Pakistan Odyssey

Pakistan Odyssey I like Solo Travelling in Extreme Winter

16/08/2026

سہیل سخی کو آخری سلام!

سہیل سخی کے جسدِ خاکی کی واپسی کے اس غمگین مرحلے میں سب سے پہلے ہم شگر کے ان تین بہادر نوجوانوں، ابوذر، محمد بشیر اور محمد ندیم کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں سہیل سخی کے جسدِ خاکی کی بازیابی اور منتقلی میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر اہم کردار ادا کیا. ان کی یہ خدمت، ہمت اور انسان دوستی ہمیشہ احترام سے یاد رکھی جائے گی.

اس کے بعد پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے نامساعد اور خطرناک موسمی حالات کے باوجود ریسکیو اور منتقلی کے مراحل میں بھرپور تعاون کیا. اسی طرح حکومتِ گلگت بلتستان، انتظامیہ، پولیس اور تمام متعلقہ اداروں کا بھی تہہ دل سے شکریہ، جنہوں نے اس مشکل وقت میں اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں اور سہیل سخی کے خاندان کے ساتھ تعاون کیا.

گزشتہ شب گمبہ سکردو کے جماعت خانے میں سہیل سخی کی نمازِ جنازہ نہایت احترام، وقار اور عقیدت کے ساتھ ادا کی گئی. اس موقع پر بلتستان کی عوام نے جس محبت اور خلوص کے ساتھ سہیل سخی کو آخری سلام پیش کیا، وہ ان کے اہلِ خانہ کے لیے یقیناً ایک ناقابلِ فراموش احساس ہے. دکھ کی اس گھڑی میں بلتستان کے لوگوں نے جس طرح سہیل سخی کو اپنے بیٹے کی طرح عزت دی، اس محبت کا شکریہ الفاظ میں ادا کرنا ممکن نہیں

آج صبح سہیل سخی کے جسدِ خاکی کو ہنزہ میں وصول پہنچانے کے بعد ان کی نمازِ جنازہ کالج گراؤنڈ، علی آباد میں ادا کی گئی. تمام دوستوں، عزیزوں، اہلِ علاقہ، کوہ پیمائی سے وابستہ افراد اور سہیل سخی سے محبت کرنے والوں سے گزارش ہے کہ اس آخری سفر میں شریک ہو کر انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں.

اس موقع پر وزیرِ سیاحت، کھیل و ثقافت گلگت بلتستان جناب نیک نام کریم کا بھی خصوصی شکریہ، جنہوں نے اس مشکل وقت میں تعاون اور توجہ کا مظاہرہ کیا. ہم گلگت بلتستان کی انتظامیہ، پولیس ڈیپارٹمنٹ بلتستان اور دیگر تمام متعلقہ حکام و اداروں کے بھی شکر گزار ہیں.

سہیل سخی کی جدائی ان کے خاندان کے لیے ایک ناقابلِ بیان صدمہ ہے، لیکن اس دکھ کی گھڑی میں جس طرح شگر کے مقامی نوجوانوں، پاک فوج، انتظامیہ، اداروں اور بلتستان کی عوام نے اپنا کردار ادا کیا، وہ انسانیت، محبت اور قومی یکجہتی کی ایک خوبصورت مثال ہے.

ہم ہر اس شخص کے شکر گزار ہیں جس نے سہیل سخی کے آخری سفر میں کسی بھی صورت اپنا حصہ ڈالا، دعا کی، مدد کی یا ان کے خاندان کے غم میں شریک ہوا۔ آپ سب کا خلوص اور محبت سہیل سخی کے خاندان کے لیے ہمیشہ ایک قیمتی یاد رہے گا.

اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے سہیل سخی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور ان کی بہادری، کردار اور جدوجہد کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے.

سہیل سخی رخصت ہو گئے، مگر ان کے آخری سفر میں شریک ہونے والی دعائیں، محبتیں اور انسانیت ہمیشہ زندہ رہیں گی.

تحریر: فرح انیب مغل

16/08/2026

سہیل سخی کو آخری سلام...
تحریر: فرح انیب مغل
سہیل سخی کے جسدِ خاکی کی واپسی کے اس غمگین مرحلے میں سب سے پہلے ہم شگر کے ان تین بہادر نوجوانوں، ابوذر، محمد بشیر اور محمد ندیم کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں سہیل سخی کے جسدِ خاکی کی بازیابی اور منتقلی میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر اہم کردار ادا کیا. ان کی یہ خدمت، ہمت اور انسان دوستی ہمیشہ احترام سے یاد رکھی جائے گی.

اس کے بعد پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے نامساعد اور خطرناک موسمی حالات کے باوجود ریسکیو اور منتقلی کے مراحل میں بھرپور تعاون کیا. اسی طرح حکومتِ گلگت بلتستان، انتظامیہ، پولیس اور تمام متعلقہ اداروں کا بھی تہہ دل سے شکریہ، جنہوں نے اس مشکل وقت میں اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں اور سہیل سخی کے خاندان کے ساتھ تعاون کیا.

گزشتہ شب گمبہ سکردو کے جماعت خانے میں سہیل سخی کی نمازِ جنازہ نہایت احترام، وقار اور عقیدت کے ساتھ ادا کی گئی. اس موقع پر بلتستان کی عوام نے جس محبت اور خلوص کے ساتھ سہیل سخی کو آخری سلام پیش کیا، وہ ان کے اہلِ خانہ کے لیے یقیناً ایک ناقابلِ فراموش احساس ہے. دکھ کی اس گھڑی میں بلتستان کے لوگوں نے جس طرح سہیل سخی کو اپنے بیٹے کی طرح عزت دی، اس محبت کا شکریہ الفاظ میں ادا کرنا ممکن نہیں

آج صبح سہیل سخی کے جسدِ خاکی کو ہنزہ میں وصول کیا جائے گا، جس کے بعد ان کی آخری نمازِ جنازہ کالج گراؤنڈ، علی آباد میں ادا کی جائے گی. تمام دوستوں، عزیزوں، اہلِ علاقہ، کوہ پیمائی سے وابستہ افراد اور سہیل سخی سے محبت کرنے والوں سے گزارش ہے کہ اس آخری سفر میں شریک ہو کر انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں.

اس موقع پر وزیرِ سیاحت، کھیل و ثقافت گلگت بلتستان جناب نیک نام کریم کا بھی خصوصی شکریہ، جنہوں نے اس مشکل وقت میں تعاون اور توجہ کا مظاہرہ کیا. ہم گلگت بلتستان کی انتظامیہ، پولیس ڈیپارٹمنٹ بلتستان اور دیگر تمام متعلقہ حکام و اداروں کے بھی شکر گزار ہیں.

سہیل سخی کی جدائی ان کے خاندان کے لیے ایک ناقابلِ بیان صدمہ ہے، لیکن اس دکھ کی گھڑی میں جس طرح شگر کے مقامی نوجوانوں، پاک فوج، انتظامیہ، اداروں اور بلتستان کی عوام نے اپنا کردار ادا کیا، وہ انسانیت، محبت اور قومی یکجہتی کی ایک خوبصورت مثال ہے.

ہم ہر اس شخص کے شکر گزار ہیں جس نے سہیل سخی کے آخری سفر میں کسی بھی صورت اپنا حصہ ڈالا، دعا کی، مدد کی یا ان کے خاندان کے غم میں شریک ہوا۔ آپ سب کا خلوص اور محبت سہیل سخی کے خاندان کے لیے ہمیشہ ایک قیمتی یاد رہے گا.

اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے سہیل سخی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور ان کی بہادری، کردار اور جدوجہد کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے.

سہیل سخی رخصت ہو گئے، مگر ان کے آخری سفر میں شریک ہونے والی دعائیں، محبتیں اور انسانیت ہمیشہ زندہ رہیں گی.

15/08/2026

ہنزہ کا بہادر بیٹا، پاکستان کا ابدی ہیرو

ہنزہ کی بلند و بالا چوٹیوں سے جنم لینے والے خواب کبھی معمولی نہیں ہوتے اس سرزمین کے بیٹے جب پہاڑوں کی طرف قدم بڑھاتے ہیں تو ان کے ساتھ صرف اپنی منزل کا خواب نہیں ہوتا، بلکہ وطن کا پرچم، قوم کی امیدیں اور اپنے لوگوں کا فخر بھی ہوتا ہے. سہیل سخی بھی اسی سرزمین کا وہ بہادر سپوت تھا جس نے پہاڑوں کو اپنا میدانِ عمل بنایا اور پاکستان کا نام دنیا کی بلند ترین چوٹیوں تک پہنچانے کے عزم کے ساتھ زندگی گزاری.
آج وہی بہادر بیٹا سکردو پہنچ چکا ہے، مگر اس بار اپنے قدموں پر نہیں. آج وہ ایک ایسے سفر پر ہے جس کی منزل اس کا آبائی وطن ہنزہ ہے؛ ایک ایسا سفر جس کے انتظار میں اس کے والدین، اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور پورا ہنزہ کئی دن سے بے قرار تھے.
یہ واپسی خوشی کی نہیں، ایک عظیم بیٹے کو آخری بار اپنی مٹی کی آغوش میں لوٹانے کی واپسی ہے.
سہیل سخی صرف ایک کوہ پیما نہیں تھا. وہ ان بہادر پاکستانیوں میں سے تھا جنہوں نے اپنی صلاحیت، محنت اور حوصلے سے دنیا کو بتایا کہ پاکستان کے نوجوان صرف خواب دیکھتے نہیں، بلکہ ان خوابوں کو دنیا کی بلند ترین چوٹیوں تک لے جانے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں.
اس کے لیے پہاڑ محض چٹانیں اور برفانی راستے نہیں تھے؛ وہ اس کے خوابوں کا میدان تھے. ہر چوٹی ایک چیلنج تھی، ہر قدم ایک عزم اور ہر کامیابی پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کے نام تھی.
لیکن ایک قومی ہیرو کی آخری واپسی کا سفر جس طرح طے ہوا، وہ یقیناً ہمارے اجتماعی ضمیر سے کئی سوال پوچھتا ہے.
ایک ایسا شخص جس نے اپنی زندگی کی بہترین توانائیاں پاکستان کے نام کی بلندی کے لیے وقف کر دیں، اس کی جسدِ خاکی کو کئی روز تک براڈ پیک کے بیس کیمپ پر انتظار کرنا پڑا. برفانی پہاڑوں کے درمیان ایک ماں کا بیٹا، ایک خاندان کا سہارا اور ایک قوم کا بہادر سپوت اپنی آخری منزل کی طرف روانگی کا منتظر رہا.
اب جبکہ وہ سکردو پہنچ چکا ہے، تو ہماری ذمہ داری بھی ختم نہیں ہوئی.
ہم حکومت، انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سہیل سخی شہید کو ان کے آبائی وطن ہنزہ تک پورے قومی وقار، سرکاری اعزاز اور عزت و احترام کے ساتھ پہنچایا جائے. ان کی آخری رسومات کو محض ایک رسمی کارروائی نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک قومی ہیرو کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع بنایا جائے.
کیونکہ یہ صرف سہیل سخی کے خاندان کا غم نہیں.
یہ ہنزہ کا غم ہے۔
یہ گلگت بلتستان کا غم ہے.
یہ پاکستان کا نقصان ہے.
سہیل سخی نے چوٹیوں کو صرف سر نہیں کیا، اس نے اپنے عزم سے ان بلندیوں پر پاکستان کا نام لکھا.
آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر اس کا نام ان پہاڑوں کے ساتھ زندہ رہے گا جنہیں دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خواب اترتے تھے. وہ ہر اس نوجوان کے حوصلے میں زندہ رہے گا جو کسی بلند چوٹی کو دیکھ کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کرے گا. وہ ہر اس پاکستانی کے دل میں زندہ رہے گا جس کے لیے سبز ہلالی پرچم صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ وطن کی عزت اور پہچان ہے.
سہیل سخی!
آپ ہنزہ کی وادیوں سے نکلے تھے، دنیا کی بلند چوٹیوں تک پہنچے اور آج اپنے وطن کی مٹی کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں.
آپ کا جسم پہاڑوں سے واپس آ گیا ہے، مگر آپ کی داستان ان پہاڑوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی.
آپ نے زندگی میں بلندیوں کا انتخاب کیا، اور شاید اسی لیے آپ کا نام بھی اب معمولی یادوں کا حصہ نہیں بن سکتا. آپ ان لوگوں میں شامل ہو گئے ہیں جنہیں وقت نہیں مٹاتا، بلکہ وقت کے ساتھ ان کا مقام مزید بلند ہوتا جاتا ہے.
آج ہنزہ اپنے اس بہادر بیٹے کو آنکھوں میں آنسو اور دل میں فخر لیے خوش آمدید کہے گا. ایک ماں اپنے بیٹے کو آخری بار دیکھے گی، ایک خاندان اپنے چراغ کو مٹی کے سپرد کرے گا اور ایک پوری قوم اپنے اس سپوت کو سلام پیش کرے گی جس نے اپنی زندگی پاکستان کے نام اور اپنی منزل پہاڑوں کے نام کردی.
سہیل سخی شہید!
آپ کی زندگی ایک سفر تھی، آپ کی شہادت اس سفر کا اختتام نہیں بلکہ آپ کے نام کو ہمیشہ کے لیے امر کر دینے والا باب ہے.
آپ نے پہاڑوں پر پاکستان کا پرچم بلند کیا، اب پاکستان کی تاریخ آپ کے نام کو بلند رکھے گی.
آپ ہنزہ کا فخر تھے، آپ پاکستان کا فخر ہیں، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک ابدی مثال رہیں گے.
اللہ تعالیٰ سہیل سخی شہید کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے والدین اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے اور ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہ ہونے دے.
کچھ لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کے خواب، ان کی ہمت اور ان کا نام ہمیشہ زندہ رہتا ہے.
سہیل سخی بھی انہی لازوال ناموں میں سے ایک ہے.

فرح انیب مغل

15/08/2026

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Odyssey posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share