21/01/2025
کراچی: بلوچستان کے ماتحت
تحریر: محمد سُہیل بلوچ
سیٹھ ناؤمل چند، 19ویں صدی کے ایک مشہور سندھی تاجر اور برطانوی حکومت کے وفادار، نے اپنی یادداشتوں کی کتاب *"The Memories"* میں کراچی کی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کتاب میں سیٹھ ناؤمل نے صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ کراچی قلات ریاست کے ماتحت تھا اور تالپور حکمرانوں نے اس پر قبضہ کیا۔ اس حوالے سے کتاب کے صفحہ 41 پر کراچی کی تاریخی صورتحال، بلوچوں کی موجودگی، اور تالپور حکمرانوں کے حملے کی تفصیلات درج ہیں۔ ذیل میں اس کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے:
صفحہ 41
تقریباً سنبت 1848 (1792-93 عیسوی) میں میر فتح علی نے کراچی پر قبضے کے لیے 15,000 بلوچ سپاہیوں کی ایک فوج بھیجی۔ یہ فوج توپوں اور گولہ بارود سے لیس ہو کر لیاری کے دوسری طرف اور باغات کے قریب (شمال مشرق کی جانب) خیمہ زن ہوئی۔ اس وقت کراچی خان آف قلات کے زیرِ نگین تھا، لیکن وہاں مناسب حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔ تمام باشندے قلعے کے اندر مقیم تھے، جس کے گرد تیمڑ اور تھور کے درختوں کا ایک گھنا جنگل تھا۔
تالپوروں کی اس حملہ آور فوج کی قیادت میاں تکیرو اور پالیہ کر رہے تھے۔ قلعے کے خلاف توپیں نصب کی گئیں، جبکہ قلعے کی دیواروں پر رعایا اور تقریباً 500 مچھیروں اور جہاز رانوں نے مورچے سنبھالے۔ یہ ملاح اور جہاز ران میرے اجداد کے جہازوں سے وابستہ تھے، اور ان کی رہنمائی میرے ایک بزرگ، سیٹھ بالرامداس، کر رہے تھے۔ قلعے کی حفاظت کے لیے توپ کے گولے اور بارود سیٹھ بالرامداس کے گوداموں سے حاصل کیے گئے، جہاں ہمیشہ ہمارے تجارتی جہازوں کے لیے گولہ بارود ذخیرہ رہتا تھا۔
حملہ آور فوج نے کراچی کے سامنے پڑاؤ ڈال دیا، اور قلعے کے دفاع میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی اس وقت خان آف قلات کی ریاست کا حصہ تھا، لیکن تالپور حکمرانوں کے حملے نے اس علاقے کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔
سیٹھ ناؤمل چند کی یہ تحریر نہ صرف کراچی کے تاریخی پس منظر کو واضح کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ کراچی کی زمین پر بلوچوں کا تاریخی وجود کتنا قدیم اور مستند ہے۔ خاص طور پر لیاری اور ملیر کے علاقے، جو بلوچ ثقافت کے مرکز سمجھے جاتے ہیں، اس وقت بھی کراچی کی تاریخ کا ایک اہم حصہ تھے۔