Royal Nawab world Adventure Travel Tours pvt Ltd

Royal Nawab world Adventure Travel Tours pvt Ltd Local international Travel Tour Adventure camping Event Management and Hajj umra

01/12/2025

🌹 اَسْمَآءُالْحُسْنى 🌹اللّه کے 99 نام پڑ ھو اور شئیر کرو

هُوَ َاللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلاَّ اللّهُ هُوَ
❤الرَّحْمَنُ ❤ الرَّحِيمُ ❤الْمَلِكُ ❤الْقُدُّوسُ❤ السَّلَامُ💛 الْمُؤْمِنُ💛الْمُهَيْمِنُ 💛الْعَزِيزُ 💛الْحَبَّارُ💛 الْمُتَكَبِّرُ 💚الْخَالِقُ 💚الْبَارِئُ 💚الْمُصَوِّرُ 💚الْغَفَّار💚 الْقَهَّار ُ 💖 الْوَهَّابُ 💖الرَّزَّاقُ💖الْفَتَّاحُ💖الْعَلِيمُ💖 الْقَابِضُ💙 الْبَاسِطُ 💙الْخَافِضُ 💙الرَّافع💙 الْمُعِزُّ 💚الْمُذِلُّ 💜السَّمِيعُ 💜الْبَصِيرُ 💜الْحَكَمُ 💜الْعَدْلُ 💜 اللَّطِيفُ❤الْخَبِيرُ ❤الْحَلِيمُ❤الْعَظِيمُ ❤الْغَفُورُ❤ الشَّكُورُ 💛الْعَلِيُّ💛الْكَبِيرُ💛الْحَفِيظُ 💛الْمُقِيتُ 💛الْحَسِيب💚الْجَلِيلُ💚الْكَرِيمُ💚الرَّقِيبُ💚الْمُجِيبُ 💛الْوَاسِعُ💖الْحَكِيمُ💖الْوَدُودُ💖الْمَجِيدُ💖الْبَاعِثُ💖الشَّهِيدُ 💙الْحَقُّ💙الْوَكِيلُ 💙الْقَوِيُّ💙الْمَتِينُ 💜الْوَلِيُّ💜الْحَمِيدُ💜الْمُحْصِي💜الْمُبْدِئُ💚الْمُعِيدُ❤الْمُحْيِي❤الْمُمِيتُ❤الْحَيُّ 💚الْقَيُّومُ❤ الْوَاجِد💛الْمَاجِدُ💛الْوَاحِدُ💚 الأحد💛 الصَّمَدُ 💜الْقَادِرُ 💚الْمُقْتَدِرُ💚الْمُقَدِّمُ 💚الْمُؤَخِّرُ💙الْأَوَّل 💛الْآخِرُ 💜الظَّاهِرُ💖الْبَاطِنُ💖الْوَالِي💖الْمُتَعَالِ💚الْبَرُّ 💙التَّوَّابُ💙الْمُنْتَقِمُ💙الْعَفُوُّ💙الرَّءُوفُ💛مَالِكُ الْمُلْكِ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ 💚الْمُقْسِطُ💜الْجَامِعُ 💚الْغَنِيُّ❤الْمُغْنِي❤الْمَانِعُ💚الضَّارُّ 💛النَّافِعُ💛النُّورُ 💛الْهَادِي💛الْبَدِيعُ💜الْبَاقِي 💚الْوَارِثُ 💚الرَّشِيدُ 💚الصَّبُورُ
طالب د عا
ڈاکٹر نواب نیک بادشاہ محسود نواب آف قبایلی علاقہ جات
چیف ایگزیکٹو رائل نواب ورلڈ گروپ آف کمپنیز & انڈسٹریز

27/08/2025

4 Hours Stream track Back side Dera Dari Resturant
Arranged by
Sadhu's Retreat and The Fossils Restaurant

23/03/2025

یوم پاکستان کی مناسبت سے فرنٹیئر کور خیبرپختونخواہ نارتھ کے موسیقاروں کی جانب سے خوبصورت دھنوں پر مبنی قومی ترانہ بنایا گیا ہے۔

تاریخی قلعہ بالاحصار کے مختلف حصوں میں رباب، بانسری، سارنگا، طبلہ، ہارمونیئم اور فرنٹیئر کور بینڈ کی شاندار پرفارمنس پر فلمایا گیا قومی ترانہ ایک شاہکار ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس نوعیت کا منفرد قومی ترانہ بنایا گیا ہے جسے کسی تاریخی عمارت میں ثقافتی موسیقی کے ساتھ فلمایا گیا ہے۔

فرنٹیئر کور نارتھ کی جانب سے منفرد انداز میں بنایا گیا قومی ترانہ یوم پاکستان 1940 کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔

آیئے دیکھتے ہیں اس ویڈیو میں
DrNawab Naik Badsha Mehsud
Nawab of Great khurasan Fata Waziristan
Ceo
Royal Nawab Hotels and Restaurants
Royal Nawab Man selwa foods and Bevrages
Royal Nawab construction pvt ltd
Royal Nawab Enclave Murree

Gilgit Baltistan of Beautiful Pakistanگلگت بلتستان دو ریجن ھے ایک گلگت ایک سکردوقراقرم ھائی وے پہ رائیکوٹ پل سے آگے جگلو...
01/05/2024

Gilgit Baltistan of Beautiful Pakistan
گلگت بلتستان دو ریجن ھے ایک گلگت ایک سکردو
قراقرم ھائی وے پہ رائیکوٹ پل سے آگے جگلوٹ سے پہلے استور موڑ ( چوک ) سے استور کی طرف رخ کرسکتے ہیں اور گلگلت جے ایس آر چوک سے نیچے عالم برج پل سے سکردو کی طرف روڈ جاتی ھے چوک سے سیدھا آگے آدھا گھنٹے کی مسافت پر گلگت شہر آتا ھے گلگت شہر سکوار۔پڑی بنگلہ۔چھمو گڑھ۔اوشنکھنداس جٹیال۔دنیور۔ہنزل۔نومل۔سلطان آباد ۔سکوار۔نگرل۔خومر۔امپھری۔مجنیی محلہ سمیت لگ بھگ درجنوں خوبصورت دلفریب دلکش انتہائی پرسکون علاقوں پر مشتمل ھے شاپنگ وغیرہ کیلیے این ایل مارکیٹ تاج مارکیٹ وغیرہ بہترین آپشن ھے ھوٹل وغیرہ 1 ہزار سے بیس تیس ہزار تک مل جاتا ھے کھانہ پینا بھی مناسب اور صاف ستھرا ماحول میں میسر ملیں گے باقی سیاح کی انتخاب اور بجٹ پر منحصر ھے گلگت کو گلگت بلتستان کا ہیڈ کواٹر اور سنٹر ھونے کا اعزاز بھی حاصل ھے گلگت بلتستان صوبائی اسمبلی سمیت تمام محکمہ جات کے مین آفیسزز بھی گلگت سٹی میں ھے
گلگت کے سیاحتی مقامات۔
# سٹی پارک
# دنیور پل ایریا
# نلتر ویلی

ہنزہ
ہنزہ سیاحت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ انتہائی نفیس صاف ستھرا نہایت خوبصورت دلفریب دلکش منفرد سیاحتی مقام ھے جہاں اعلی تعلیم یافتہ نوجوان و خواتین بھی سیاحتی پلیٹ فارم پر پیش پیش نظر آتے ہیں جو کہ خوش آئین اور بہترین مثال ھے
سیاحتی مقامات:
# کریم أباد
# التت فورٹ
# بلتت فورٹ،
# عطا آباد جھیل وغیرہ
#گوجال ویلی
#شمشال ویلی

ضلع نگر
::: نگر کے سیاحتی مقامات:-
# راکاپوشی پیک
# دیران پیک
# گولڈن۔پیک
# دامن خوہ
# ہوپر گلیشیر
# بیافو گلیشیر
# ہوپر ویلی
# ہسپر ویلی
# گپہ میڈوز اینڈ ویلی
# مناپن ویلی،

ضلع استور
سیاحتی مقامات
# دیوسائی
# روپال فیس ننگا پربت
# راما میڈوز
# پریشنگ
# منی مرگ ۔ چلم۔برزل ٹاپ
#ہرچو واٹر فال
#شوداس ویلی
گلگت بلتستان
چلم چوکی سے منی مرگ جاتے ھوئے بابو سر ٹاپ ، لواری ٹاپ اور خنجراب ٹاپ سے نسبتاً خوبصورت اور پر سکون ماحول کا برزل پاس ٹاپ 13808 فٹ بلندی پر واقع ھے ۔ 11 جولائی کو بھی ٹاپ کے اطراف میں اچھی خاصی برف کے دیواریں کھڑی تھیں ۔ اطراف کے برف پوش پہاڑوں سے تیز اور یخ بستہ ہوائیں ماحول کو پرکشش بنائے ہوئے تھیں ۔ رات کا درجہ حرارت یقینی طور پر منفی اثرات رکھتا ھو گا۔ برزل ٹاپ کے دوسری طرف منی مرگ واقع ھے ۔ جو کہ جغرافیائی اعتبار سے آزاد جموں و کشمیر مگر انتظامی طور پر گلگت بلتستان کے زیر انتظام ھے ۔ منی مرگ سے براستہ کامرہ ٹاپ آزاد جموں و کشمیر کی نیلم ویلی کے خوبصورت ترین مقام تاؤ بٹ تک پہنچا جا سکتا ھے ۔صدیوں سے یہ راستہ استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ گلگت بلتستان کے لوگ برزل ٹاپ کے راستے موجودہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے سری نگر کا سفر کیا کرتے تھے ۔ برزل ٹاپ کراس کرنے کے بعد خوبصورت بھول بھلیوں کی موڑ در موڑ اترتی خوبصورت سڑک آپ کو ششدر کر دیتی ھے ۔ برزل ٹاپ کے عقب میں شنگوسر کی چھوٹی چھوٹی خوبصورت جھیلیں آپ کو خوش آمدید کہتی ہیں ۔
# دومیل جھیل
# راٹو
# شونٹر
# رینمبو لیک

ضلع دیامر:-
# فیری میڈوز
# دیامر بھاشہ ڈیم (زیر تعمیر ھے)
#گال ویلی میڈوز

ضلع غذر
پھنڈر۔یسین۔گوپس۔پونیال۔گاہکوچ سمیت بہت سارے خوبصورت بہتے آبشاروں اور سر سبز شاداب دلفریب دنیا کے بہت ہی حسین وادیوں پر مشتمل ھے مہمان سیاح ان دل موہ لینے والے دلنشین علاقوں کی سیر کرکے ایکسپلور کرسکتے ہیں
#شنگلاٹ ویلیج
پھنڈر۔
گنی گاہ جھیل





Nawab Naik badsha Mehsud EXc MPA MNA PML N
DrNawab Naik Badsha Mehsud
Nawab of Great khurasan Fata Waziristan
Ceo
Royal Nawab Hotels and Restaurants
Royal Nawab world Adventure Travel Tours pvt Ltd
Royal Nawab Enclave Murree
Royal Nawab construction pvt ltd
Royal Brothers World Group of companies nd industries pvt Ltd.
AIMS Hospitals
AIMS Schools

22/03/2024

ایک بار پھر The city of Romance وینس (اٹلی )سے پیش خدمت ایک نئی ویڈیو۔۔پانیوں کے اس شہر میں دنیا بھر ہر سال بلاشبہ کروڑوں سیاح آتے ہیں۔۔اسکی پرانی اور تنگ گلیاں انسان کو سینکڑوں سال پیچھے لے جاتی ہیں۔۔۔آپ بھی دیکھئے اور رائے کا اظہار ضرور کیجئے
Nawab Naik badsha Mehsud EXc MPA MNA PML N
Ceo
Royal Nawab Hotels and Restaurants
Royal Nawab world Adventure Travel Tours pvt Ltd
Royal Nawab Enclave Murree
Royal Nawab construction pvt ltd
Royal Brothers World Group of companies nd industries pvt Ltd.

10/02/2024
01/10/2023

اہرام مصر کے بارے میں وہ دس اہم نکات جو ہمیں مصر کی تاریخ کے بارے میں بتاتے ہیں
آئیے پہلے یہ واضح کر دیں کہ اہرام مصر خلائی مخلوق نے نہیں بنائے تھے۔ مصر میں پہلے اہرام کی تعمیر کو ساڑھے چار ہزار سے زائد سال گزر چکے ہیں اور مصر میں 100 سے زائد اہرام موجود ہیں۔

ہر اہرام ایک تعمیراتی معجزہ ہے۔ جس میں سے سب سے بڑا اہرام جیزہ کا ہے، جو فرعون خوفو یا خئوپس کے لیے بنایا گیا۔ یہ اہرام 139 میٹر اونچا ہے اور اس کی تعمیر میں پتھر کے 20 لاکھ 300 ہزار سے زائد ٹکڑے استعمال کیے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک کا وزن کئی ٹن ہے۔

شاندار عمارتیں۔۔۔ یہ یقین کرنا آسان نہیں کہ اس وقت تکنیکی آلات کے بغیر لوگ ایسی پائیدار عمارتیں بنا سکتے تھے لیکن وہ کامیاب ہو گئے۔

برطانوی مورخ گریگ جینر نے تاریخ کے دلچسپ پہلوؤں کو بیان کیا ہے اور انھوں نے قدیم مصری تاریخ اور ’خلائی آثار قدیم‘ کے ماہر پروفیسر سارہ پارکک اور امریکی مصری مزاح نگار ماریہ شہاتا کے ساتھ دنیا کے اس عجوبے کے بارے میں بات کی۔
Royal Nawab world Adventure Travel Tours pvt Ltd

ہم یہاں ان کی گفتگو کا نتیجہ دے رہے ہیں۔

1۔ وہ ذہین ریاضی دان تھے
اہرام کی تعمیر صرف بھاری پتھروں کا بوجھ نہیں تھی۔ قدیم مصر میں مارکر تھے (جو لوگ کٹ کے مقام کا تعین کرنے کے لیے لکڑی یا پتھر پر نشان لگاتے تھے) جنھوں نے پتھر کے ٹکڑوں کی تعداد کا حساب لگایا تاکہ اہرام کی جگہ پر لے جایا جا سکے اور یہ بھی تعین کیا گیا کہ زمین میں کوئی ڈھال تو نہیں۔

مثال کے طور پر عظیم خوفو اہرام کے ہر طرف 52 ڈگری کی ایک مقررہ ڈھلوان ہے۔ اہرام بنانے کے لیے استعمال ہونے والے حساب کی درستگی سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ ذہین اور ہنر مند ریاضی دان تھے۔

اہرام مصر
اگر کسی کو اہرام بنا کر ابدی زندگی مل گئی ہے تو وہ سقرہ میں پہلے اہرام کے ڈیزائنر ایمهوتِپ ہیں۔ ایک ہنر مند معمار ہونے کے علاوہ وہ فرعون کے دربار میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اور ایک پادری اور معالج بھی تھے۔ قدیم مصریوں نے انھیں اتنی عزت دی کہ بعد میں انھیں دیوتا کا درجہ دے دیا۔

1960 کے آس پاس فلم بینوں نے ان کے کردار کو اپنے طریقے سے دوبارہ تخلیق کیا اور انھیں فلم ’دی ممی‘ میں ولن کے طور پر پیش کیا، جو جیمز فریزر اور ریچل ویز کو خوفزدہ کرتا ہے۔

3۔ کارکن توانا اور مضبوط جسم کے مالک تھے

اہرام بنانے والوں نے توانا اور مضبوط جسم بنانے کے لیے ان پتھروں کو اٹھایا لیکن یہ مرد مشروبات اور پروٹین شیک نہیں پیتے تھے۔

ہرام بنانے والے مزدوروں کے دیہات میں بطخوں، بھیڑوں، خنزیروں اور گائے کی باقیات سے پتہ چلتا ہے کہ اہرام بنانے والے گوشت، روٹی اور بیئر کا بھرپور انداز میں استعمال کرتے تھے۔

ان ملازمین کا قبرستان بھی ایک ہی چیز ظاہر کرتا ہے کیونکہ اس کام کے دوران حادثات بھی پیش آئے لیکن حیرت انگیز طبی دیکھ بھال کی بدولت بہت سے زخم مہلک نہیں تھے اور لوگوں کی ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کا بھی علاج کیا گیا۔

اہرام مصر
4۔ کارکن ٹیم ورکر تھے
قدیم گاؤں میں آثار قدیمہ کی کھدائی اہرام کے ہنر مند مزدور کرتے تھے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ غلاموں کو مبینہ طور پر اہرام بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ کہ وہ ہنر مند مزدور تھے جنھوں نے اپنے کام سے اچھی کمائی بھی کی۔

جب اہرام کے ورکروں کے گروپ نے اپنے آپ کو ’فرینڈز آف خوفو‘ کہا تو ایسا لگتا ہے کہ انھیں اپنے کام کے ماحول سے کوئی مسئلہ نہیں تھا اور نہ ہی استحصال کی کوئی خبر تھی۔

ان گروہوں کی جانب سے چھوڑے گئے پتھروں پر بنی تصاویر اور لیتھوگرافس سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں اہرام بنانے والے دوسرے گروپوں کے ساتھ فخر، یکجہتی اور صحت مند مقابلے کا احساس تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مصر: 'اہرام مصر خلائی مخلوق نے تعمیر نہیں کیے تھے'

ٹوٹی ہوئی ناک والے مصری مجسموں کا معمہ جس نے بہت سے مفروضوں کو جنم دیا

اہرام مصر کی تعمیر کی پیچیدہ ترین گتھی حل؟

5۔ اہرام پانی کے پاس تھے
آج جیزا کے اہرام ریت کے ٹیلوں کے درمیان واقع ہیں لیکن جب وہ بنائے گئے تھے تو انھیں اس طرح رکھا گیا تھا کہ ان کی تصویر کا عکس دریائے نیل کے پانی پر پڑا، جو اس وقت قریب تھا۔

قدیم مصریوں نے دریائے نیل میں نہریں بنائی تھیں جس کی وجہ سے اہرام کے مقام کے قریب پتھر کے بڑے ٹکڑے تھے۔

6۔ قدیم مصر کے فرعونوں کے لیے بعض اوقات ایک اہرام کافی نہیں ہوتا تھا
اہرام مختلف اہراموں کا ایک مجموعہ تھا، بشمول چھوٹے اہرام نیز فرعون کے پجاریوں کی طرف سے پیش کیے جانے والے راستے اور مندر۔
7۔ قدیم مصری فانی تھے

ہزاروں لوگوں کو کئی دہائیوں سے صرف ایک شخص کے لیے قبریں بنانے پر مجبور کرنا وقت اور توانائی کے ضیاع کی طرح لگتا ہے لیکن یہ صرف بادشاہ اور فرعون ہی نہیں تھے جنھوں نے موت کے بعد بھی اپنی زندگی گزاری۔

جیزا کے اہرام سینکڑوں دیگر اہراموں کے مجموعے میں گھرا ہے جو قدیم مصر کے اہم لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ مزدوروں کو ایسی شاہانہ اور تکلیف دہ تدفین کی تقریب پسند نہیں تھی۔ وہ صرف یہ امید کرتے تھے کہ وہ فرعون کے لیے مقدس قبرستان کے اہرام کی تعمیر کے فوراً بعد اپنے دنیاوی انعامات وصول کریں گے۔

8۔ وہ خزانے اور خزانوں سے متوجہ تھے
قدیم مصر کے فرعون بعد کی زندگی کا سفر خالی ہاتھ نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن اہرام خزانے کو دفن کرنے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہ تھی۔

جیسا کہ بعض صورتوں میں مقبروں کو اس وقت تک لوٹا گیا جب تک کہ وہ تقریباً ختم نہ ہو گئے۔ جب جدید دور کے آثار قدیمہ کے ماہرین اہرام تک پہنچے تو اکثر اہرام کے پویلین خالی تھے۔

خوش قسمتی سے قدیم مصر کے کچھ لوٹ مار کرنے والوں نے جائیداد اور خزانے کی ایک فہرست اور تفصیل لکھی جو انھوں نے چوری کی۔ اب ایکشن لینے کی باری لارا کرافٹ کی ہے! (ویڈیو گیمز پر حملہ کرنے والے مقبرے کا مرکزی کردار)
9۔ اہرام اپنی پیچیدہ اور پراسرار سلامتی اور تحفظ کے لیے بدنام
ماہرین آثار قدیمہ کو مصر کے اہراموں میں کوئی کلہاڑی، سانپ کے گڑھے یا یہاں تک کہ عام جال نہیں ملے۔

مقبروں کی چوری کے خلاف تمام احتیاطی تدابیر جیسے اہراموں کے داخلی دروازوں کے سامنے بڑے پتھر رکھنا (جبکہ انڈیانا جونز ایک گہری سانس لیتے ہیں) بیکار تھے۔

اور جہاں تک مصری اہراموں کی بات ہے تو ایسی چیزوں کا بہت زیادہ امکان نہیں کہ راستے میں انتباہ جیسا کچھ ہو: جیسے کہ ’نو انٹری (آپ داخل نہیں ہو سکتے) یا اگر آپ کی جگہ میں ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا۔‘

10۔ اہرام مصر اب بھی ماہرین آثار قدیمہ کو پریشان کرتا ہے
ابھی بھی اہرام مصر اور اس کے تعمیر کرنے والوں کے بارے میں بہت کچھ ایسا ہے، جن کے بارے میں ماہرین آثار قدیمہ نہیں جانتے۔

مثال کے طور پر ان بڑے مقبروں میں خالی جگہیں ہیں جن کے بارے میں آثار قدیمہ کے ماہرین اب بھی بحث کر رہے ہیں کہ وہ کس طرح تعمیر کیے گئے تھے۔
Nawab Naik badsha Mehsud EXc MPA MNA PML N
Ceo
Royal Nawab construction pvt ltd
Royal Brothers World Group of companies nd industries pvt Ltd.
Royal Adventure Club
Royal Nawab Hotels and Restaurants
Royal Nawab Enclave Murree

22/09/2023

خوشاب کا ہزاروں سال پرانا پر اسرار قلعہ

منی مرگ: جنت کے ایک ٹکڑے کا یادگار سفر. منی مرگ کسی جادو نگری سے کم نہیں ہے یہ گلگت بلتستان کے ضلع استور کا آخری گاؤں ہے...
31/07/2023

منی مرگ: جنت کے ایک ٹکڑے کا یادگار سفر.

منی مرگ کسی جادو نگری سے کم نہیں ہے یہ گلگت بلتستان کے ضلع استور کا آخری گاؤں ہے جس کے ایک طرف تاؤ بٹ جبکہ دوسری جانب کارگل لگتا ہے۔ منی مرگ کی وادی گزشتہ سال تک سیاحوں کیلئے آفیشل طور پر کھولی نہیں گئی تھی جبکہ اس سال چلم چوکی پر پاکستانی شناختی کارڈ پر انٹری کروا کر صبح 8 بجے سے دن 11 بجے تک آپ منی مرگ کی طرف جا سکتے ہیں اور شام چار بجے وہاں سے واپسی کا سفر ضروری ہے اگر آپ نے وہاں قیام نہیں کرنا تو۔

منی مرگ اور تاوبٹ کے لینڈ سکیپ، طرزِ تعمیر، رہن سہن اور دریا کی خوبصورتی میں اس قدر مماثلت ہے کہ اگر تاؤ بٹ سے آنکھیں بند کر کہ آپ کو کوئی منی مرگ چھوڑ آئے تو آنکھ کھلنے پر آپ کو یہی گمان ہوگا کہ آپ تاؤبٹ میں ہی موجود ہیں۔

منی مرگ کی جادوئی وادی کو دیکھ کر میں تو کچھ وقت کیلئے ایک دم مدہوش سا ہو گیا اور اپنی آنکھوں پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ پہلی مرتبہ منی مرگ کو اپنی آنکھوں سے کر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اس سے خوبصورت تو اس دنیا میں کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ جگہ اب بھی دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے اس کی خوبصورتی کے آگے پاکستان کی تمام جگہوں کا حسن ماند پڑتا نظر آتا ہے۔ یہ دیکھنے کے بعد آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ اصل قدرتی حسن تو اس کو کہتے ہیں۔ منی مرگ کے خوبصورت جنگل، نیلے پانیوں، آسمان کو چھوتے پہاڑوں اور سرسبز مرغزاروں کی تعریف آپ اپنے الفاظ میں نہیں کر سکتے۔ قدرت کے اس شہکار کے ساتھ ہمارے الفاظ انصاف نہیں کر سکتے صرف ان کو دیکھ کر سبحان اللہ کا ورد ہی کرتا رہ جاتا ہے۔

چلم سے جیسے ہی آپ منی مرگ کی روڈ پر چیک پوسٹ کراس کر کہ بائیں مڑتے ہیں ایک سیدھی اور بہترین نئی بنی ہوئی سڑک آپ کو اوپر سے آتے ہوئے چھوٹے قدرتی شفاف پانی کے نالے کے ساتھ ساتھ 13،800 فٹ کی بلندی تک برزل ٹاپ تک لے جاتی ہے یہاں تک پہنچتے پہنچتے آپ اس علاقے کی خوبصورتی کی ہلکی سی جھلک دیکھ پاتے ہیں جہاں دونوں اطراف پہاڑوں پر ہزاروں جانور اس حسین وادی میں کھلے گھوم رہے ہوتے ہیں۔ جہاں تک پہاڑ پر آپ کی نظر جائے گی وہاں بکریاں اور بھیڑیں اور نالے کے ساتھ ساتھ گائے اور یاک کی مختلف نسلیں جن کو مقامی زبان میں زوو کہتے ہیں ہزاروں کی تعداد میں نظر آئیں گے۔

برزل ٹاپ سے ہو کر آپ دونوں اطراف کی وادیوں کا نظارہ کر سکتے ہیں یہ جگہ بابوسر ٹاپ سے کافی ملتی جُلتی نظر آتی ہے مگر خوبصورتی میں اس سے کئی گناہ آگے ہے۔ یہاں سے نیچے اترتے ہیں بائیں جانب دور سے آپ کو ایک جھیل نظر آتی ہے جسے گلتاری جھیل کہتے ہیں۔ اس جھیل کے چوروں اطراف یاک اس قدر ذیادہ ہوتے ہیں کہ جھیل کم اور جانور زیادہ نظر آتے ہیں یہاں پہنچ کر لگتا ہے کو بندہ کوئی نیشنل جیوگرافک کا کوئی پروگرام دیکھ رہا ہے۔ اس خوبصورت وادی سے نیچے اترتے ہیں تو خطرناک اُترائی شروع ہوتی ہے مگر سڑک بلکل صاف اور بہترین حالت میں ہے۔ یہ اترائی اترنے کے بعد سامنے منی مرگ کا گاوں نظر آنا شروع ہو جاتا ہے جہاں اے اس وادی نا نقشہ ہی بدل جاتا ہے ایک طرف گھنے جنگلوں سے بھرے اونچے پہاڑ تو دوسری جانب درختوں سے پاک ہرے پہاڑ جو ہریالی سے اس قدر بھرے ہیں کہ لگتا ہے ہرا رنگ گرا دیا ہو ان پر ایک انچ بھی ایسا نہیں جہاں ہرا بھرا گھاس نظر نا آ رہا ہو اور خوبصورت اس قدر کہ دیکھتے ہوئے سانسیں تھم جائیں۔
منی مرگ گاؤں پر پھر ایک فوجی چیک پوسٹ آئے گی جہاں دوبارہ اپنی انٹری کی پرچی دیکھا کر رجسٹر میں اپنا نام اندراج کروا کر آپ منی مرگ گاؤں میں داخل ہو جائیں گے۔ یہاں سے ایک سڑک دائیں جانب جا رہی ہے جو کمری ٹاپ تک جاتی ہے جس کا فاصلہ یہاں سے 13 کلوميٹر ہے کمری پاس سے ہوتے ہوئے آپ پیدل چند گھنٹوں میں تاؤبٹ تک جا سکتے ہیں مگر اس کیلئے خصوصی اجازت نامے کی ضرورت ہوتی ہے جسے لینا آسان کام نہیں ہے۔ منی مرگ گاؤں میں داخل ہوتے ہیں سڑک کچی ہو جاتی ہے مگر اس کے بعد بلکل دریا کے ساتھ ساتھ سیدھی روڈ پر سفر کرنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے سڑک کچی ہونے کے باوجود اچھی حالت میں ہے۔

اس کے بعد دریا کے ساتھ ساتھ منی مرگ کی چھوٹی چھوٹی آبادیاں شروع ہو جاتی ہیں یہاں آپ کو تاؤبٹ کی جھلک نظر آئے گی بلکل ویسے ہی گھر ویسی ہی گھروں کی چھتیں وہی رہن سہن اور ویسی ہی مقامی آبادی، ہر چار سے پانچھ کلومیٹر کے بعد ایک چھوٹا گاؤں آباد ہے جس کے چاروں اطراف جنگل ہے، ان کے جانور دریا کے کنارے اور جنگلوں میں آزادانہ گھوم رہے ہوتے ہیں ، بچوں نے پہاڑوں کے بیچ اپنے لئے کھیل کے میدان بنا لئے ہیں اور دور سے آپ کو یہ میدان بھی آباد نظر آئیں گے۔

منی مرگ کی حسین وادی جو بالکل جنت کے ایک ٹکڑے کی طرح ہے یہ جسے دیکھ کر پرانے وقتوں کے قصے کہانیاں یاد آ جاتے ہیں جن میں پرستان اور حسین وادیوں کا ذکر کیا جاتا تھا۔ اس کے پہاڑی راستوں پر چلنے والے مسافر کبھی بھول نہیں پاتے کہ وہ ایک دن ایسی جگہ پہنچیں تھے جہاں قدرتی حسن اور آنکھوں کو سیراب کرنے والے مناظر ان کے منتظر تھے۔

رینبو لیک اس سفر کی آخری منزل یہ جگہ حسین مرغزاروں اور پھولوں کی بہار سے لدی ہوئی۔ چاروں اطراف کے ہرے بھرے پہاڑوں کے عکس نے اس خوبصورت جھیل کے شفاف پانی کو بھی ہرا کر دیا ہے اور اس کےسامنے کھڑے ہو کر ان پہاڑوں کا عکس جھیل میں دیکھا جا سکتا ہے۔

منی مرگ کے حسین نظاروں، اس کے اونچے دلکش پہاڑں، درختوں کی گھنی چھاؤں، اور گاؤں کے رہائشیوں کی محبت بھرے دل، یہاں آنے والے ہر سیاح کے دل میں ایک یادگار خواب بن جاتے ہیں۔ منی مرگ کا سفر کرنے والے لوگوں کو اس جگہ کی تعریف میں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں کیونکہ اس کی خوبصورتی کو بیان کرنا مشکل ہے۔

اگر آپ ایک بہت خوبصورت سفر کی تلاش میں ہیں جو آپ کے دل کو چھو جائے، تو منی مرگ آپ کے لئے ایک مثال ثابت ہو سکتا ہے، اس خوابوں کا سفر میں منی مرگ آپ کو زندگی بھر یاد رہے گا۔

خرم شبیر۔

دور ان پہاڑیوں میں کچھ تو بستا ہےبس وہیں میرے سکــــون کا راستہ ہے.سکردو آنے والے سیاح یہ تحریر  ضرور پڑھ لیں_❤سکردو گلگ...
15/07/2023

دور ان پہاڑیوں میں کچھ تو بستا ہے
بس وہیں میرے سکــــون کا راستہ ہے.

سکردو آنے والے سیاح یہ تحریر ضرور پڑھ لیں_❤
سکردو گلگت بلتستان کے ایک شہر کا نام ہے لیکن مقامی سیاحتی انڈسٹری میں سکردو سے مراد بلتستان کے چار ضلعے اور ضلع استور کو شامل کیا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان جانے والے سیاح یا تو ہنزہ کا رخ کرتے ہیں یا سکردو کا۔
اسی لئے گلگت بلتستان ٹور کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے :
1: سکردو ٹور
2: ہنزہ ٹور
ہنزہ ٹور جگلوٹ سے شروع ہو کر خنجراب ٹاپ پر ختم ہو جاتا ہے جبکہ سکردو ٹور جگلوٹ سے شروع ہو کر ایک طرف کے ٹو دوسری طرف سیاچن اور تیسری طرف دیوسائی سے ہوتا ہوا منی مرگ پر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر جہاز کے ذریعے سکردو کا سفر کریں تو سکردو شہر سے تمام سیاحتی مقامات تک جانے کے لیئے ہر قسم کی گاڑیاں مل جاتی یے۔ بائی روڈ سکردو کا سفر شاہراہ بابوسر اور قراقرم ہائی کے بعد جگلوٹ سے شروع ہوتا ہے۔ جگلوٹ سے سکردو تک بہترین سڑک بن گئی ہے نئے شاہراہ کا نام جگلوٹ سکردو روڈ سے بدل کر شاہراہ بلتستان رکھ دیا ہے۔۔
استور، گانچھے(وادی خپلو)، کھرمنگ اور شگر جانے کیلے بھی سکردو سے روٹ لے سکتے ہیں۔
سکردو ٹور میں درج ذیل سیاحتی مقامات شامل ہیں۔

1: ضلع سکردو
ضلع سکردو روندو وادی سے شروع ہوتا ہے اور سرمک کے مقام پر ختم ہوجاتا ہے۔
سکردو شہر گلگت بلتستان کا سب سے بڑا شہر ہے اس شہر میں گلگت بلتستان کے ہر ضلعے سے بغرض روزگار لوگ آباد ہیں۔ اس شہر میں شیعہ ، نوربخشی ،سنی، اسماعلیلی، اہل حدیث ہر فرقے کے لوگ پر امن زندگی بسر کرتے ہیں۔ سکردو اس پورے علاقے کا تجارتی مرکز بھی ہے۔سکردو میں گلگت بلتستان کا واحد انٹرنیشنل ائیرپورٹ بھی موجود ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن روزانہ پروازیں اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے چلاتی ہے ۔ پچھلے سال سے سیالکوٹ فیصل آباد اور ملتان سے بھی پروازوں کا آغآز ہوچکا ہے۔

ڈسٹرکٹ سکردو کے سیاحتی مقامات

#دیوساٸی نیشنل پارک
(تاریخی قلعہ)
#شنگریلا ریزورٹ
# ژھوق ویلی
#کچورا جھیل
#سدپارہ ڈیم
#چندا
# ستک ویلی روندو
#بلامک
#وادی بشو
# نانگسوق آرگینک ویلیج
#کتپناہ لیک

2: ضلع گانچھے (وادی خپلو)
ضلع گانچھے کریس سے شروع ہوتا ہے اور سیاچن گلیشئر پر ختم ہوتا ہے ۔ ضلع گانچھے کو وادی خپلو بھی کہا جاتا ہے ۔ ضلع گانچھے بلند ترین پہاڑوں اور گلیشیئرز کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ دنیا کی بلند ترین مہاز جنگ سیاچن اسی ضلع میں واقع ہے اس کے علاوہ قراقرم کے بلند ترین پہاڑوں جیسے کے ٹو، گشہ بروم ، براڈپیک۔ اور مشہ بروم سے کوہ پیما واپسی پر اسی ضلع کی وادی ہوشے کا روٹ استعمال کرتے ہیں۔ یہ ڈسٹرکٹ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔
اس ڈسٹرکٹ کی چند تاریخی اور سیاحتی مقامات درجہ ذیل ہے_
#خپلو فورٹ_
#چقچن مسجد(7 سو سال پرانی مسجد)
#تھوقسی کھر
#ہلدی کونز ویو پوائنٹ
#وادی ہوشے ، کے سکس، کے سیون، مشہ بروم جیسے قراقرم کے اونچے پہاڑوں کی وادی
#سلنگ ریزورٹ
# وادی کندوس گرم چشمہ
#گیاری سیاچن وادی سلترو
#وادی تھلے، تھلے لا
# ننگما وادی کاندے
#کھرفق جھیل
#خانقاہ معلٰی خپلو (ایشیا کی سب سے بڑی خانقاہ)
# کے ٹو ویو پوائنٹ مچلو بروق

3_ضلع شگر
شگر ایک ذرخیز وادی ہے یہ وادی تاریخی مقامات اور بلند ترین پہاڑوں کی وجہ سے مشہور ہے۔
دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی k2 بھی اس ڈسٹرکٹ میں واقع ہے اور دنیا میں 8000 اونچاٸی سے اوپر والی 5 پہاڑ بھی اس خطہ میں موجود ہیں_یہ ڈسٹرکٹ سکردو سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے
شگر کے سیاحتی مقامات
#شگر فوڑٹ_
# blind lake
# دنیا کی بلند ترین اور سرد ریگستان سرفہ رنگا
#کے ٹو پہاڑ_k2
#:ہشوپی باغ
#خانقاہ معلیٰ 600 سال پرانی مسجد ہیں_
# وادی ارندو
# کنکورڈیا
# وسط قراقرم کے بلند ترین پہاڑ گشہ بروم، براڈ پیک، ٹرنگو ٹاور وغیرہ

4: ضلع کھرمنک
آبشاروں اور صاف و شفاف ندی نالوں کی سرزمین۔
سیاحتی مقامات
# منٹھوکھا واٹر فال
# خموش آبشار
# وادی شیلا
# غندوس لیک
# کارگل بارڈر

5: استور
ضلع استور انتطامی طور پر دیامر ڈویژن میں واقع ہے لیکن استور تک رسائی سکردو سے ہوتا ہے خصوصا جو سیاح بذریعہ جہاز سکردو آتے ہیں ان کے لئیے استور تک رسائی سکردو دیوسائی سے ہوتا ہے ۔ وادی استور کے سیاحتی مقامات درج ذیل ہیں۔
# روپال فیس ننگا پربت
# راما میڈوز
# پرشنگ
# منی مرگ
# ڈومیل جھیل
# راتو
# شونٹر
اس کے علاوہ بے شمار سیاحتی مقامات موجود ہیں جہاں تک عام سیاحوں کی رسائی ممکن نہیں ہے۔

Photos of July 2023 Tour: Khaplu, Skardu , Siachin
Royal Nawab world Adventure Travel Tours pvt Ltd

02/06/2023

سیرو تفریح کیلئے چند سفری گزارشات

1) فجر کے فوراً بعد سفر شروع کریں اور مغرب تک اپنی منزل تک پہنچ جائیں ۔ رات کے وقت پہاڑوں پر سفر کرنے سے گریز کریں ۔
2) گرمیوں کے موسم میں سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی بھیڑبھاڑ ہوتی ہے اس لیے سفر پر جانے سے پہلے اپنے لیے رہائش کا انتظام یقینی بنائیں تاکہ وہاں جا کر پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
3) گاڑی میں گنجائش سے زیادہ لوگ سوار نہ کریں ۔ گنجائش سے کم لوگ ہوں تو سفر بھی اچھا گزرتا ہے اور تفریح کا مزہ بھی آتا ہے ۔
4) پہاڑی شاہراوں پر سفر کرنا ہو تو گاڑی کا پٹرول ٹینک ہر وقت فل رکھیں ۔
5) پہاڑی شاہراوں پر لینڈ سلائیڈنگ یا بعض اوقات کسی احتجاج کی وجہ سے کئی کئی گھنٹے راستہ بند ہو جاتا ہے اس لیے اپنے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء ضرور رکھیں ۔
6) پہاڑی شاہراہوں پر بارش اور برفباری میں سفر کرنے سے اجتناب کریں ۔ برفباری میں سفر کرنا ہو تو گاڑی کے ٹائروں کو لوہے کی چین ضرور لگائیں ۔
7) اپنے بچوں اور خواتین کو دریا ، ندی نالوں اور جھیلوں کے قریب جانے یا پانی میں اُترنے سے منع کریں ۔ پہاڑی علاقوں میں پانی ناقابل برداشت حد تک ٹھنڈا ، توقع سے زیادہ گہرا اور بہاؤ تیز ہو سکتا ہے ۔ سیاح خاص طور پر بچے اور خواتین عدم واقفیت کی وجہ سے سیلفیاں لینے کے چکر میں دریا میں اتر جاتے ہیں اور حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
8) تقریباً ہر گاڑی کے دروازے میں کچرے دان بنا ہوتا ہے اپنا ہر قسم کا کچرا اُس میں رکھیں اور جہاں بڑا کچرے دان پڑا ہو وہاں خالی کریں ۔ سٹرکوں پر یا تفریحی مقامات پر کچرا نہ پھینکا کریں ۔
9) جس علاقے کا سفر کرنا ہو وہاں کے موسم کے بارے میں علم ہونا بہت ضروری ہے اور موسم کے حساب سے کپڑوں کا انتخاب کریں ۔
10) سردی سے حفاظت کیلئے گرم کپڑے ، بارش سے بچنے کیلئے چھتری اور برساتی ساتھ رکھیں ۔ عموماً خواتین اونچی ایڑی والے جوتے پہن کر پہاڑی علاقوں میں چلی جاتی ہیں۔ کوشش کریں کہ جوگر پہن کر جائیں یا کم از کم ساتھ رکھیں ۔
11) ہائیکنگ کا ارادہ ہو تو چھڑی اور جوتے ضرور ساتھ لے کر جائیں ۔
12) ہرعلاقے کی اپنی ثقافت اور روایات ہوتی ہیں اُنکا احترام کریں ۔
13) ضرورت سے زیادہ کھانے پینے سے پرہیز کریں ۔
14) نیشنل ڈش چائے پکوڑا ، چپس اور تلے ہوئے تمام کھانوں کی بجائے فریش فروٹس کا استعمال کریں ۔
15) راستہ میں بچوں کو پچاس ، سو کا نوٹ دے کر اُن کو بھکاری بنانے کی بجائے اُن کیلئے گھر سے سکول بیگ کی مختلف چیزیں یا کھانے پینے کی اشیاء لے کر جائیں ۔
16) ابتدائی طبی امداد کا سامان اور بنیادی ضرورت کی ادویات ہر صورت اپنے ساتھ رکھیں ۔
17) ملک کے اندر سفر کریں یا ملک سے باہر ہم اپنے شہر یا ملک کے سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اپنے اچھے اخلاق اور ہرکات سے اپنے علاقے کی بہترین نمائندگی کریں ۔

🇵🇰❤

Location: Manthoka Waterfall Skardu
Royal Nawab world Adventure Travel Tours pvt Ltd

Address

Royal Nawab Palace Bani Gala
Islamabad
004400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Royal Nawab world Adventure Travel Tours pvt Ltd posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Royal Nawab world Adventure Travel Tours pvt Ltd:

Share

Category