03/07/2026
یزید بن معاویہ کی تین سالہ حکومت
ظلم و ستم کی ایک المناک داستان
یزید بن معاویہ کی حکومت صرف تین سال پر محیط تھی، لیکن یہی تین سال اسلامی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتے ہیں۔
🩸 پہلا سال (61 ہجری):
اس سال نواسۂ رسول اکرم ﷺ، سیدِ شبابِ اہلِ جنت حضرت امام حسینؑ کو میدانِ کربلا میں بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔
🩸 دوسرا سال (63 ہجری):
واقعۂ حرّہ میں مدینۂ منورہ کو تین دن تک یزیدی لشکر کے لیے مباح کر دیا گیا۔ ہزاروں مسلمان شہید ہوئے، بے شمار گھروں کی حرمت پامال ہوئی، اور متعدد تاریخی روایات میں مذکور ہے کہ اس سانحے کے بعد بہت سی عورتوں نے ایسے بچوں کو جنم دیا جن کے باپ معلوم نہ تھے۔
🩸 تیسرا سال (64 ہجری):
یزید کی فوج نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کیا، خانۂ کعبہ پر منجنیق سے پتھر برسائے، جس کے نتیجے میں کعبہ شریف کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔
بعض تاریخی مصادر میں یہ بھی مذکور ہے کہ یزید لہو و لعب، شراب نوشی، گانے بجانے، رقص و سرود، شاعری کی محفلوں اور بندروں و دیگر جانوروں کی پرورش کا شوقین تھا۔
لعنت ہو اس شخص پر جس کے دورِ حکومت میں نواسۂ رسول ﷺ کو شہید کیا گیا، مدینۂ رسول ﷺ کی حرمت پامال ہوئی اور بیت اللہ کو نشانہ بنایا گیا۔
اور افسوس! آج چودہ سو برس گزر جانے کے بعد بھی کچھ لوگ اس کے لیے "رضی اللہ عنہ" جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حق کو حق سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے، اور باطل سے نفرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ روزِ قیامت ہمارا حشر محمد و آلِ محمد ﷺ کے ساتھ فرمائے۔
حوالہ جات:
تاريخ الطبري، جلد 5، واقعات 61–64 ہجری۔
الكامل في التاريخ، جلد 4، واقعاتِ کربلا، حرّہ اور محاصرۂ مکہ۔
البداية والنهاية، جلد 8، واقعۂ حرّہ اور محاصرۂ کعبہ۔
أنساب الأشراف، واقعۂ حرّہ۔
مروج الذهب، یزید کے طرزِ زندگی سے متعلق تاریخی روایات۔