21/05/2026
کیا آپ جانتے ہیں کہ آزاد کشمیر کی مشہورِ زمانہ وادیِ نیلم کا خوبصورت اور سحر انگیز گاؤں ’ارنگ کیل‘ ان دنوں اپنے دلکش اور مسحور کن موسم کے باعث ملک بھر کے سیاحوں کے لیے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سمندر کی سطح سے تقریباً 8,379 فٹ کی بلندی پر واقع اس وادی کو اپنی بے پناہ قدرتی خوبصورتی، سرسبز میدانوں اور لکڑی کے روایتی بنے گھروں کی وجہ سے "وادیِ نیلم کا موتی" بھی کہا جاتا ہے۔
حالیہ موسمِ بہار اور بادلوں کے چھا جانے کے بعد ارنگ کیل کا نظارہ کسی مٹیالی تصویر یا جادوئی دنیا جیسا دکھائی دے رہا ہے۔ پسِ منظر میں گہرے بادلوں کے درمیان چھپے برف سے ڈھکے بلند و بالا پہاڑ، لکڑی کے خوبصورت ہٹس (Huts) اور چاروں طرف پھیلی ہریالی یہاں آنے والے سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ سیاحوں کا کہنا ہے کہ اس جگہ پہنچ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کسی الگ ہی دنیا یا زمین پر موجود جنت کے کسی ٹکڑے میں آگیا ہو۔
ارنگ کیل تک پہنچنے کے لیے سیاحوں کو پہلے ’کیل‘ (Kel) کے مقام پر آنا پڑتا ہے، جہاں سے آگے ندی پار کرنے کے لیے یا تو چیئر لفٹ (ڈولی) کا سہارا لیا جاتا ہے یا پھر گھنے جنگلات کے درمیان سے تقریباً ایک گھنٹے کی کٹھن مگر خوبصورت پیدل ٹریکنگ کرنی پڑتی ہے۔ مقامی ہوٹل مالکان اور محکمۂ سیاحت کے مطابق، مشکل راستے کے باوجود اس سال ریکارڈ تعداد میں فیملیز اور نوجوان ایڈونچر کے لیے یہاں کا رخ کر رہے ہیں، جو آزاد کشمیر میں مقامی سیاحت کے فروغ کے لیے ایک انتہائی خوش آئند بات ہے۔