03/06/2026
اپر غزر کے غیور عوام اور صفدر شیرازی کے سامنے چند دوٹوک اور تلخ حقائق!
تحریر: اہل_اپر_غزر
آئیے جذبات سے بالاتر ہو کر غزر کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے سے پہلے ماضی کے چند صفحات پلٹتے ہیں اور خود سے ایک سوال کرتے ہیں: کیا ہم پھر وہی پرانی غلطی دہرانے جا رہے ہیں؟
پچھلے الیکشن میں اپر غزر کے عوام کے ساتھ جو ظلم ہوا، وہ آج بھی ہر باشعور شہری کے ذہن میں تازہ ہے۔ پوری عوام اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ کس طرح صفدر شیرازی نے نظیر احمد ایڈوکیٹ کے حق میں اپر غزر کے قیمتی ووٹ کاٹے۔ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر غزر کی مٹی اور عوام کے ضمیر کا سودا کیا گیا، جس کا براہِ راست نقصان خان اکبر خان کو ہوا اور وہ الیکشن ہار گئے۔ اس ایک سودے بازی اور ووٹوں کی تقسیم کا خمیازہ اپر غزر کی عوام نے پورے 5 سال تک سیاسی محرومی، پسماندگی اور عدم نمائندگی کی شکل میں بھگتا۔
آج پھر اسی پرانے اور ناکام پروپیگنڈے کو ایک نئی پیکنگ میں عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بار صفدر شیرازی کس کے اشارے پر اور کس کے فائدے کے لیے اپر غزر کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کے مشن پر نکلے ہیں؟
صفدر شیرازی صاحب پچھلے 5 سال سے عوام کے درمیان بیٹھنے اور خدمت کا دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ برسوں PTI کے سرگرم کارکن رہنے کے باوجود اس بار پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے، جو ان کی گرتی ہوئی عوامی مقبولیت اور سیاسی عدم اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
دوسری طرف عبدالجہان صاحب ہیں جنہیں ن لیگ کا آفیشل ٹکٹ ملا۔ کچھ لوگ یہ بحث چھیڑ رہے ہیں کہ "ہمیں ٹکٹ سے کیا واسطہ؟" تو ان پر یہ واضح ہونا چاہیے کہ پارٹی ٹکٹ کے ساتھ ایک مخصوص نظریاتی اور پکا ووٹ بینک آتا ہے، جو ہر الیکشن میں صرف پارٹی کو کاسٹ ہوتا ہے۔ عبدالجہان صاحب کو وہ نظریاتی ووٹ تو ملیں گے ہی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پارٹی کی 19 بڑی سیاسی شخصیات نے ان کے حق میں دستبردار ہو کر ایک تاریخی اتحاد قائم کیا ہے، جس نے الیکشن کا رخ بدل دیا ہے۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس الیکشن میں اصل مقابلہ صرف دو قوتوں کے درمیان ہے: یا عبدالجہان صاحب جیتیں گے، یا پھر نظیر احمد ایڈوکیٹ۔
صفدر شیرازی کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت یا زمین نہیں ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ 1000 سے 1500 ووٹ لے سکتے ہیں، اس سے آگے ان کی نہ کوئی سیاسی اوقات ہے اور نہ عوامی سپورٹ۔ وہ یہ الیکشن جیتنے کے لیے نہیں، بلکہ صرف اور صرف آزاد حیثیت میں کھڑے ہو کر عبدالجہان صاحب کے ووٹ کاٹنے اور اپر غزر کو دوبارہ ہٹانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
آج صفدر شیرازی کو ووٹ ڈالنے کا سیدھا اور صاف مطلب نظیر احمد ایڈوکیٹ کو فائدہ پہنچانا اور اپر غزر کی نشست کو دوبارہ "بنیاد پرستوں" کی غلامی میں دینا ہے۔ اگر آپ نے یہ ووٹ ضائع کیا، تو آپ خود اپنے ہاتھوں سے اپر غزر کو ایک بار پھر محروم کر دیں گے۔
جو لوگ یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ عبدالجہان صاحب علاقے میں نہیں رہے، وہ سن لیں! عبدالجہان بھی اپر غزر کا ہی بیٹا ہے جس کی پوری عمر اسی مٹی میں گزری ہے۔ وہ اسلام آباد رہے ہوں، گاکوچ رہے ہوں یا کہیں بھی—انہوں نے گزشتہ 15 سے 20 سالوں میں ہر فورم پر اپنے علاقے کی بھرپور اور جاندار نمائندگی کی ہے۔ وہ ایک پڑھے لکھے، بااثر اور مخلص رہنما ہیں جو اپر غزر کو اس کا کھویا ہوا حق دلا سکتے ہیں۔ اگر ہم سب متحد ہو کر عبدالجہان صاحب کو ووٹ دیں گے، تو تاریخ رقم ہوگی اور پہلی مرتبہ اپر غزر سے ہمارا اپنا حقیقی نمائندہ منتخب ہو کر اسمبلی پہنچے گا۔
صفدر صاحب! آپ نے ایک سیاسی جدوجہد کی ہے، نوجوان آپ کے کام کی قدر کرتے ہیں اور آپ ہمارے لیے قابلِ فخر ہو سکتے ہیں، لیکن سیاست میں پختگی، صبر اور اطمینان پہلی شرط ہے۔ اگر آپ اپنی ڈوبتی ہوئی سیاست کو بچانا چاہتے ہیں اور مستقبل میں "کنگ میکر" کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، تو اب بھی وقت ہے:
• ہوش کے ناخن لیں: فوراً ایک پریس کانفرنس کریں اور اپر غزر کے وسیع تر مفاد میں عبدالجہان صاحب کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کریں۔
• اگر آپ آج اتحاد کا ساتھ دیتے ہیں، تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگلے 5 سال بعد ہم اپنے بیٹے صفدر شیرازی کے پیچھے خود فل سپورٹ کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور عبدالجہان صاحب کو ساتھ لے کر آپ کو بھاری اکثریت سے جتوائیں گے۔
لیکن یاد رکھیں...
اگر آپ نے یہ ضد نہ چھوڑی، اپنے 1000 یا 1200 نام نہاد حامیوں کے دعووں میں آ کر اپر غزر کے ووٹ تقسیم کرنے کی سازش کا حصہ بنے رہے، تو ہم قسم کھاتے ہیں کہ صفدر شیرازی کی سیاست اسی سال، اسی الیکشن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی۔ عبدالجہان صاحب یہ الیکشن جیتیں یا ہاریں، لیکن غزر کی عوام آپ کو اس تاریخی خیانت پر کبھی معاف نہیں کرے گی اور آپ کا سیاسی مستقبل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
اب فیصلہ اپر غزر کی عوام اور صفدر شیرازی کے ہاتھ میں ہے!
ہمیں شعور کا ثبوت دینا ہے، متحد ہونا ہے اور عبدالجہان کو کامیاب بنانا ہے!