Amer Zaffar عامر ظفر

Amer Zaffar عامر ظفر Personal Blog , Views ,Videos and News

31/12/2025

مابعد جدیدیت

انتونیو گرامشی کے اعزاز میں

انسانی تاریخ کو اگر کسی ایک بنیادی سوال کے گرد پڑھا جائے تو وہ یہ نہیں کہ کائنات کیسے بنی یا قدرت کب قہر بن کر ٹوٹے گی ،
بلکہ یہ کہ حکمرانی کس کا حق ہے اور اقتدار کیسے استعمال کیا جائے۔ یہی سوال انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ جانیں لینے والا، تہذیبیں مسمار کرنے والا، اور معاشروں کو تقسیم کرنے والا عنصر رہا ہے۔ ریاست، بادشاہت، سلطنت، اور نظریاتی غلبے کی کشمکش نے قدرتی آفات سے کہیں زیادہ انسانوں کو ہلاک کیا۔

تاہم اسی تسلسل میں انسان نے ایک ارتقائی قدم بھی اٹھایا: شخصی حکومتوں سے نکل کر اداروں کی تشکیل کی، تاکہ طاقت ایک فرد کے بجائے نظام میں تقسیم ہو اور توازن قائم رہے۔ آج کے انسان کو اگر جدید تصور کیا جائے تو وہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے جدید ہے کہ اس نے اپنے حکمران بنانے کے طریقے کو آسان بنایا ہے۔

پوسٹ ماڈرن دور میں اقتدار کی یہ جنگ ایک نئے ہتھیار کے ساتھ سامنے آئی، جسے پوسٹ ٹرُتھ یا پساحقیقت کہتے ہیں۔ اس میں حقیقت کی اہمیت کم ہو جاتی ہے اور بیانیہ سب پر حاوی ہو جاتا ہے۔ جب اقتدار حقیقت کے بجائے بیانیے کے گرد گھومے، تو عوام کے شعور پر قبضہ کر کے سیاسی تقدیس اور نجات اور مسیحا ہونے کے خواب فروخت کیے جاتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں کسی فرد کی نجات دہندہ یا مسیحا ہونے کی دعویٰ اُس کے زوال کا پہلا قدم بن جاتی ہے۔

حکمران صرف طاقت سے نہیں بلکہ عوام کے عام فکر کو قابو کر کے بھی حکومت کرتے ہیں۔ جہاں عوام فکری طور پر کمزور ہوں، وہاں نظریات زیادہ آسانی سے فروخت ہو جاتے ہیں۔ اور جہاں مادی غربت کے ساتھ فلسفیانہ افلاس بھی ہو، وہاں بیانیہ حقیقت کی جگہ لے لیتا ہے نظریہ ضرورت پیدا ہوتے رہتے ہیں

کارل مارکس نے ایشیائی طرز پیداوار پر تبصرا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے معاشروں میں پیداوار آج بھی قدیم انسانی رواج کے مطابق صرف اور صرف حکمران کے لیے ہی کی جاتی ہے، اور معیشت اور ہنر اور اس کی اجرت کا دھارا حکمران کے گرد گھومتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے ریاستی ساخت میں یہ جزوی طور پر آج بھی درست ہے ، لیکن یہاں ایک اور حقیقت بھی موجود ہے جسے مارکس پوری طرح نہیں سمجھ سکا۔ برصغیر میں پیداوار کا معیار انسانی صلاحیت یا ہنر سے نہیں بلکہ ذات، نسب، اور پیدائش سے طے ہوتا رہا ہے اور آج بھی کسی حد تک ہو رہا ہے ۔ محنت معیشت کا مرکز نہیں بلکہ شناخت معیشت کا حوالہ بنتی رہی، اور ہنر کی حکمرانی کے بجائے ذات کی حکمرانی غالب رہی۔ آج بھی برصغیر پاک و ہند میں سیاست میں موروثیت کا یہ اثر برقرار ہے اور اس پہلو کی طرف نشاندھی کرتا ہے

یہ وہ حقیقت تھی جس کے خلاف ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے جدوجہد کی۔ ان کا مقدمہ صرف سیاسی یا آئینی نہیں بلکہ پیداوار اور سماجی انصاف کا بھی تھا۔ ان کے مطابق انسان کی افادیت اس کی قابلیت اور محنت کے بجائے اس کی پیدائش سے طے ہو، تو وہ نظام صرف استحصالی نہیں بلکہ غیر انسانی بھی بن جاتا ہے۔ امبیڈکر نے ذات پر مبنی پیداواری جبر کے خلاف آواز اٹھائی تاکہ انسان کو اس کی صلاحیت، محنت اور شعور کے مطابق مقام ملے، نہ کہ خاندان یا نسب کے مطابق۔

اسلامی ملکوں میں حکمران اکثر اقتدار کو جائز ثابت کرنے کے لیے مذہبی دلائل پیش کرتے ہیں اور اکثریت میں کوئی جمہوری اور احتسابی نظام نفاذ نہیں ہے ، اور یہ وہی حربہ ہے جسے گرامشی نے فکری غلبے کی حکمت عملی قرار دیا۔ یہاں مذہب روحانی سرچشمہ کم اور سیاسی جواز زیادہ بنتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عوام کی بیداری کمزور اور اشرافیہ اقتدار و دولت کے پیچھے زیادہ لگن میں مبتلا نظر آتی ہے، اور نظریات عوامی شعور کے لیے نہیں بلکہ اقتدار کی بقا کے لیے عارضی بیانیے بن جاتے ہیں۔

پاکستان جیسے معاشروں میں، جہاں ادارے کمزور ہوں، اشخاص کو اداروں پر فوقیت دی جائے، اور معیشت صلاحیت کے بجائے شناخت کی نفسیات پر جکڑی ہو، وہاں فکری مفلسی اور داخلی اقتداری جبر سب سے بڑا خطرہ ہے۔ لنکن نے کہا تھا کہ کوئی بیرونی دشمن قوم کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر وہ قوم اندر سے خود کو نہ گرائے۔

انسانی آزادی اور اجتماعی بقا کی ضمانت نہ تقدیس میں ہے، نہ شخصی نجات میں، نہ فرد واحد کی حکمرانی میں ' نہ نسبی فوقیت میں، اور نہ وقتی نظریاتی نعروں اور نظریہ ضرورت میں ہے ۔ یہ صرف اداروں کی مضبوطی، ہنر کی حکمرانی، شعور کی بیداری، طاقت کے توازن اور حکمرانوں کے احتساب اور ان سے سوال میں پنہاں ہے۔

ویا گرامشی دار سینہ ' جینوا اطالیہ

https://www.amerzaffar.com/2024/02/19/raju-hum-or-gham/
20/12/2025

https://www.amerzaffar.com/2024/02/19/raju-hum-or-gham/

راجو جو مغالطات اور القابات سے ہمیں نوازتے ہیں-وہ کسی حد تک تو ٹھیک ہیں. لیکن راجو کے دو الزامات بے جا اور غلط فہمی پر ہیں - ایک منافقت اور دوسرا چیپ نس - راجو کی نظر میں ....

کہا جاتا ہے کہ جب قرۃ العین حیدر پاکستان میں مقیم تھیں اور اسی دوران جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا، تو ا...
20/12/2025

کہا جاتا ہے کہ جب قرۃ العین حیدر پاکستان میں مقیم تھیں اور اسی دوران جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا، تو ادبی حلقوں میں اس صورتِ حال پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ایک محفل میں، جہاں ان کے قریبی دوست موجود تھے اور جن میں فیض احمد فیض بھی شامل تھے، کسی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مارشل لاء میں کتوں کو بھونکنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

قرۃ العین حیدر نے یہ سن کر فیض صاحب سے پوچھا: کیا واقعی اتنی سختی ہوتی ہے؟
فیض صاحب نے کہا ایسے ہی حالات ہوتے ہیں
کچھ ہی عرصے بعد وہ مستقل طور پر بھارت واپس چلی گئیں۔

04/12/2025

ایک محفل جس میں فیض احمد فیض بھی موجو د تھے باتیں ہورہی تھیں کہ اس ملک کا مستقبل کیاہوگا کسی نے کہا انار کی ہوجائے گی کسی کے خیال میں بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہوگا اور کچھ کے خیال میں ملک مزید ٹوٹ بھی سکتا ہے۔

ایسے میں فیض احمد فیض کی رائے پوچھی گئی تو انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہاکہ'' بھئی میرے خیال میں اس سے بھی برا ہوگا'' سب نے حیران ہوکے پوچھا وہ کیسے ؟فیض صاحب نے جواب دیا کہ ''مجھے ڈر ہے کہ یہ ملک ایسا ہی چلتا رہے گا '

What Is to Be Thought? Foolish Questions of Today(Lenin's inversion)Marx once said that philosophers have interpreted th...
13/11/2025

What Is to Be Thought? Foolish Questions of Today
(Lenin's inversion)
Marx once said that philosophers have interpreted the world in many ways, but the point is to change it. In the present world, however — especially in the context of Pakistan — it seems that everyone wants to bring about change. Yet, what is most needed today is to pause and think again: what is it that truly needs to be changed?
(Marx's Inversion)

کہتے ہیں سارا مسلہ تب شروع ہوا جب حالی ' غالب  کے پاس  مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر (مسدس حالی  یا مدوجذر اسلام) کا دیبا...
09/11/2025

کہتے ہیں سارا مسلہ تب شروع ہوا جب حالی ' غالب کے پاس مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر
(مسدس حالی یا مدوجذر اسلام)
کا دیباچہ لکھوانے گئے تو غالب نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ میاں اب انگریزوں کے عروج کو پڑھو
پھر سر سید احمد خان آۓ ......اور پھر اقبال

حنیف اعوان ( لالا) مظفرآباد کے سیاسی رہنماؤں میں نمایاں مقام رکھتے تھے اور خاص طور پر جنرل مشرف کے دورِ آمریت میں، جب پی...
24/09/2025

حنیف اعوان ( لالا) مظفرآباد کے سیاسی رہنماؤں میں نمایاں مقام رکھتے تھے اور خاص طور پر جنرل مشرف کے دورِ آمریت میں، جب پیپلز پارٹی آزاد کشمیر ایک مشکل دور سے گزر رہی تھی، انہوں نے میرے والد کی پارٹی صدارت کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دور میں مظفرآباد سٹی سے ضمنی انتخابات لڑنے کا چیلنج قبول کیا ۔

زلزلے کے بعد جب ہمارا خاندان چتر مظفرآباد میں مقیم تھا، وہ باقاعدگی سے سیاسی مشاورت کے لیے گھر آیا کرتے تھے۔
لالا اکثر میرے والد سے اس بات پر ناراض رہتے کہ گھر میں کرسیاں نہیں ہیں اور کھانا اور ملاقاتیں ہمیشہ فرش پر ہی ہوتی ہیں۔
ایک مرتبہ زلزلے کے بعد جب حریت کانفرنس کی قیادت نے گھر آنا تھا تو لالا نے اپنے گھر سے کرسیاں اور صوفے لانے کی کوشش کی، مگر انہیں بتایا گیا کہ ہندوستان میں عام طور پر ملاقاتیں فرش پر قالین اور تکیوں کے ساتھ کی جاتی ہیں۔

ان کی خوش مزاجی اور مزاح بہت دلکش تھا۔ ضمنی انتخابات کے دوران جب مخالف امیدوار کا انتخابی نشان چھتری تھا، تو لالا کہا کرتے تھے کہ ناراض پیپلز پارٹی کے کارکن میرے لیے ووٹ مانگتے ہوئے کہتے ہیں: “اسحاق ظفر ہمارے سروں پر چھتری کی طرح ہیں، اس لیے چھتری کو ووٹ دیں۔”

وہ اکثر میرے والد سے ہنستے ہوئے کہا کرتے تھے کہ سارے بچے " شیور مرغ " ہیں—سوائے اشفاق کے۔

مجھے وہ لمحہ یاد آرہا ہے کہ جب لالا اور میں زلزلے سے متاثرہ کیمپوں میں آئے ہوئے ایک امریکی وفد کو اپنی انگریزی کے ساتھ نمٹ رہے تھے 😁۔
مری جیل میں جب وہ دیگر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ قید تھے تو ملاقات کے دوران ان سے مزاح ہوتا رہتا تھا ۔
اللہ تعالیٰ حنیف اعوان صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے

26/08/2025

Casual talk with senior journalist Muhammad Arif Urfi Sahib at Central Press Club Muzaffarabad.

18/08/2025

In conversation with Kashmir News Network Digital at Muzaffarabad.

10/05/2025

برصغیر پاک و ہند کے اکثریت کے علاقوں میں ابھی بھی "زمین" کی اہمیت انسانی زندگی اور انسانی زندگی کے معیار سے زیادہ اہم اور افضل ہے ۔۔۔گاوں اور دیہات میں بھی جہاں بھائی چارے اور مساوات زیادہ پائی جاتی ہے میں بھی اکثر اوقات رشتہ دار اور حتیٰ کہ دو سگے بھائی بھی ایک انچ زمین دوسرے کے لیے نہیں چھوڑتے تو رہی بات دو ملکوں کی وہ کسی جگہ یا زمین کو چھوڑیں گے ۔۔۔۔ موجودہ دور میں یہ کام ابھی ناممکن ہے۔۔۔۔ شاید اس صدی میں یہ ممکن نہیں۔۔۔۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے حالات اور ماحول کی طرف پیش رفت کی جائے کہ انسانی زندگی کو آسان اور معیاری بنانے کے لیے حالات سازگار کیے جائیں ۔۔۔۔۔
کیونکہ جب آپ بیرون ملک میں ہوتے ہیں تو وہاں آپ اور ہندوستان کے لوگ اکثر اوقات ایک ہی ہوتے ہیں ۔۔۔۔

Address

H 12 Islamabad
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amer Zaffar عامر ظفر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Amer Zaffar عامر ظفر:

Share