02/06/2026
بادشاہی مسجد کی تاریخ
Badshahi Mosque پاکستان کی سب سے مشہور اور تاریخی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ یہ مغلیہ دور کی عظمت، شان و شوکت اور بہترین فنِ تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے۔
تعمیر اور پس منظر
بادشاہی مسجد کی تعمیر مغل شہنشاہ Aurangzeb Alamgir کے حکم پر 1671ء میں شروع ہوئی اور 1673ء میں مکمل ہوئی۔ اس کی تعمیر کی نگرانی Fidai Khan Koka نے کی، جو اس وقت لاہور کے گورنر تھے۔
فنِ تعمیر
بادشاہی مسجد اپنے وسیع و عریض صحن، بلند میناروں اور خوبصورت گنبدوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
مسجد کی بیرونی دیواروں میں سرخ پتھر (Red Sandstone) استعمال کیا گیا ہے۔
تین بڑے گنبد سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کیے گئے ہیں۔
مسجد کے چار مینار تقریباً 176 فٹ (54 میٹر) بلند ہیں۔
اس کا صحن ایک وقت میں ایک لاکھ سے زائد نمازیوں کی گنجائش رکھتا ہے۔
اس کا طرزِ تعمیر Jama Masjid سے مشابہت رکھتا ہے، لیکن رقبے کے لحاظ سے زیادہ وسیع ہے۔
تاریخی ادوار
سکھ دور
Maharaja Ranjit Singh کے دورِ حکومت میں مسجد کو عبادت کے لیے بند کر دیا گیا اور اسے فوجی مقاصد، اصطبل اور اسلحہ گودام کے طور پر استعمال کیا گیا۔
برطانوی دور
1849ء میں برطانوی حکومت کے قبضے کے بعد بھی مسجد کچھ عرصہ فوجی استعمال میں رہی۔ بعد ازاں مسلمانوں کے مطالبے پر اسے دوبارہ عبادت کے لیے کھول دیا گیا۔
مرمت اور بحالی
1939ء میں مسجد کی باقاعدہ مرمت اور بحالی کا کام شروع کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت مسجد کی اصل خوبصورتی اور تاریخی حیثیت کو بحال کیا گیا، جس کے بعد یہ دوبارہ اپنی شان و عظمت کے ساتھ نمایاں ہوئی۔
اہم حقیقت
بادشاہی مسجد کے مرکزی دروازے کے قریب پاکستان کے قومی شاعر Allama Muhammad Iqbal کا مزار واقع ہے۔ ملک و بیرونِ ملک سے آنے والے سیاح اور زائرین مسجد کی زیارت کے ساتھ ساتھ مزارِ اقبال پر بھی حاضری دیتے ہیں-
آج بادشاہی مسجد Lahore کی شناخت، پاکستان کے تاریخی ورثے اور اسلامی فنِ تعمیر کی ایک عظیم علامت سمجھی جاتی ہے۔