26/01/2026
عنوان: خاموشی کی طرف ہجرت (پینگوئن، پہاڑ اور انسان)
یہ ظرف ہے صرف پہاڑوں کا، ورنہ کون دیتا ہے آواز دوسری… جب انسان ہر طرح سے تھک جاتا ہے لوگوں کے رویّوں سے، رشتوں کی الجھنوں سے، نہ ختم ہونے والے سوالوں اور خود کو بار بار ثابت کرنے کی اذیت سے تو اس کا دل شور سے بھاگ کر ایسی خاموشی ڈھونڈتا ہے جہاں صفائیاں نہیں، صرف قبولیت ہو۔ یہ کوئی نئی بات نہیں؛ صدیوں سے انسان ذہنی سکون کے لیے ایسی جگہوں کی طرف لوٹتا آیا ہے جہاں فطرت انسان سے سوال نہیں کرتی بلکہ اسے ویسا ہی قبول کر لیتی ہے جیسا وہ ہے۔ شاید اسی ازلی کشش کے تحت 2006 کی ایک دستاویزی فلم میں دکھایا گیا وہ تنہا پینگوئن بھی اپنے گروہ سے الگ ہو گیا تھا وہ جس نے سمندر کی مانوس گہرائیوں، جھنڈ کی حفاظت اور شور بھری زندگی کو چھوڑ کر برفانی پہاڑوں کا رخ کیا۔ نہ وہ راستہ آسان تھا، نہ منزل واضح؛ مگر اس کے قدموں میں ایک عجیب سا یقین تھا، جیسے وہ جانتا ہو کہ بعض اوقات زندگی کو بچانے کے لیے ہجوم سے نکلنا ضروری ہوتا ہے۔ وہ پینگوئن کسی بغاوت میں نہیں، بلکہ خاموش شفا کی تلاش میں تھا ایسی خاموشی جو سوال نہیں کرتی، بس بوجھ اٹھا لیتی ہے۔ انسان بھی کچھ ایسا ہی کرتا ہے؛ جب لفظ دھوکہ دے جائیں اور آوازیں شور بن جائیں تو وہ پہاڑوں کی طرف پلٹتا ہے، کیونکہ پہاڑ نہ الزام رکھتے ہیں نہ فیصلے سناتے ہیں، وہ بس سن لیتے ہیں۔ میں جب پہاڑوں کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے دامن میں جگہ دی، بغیر یہ پوچھے کہ میں کون ہوں یا کیوں آیا ہوں؛ انہوں نے میری بات بالکل اس دوست کی طرح سنی جو نہ نصیحت کرتا ہے نہ مقابلہ، بس ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔ پہاڑوں کی خاموشی میں ایک گہری سی گفتگو ہوتی ہے کانوں سے نہیں، دل سے سنی جانے والی جو انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ ٹوٹ جانا کمزوری نہیں اور تھک جانا جرم نہیں۔ اسی لمحے مجھے سمجھ آیا کہ پہاڑ کیوں بہترین دوست ہیں؛ کیونکہ دنیا میں اگر کوئی ایسی ہستی ہے جو بدلے میں کچھ مانگے بغیر انسان کو پورا سن لے، اس کے اندر کے شور کو اپنی خاموشی میں دفن کر کے صرف سکون لوٹا دے، تو وہ پہاڑ ہیں۔
بقلم
سید نعمان گیلانی