Gilgit Baltistan Tour & Track

Gilgit Baltistan Tour & Track Travel Guide of Gilgit Baltistan

08/05/2026
08/01/2026

عرب ممالک کی مشہور پکوان مندی

24/12/2025

وادی بگروٹ میں واقع مشہور اور خوبصورت آبشار

29/11/2025

ہرالی گلگت شہر اور نومل کے بیچ میں واقع پہاڑی سلسلے میں واقع سطح سمندر سے قریب نو ہزار فٹ بلندی پر واقع ایک ایسا وسیع وعریض میدان ہے جہاں پانی کی کمی نہ ہو تو گلگت جیسا ایک شہر آباد ہو سکتا ہے ہم نے اس کو کیسے مسخر کیا تفصیلات اس وی لاگ میں

17/09/2025

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت کے اوپر واقع ٹریک کا احوال جہاں سے گلگت شہر اور تحصیل دنیور سمیت خوبصورت نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں

22/08/2025

افسوس ناک خبر
راوشن غذر میں سیلاب کی وجہ سے دریا کا بہاؤ رک گیا جبکہ بیچ میں جزیرہ نما جگہ پر سو کے قریب لوگ ۔محصور

14/07/2025

گلگت بلتستان کی سب سے خوبصورت وادی نلتر میں واقع تمام جھیلوں کا احوال ترکش پکوان کے ساتھ اور سب سے بڑی دیو ہیکل جھیل میں کشتی رانی

شنگریلا (وادئ سکردو) میں یہ جہاز آخر آیا کہاں سے!سکردو کے موسم میں تیزی سے تبدیلی آرہی تھی ، گو کہ کچھ سخت جان قسم کے پھ...
29/06/2025

شنگریلا (وادئ سکردو) میں یہ جہاز آخر آیا کہاں سے!
سکردو کے موسم میں تیزی سے تبدیلی آرہی تھی ، گو کہ کچھ سخت جان قسم کے پھول ابھی تک پوری طرح مرجھائے نہیں تھے مگر درختوں کے پتوں کے رنگ اُڑنے لگے تھے اور کہیں کہیں صبح کے وقت درختوں سے رنگ برنگے پتے گرنے کا نظارا کیا جا سکتا تھا۔ 13اکتوبر 1954ء کی صبح کا آغاز ہوا تو لوگوں نے سُکھ کا سانس لیا کہ آج موسم صاف ہے اور دھوپ نکلی ہوئی ہے۔ عام لوگوں کی نسبت وہ لوگ زیادہ خوش تھے جنہوں نے آج سکردو سے ہوائی جہاز کے ذریعے راولپنڈی جانا تھا۔ سکردو کے کچی مٹی سے بنے ائرپورٹ سے سہگل گروپ (Orient Skyliner) کاطیارہDC-3 اسلام آباد کیلئے پرواز کرنے والا تھا ، اس جہاز نے 1950ء سے سکردو آنا شروع کیا تھا۔ طیارے میں کاروباری مقاصد کے علاوہ عمرہ اور زیارات کیلئے جانے والے لوگ سوار تھے۔ جہاز نے کچے رن وے پر دوڑنا شروع کیا، دیکھتے ہی دیکھتے پورا ایریا گرد سے اَٹ گیا، سول ایوی ایشن کے ایک کمرے پر مشتمل آفس میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے دھول سے بچنے کیلئے کھڑکیاں بند کر لیں،کچھ ہی دیر میں جہاز اُڑتی دھول کے بادلوں میں گھم ہو گیا، مگر وہ مطمئن تھے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ اس ائرپورٹ سے جہاز ایسے ہی پرواز بھرتا ہے۔ تھوڑی دیر میں جہاز ہوا میں بلند ہو گیا لیکن اُڑتی ہوئی دھول کافی دیر تک فضا میں موجود رہی پھر آہستہ آہستہ بیٹھنے لگی۔ سول ایوی ایشن کے ملازمین اور ائرپورٹ کے دیگر عملہ نے اپنا سامان سمیٹنا شروع کر دیا تاکہ دفتر بند کر کے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ انہیں اس بات کی کوئی خبر نہ تھی کہ زمین سے اُڑنے کے بعد جہاز کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے۔ ادھر فضا میں اُڑتے ہی پائلٹ کو کسی قسم کی گڑ بڑ کا احساس ہوا اس نے ساتھی پائلٹ کو مسئلہ سے آگاہ کیا اور پھرانہوں نے ایمرجنسی لینڈنگ کا فیصلہ کرلیا۔ جہاز کی بائیں طرف کا انجن فیل ہو چکاتھا لہٰذا وہ اسلام آباد تک پرواز نہیں کر سکتا تھا،پائلٹ نے جہاز کا رُخ تو موڑ لیا مگر اب ان کے لئے دوسری مشکل کا سامنا تھا کہ وہ واپس سکردو ائرپورٹ تک بھی نہیں جا سکتے تھے کیونکہ جہاز کو ہوا میں بلند ہوئے صرف تین منٹ گزرے تھے ، اتنے کم وقت میں جہاز زیادہ بلندی پر نہ جا سکا تھا۔ کپتان نے فیصلہ سنا دیا کہ جہاز کو دریائے سندھ کے بیچوں بیچ ریتلی زمین پر اتار دیا جائے، چنانچہ اسی فیصلے پر عمل کیا گیا۔ جہاز ڈھولتے ڈھولتے نرم زمین پر اتر گیا ، عملہ اور مسافر خیریت سے تھے۔ نیچے اُترتے ہوئے لوگ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ ہم اتنی جلدی راولپنڈی پہنچ گئے، وہ لوگ اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب جہاز سے باہر آتے ہوئے اپنے ہی علاقے کی طرح کا منظر دیکھا۔ کسی نے ہمت کر کے کپتان سے پوچھا کہ کیا ہم اسلام آباد پہنچ چکے ہیں؟، کپتان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ہاں پہنچ گئے ہیں۔ لوگوں پر جب یہ حقیقت کھلی کہ جہاز حادثے کا شکار ہو گیا ہے تب وہ شکر بجا لانے لگے کہ اللہ نے ان کی جان بچالی ہے۔
شنگریلا موٹل کی سیر کرنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ سبزہ زار پر ایک جہاز اُترا ہوا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے یہ جہاز غلطی سے یہاں اُتر گیا تھا اور شرارتی بچوں نے پکڑ کر اس کے پر کاٹ دئیے۔یہ وہی ڈی سی تھری طیارہ ہے جس کی ایمرجنسی لینڈنگ کی گئی تھی۔دریائے سندھ کی ریتلی زمین میں دھنسا ہوا اورین ائرویز کا یہ طیارہ تقریباً دو سال تک یہیں پڑا رہا، کسی نے اس کو کام میں لانے کا نہ سوچا۔ ایک آرمی آفیسر بریگیڈئر اسلم خان(ائیر مارشل اصغر خان کے بھائی) نے کسی انجانے خیال کے تحت سول ایوی ایشن سے رابطہ کیا اور ان سے جہاز بیچنے کی زبانی درخواست کی، جواب دیا گیا کہ یہ سرکاری مال ہے ایسے نہیں بیچا جا سکتا، پھر اسلم خان نے تحریری درخواست دی جس کا جواب قریباً ایک سال بعد دیا گیا ، اس جواب میں یہ کہا گیا تھا کہ جہاز کی قیمت پانچ سو روپے ادا کر کے لے جایا جا سکتا ہے۔ اسلم خان نے ان کے ساتھ لین دین شروع کر دی اور کہاکہ یہ بیکار پڑی ہوئی چیز ہے، سرکار کے کسی کام نہیں آسکتی، کچھ عرصہ بعد یہ پانی میں ڈوب جائے گا۔ لہٰذا 50روپے میں مجھے بیچا جائے۔ ادارہ اور اسلم خان میں بارگیننگ چلتی رہی اور پھر بیچ کا راستہ نکال لیا گیا، مبلغ 150روپے میں جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر جہاز اسلم خان کو فروخت کر دیا گیا۔
بریگیڈئر اسلم خان نے مقامی لوگوں کی مدد سے جہاز کو یاک، بیلوں، گھوڑوں اور گدھوں سے باھند دیا، ساتھ ساتھ لوگ بھی دھکا دیتے رہے اور کئی دن بعد اسے موجودہ شنگریلا میں پہنچا دیا۔ شنگریلا سکردو سے 32کلو میٹر جبکہ سکردو ائرپورٹ سے 15کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس وقت تک شنگریلا نہیں بنا تھا، اسلم خان نے جہاز کو بیڈ روم بنا دیا، جھیل کنارے جہازی بیڈ روم میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ چھٹیاں منایا کرتا تھا، جہاز کے اگلے حصے کو ڈرائی روم قرار دیا گیا جبکہ پیچھے واش روم بھی موجود تھا۔ بعد میں اسلم خان کے رشتہ داروں اور دوستوں نے بھی یہاں آنا شروع کر دیا۔ اسلم خان کی بیوی سوشل سوچ رکھتی تھیں لہٰذا ا انہوں نے علاقے کے لوگوں سے روابط بڑھا دئیے ، وہ انہیں صفائی ستھرائی کے طریقے بتاتی تھیں اور جب بھی آتیں بڑی مقدار میں ادویات ساتھ لے کر آتیں تھیں اس لئے کچورا گاؤں کے لوگ انہیں ڈاکٹر صاحبہ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اور اب اس خوبصورت جگیے کو شنگریلا کہا جاتا ہے.
کاپی

29/06/2025

جب آپ اپنی قوت بازو کی بجائے موٹر سائیکل کی قوت بازو کا امتحان لے کر کرتب دیکھانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کا انجام یوں ہوتا ہے

29/06/2025

اپنی ماؤں بہنوں کو موٹر سائیکل پر لے جاتے وقت ان سے کہیں کہ اپنے دو پٹے کا خیال رکھیں کیونکہ آج ہی غذر سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی کو دو پٹہ موٹر سائیکل کے ٹائر میں پھنسنے کی وجہ سے نومل روڈ پر حادثہ پیش آیا اور بال بال دریا میں گرنے سے بچ گئے

Address

Gilgit Baltistan
Hunza
25000

Telephone

+923120122128

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gilgit Baltistan Tour & Track posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share