Umrah Updates

Umrah Updates UMRAH TRAVEL & TOURS SERVICES
Umrah Package | Hotel Booking
Airline Tickets | Work Visa

02/08/2026

🕋 اگست عمرہ سپیشل
✈️ سعودی ایئر لائنز
🏨 مکہ و مدینہ کے بہترین ہوٹل
21 دن
💰 خصوصی ڈسکاونٹ
📞 ابھی رابطہ کریں اور اپنی سیٹ بک کروائیں

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر نے زائرین اور صارفین کی توجہ حاصل کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اسلام کے ...
02/08/2026

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر نے زائرین اور صارفین کی توجہ حاصل کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اسلام کے تیسرے خلیفہ اور دامادِ رسول، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی قبرِ مبارک ہے، اسلامی روایات اور تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ دعویٰ مکمل طور پر درست اور مستند ہے۔

خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار (4) صاحبزادیاں تھیں۔
1- حضرت زینب رضی اللہ عنہا: یہ آپ ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں، ان کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے ہوا تھا۔

2۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا: یہ آپ ﷺ کی دوسری صاحبزادی تھیں۔ان کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوا اور انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔

3۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا: یہ آپ ﷺ کی تیسری صاحبزادی تھیں،حضرت رقیہؓ کی وفات کے بعد ان کا نکاح بھی حضرت عثمان بن عفانؓ سے ہوا تھا۔

4۔ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا: یہ آپ ﷺ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی صاحبزادی تھیں،ان کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوا۔

اسلامی تاریخ اور روایات کے مطابق، سن 35 ہجری میں شہادت کے بعد حضرت عثمان غنیؓ کو مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان 'جنت البقیع' کے بالکل متصل ایک باغ میں دفن کیا گیا تھا جسے "حشِ کوکب" کہا جاتا تھا۔

خلافتِ راشدہ کے بعد، اموی دورِ حکومت میں جب مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن الحکم نے جنت البقیع کی حدود کو وسیع کیا، تو اس باغ کو بقیع کے اندر شامل کر لیا گیا، اسی وجہ سے آج یہ مقام جنت البقیع کے آخری حصے میں واقع ہے۔
بقیع الغرقد میں موجود تمام صحابہ کرام، اہل بیتِ اطہار اور امہات المؤمنین کی قبور کو پکی تعمیرات، مزارات یا نام کی تختیوں سے پاک رکھا گیا ہے۔
قبرِ مبارک پر پتھر بطور نشانی موجود ہیں، جو کہ قرونِ اولیٰ کی اسلامی سادگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
بقیع کے آخری حصے میں ایک چبوترے اور حفاظتی جنگلے کے اندر یہ مبارک مقام دیکھا جا سکتا ہے۔ سعودی وزارتِ امورِ اسلامیہ کی جانب سے وہاں ایک نیلا معلوماتی بورڈ بھی نصب ہے جو زائرین کو مسنون طریقے سے سلام پیش کرنے اور بدعات سے بچنے کی ہدایت کرتا ہے۔

مسجد نبوی کے گیٹ پر یہ موبائل ظہر سے کسی نے رکھا ہے ،سینکڑوں لوگ آجارہے ہیں، کوئی نہیں اٹھا رہا ہے ، کاش ایسے ایمان دار ...
02/08/2026

مسجد نبوی کے گیٹ پر یہ موبائل ظہر سے کسی نے رکھا ہے ،
سینکڑوں لوگ آجارہے ہیں، کوئی نہیں اٹھا رہا ہے ، کاش ایسے ایمان دار لوگ ہر جگہ جا کر ہوتے ،
شرطہ کو میں نے بتایا، اس نے کہا
خللّی وللی🙂

اہم تنبیہمنصہ نسک (Nusuk) اب ایسی تصاویر طلب کر رہا ہے جو شرعی ضوابط کے مطابق ہوں۔اہم اپ ڈیٹ:نسک پلیٹ فارم خواتین کی بغی...
02/06/2026

اہم تنبیہ

منصہ نسک (Nusuk) اب ایسی تصاویر طلب کر رہا ہے جو شرعی ضوابط کے مطابق ہوں۔

اہم اپ ڈیٹ:
نسک پلیٹ فارم خواتین کی بغیر حجاب تصاویر قبول نہیں کرے گا۔ لہٰذا تمام ایجنٹس اور متعلقہ افراد سے درخواست ہے کہ جب خواتین کے پاسپورٹ یا دیگر دستاویزات جمع کروائیں تو ان کی تصویر حجاب کے ساتھ ہو۔

❌ بغیر حجاب تصویر: ناقابل قبول
✅ حجاب کے ساتھ تصویر: قابل قبول

ان ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے تاکہ درخواستوں میں تاخیر یا مسترد ہونے سے بچا جا سکے۔

واللہ ولی التوفیق
آپ کے تعاون کا شکریہ۔

حج کے 5 دنوں میں مسافر اور مقیم کا مسئلہ بار بار پوچھا جا رہا ہے، خاص طور پر منیٰ، عرفات اور مکہ میں نمازوں کے حوالے سے۔...
24/05/2026

حج کے 5 دنوں میں مسافر اور مقیم کا مسئلہ بار بار پوچھا جا رہا ہے، خاص طور پر منیٰ، عرفات اور مکہ میں نمازوں کے حوالے سے۔

دارالعلوم کراچی کا فتویٰ اور مکمل وضاحت اس پوسٹ میں موجود ہے۔
پکچر غور سے دیکھ لیں، ان شاء اللہ اکثر سوالات کلیئر ہو جائیں گے

اللہ و اکبر تیرے حرم کی کیا بات مولا تیرے کرم کی کیا بات مولا صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم ❤️❤️❤️
07/05/2026

اللہ و اکبر
تیرے حرم کی کیا بات مولا
تیرے کرم کی کیا بات مولا
صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم ❤️❤️❤️

میں اس وقت مدینہ منورہ میں موجود ہوں۔سب سے پہلے پاکستانی حکومت اور پھر ٹریول ایجنٹس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتی ہو...
14/03/2026

میں اس وقت مدینہ منورہ میں موجود ہوں۔
سب سے پہلے پاکستانی حکومت اور پھر ٹریول ایجنٹس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتی ہوں کہ خدارا پاکستانی عوام کے ساتھ ظلم مت کریں۔ لوگ بہت امیدوں اور دعاؤں کے ساتھ عمرہ کی نیت سے یہاں آتے ہیں، لیکن کئی ٹریول ایجنٹس ان کے ساتھ دھوکہ کرتے ہیں۔
اکثر ایجنٹس پہلے ویزا دینے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہماری رہائش لیں گے تو ہی ویزا ملے گا۔ مجبور ہو کر لوگ 15 سے 20 دن کے پیکج کے لیے لاکھوں روپے ادا کرتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ وہ سکون سے رہیں گے اور عبادت پر توجہ دے سکیں گے۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلتی ہے۔ ایجنٹس پہلے پڑھ لکھ کر اچھے ہوٹل اور کم فاصلے کا وعدہ کرتے ہیں، مگر جب لوگ مکہ یا مدینہ پہنچتے ہیں تو صورتحال بالکل مختلف ہوتی ہے۔
میرے اور بہت سے دیگر عمرہ زائرین کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہوٹل حرم سے تقریباً 600 میٹر کے فاصلے پر ہے، مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ہوٹل تقریباً 6 کلومیٹر دور ہے۔ عمرہ کے لیے اکثر بزرگ مرد اور خواتین آتے ہیں، جن کے لیے اتنا فاصلہ طے کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
مکہ مکرمہ میں تو ایک عورت کو ہوٹل تک بھی رسائی نہیں دی گئی اور وہ مجبور ہو کر سڑک پر سوتی رہی۔ کل مسجد نبوی میں بھی کئی خواتین کو پریشان اور روتے ہوئے دیکھا۔
جب ٹریول ایجنٹس کو فون کیا گیا تو انہوں نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے بدتمیزی کی، یہاں تک کہ عمرہ زائرین کو ہی بلیک میلر کہہ دیا گیا۔ کچھ ایجنٹس ایسے رویے اختیار کیے بیٹھے ہیں جیسے انہیں کسی کا خوف ہی نہیں۔
میری بھی کل اپنے ٹریول ایجنٹ سے بات ہوئی جس نے انتہائی بدتمیزی کی۔ ایک اور ایجنٹ سے میری دو سال پہلے ملاقات ہوئی تھی، اس کی ویڈیو بھی موجود ہے جس میں اس نے ویڈیو بنانے پر موبائل چھین لیا تھا اور ایک خاتون کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا تھا۔
ہم تو یہاں چند دن کے مہمان ہیں، رہ کر واپس چلے جائیں گے۔ ہم ٹیکسی افورڈ بھی کر سکتے ہیں اور کر بھی لیتے ہیں۔ لیکن یہاں آنے والے بہت سے بزرگ مرد اور خواتین ایسے ہوتے ہیں جنہیں روزے کی حالت میں سخت گرمی میں ایک گھنٹہ پیدل چلنا پڑتا ہے، تب جا کر وہ عبادت پر توجہ دے پاتے ہیں۔
ہماری حکومت پاکستان سے بار بار گزارش ہے کہ ایسے ٹریول ایجنٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی بھی عمرہ زائر کو اس طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اور مجھے لگتا ہے اگر ظلم ہوتا دیکھیں آواز نا اٹھائیں تب بھی یہ اچھی بات نہیں ہے ہماری عبادتیں کس کام کی ہیں اگر ہم ان بے بس لوگوں کو ایسے ہی روڈز ہر پڑا رہنے دیں ۔



enabvi




حج کی پہلی پرواز 18 اپریل کو سعودی عرب پہنچے گی ان شا اللہ اللہ ہمیں اور ہمارے والدین کو  #حج پر بلائے۔۔۔۔۔آمین
03/03/2026

حج کی پہلی پرواز 18 اپریل کو سعودی عرب پہنچے گی ان شا اللہ
اللہ ہمیں اور ہمارے والدین کو #حج پر بلائے۔۔۔۔۔آمین

🌿 عہدِ نبوی ﷺ میں گھروں کی ترتیبجب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ ہی اس کے ا...
15/02/2026

🌿 عہدِ نبوی ﷺ میں گھروں کی ترتیب
جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ ہی اس کے اردگرد چند حجرے (کمرے) بنائے گئے۔ یہ سادہ مٹی اور کھجور کے تنوں سے بنے ہوئے تھے۔
1️⃣ ازواجِ مطہراتؓ کے حجرے
مسجد کے مشرقی جانب نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کے حجرے تھے۔
ہر حجرہ انتہائی سادہ تھا:
مٹی کی دیواریں
کھجور کی لکڑی کی چھت
ایک یا دو کمرے
حضرت عائشہؓ کا حجرہ وہی مقام ہے جہاں آج روضۂ رسول ﷺ واقع ہے۔
📖 حوالہ: طبقات ابن سعد، تاریخ ابن کثیر، وفاء الوفاء (سمہودی)
2️⃣ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا گھر
مسجد نبوی کے قریب ہی حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا گھر تھا۔
اس گھر کا دروازہ مسجد کی طرف کھلتا تھا۔
حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ صبح نماز کے وقت ان کے دروازے پر آکر فرماتے:
"الصلاة يا أهل البيت"
📖 حوالہ: مسند احمد، ترمذی
3️⃣ دیگر صحابہؓ کے مکانات
ابتداءً کئی صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے، جیسے:
حضرت ابوبکرؓ
حضرت عمرؓ
حضرت عباسؓ
بعد میں نبی ﷺ کے حکم سے مسجد کی طرف کھلنے والے دروازے بند کر دیے گئے، سوائے حضرت ابوبکرؓ کے دروازے کے۔
📖 حوالہ: صحیح بخاری (حدیث سدّوا الابواب)
🏗 165 ہجری میں صورتحال
165 ہجری تک:
مسجد نبوی کی توسیع خلفائے راشدینؓ اور بعد میں اموی خلفاء (خاص طور پر ولید بن عبدالملک) کے دور میں ہو چکی تھی۔
ازواجِ مطہراتؓ کے حجرات کو مسجد میں شامل کر لیا گیا تھا (88 ہجری میں)۔
اصل گھروں کی سادہ مٹی والی شکل باقی نہیں رہی تھی۔
مسجد کا رقبہ اور ساخت پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور مضبوط ہو چکی تھی۔
📖 حوالہ: وفاء الوفاء للسمہودی، تاریخ طبری، البدایہ والنہایہ
✨ خلاصہ
عہدِ نبوی ﷺ میں مسجد کے ساتھ سادہ مٹی کے گھر تھے۔
165 ہجری تک وہ اصل مکانات تاریخی یادگار کے طور پر باقی نہ رہے بلکہ مسجد کی توسیع میں شامل ہو چکے تھے۔
آج روضۂ رسول ﷺ کا مقام حضرت عائشہؓ کے حجرے کی جگہ پر ہے۔
#رِحمتہُ_اللّعَالمِین_مُحمدﷺ

ایک منفرد نوعیت کا مالی جرمانہ مقام: سعودی عرب کا مشرقی علاقہایک استاد بیان کرتے ہیں:میں اپنی گاڑی چلا رہا تھا کہ ٹریفک ...
24/01/2026

ایک منفرد نوعیت کا مالی جرمانہ

مقام: سعودی عرب کا مشرقی علاقہ
ایک استاد بیان کرتے ہیں:
میں اپنی گاڑی چلا رہا تھا کہ ٹریفک پولیس کی گاڑی نے مجھے روک لیا۔
ٹریفک افسر نے مجھ سے لائسنس اور گاڑی کے کاغذات مانگے،
اور سیاہ دھوپ کے چشمے کے پیچھے سے میرا چہرہ غور سے دیکھنے لگا۔
میں نے اس کی مانگی ہوئی تمام دستاویزات دے دیں، تو اس نے نہایت پُرسکون مگر پُرعزم لہجے میں کہا:
— آپ نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی تھی، استاد!
میں نے کہا: جی ہاں، بدقسمتی سے…
اس نے کہا: یہ خلاف ورزی ہے۔
میں نے کہا: جی ہاں، میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے غلطی کی ہے اور جرمانے کا مستحق ہوں۔
افسر نے چالان لکھنا شروع کیا اور مجھ سے پوچھا:
— آپ استاد اور تربیت دینے والے ہیں؟
میں نے کہا: جی ہاں۔
اس نے کہا: اگر کوئی طالبِ علم امتحان میں نقل کرے تو کیا آپ اسے معاف کر دیتے ہیں؟
میں نے کہا: نہیں۔
اس نے کہا: پھر آپ کیا کرتے ہیں؟
میں نے کہا: میں اس پر قانون لاگو کرتا ہوں۔
اس نے مسکراتے ہوئے مجھے جرمانے کی پرچی تھمائی
اور کہا: کیا آپ گاڑی سے نیچے اتر سکتے ہیں؟
میں حیرت اور تذبذب کے ساتھ نیچے اترا…
تو اچانک اس نے مجھے گلے لگا لیا اور میرے سر کو بوسہ دیا۔
میں اس منظر پر سخت حیران تھا…
اس نے کہا:
— استاد! میں فلاں ہوں، آپ کا شاگرد۔
کیا آپ کو یاد ہے، جب میں نے امتحان میں آپ کے بیٹے فلاں سے نقل کی تھی؟
تو آپ نے ہمیں سزا دی تھی، ہماری کاپیاں ضبط کر لی تھیں،
ہم دونوں کو صفر دیا تھا،
اور قانون کو مجھ پر بھی اور اپنے بیٹے پر بھی یکساں نافذ کیا تھا؟
اس دن میں نے جان لیا تھا کہ قانون اس لیے ہوتا ہے کہ سب پر لاگو ہو،
کسی کو استثنا نہ دیا جائے، چاہے وہ آپ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو…
اس دن میں آپ کے احترام میں رویا تھا
اور اس غم میں بھی کہ آپ نے اپنے بیٹے پر بھی قانون نافذ کیا،
لیکن اسی عمل نے آپ کو میرے لیے ایک مثال بنا دیا…
اور آج، میرے استاد، میں آپ پر قانون لاگو کر رہا ہوں،
اور کسی کو استثنا نہیں دے رہا، چاہے وہ میرا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔
میں خوشی سے اپنے آنسو نہ روک سکا،
کہ یہ افسر میرا ہی شاگرد تھا
اور اس نے قانون کی حقیقت کو سمجھ لیا تھا،
جبکہ وہ اپنی وردی کی ہیبت برقرار رکھنے کے لیے
اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا…
پھر اس نے اپنی پچھلی جیب سے رقم نکالی
اور کہا:
میں آپ کو قسم دیتا ہوں، استاد، میری یہ ہدیہ قبول کر لیجیے۔
میں نے انکار کیا…
اس نے اصرار کیا…
اس نے کہا:
قانون تو میں نے آپ پر لاگو کر دیا،
لیکن جرمانے کی رقم میری طرف سے ہے۔
آپ میرے معلم، میرے باپ اور میری مثال ہیں،
اللہ آپ کو ہمارے سروں پر تاج کی طرح قائم رکھے۔
میں نے پھر بھی انکار کی کوشش کی، مگر اس نے بہت اصرار کیا،
اور اس کے ساتھی افسر نے بھی، جو یہ منظر دیکھ کر متاثر ہو رہا تھا۔
میں وہاں سے اس حال میں روانہ ہوا
کہ میرے سینے میں ایک عجیب سی طمانیت،
ایک پراسرار خوشی
اور فخر کے آنسو تھے…
یہ وہ نسل ہے جو میرے ہاتھوں میں پروان چڑھی،
جو نہ اپنی ذمہ داری میں خیانت کرتی ہے
اور نہ اپنے وطن سے بے وفائی…
یہی ایک معلم اور مربی کی اصل دولت ہے،
اگر وہ یہ اقدار اپنے طلبہ میں بو دے
تو معاشرہ بھی سنور جاتا ہے
اور وطن بھی…
⚡️ تعلیم اور قانون کا نفاذ، بے قیمت نہیں ہوتا! ⚡️

Address

Office # 3 Basement Potohar Plaza, AK, AKM Fazl-ul-Haq Rd, G 6/2 Blue Area
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Umrah Updates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share