Indus Tourists and Bikers Club

Indus Tourists and Bikers Club Indus tourists and bikers club is playing vital role to promote tourism and sharing tourism experiences

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Zohaib Ghaffar, Zahid Nishtar, Shahid Yar
22/04/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Zohaib Ghaffar, Zahid Nishtar, Shahid Yar

سپتا سندھوا کی قدیم لوک دانش کے مطابق منگھر(ماگھ مہنہ) کی سغراند سے پانچویں رات کے پچھلے پہر سے بہار کا آغاز  ہو جاتا ہے...
22/04/2026

سپتا سندھوا کی قدیم لوک دانش کے مطابق منگھر(ماگھ مہنہ) کی سغراند سے پانچویں رات کے پچھلے پہر سے بہار کا آغاز ہو جاتا ہے۔ایراویتاجاڑے کی طویل نیند سے بیدار ہو کر اپنی سونڈ کی پھنکار سے گرم سانس نکال کر برفاب تودوں سے پانی کی پہلی بوند کا تسلسل جاری کرتا ہے۔پانی کا بہاؤ وادی سندھ میں اس رات میں شروع ہوتا ہے ۔پانی زندگی ہے اور اسکا بہاؤ زندگی کا بہاؤ ہے ۔ نئی زندگی کی ابتداء خوشیوں سے شروع کرنے کے اس تہوار کو ہمیشہ سے بسنت پنچمی کہا جاتا ہے۔اس تہوار کے چالیسویں دن ہولیکا ہوتی ہے ، جس دن ہولی کا تہوار منایا جاتا تھا۔دریاۓ سرسوتی سے سرسوتی برھمن دیے کی لوٹی اٹھا کر مخصوص راستوں سے پانچوں دریاؤں کو عبور کر کے چالیسویں دن بل کوٹ/ تل کوٹ نشیب میں دریاۓ سندھ اور گوماٹی(گومل)/ کورو(دریاے کرم) کے سنگم تک لاتے تھے۔ پنجاب کے پانچوں دریاؤں کے ہر انفرادی سنگم پر جشن منانے اور سوریا دیوتا کو گڑ اور نئے چاولوں کی پرشاد چڑھائی جاتی تھی۔ دئیے والی مٹکی کو اونچی جگہ لٹکا کر رنگ برنگے کپڑوں کے ٹکڑے لٹکاۓ جاتے جو بعد ازاں پتنگوں کی شکل اختیار کر گئیے۔بسنت پنچمی سپت سندھوا میں خوشیوں کی ابتدا اور موسم کی تبدیلی کی خوشیوں کا تہوار ہے۔یہ گندم سے سٹے نکلنے تک جاری رہتا ہے۔ ہولی کا تہوار اسکا آنت ہے۔ یہ چالیس دن وادی سندھ کے ستہ پریاگ( دریاؤں کے سنگم) پر پوتر اشنان اور پاپ موکشا کے لئیے مشہور رہے ہیں۔ وقت تبدیل ہوا ، پہلے سرسوتی نے راستہ بدل لیا، روایت کم و بیش برصغیر میں ظہور اسلام تک آتے آتے شمالی ہندوستان میں معدوم ہو کر صرف گنگا جمنا سرسوتی کے تروینی سنگم تک محدود ہو گئی۔ جہاں ماگھ میلہ کے نام سے اب بھی پریاگ راج ، کاشی ، متھرا ، بنارس اور نرمدا ندی کے کناروں پر منائی جاتی ہے۔پنجاب میں بسنت پنچمی کو سرسوتی کے نام سے کوئی نہیں جانتا ، صرف پتنگوں کے نام سے پہچان باقی ہے ۔ خوشیوں کا یہ تہوار تقریباً پچیس سال بعد سرکاری اجازت سے منایا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
سپت سندھوا کے سبھی باسیوں کو بسنت کی خوشیاں مبارک ہوں۔۔۔

ref # جیجیت نادوموری، پروفیسر اورجاکمار۔جیوگرافی آف رگ ویدا
ref # immortal stories of the mighty indus river( copied)

23/12/2025

Public Service Message

19/09/2025

Send a message to learn more

ڈپٹی کمشنر مانسہرہ  نے ناراں کاغان روڈ کو 4 دن کے لیئے بند کر دیا انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹوریسٹ حضرات چار روز...
13/06/2025

ڈپٹی کمشنر مانسہرہ نے ناراں کاغان روڈ کو 4 دن کے لیئے بند کر دیا انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹوریسٹ حضرات چار روز تک ناراں کاغان کا سفر نہ کریں
کہا گیا ہے کہ مانسہرہ تا ناراں مہانڈری پل کو کشادہ کرنے کے لیئے NHA اتوار کی شام سے کام کا آغاز کریگا جس پر چار روز لگ سکتے ہیں اس لئے 14 تا 17 جون تک سیاح ناران کاغان اور گلگت بلتستان کا سفر کرنے سے گریز کریں۔۔۔۔

گلگت بلتستان کے گانچھے ضلع میں، اسکردو سے تقریباً 115 کلومیٹر کے فاصلے پر، ایک ایسی چھپی ہوئی جنت موجود ہے جسے ماچلو واد...
31/05/2025

گلگت بلتستان کے گانچھے ضلع میں، اسکردو سے تقریباً 115 کلومیٹر کے فاصلے پر، ایک ایسی چھپی ہوئی جنت موجود ہے جسے ماچلو وادی کہتے ہیں۔ قدم رکھتے ہی انسان ایک ایسے سحر میں کھو جاتا ہے جہاں قدرت کی خاموشی اور سادگی، روح کو نئی تازگی بخشتی ہے۔ یہ وادی صرف اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کے بے مثال نظاروں کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہاں سے K2، نانگا پربت، براڈ پیک، اور گاشربرم I اور II جیسے دیو ہیکل پہاڑ آسمان کو چھوتے دکھائی دیتے ہیں، اور ان کا منظر آنکھوں کو خیرہ اور دل کو مسحور کر دیتا ہے۔
ماچلو وادی کا سب سے بڑا اعجاز ماچلو لا ہے – ایک ایسا مقام جہاں سے آپ پاکستان کی پانچوں 8000 میٹر سے بلند چوٹیوں کو ایک ہی ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ نظارہ ایسا ہے جو زندگی بھر کی یادگار بن جاتا ہے۔ تاہم، اس منزل تک پہنچنے کا سفر کسی چیلنج سے کم نہیں۔ تقریباً 5071 میٹر کی بلندی پر واقع ماچلو لا تک ٹریکنگ جسمانی طور پر تھکا دینے والی اور مشکل ہوتی ہے۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل چڑھائی، کھڑی ڈھلوانیں اور پتھریلے راستے تجربہ کار ٹریکرز کے لیے بھی ایک آزمائش ہیں۔ یہ سفر صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو پہاڑی راستوں پر چلنے کا تجربہ رکھتے ہیں یا غیر معمولی جسمانی ہمت کے مالک ہیں۔ لیکن جو اس آزمائش کو قبول کرتا ہے، قدرت اسے ایک ایسا ناقابلِ فراموش تحفہ دیتی ہے جو کسی بھی صعوبت کو بھلا دیتا ہے۔
ماچلو گاؤں کے لوگ اپنی بے مثال مہمان نوازی اور بلتی ثقافت کی سچی عکاسی ہیں۔ ان کے لباس کی سادگی، ذائقہ دار کھانے، شیریں بول چال اور روایتی طرزِ زندگی دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ وقت کے دھارے میں پیچھے چلے گئے ہیں۔ گاؤں کی قدیم مسجد بھی ایک منفرد فن تعمیر کا شاہکار ہے جو روحانیت اور ثقافت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔
خوش قسمتی سے، یہ وادی ابھی تک سیاحت کی روایتی بھیڑ سے محفوظ ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں کا سکون، خاموشی اور اصل فطرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ برقرار ہے۔ اپریل سے نومبر تک کا موسم ماچلو لا کی سیر کے لیے بہترین ہے، اور اگر آپ خود کو فطرت کی آغوش میں پناہ دینا چاہتے ہیں، تو یہ وادی آپ کے لیے ایک خواب سے کم نہیں۔ یہاں کیمپنگ کا اپنا ہی مزہ ہے؛ جب رات کی تاریکی میں پہاڑوں کے درمیان تیز ہوائیں سرسراتی ہیں اور آسمان پر لاکھوں ستارے جھلملاتے ہیں، تو ایک ایسی دنیا تخلیق ہوتی ہے جہاں انسان اور کائنات ایک ہو جاتے ہیں۔
ماچلو وادی میں گزارا گیا ہر لمحہ ایک نئی کہانی سناتا ہے، ایک نیا جذبہ جگاتا ہے۔ یہاں آ کر محسوس ہوتا ہے کہ انسان اور قدرت کے درمیان رشتہ آج بھی زندہ ہے، بس اسے محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ واقعی کچھ خاص دیکھنا اور محسوس کرنا چاہتے ہیں تو ماچلو وادی یقیناً آپ کے دل میں ہمیشہ کے لیے ایک خاص جگہ بنا لے گی۔

09/07/2024

شمالی علاقہ جات کے تازہ حالات

Address

Block-D, Amin Town Kot Chutta
Dera Ghazi Khan
23350

Telephone

+923336477877

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Indus Tourists and Bikers Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Indus Tourists and Bikers Club:

Share