10/05/2026
عرفات کا حدودِ حرم سے باہر ہونا محض ایک جغرافیائی حقیقت نہیں… بلکہ اس کے پیچھے گہری حکمت اور روحانی معنی پوشیدہ ہیں۔
اہلِ علم نے اس کی نہایت خوبصورت تشریح بیان کی ہے:
کعبہ اللہ کا گھر ہے…
حرم اس کا پردہ ہے…
اور عرفات اس کا دروازہ ہے…
جب بندے اللہ کے گھر کا ارادہ کرتے ہیں تو انہیں فوراً قربِ خاص نصیب نہیں ہوتا، بلکہ پہلے دروازے یعنی عرفات پر ٹھہرایا جاتا ہے…
وہاں انسان اپنے رب کے سامنے ٹوٹ جاتا ہے…
ہاتھ اٹھاتا ہے…
آنسو بہاتا ہے…
اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے…
اور عاجزی و انکساری کے ساتھ رحمت کا سوال کرتا ہے…
یہی اصل سفر کا آغاز ہے…
توبہ کا…
احتیاج کا…
اور اللہ کی طرف لوٹ آنے کا…
پھر جب بندے کی سچائی ظاہر ہوتی ہے تو اسے مزدلفہ کی طرف بڑھایا جاتا ہے…
جہاں دلوں کو سکون ملتا ہے اور قرب کی کیفیت مزید بڑھتی ہے…
اس کے بعد منیٰ آتا ہے…
جہاں قربانی دی جاتی ہے…
یعنی بندہ اپنے نفس، اپنی خواہشات اور اپنی محبتوں کو اللہ کے حکم کے تابع کر دیتا ہے…
اور پھر آخرکار وہ عظیم لمحہ آتا ہے…
جب پاکیزہ دل کے ساتھ اللہ کے گھر کی زیارت اور طواف کی اجازت ملتی ہے…
یہ صرف مقامات کا سفر نہیں…
بلکہ روح کا سفر ہے…
جو دروازے سے شروع ہوتا ہے…
اور قربِ الٰہی پر ختم ہوتا ہے… 🤍