Balochi dar

Balochi dar Making a documentary on the history of Balochistan, making a Balochi narrative,
(1)

کراچی: بلوچستان کے ماتحتتحریر: محمد سُہیل بلوچسیٹھ ناؤمل چند، 19ویں صدی کے ایک مشہور سندھی تاجر اور برطانوی حکومت کے وفا...
21/01/2025

کراچی: بلوچستان کے ماتحت

تحریر: محمد سُہیل بلوچ

سیٹھ ناؤمل چند، 19ویں صدی کے ایک مشہور سندھی تاجر اور برطانوی حکومت کے وفادار، نے اپنی یادداشتوں کی کتاب *"The Memories"* میں کراچی کی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کتاب میں سیٹھ ناؤمل نے صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ کراچی قلات ریاست کے ماتحت تھا اور تالپور حکمرانوں نے اس پر قبضہ کیا۔ اس حوالے سے کتاب کے صفحہ 41 پر کراچی کی تاریخی صورتحال، بلوچوں کی موجودگی، اور تالپور حکمرانوں کے حملے کی تفصیلات درج ہیں۔ ذیل میں اس کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے:

صفحہ 41

تقریباً سنبت 1848 (1792-93 عیسوی) میں میر فتح علی نے کراچی پر قبضے کے لیے 15,000 بلوچ سپاہیوں کی ایک فوج بھیجی۔ یہ فوج توپوں اور گولہ بارود سے لیس ہو کر لیاری کے دوسری طرف اور باغات کے قریب (شمال مشرق کی جانب) خیمہ زن ہوئی۔ اس وقت کراچی خان آف قلات کے زیرِ نگین تھا، لیکن وہاں مناسب حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔ تمام باشندے قلعے کے اندر مقیم تھے، جس کے گرد تیمڑ اور تھور کے درختوں کا ایک گھنا جنگل تھا۔

تالپوروں کی اس حملہ آور فوج کی قیادت میاں تکیرو اور پالیہ کر رہے تھے۔ قلعے کے خلاف توپیں نصب کی گئیں، جبکہ قلعے کی دیواروں پر رعایا اور تقریباً 500 مچھیروں اور جہاز رانوں نے مورچے سنبھالے۔ یہ ملاح اور جہاز ران میرے اجداد کے جہازوں سے وابستہ تھے، اور ان کی رہنمائی میرے ایک بزرگ، سیٹھ بالرامداس، کر رہے تھے۔ قلعے کی حفاظت کے لیے توپ کے گولے اور بارود سیٹھ بالرامداس کے گوداموں سے حاصل کیے گئے، جہاں ہمیشہ ہمارے تجارتی جہازوں کے لیے گولہ بارود ذخیرہ رہتا تھا۔

حملہ آور فوج نے کراچی کے سامنے پڑاؤ ڈال دیا، اور قلعے کے دفاع میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی اس وقت خان آف قلات کی ریاست کا حصہ تھا، لیکن تالپور حکمرانوں کے حملے نے اس علاقے کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔

سیٹھ ناؤمل چند کی یہ تحریر نہ صرف کراچی کے تاریخی پس منظر کو واضح کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ کراچی کی زمین پر بلوچوں کا تاریخی وجود کتنا قدیم اور مستند ہے۔ خاص طور پر لیاری اور ملیر کے علاقے، جو بلوچ ثقافت کے مرکز سمجھے جاتے ہیں، اس وقت بھی کراچی کی تاریخ کا ایک اہم حصہ تھے۔

نیا سال، نئی امیدیں اور نئے ارادے لے کر آتا ہے۔ یہ موقع ہے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے، خوابوں کو حقیقت میں بدلنے اور خوشی...
31/12/2024

نیا سال، نئی امیدیں اور نئے ارادے لے کر آتا ہے۔ یہ موقع ہے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے، خوابوں کو حقیقت میں بدلنے اور خوشیوں کو گلے لگانے کا۔ دعا ہے کہ یہ سال آپ کی زندگی میں خوشحالی، محبت اور کامیابی لے کر آئے۔ نیا سال مبارک ہو!

13/12/2024

کراچی کی تاریخ پر ماہر آثار قدیمہ اور سندھ کے نامور تاریخ دان جناب کلیم اللہ لاشاری کے زبان میں سنتے ہیں کراچی کے قدیم لوگ کون تھے ۔

08/12/2024

بلوچستان میری جان ۔

قدیم داستانِ محبت بلوچستان شھداد رند اور مہناز وڈیو دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں ۔https://youtu.be/4TbxMoWjwNk
25/05/2024

قدیم داستانِ محبت بلوچستان شھداد رند اور مہناز
وڈیو دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں ۔
https://youtu.be/4TbxMoWjwNk

••• بلوچ/بلوچستان کا تذکرہ 2200 سال قبل میسح •••۔۔تقریباً 2200 سال قبل مسیح میں لکھی گئی بدھ مت کے دور کی سنسکرت کی کتاب...
22/05/2024

••• بلوچ/بلوچستان کا تذکرہ 2200 سال قبل میسح •••
۔
۔

تقریباً 2200 سال قبل مسیح میں لکھی گئی بدھ مت کے دور کی سنسکرت کی کتاب ( AVADANA-KALPALATA OF KSEMENDRA) میں ایک خطے کا نام "بلوکسا (BĀLOKSA)" موجود ہے۔ جس کی وضاحت "وَراھا مِھِرا (VARAHA-MIHIRA)" اپنی 550 عیسوی میں لکھی جانے والی کتاب (THE GEOGRAPHICAL ENCYCLOPAEDIA OF ANCIENT AND MEDIEVAL INDIA) میں یوں کرتے ہیں:

" بلوکسا: اس نام کا تذکرہ Avadana Kalpalata کے 57ویں باب میں ملتا ہے۔ یہ موجودہ بلوچستان ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بلوکسا "بلوکاس یا بلوچوں" کا ملک تھا۔ اسے ایک اور قدیم بدھ مت دور کہ سنسکرت کتاب (Bodhi Sattvā vadāna kalpasūtra) میں "بلوکسی" کہا گیا ہے (Dr R. L. Mitra's Sans. Buddh. Lit. of Nepal pg. 60)۔

بلوچستان پہلے ایک ہندو مملکت تھی جس کا دارالحکومت کلات یا قلات تھا (جس کا مطلب قلعہ ہے)، اصل میں "سیوامل" نامی ایک ہندو حکمران کا مسکن تھا، جس کے بعد اس قلعہ کو "قلاتِ سیوا" کہا جاتا تھا، جو اب "قلاتِ نیچارہ" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

بلوچستان میں سب سے قدیم جگہوں میں سے ایک جزیرہ ہے جسے "ساتا ڈَویپا" (مقبول طور پر) کہا جاتا ہے اور "سنگا-دویپا" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اور ایک جزیرہ "ساتا یا استول" (استولہ یا کالی) جو (پشانی/پسنی) کی بندرگاہ کے بالکل سامنے ہے۔
بلوچستان میں قدیم ہندو دور کا ایک اور مقام "ہنگلاج کا مندر" ہے۔ مستونگ میں مہادیو کا ایک مندر بھی شامل ہے۔ (جے اے ایس بی 1843، صفحہ 473) "

بلاشبہ مختلف ادوار اور زبانوں میں بلوچ کو کسی نے بلوش/بلوص/بلوج/بلوخ وغیرہ لکھا اسی طرح انہوں نے بلوچ یا بلوچستان کو بلوکس یا بلوکسا لکھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لفظ بلوچ و بلوچستان کا وجود کتنا قدیم ہے۔

از قلم ✍️: زین خان۔ گورمانی بلوچ

D. Farooq Baloch ❤️

آج مشہور فلمی اداکار ساقی کی یوم پیدائش ہے۔ ان کا اصل نام عبدالطیف بلوچ تھا اور وہ 2 اپریل 1925 کو بغداد میں پیدا ہوئے۔ ...
03/04/2024

آج مشہور فلمی اداکار ساقی کی یوم پیدائش ہے۔ ان کا اصل نام عبدالطیف بلوچ تھا اور وہ 2 اپریل 1925 کو بغداد میں پیدا ہوئے۔ اس کے والدین کا تعلق سندھ کے ضلع جامشورو کے شہر کوٹری سے ہے۔

انہوں نے اپنے اداکاری کیرئیر کا آغاز 1950 میں پاکستانی فلم التیجا سے کیا اور 484 فلموں میں کام کرتے رہے جن میں 6 سندھی، 379 اردو، 78 پنجابی اور 21 پشتو فلمیں شامل ہیں۔ مزید برآں ، انہوں نے متعدد پی ٹی وی سیریلز میں یادگار کردار ادا کیا ، جن میں دیورن ، جنگل اور گردش شامل ہیں۔

22 دسمبر 1986 کو ان کا انتقال ہوگیا۔

03/03/2024

داستانِ للہ ءُ گْراناز

29/02/2024

بلوچستان مکران کے حاکم محمد بن ہارون النمری بلوچ
حجاج بن یوسف ، محمد بن قاسم اور راجہ داہر

25/02/2024

بلوچ اسلامی لشکر میں کربلا میں بلوچ

••• آشکانی سلطنت (Parthian Empire):دی گئی تصاویر میں آشکانی سلطنت (Parthian empire) کے بادشاہوں اور آثار قدیمہ کے آشکانی...
24/02/2024

••• آشکانی سلطنت (Parthian Empire):

دی گئی تصاویر میں آشکانی سلطنت (Parthian empire) کے بادشاہوں اور آثار قدیمہ کے آشکانی دور کے سکوں کی تصاویر موجود ہیں۔
آشکانی سلطنت خالص کرد و بلوچ سلطنت تھی۔ جن کی ثقافت اور نام رکھنے کے انداز اب بھی ہم میں موجود ہیں۔ آسکانی قبائل آج بھی بلوچ قبائل میں موجود ھے۔۔

ان میں ایک بادشاہ کا نام "بلاش" ہے جو کہ "ش" کی تبدیلی سے بلاچ/بالاچ بنا۔ بلوچی میں ش اور چ بدلتے ہیں جیسے "روچ/روش" ۔ اب بھی یہ نام صرف بلوچ قوم میں رکھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ "مہرداد" ، "فرہاد" ، "ارشک" نام اور اسی سے ملتے جلتے نام اب بھی بلوچوں میں رکھے جاتے ہیں۔

#بلوچستان #آشکانی #اشکانیان #بلوچ
شکریہ زین گورمانی بلوچ ۔

21/02/2024

تاریخ کراچی اور کراچی کے قدیم لوگ
( وڈیو حصّہ دوم آخری)

Address

Shara E Faisal
Karachi
7520

Telephone

+923172950191

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Balochi dar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share