Islamabadains official

Islamabadains official Islamabad is the capital city of Pakistan, and is federally administered as part of the Islamabad Capital Territory.

Islamabad is the ninth largest city in Pakistan,

11/05/2023

سپریم کورٹ ،عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی قرار , سپریم کورٹ کا عمران خان کو فوری رہا کرنے کا حکم ،وارنٹ قانونی تھا یا نہیں ،گرفتاری غیر قانونی قرار چیف جسٹس.
گرفتاری کے وقت وارنٹ گرفتاری نہیں دکھائی عمران خان ،ملک میں انتشار نہیں الیکشن چاہتے ہیں -عمران خان کا کارکنان سے پر امن رہنے کی ہدایات ۔

11/05/2023
06/05/2023
06/05/2023
06/05/2023
Hunza tour just in 14000
02/06/2021

Hunza tour just in 14000

‏راولپنڈی والےبھائیوں سے گزارش مہربانی فرماکر یہ بہن کمرشل دبئی پلازہ کےساتھ چنے چاول لگائے ہوئےاگر آپکا اسطرف گزر ہو تو...
17/09/2020

‏راولپنڈی والےبھائیوں سے گزارش مہربانی فرماکر
یہ بہن کمرشل دبئی پلازہ کےساتھ چنے چاول لگائے ہوئےاگر آپکا اسطرف گزر ہو تو تھوڑابہت ضرور لےلیجیئےگاپتہ نہیں کتنی پریشانی میں ہو گی یہ بہن جس نے خود کاروبار شروع کیااللہ پاک غیب سے مدد فرمائے اس بہن کی ‏۔۔۔۔۔۔‎کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر

10/09/2020
Islamabad
10/09/2020

Islamabad

25/08/2020

رے برسوں کی بات ہے جب یہ سادگی کے شہد میں ڈوبا شیریں جملہ اکثر ہماری سماعتوں سے ٹکراتا تھا کہ روکھی سوکھی کھا کر گزارہ ہوجاتا ہے اور مالک کا شکر ہے کہ کبھی فاقہ نہیں کرنا پڑا۔۔۔۔یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ پورا ایک طرز حیات تھا۔ ایک ایسی زندگی جو دھیمی رفتار سے جاری تھی۔۔۔وہاں نہ تو شکووں شکایتوں کا گزر تھا نہ ہی زمانے کی بھیڑ چال کے ساتھ بھاگ دوڑ کا تصور۔۔۔اطمینان اس طرز زندگی کی کوکھ سے جنم لیتا تھا۔۔!

رفتہ رفتہ زندگی نے وہ پرانا اور سادہ پیرہن اتار پھینکا۔ جدت کے رنگوں میں ملبوس ہوئی۔۔زندگی ڈیجیٹل ہوئی تو اس کی رفتار بھی بڑھ گئی۔۔۔اطمینان نام کی منزل کو کوسوں دور چھوڑتی ہوئی نمود و نمائش کے اس ٹریک پر چل پڑی کہ جہاں دیکھا دیکھی رفتار بڑھتی گئی اور وہ اطمینان سے بھری زندگی کہیں گم ہوکر رہ گئی۔۔۔سب سے پہلے جو چیزیں ہم صرف ٹی وی ڈراموں میں دیکھتے تھے اور جو کسی لکھاری کے ذہن کی اختراع ہوا کرتی تھیں، وہ خواہشات بن کر ڈراموں سے نکل کر دبے پاؤں ہماری زندگی میں ایسی داخل ہوئیں کہ ہمیں یرغمال بنالیا۔۔جس نے ان خواہشات کو اپنا لیا وہ تو ان کا قیدی بن گیا۔۔۔ جو کم وسائل کے باعث انہیں عملی جامہ نہ پہناسکا وہ احساس کمتری کا شکار ہونے لگا۔۔۔

پہلے پہل جب طرز زندگی سادہ تھا وہاں صرف "ضروریات زندگی” پوری کرنے کی تگ و دو ہوا کرتی تھی اور سچ ہے کہ ضروریات تو سبھی کی پوری ہوجاتی ہیں۔۔۔پھر خواہشات پوری کرنے کی دوڑ میں لگ کر بہت سے لوگ ایسے مایوس ہوئے کہ جیسے ان کی زندگی میں تو خوشی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔۔کیونکہ ضروریات تو سب کی پوری ہوجاتی ہیں لیکن تمام خواہشات کسی کی پوری نہیں ہوتیں۔

ہم نے دیکھا ہے کہ بچہ ہو یا بڑا۔۔۔سالگرہ کا کیک کاٹے بغیر بھی اس کی عمر بڑھتی رہتی ہے لیکن اب تو یوں ہے جیسےایک بھرپور تقریب میں سالگرہ کا کیک نہ کاٹا گیا تو گویا وہ سال تو اس شخص کی زندگی میں شمار ہی نہیں ہوگا۔۔۔پھر آہستہ آہستہ بات صرف سالگرہ تک محدود نہ رہی۔۔شادی کی سالگرہ بھی میدان میں آگئی۔۔۔اب تو یہ صورتحال ہے کہ دن بھر محنت مشقت کرکے شام کو گھر آنے والا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا خاوند بھی اگر بیوی کو شادی کی سالگرہ "وش” کرنا بھول جائے تو اس کی خیر نہیں۔۔۔

منگنی ہو یا شادی۔۔۔گلی محلے میں ٹینٹ لگاکر آسانی سے تقریب کا انعقاد ہو جاتا تھا لیکن پھر میرج ہال اور مارکی میں تقریبات کا انعقاد تو گویا ہم پر فرض ہوگیا۔۔۔بندہ چاہے امیر ہو یا غریب۔۔۔اپنی ناک رکھنے کے لیے اسے نہ چاہتے ہوئے بھی ان چونچلوں میں پڑنا پڑتا ہے۔ ڈراموں کے لکھاریوں کا یہی کمال نہیں بلکہ شادی سے پہلے برائیڈل شاور۔۔ہنی مون پر جانا۔۔۔ہوٹلنگ وغیرہ بھی انہی کی تخلیق کا کمال ہے جو اب گھر گھر رنگ دکھا رہا ہے اور ان حالات میں جو شخض دکھاوے کی اس دوڑ میں شامل نہیں ہوتا اسے کوئی اور مخلوق تصور کیا جاتا ہے
۔

ڈیجیٹل ورلڈ نے جہاں ہمارا طرز زندگی بدل کر رکھ دیا ہے وہیں ہمارے اخراجات میں اضافہ کر کے ہمیں غریب کر دیا ہے۔ کھانے پینے، لباس ، رہائش غرض کہ ہر چیز میں ہم ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں ہیں۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے:

دلوں میں خوف تھا نہ دہشتوں کا پہرا تھا
میرے خیال میں یہ دور ہی سنہرا تھا

ان تمام آسائشوں۔۔۔نمود و نمائش کے ہاتھوں یرغمال بننے کے بعد جب ہم شکوہ کرتے ہیں کہ مہنگائی بہت زیادہ ہوگئی۔۔۔ہم غریب ہوگئے۔۔۔ضروریات کیسے پوری کریں تو اس سے پہلے ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال ایک بار ضرور کرنا ہوگا کہ ہمیں غریب کس نے کیا۔۔۔اس کا جواب بھی آسانی سے مل جائے گا ۔۔ہم نے خود کو خود ہی غریب کررکھا ہے۔۔۔چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے کی عادت اور اپنی ضرورتیں بڑھاتے بڑھاتے اب تو واقعی ایسا لگتا ہے کہ ہم بہت غریب ہوگئے ہیں۔۔۔۔حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں بھی ضروریات تو سب کی پوری ہوسکتی ہیں۔۔۔لیکن ہم صرف ضروریات نہیں ساری کی ساری خواہشات پوری کرنا چاہتے ہیں۔

ایسی تمام اشیاء اور آسائشیں جِن کے بغیر گزارہ ممکن ھے جینا سِیکھیں یقین جانیں زندگی آسان، باعزت اور پُرسکون گزرے گی

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamabadains official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Islamabadains official:

Share