26/10/2024
*ملفوظات حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ*
*جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فعل میں اعتدال و انتظام تھا*
ارشاد فرمایا کہ نماز، روزہ تو بڑی چیز ہے، حضور ﷺ کے تو ہر فعل میں اعتدال و انتظام تھا۔ نشست و برخاست میں، خوردونوش میں، گفتار میں، رفتار میں۔ اسی کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ *کان خلقه القرآن* قرآن میں جو امور مذکور ہیں وہ آپ کے لیے مثل امورِ طبعیہ عادیہ کے ہوگئے تھے۔
(فیضانِ مجدد، صفحہ ۶۴۸ )
*ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ*
*اعتدال چھوڑنے والا مریضِ روحانی ہے*
ارشاد فرمایا کہ مرض کی حقیقت ہے مزاج کا اعتدال سے خارج ہونا اور جس طرح ایک قسم اعتدال کی طبعی ہے، اسی طرح ایک قسم اعتدال کی روحانی ہے جس کو شریعت نے بتلایا ہے کہ انسان کو اس حالت میں رہنا چاہیے کہ اس میں نہ افراط ہو نہ تفریط یعنی غلو اور انہماک کو بھی جائز نہیں رکھا۔ اس میں لوگوں سے دو غلطیاں واقع ہوئیں ۔ بعض یہ سمجھے کہ عبادات میں جتنا مبالغہ ہوگا اتنا اچھا ہوگا چنانچہ وہ لوگ دنیا کے تمام کاروبار اور ترکِ تعلقات کرکے بیٹھ رہے اور بیوی بچوں وغیرہ کے حقوقِ واجبہ ضائع کئے اور اس کا دوسرا برا نتیجہ یہ نکلا کہ دین سے توحش اور ثقل پیدا ہوا۔ یاد رکھو کہ آزادی اسی قدر جائز ہے جہاں تک شریعت نے اجازت دی ہے اور جہاں شریعت نے مقید کردیا وہاں مقید ہی رہنا چاہیے۔
*چونکہ بر میخت به بند و بستہ باش*
*چوں کشاید چابک و برجستہ باش*
اور جب معلوم ہوا کہ دین میں اعتدال مقصود ہے تو جو اس اعتدال سے نکلے گا، مریضِ روحانی سمجھا جائے گا۔
(فیضانِ مجدد، صفحہ ۶۵۱)