Amir Luxury Apartments

Amir Luxury Apartments Helping make 21st century living more achievable ever in historic city of jhelum

Amir Luxury Appartments is now offering residential Place
Located on the GT road within ‘Citi Housing Jhelum’ ensure 24-hour access to electricity, water and security.

شیر شاہ سوری کے بیٹے سلیم شاہ نے قلعے کو موسمی اثرات اور حوادثِ زمانہ سے محفوظ رکھنے کے لیے باہر کی آبادی کو قلعہ کے اند...
10/01/2022

شیر شاہ سوری کے بیٹے سلیم شاہ نے قلعے کو موسمی اثرات اور حوادثِ زمانہ سے محفوظ رکھنے کے لیے باہر کی آبادی کو قلعہ کے اندر منتقل ہونے کی اجازت دی تھی۔ اس آبادکاری کے نتیجے میں جو بستی وجود میں آئی وہ اب روہتاس گاؤں کہلاتی ہے۔ مقامی لوگوں نے سطح زمین سے اوسطاً 300فٹ بلند اس قلعے کے پتھر اکھاڑ کر مکانات بنا لیے ہیں۔
موجودہ دور میں قلعے کے چند دروازوں، راجا مان سنگھ کے محل اور جنوب مغربی سمت چار منزلہ عمارت میں واقع بڑے پھانسی گھاٹ کے سوا بیش تر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اپنے وقت کا یہ مضبوط ترین قلعہ آج بکھری ہوئی اینٹوں کی مانند موجود ہے۔ قلعہ روہتاس اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت(یونیسکو) کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔

جب قلعہ تعمیر ہوا تو یہ اپنی نوعیت کا ایک بڑا قلعہ تھا، تاہم یہ بات حیران کن تھی کہ اتنے بڑے قلعے میں محض چند رہائشی عما...
10/01/2022

جب قلعہ تعمیر ہوا تو یہ اپنی نوعیت کا ایک بڑا قلعہ تھا، تاہم یہ بات حیران کن تھی کہ اتنے بڑے قلعے میں محض چند رہائشی عمارتیں تعمیر کی گئی تھیں، جن میں ساٹھ ہزار فوجی قیام کر سکتے تھے۔ یہ قلعہ چونکہ دفاعی حکمت علمی کے تحت بنایا گیا تھا، اسی لیے شیر شاہ سوری کے بعد برسراقتدار آنے والوں نے بھی یہاں اپنے ٹھہرنے کے لیے کسی پرتعیش رہائش گاہ کا انتظام نہیں کیا۔ محلات نہ ہونے کے باعث مغل شہنشاہ آکر خیموں میں رہا کرتے تھے۔
مغل شہنشاہ اکبر اعظم کے سُسر راجا مان سنگھ (جو اس کی فوج کا جرنیل بھی تھا) نے یہاں رہنے کے لیے ایک حویلی بنوائی تھی۔ قلعے میں تین باؤلیاں بنوائی گئی تھیں، بڑی باؤلی آج بھی موجود ہے جو 270فٹ گہری ہے، جس میں اترنے کے لیے 300سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ کابلی دروازے کے نزدیک ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی تھی، جس کا نام شاہی مسجد ہے جبکہ جنوبی حصے میں مرکزی چٹان پر عیدگاہ بنائی گئی تھی۔

جنگل اور پہاڑوں میں بنائےگئے قلعہ روہتاس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو تعمیر کرنے میں شیر شاہ سوری سے محبت کرنے والے ...
10/01/2022

جنگل اور پہاڑوں میں بنائےگئے قلعہ روہتاس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو تعمیر کرنے میں شیر شاہ سوری سے محبت کرنے والے بزرگان دین نے بھی مزدوروں کے شانہ بشانہ حصہ لیا اور اپنا خون پسینہ بہایا۔ قلعہ کی تعمیر میں اپنی جان قربان کرنے والے بزرگوں کے مقابر قلعے کے کسی نہ کسی دروازے کے ساتھ موجود ہیں جبکہ اندر بھی جگہ جگہ بزرگوں کے مقابر ہیں۔

02/01/2022
01/01/2022

البیرونی ایک ماہر فلکیات،ریاضی اور فلسفہ دان تھے۔اور انہوں نے طبیعات،قدرتی سائنس کا بھی مطالعہ کیا۔وہ پہلے سائنس دان
تھے جنہوں نے زمین کاقطر معلوم کرنے کا سادہ فارمولا دیا۔انہوں نے اس دور میں اس بات کو ممکنات میں قرار دیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ ایمیلیاکیرولینا سپاراوینانے اپنے مکالے میں لکھا ہے کہ البیرونی کا کام تقریباتمام سائنس کا احاطہ کرتا ہے۔

حیات نو سے قبل جب یورپ مذہبی بنیاد پرستی میں مبتلا تھا۔اس وقت البیرونی سائنسی فکر میں یورپ سے بہت آگے تھے۔قلعہ نندنا پر البیرونی نے ٹرگنومیٹری اور اپنے بنائے ہوئے آلے کی مدد سے پہلے قلعے کے شمال میں ایک پہاڑی کی بلندی ناپی پھر وہ اس پہاڑی پر خود چڑھے اور اُفق کے ڈوبنے کے زاویہ کی پیمائش کی۔

انہوں نے ایک عربی میل کو 1.225947انگریزی میل تصور کرتے ہوئے زمین کا قطر 3928.77انگریزی میل دریافت کیا۔ جو کہ زمین کے اوسط قطر (3847.80میل) سے صرف 2فیصد مختلف ہے۔نندنا قلعہ پوٹھوہار کی ایک اونچی پہاڑی پر واقع ہے اور یہ اپنی ثقافتی،سائنسی اور سیاحتی اہمیت کے پیش نظر مقبول ہے

956 میں سامانی حکمران عبدلمالک نے است پال عرف بھیم پال سے غزنی کا علاقہ چھین کر اسے ملک بدر کر دیا تو یہ چھوٹا لاہور اور...
01/01/2022

956 میں سامانی حکمران عبدلمالک نے است پال عرف بھیم پال سے غزنی کا علاقہ چھین کر اسے ملک بدر کر دیا تو یہ چھوٹا لاہور اور ہنڈ کے مقام پر منتقل ہو گیا۔ 1008 میں جب سلطان محمود غزنوی اور سلطان کیوگوہر کے ہاتھوں است پال کو شکست ہوئی تو اس نے ہنڈ سے بھاگ کر 971 میں کوہستان نمک کی بلندترین چوٹی پر قلعہ بنوانا شروع کر دیا جو جے پال کے عہد میں مکمل ہوا۔ جے پال نے اس کا نام اپنے بیٹے انند پال کے نام پر نندنہ رکھا جو کہ ریاست بھاٹیہ کا صدرمقام تھا۔

نندنا قلعہ ضلع جہلم کے پنڈ دادن خان میں واقع ہے۔ عظیم مسلمان سائنسدان البیرونی نے پاکستان کے سالٹ رینج علاقے میں واقع تا...
01/01/2022

نندنا قلعہ ضلع جہلم کے پنڈ دادن خان میں واقع ہے۔ عظیم مسلمان سائنسدان البیرونی نے پاکستان کے سالٹ رینج علاقے میں واقع تاریخی قلعہ نندنا میں رہتے ہوئے زمین کا قطر معلوم کیا تھا۔

پنجاب آرکیالوجی کے ڈائریکٹر ملک مقصود نے بتایا کہ قلعے کی تاریخی ااہمیت کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے فروری 2021ء میں قلعہ نندنا کا فضائی جائزہ لیا اور اس کی بحالی کے احکامات جاری کیے تھے جس کے بعد محکمہ آثار قدیمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد حسن کو یہ فریضہ سونپا گیا اور وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ قلعہ نندنا کے آثار کی تحقیقات اور بحالی میں مصروف ہیں۔

ملک مقصود نے مزید بتایا کہ رواں برس مئی میں اس منصوبے کے پہلے مرحلے پر کام شروع کیا گیا تھا، منصوبے کے تحت نندنا قلعے پر موجود دو قدیم مندروں، ایک مسجد البیرونی کی مشاہدہ گاہ اور قلعے کی فصیل کو محفوظ کیا جائے گا جس پرلاگت کا تخمینہ 126 ملین روپے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قلعہ تک پہنچنے کے لیے ایک ہی پہاڑی راستہ ہے جو ڈیڑھ سے دو کلومیٹر طویل ہے، اس راستے کو مزید کشادہ اور سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ تحقیقات کے دوران یہاں سے پتھر کے بنے ہوئے چھوٹے بڑے مکانات، قلعہ کی فصیل کی باقیات، غزنوی اور ہندو شاہی دور کے سکے برتن اور پتھر کی بنی ہوئی اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔

حکام کے مطابق قلعہ نندنا کے آثار کے تحفظ کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے اور دوسرا مرحلہ مارچ 2022ء میں شروع ہوگا اور یہ منصوبہ جون 2022ء تک مکمل ہوگا جس کے بعد یہ سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

شیر شاہ سوری کے بعد اس کے بیٹے سلیم شاہ نے اپنے دورِحکومت میں قلعے کی توسیع کروائی۔ قلعے کی تعمیر میں عام اینٹوں کے بجائ...
28/12/2021

شیر شاہ سوری کے بعد اس کے بیٹے سلیم شاہ نے اپنے دورِحکومت میں قلعے کی توسیع کروائی۔ قلعے کی تعمیر میں عام اینٹوں کے بجائے دیوہیکل پتھروں اور چونے کا استعمال کیا گیا۔ یہ بھاری پتھر اونچی دیواروں اور میناروں تک بھی پہنچائے گئے، ان بڑے بڑے پتھروں کو بلندیوں پر نصب دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جدید مشینری جس کام کو انجام دینے میں ناکام ہوجاتی ہے، وہ کام صدیوں پہلے انسانی ہاتھوں نے کیسے سرانجام دیے۔ چار سو ایکڑ پر محیط اس قلعے کی تعمیر میں بیک وقت تین لاکھ مزدوروں نے حصہ لیا۔

وسیع وعریض کٹاس راج کے گیٹ سے داخل ہوں تو ایک متاثرکن منظر نگاہوں کے سامنے آتا ہے۔ قدیم راستوں پر چلتے ہوئے بائیں ہاتھ ...
28/12/2021

وسیع وعریض کٹاس راج کے گیٹ سے داخل ہوں تو ایک متاثرکن منظر نگاہوں کے سامنے آتا ہے۔ قدیم راستوں پر چلتے ہوئے بائیں ہاتھ بلندی کی طرف جاتا ہوا راستہ ہے جس پرست گراہ کا بورڈ لگا ہے۔ یہاں سات مندروں کاجھرمٹ ہے۔ شیو مہاراج کے مندر کی خوبصورت عمارت کی بالائی منزل پر دریچوں سے روشنی اور ہوا آتی ہے اور یہاں سے اردگرد کے منظر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ تالاب کی سڑھیوں سے اوپر بارہ دری ہے۔ بارہ دری کے دروازوں سے تالاب اورتالاب کے اس طرف شیو کا مندر صاف دکھائی دیتا ہے۔

عظیم الشان اور تاریخی ’روہتاس قلعہ‘دراصل گکھڑ مغلوں کو کمک اور بروقت امداد پہنچاتے تھے اور یہ بات شیر شاہ سوری کو کسی طو...
23/12/2021

عظیم الشان اور تاریخی ’روہتاس قلعہ‘
دراصل گکھڑ مغلوں کو کمک اور بروقت امداد پہنچاتے تھے اور یہ بات شیر شاہ سوری کو کسی طور گوارا نہیں تھی۔ جب قلعے کی تعمیر کچھ حد تک مکمل ہوئی تو شیر شاہ سوری نے کہا کہ آج میں نے گکھڑوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ہے۔ قلعے کے عین سامنے شیر شاہ سوری کی تعمیر کردہ جرنیلی سڑک (جی ٹی روڈ) گزرتی تھی۔
شیر شاہ سوری کے بعد اس کے بیٹے سلیم شاہ نے اپنے دورِحکومت میں قلعے کی توسیع کروائی۔ قلعے کی تعمیر میں عام اینٹوں کے بجائے دیوہیکل پتھروں اور چونے کا استعمال کیا گیا۔ یہ بھاری پتھر اونچی دیواروں اور میناروں تک بھی پہنچائے گئے، ان بڑے بڑے پتھروں کو بلندیوں پر نصب دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جدید مشینری جس کام کو انجام دینے میں ناکام ہوجاتی ہے، وہ کام صدیوں پہلے انسانی ہاتھوں نے کیسے سرانجام دیے۔ چار سو ایکڑ پر محیط اس قلعے کی تعمیر میں بیک وقت تین لاکھ مزدوروں نے حصہ لیا۔

Address

Citi Housing Jhelum Punjab
Jhelum
49600

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amir Luxury Apartments posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share