جاتے راستوں پر موجودگی اسے اس علاقے کی تاریخ و آبادکاری کے اہم مراکز میں سے بناتی ھے۔
سید میراں شاہ کے خانوادے سے ایک برگزیدہ ہستی بی بی جند وڈی ہیں جو ضلع بھکر کے علاقے نوتک میں مدفون ہیں۔ یقیناً ان کا نام بھی اچ شریف کی بی بی جند وڈی سے منسوب ہوا ہو گا۔ نوتک میں ہی بی بی جند وڈی کی اولاد موجود ھے۔
سید میراں شاہ کے خانوادے سے ایک اور بزرگ سید صادق علی شاہ بخاری تھے جو ضلع بھکر کے علاقے بہل میں مدفون ہیں ۔

سید میراں شاہ کا مقبرہ ریلوے لائن کہاوڑ کلاں کے مشرق اور انسانی آبادی سے دور ہونے کی بنا پر انتہائی بہتر حالت میں موجود ھے اور صرف اس کی شمال مشرقی طرف کچھ دراڑ ھیں جنہیں مرمت کرکے زیادہ بہتر محفوظ کیا جا سکتا ھے۔
کوٹلہ جام ، کہاوڑ کلاں، دریا خان اور کلورکوٹ کے بیچ تزویراتی شاہراہ پر اس مقبرہ کی موجودگی اس علاقے کی تاریخ کا ایک بڑا حوالہ ھے۔ اور اسے محفوظ بنا کر بھکر و ڈیرہ جات کی تاریخ کا بڑا حوالہ ہم آنیوالی نسلوں کو منتقل کر سکتے ہیں۔

کوشش ھے کہ اس مقبرہ کے متعلق کوئی دستاویز ملے تو کوئی تفصیلی مضمون لکھ کر اس حوالہ کو محفوظ کر سکوں۔

(بھکر سے پنجگرائیں جاتے ہوئے کچھ ایکسپلورنگ اور اس کی تصاویر)

 ضلع بھکر میں موجود دو کوس مینار اپنی ساخت کے اعتبار سے منفرد ھیں۔ ایک ٹبہ اکبر شاہ پنجگرائیں کے پاس ریت کے ایک اونچے ٹی...
28/05/2023


ضلع بھکر میں موجود دو کوس مینار اپنی ساخت کے اعتبار سے منفرد ھیں۔ ایک ٹبہ اکبر شاہ پنجگرائیں کے پاس ریت کے ایک اونچے ٹیلے پر تھا جو کہ اب زمین بوس ھو چکا ھے۔ ٹبہ اکبر شاہ کے مینار کو ھم پتن مینار سے بھی تشبیہ دے سکتے ھیں کیونکہ اس کے مغرب میں ھی کسی زمانے میں دریائے سندھ پر پتن تھا۔
رحمان ڈھیری (ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے قدیم ترین آثار) کے بالکل سیدھ میں دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر اسکی موجودگی اسکی اھمیت کو واضح کرتی ھے۔ جب رحمان ڈھیری اور ڈیرہ اسماعیل خان سے قافلے کشتیوں کے ذریعے اس کوس مینار کی سیدھ میں اترتے تھے اور براستہ تھلہ سریں ، جنڈانوالہ، مٹھہ ٹوانہ، بھیرہ سے ھوتے ھوئے جہلم، نندنہ اور دھلی جایا کرتے تھے۔

ٹبہ اکبر شاہ مینار سے ملتے جلتے کوس مینار کی بنیاد نوتک سے دو کلومیٹر مشرق میں قصائن کھوہ پر آ ج بھی موجود ھے۔ جو کہ صحرائے تھل کے مشرقی علاقوں منکیرہ، حیدرآباد تھل، نواں کوٹ اورشورکوٹ سے نوتک آنیوالے قافلوں کی رھنمائی کیلئے بنوایا گیا۔ نوتک سے جڑی یہ تاریخی نشانی اب زمین بوس ھونے کو ھے۔

ضلع رحیم یار خان کی خوش بختی کہ انہوں نے اپنے پتن مینار کو محفوظ بنایا ھوا ھے اور ھماری بدبختی کہ ھمارے یہ کوس اور پتن مینار ایک ایک کر کے زمین بوس ھوتے جارھے ھیں۔

منکیرہ  سید جلال الدین سرخ پوش بخاری اور بابا فرید الدین گنج شکر کے زمانے میں جب سیال قبائل نے جھنگ اور گردونواح میں آبا...
28/05/2023

منکیرہ

سید جلال الدین سرخ پوش بخاری اور بابا فرید الدین گنج شکر کے زمانے میں جب سیال قبائل نے جھنگ اور گردونواح میں آباد کاری تو ان قبائل میں دھیرج نام کی ایک شخصیت تھی جن کے دو فرزند تھے ایک کانام تھا مانک اور دوسرے آمو، مانک کی نسبت سے تھل میں منکیرہ بنا اور آمو نے بسایا اموانی۔ پندرھویں صدی میں جب ملتان کے لنگاہ سلاطین نے ڈیرہ جات (ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان) میں کیچ مکران کے بلوچ قبائل کو مقتدر بنایا اور خراسان و ریاست ملتان کے بیچ ایک حد بندی قائم کردی۔ ڈیرہ جات میں ہوت و میرانی قبائل شروع میں زیادہ تعداد میں آئے۔ اسی دور میں سندھ کے حکمران جام نظام الدین سمہ کے زیر عتاب کچھ سمہ شہزادوں نے ملتان کے لنگاہ حکمرانوں کے پاس پناہ لی۔ اور سلطان حسین لنگاہ نے جام ابراھیم سمہ اور جام بایزید سمہ کو اچ شریف اور شورکوٹ کی ذیلی جاگیریں عطا کیں۔ ان سمہ گورنروں نے سندھ و بلوچستان کے قبائل کی اچ شریف و شورکوٹ میں خوب پذیرائی کی اور یوں جنوب سے شمال کی طرف ایک منظم ہجرت و فتوحات کا سلسلہ چلا۔ سبی سے میر چاکر اعظم رند اسی زمانے میں اچ شریف تشریف لائے اور اچ شریف سے شورکوٹ و بھیرہ تک بلوچ قبائل کی منظم آبادکاری ہوئی۔ دریائے سندھ کے مغربی کنارے کے ساتھ جہاں ڈیرہ جات بنے وہیں تھل کے مشرقی کنارے اور دریائے جہلم کے بیچ ایک اور کچھی بسائی گئی جس میں رند، لاشار ، مگسی، ممڑ اور باقی بلوچ قبائل آباد ہوئے۔ منکیرہ ڈیرہ اسماعیل خان اور شورکوٹ کے درمیان برابر جغرافیائی فاصلے کی بدولت ایک مرکزی، دفاعی و معاشرتی مرکز بن کر ابھرا۔ صحرائی علاقے کی یہ سرزمین ان قبائل کیلئے ایک پسندیدہ جگہ بنی جن کی معاشی خودمختاری ان کے ریوڑ تھے۔ ایک طرف تھل کے مشرق میں دریائے جہلم کے ساتھ کچھی اور دوسری طرف تھل کے مغرب میں دریائے سندھ سے جڑی سونا اگلتی کچھی اور بیچ میں یہ ناقابل تسخیر قلعہ منکیرہ جس کے چرچے مکران سے کالاباغ و کابل تک تھے ۔ ہوت عمائدین کے بعد ڈیرہ غازی خان کے میرانی قبائل نے اس علاقے کو اپنی عملداری میں لیا اور میر سپہ داد رند کو منکیرہ کا کنٹرول دیا گیا۔ ان کے بعد میر رند خان سردار بنے اور وہ پندرہ دن منکیرہ اور پندرہ دن بھکر میں قیام کرتے تھے۔ میر رند کےبعد میر داؤد خان رند نے اپنی عملداری کا اعلان کیا اور ڈیرہ اسماعیل خان و ڈیرہ غازی خان کے گورنروں کی عملداری کو چیلنج کیا جنہیں مغل شہنشاہ اکبر کی افواج کی مدد سے قابو کروایا گیا۔ میر داؤد رند کے بعد میر بلوچ خان منکیرہ کے مالک بنے اور ان کی اولاد کئی صدیوں تک اس علاقے کی حکمرانی کرتی رہی۔ اور پھر اچ گل امام کے واقعے ،میر گولہ خان سرگانی کی بغاوت اور حیات خان جسکانی کے قتل نے منکیرہ کی تاریخ کو نیا رخ دیا۔ جسکانی اور سرگانی قبائل کی جنگیں ہوئیں ۔ جسکانی افواج نے گولہ خان سرگانی کو قتل کیا اور جواب میں نصرت خان سرگانی نے میاں عبد النبی سرائی کلہوڑا کو منکیرہ پر قبضے میں مدد کی۔
میاں عبد النبی سرائی کلہوڑا کے بعد منکیرہ درانی گورنروں کے ماتحت آیا۔ محمد خان سدوزئی المعروف سربلند خان گورنر بنے جن کے بعد حافظ احمد خان سدوزئی نے گورنری سنبھالی۔ سقوط ملتان کے بعد منکیرہ قلعہ نے 22 دن تک رنجیت سنگھ کی افواج کا سامنا کیا اور پھر یہ علاقہ بھی رنجیت سنگھ کی ریاست کا حصہ قرار پایا۔
پندرھویں صدی میں عروج کی بلندیاں چھوتا یہ قلعہ اب حوادث زمانہ کا شکار ہو کر اجڑ چکا ھے۔
تاریخی آثار تقریباً ختم ہو گئے ہیں اور جو کچھ بچا ھے وہ قبضہ مافیا کے نشانے پر ھے۔
وادئ سندھ کا یہ علاقہ سندھی میں سرا کہلاتا ھے اور یہاں کے لوگ سرائی مشہور ہوئے جنہوں نے کسی زمانے میں میاں وال سرائی تحریکیں بھی چلائیں۔
اور اسی سرا و سرائی کے معاشرتی ارتقاء نے وسیب کی تشکیل میں اپنا لازوال کردار ادا کیاھے۔
(قلعہ بلوچاں منکیرہ کے نام)
اقتباس
ڈسٹرکٹ گزیٹئر جھنگ
تاریخ ریاست منکیرہ
ڈسٹرکٹ گزیٹئر میانوالی
ڈسٹرکٹ گزیٹئر ڈیرہ اسماعیل خان

Address

Bhakkar
Bhakkar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bhakkar view posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bhakkar view:

Share