My Beautiful Sindh

My Beautiful Sindh Gave you Good traveling Service All Over Sindh..

28/08/2022

Flood Effected Areas ke liye Hamari Choti si Khoshish..
For contact us: 0304-1790813 🙏🏻

A52 Sunset View Dow Karachi 26-01-2022
26/01/2022

A52 Sunset View Dow Karachi 26-01-2022

Lighting work is being started on the   Khairpur to make it more beautiful from Old National Highway Road side.
10/12/2021

Lighting work is being started on the Khairpur to make it more beautiful from Old National Highway Road side.

برسات کانپوءِ سنڌ جي دل ڪراچي جا خوبصورت منظر2k20 Vivo S1 My lovely phone
26/08/2020

برسات کانپوءِ سنڌ جي دل ڪراچي جا خوبصورت منظر
2k20 Vivo S1 My lovely phone

06/04/2020

ٽائيگر فورس کان بھتر آ ته ھيلٿ ورڪر پوليو ٽيم ذريعي ماڻھن تائين راشن ۽ امداد رسائي وڃي۔ اھا ٽيم ھر محلي جي مسڪينن جي ڄاڻ رکندڙ آهي

Beautiful Ship Mosque In Sindh..
14/06/2019

Beautiful Ship Mosque In Sindh..

Kotri, Hyderabad, Jamshoro, SINDH
15/11/2017

Kotri, Hyderabad, Jamshoro, SINDH

دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ” رنی کوٹ ” سندھ کے ضلع جامشورو کے علاقے کھیرتھر میں واقع ہے ۔ اس سے ملحقہ دیوار جو کہ کسی حد تک ...
15/11/2017

دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ” رنی کوٹ ” سندھ کے ضلع جامشورو کے علاقے کھیرتھر میں واقع ہے ۔ اس سے ملحقہ دیوار جو کہ کسی حد تک دیوار چین کی مانند ہے ۔ اس دیوار کی لمبائی 32 کلومیٹر ( 20 میل ) ہے ۔ اور اُنچائی 30 فُٹ ہے ۔ بعض لوگوں کے مطابق اس دیوار کو سکندراعظم – چندر گُفتاغوریا چچ سومروا کروڑا اور ٹالپور حکمرانوں نے تعمیر کیا ہے ۔

قلعہ رانی کوٹ حیدرآباد سے جانب ِشمال 90کلومیٹر دور کیرتھر پہاڑیوں کے قریب واقع ہے۔جی ایم سید کا آبائی قصبہ،سن جانب ِ جنوب مغرب30کلومیٹر دور ہے۔یہ دنیا کے گنے چنے عظیم الشان قلعوں میں ایک ہے۔سندھی محقق،بدر ابڑو کی تحقیق کے مطابق اس قلعے کا اندرونی رقبہ تقریباً چھ ہزار ایکڑ(8.9 مربع میل) علاقے پہ پھیلا ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت اس نامی گرامی قلعے کی تاریخ و بنیادی معلومات سے ناواقف ہے۔وجہ یہی کہ یہ بے آباد اور ویران علاقے میں واقع ہے

جب اس کی باریکی سے تحقیق کی گئی تو دلچسپ انکشافات سامنے آئے۔ ٭٭

دنیا کی اولیّں انسانی بستیاں دریائوں کے کنارے آباد ہوئیں تاکہ انھیں چوبیس گھنٹے زندگی کا منبع…پانی ملتا رہے۔سو علاقہ کیرتھر میں ایک بڑی ندی(اب رانی کوٹ ندی)کے کنارے بھی پانچ ہزارسال قبل ’’امری‘‘نامی بستی کی بنیاد پڑی جس کے آثار قدیمہ قلعہ رانی کوٹ کے قریب ہی واقع ہیں۔اس ندی کا پانی دریائے سندھ سے جا ملتا ہے جو تب 40 میل دور بہتا تھا۔راستہ بدلنے کی وجہ سے اب دوری 20 میل رہ گئی ہے۔ اس بستی کے آثار بتاتے ہیں کہ تب یہ علاقہ انسانوں کی گذرگاہ بن چکا تھا۔خیال ہے کہ یہ بستی ’’وادی ِسندھ کی تہذیب‘‘کا حصّہ اور سندھ و راجھستان وپنجاب کی دیگر بستیوں سے بہ راہ منسلک تھی۔ 80 قبل مسیح میں یونانی باختری سندھ پہ حکومت کر رہے تھے۔تب تک سندھ میں مشہور بندرگاہ’’بھنبھور‘‘ کی داغ بیل پڑ چکی تھی۔(اس بندرگاہ کے آثار کراچی کے مضافاتی علاقے، دھابیجی کے نزدیک واقع ہیں)۔انہی دنوں ایرانی نژاد قبائل،سیتھی(ساکا)افغانستان میں اپنی سلطنت قائم کر چکے تھے۔70 قبل مسیح میں سیتھی قندھار کے راستے ہندوستان پر حملہ آور ہوئے۔بلوچستان پہ قبضہ کرتے وہ سندھ پہنچے ،تو کیرتھر کی پہاڑیوں میں سیتھی اور یونانی باختری لشکروں کے درمیان جنگ ہوئی۔

یہ امر بھی واضح کرتا ہے کہ علاقہ کیرتھر تب تک تجارتی قافلوں اور افواج کا راستہ بن چکا تھا…کیونکہ بلوچستان،سندھ،پنجاب اور راجھستان کی کئی گزرگاہوں کا وہاں سنگم ہوتا تھا۔ سیتھی کامیاب رہے اور انھوں نے سندھ پر بھی قبضہ کر لیا۔تاہم مشرقی ہندوستان پہ حکمران ایک اور ایرانی نژاد قبائل،پارتھیائی ان پہ حملے کرتے رہے۔اسی دوران ایک اہم عالمی تبدیلی رونما ہوئی اور عظیم سلطنت ِروما وجود میں آئی۔جلد ہی وہ اس زمانے کی اکلوتی’’سپرپاور‘‘بن گئی۔ تمام سپر پاورز کے مانند رومی بھی دنیا جہاں کی لگژری اشیا اپنے ہاں منگوانا چاہتے تھے۔سو چین، تبت، ہندوستان اور افغانستان سے مختلف سامان (کھالیں، موتی،قیمتی پتھر،لوہا،اونی کپڑے،جا نور، مسالے، ریشم، سوت، شیشم، پھل، چاول،اناج، وغیرہ) رومی سلطنت پہنچنے لگا۔بدلے میں چینی،ہندوستانی اور افغانی سونے چاندی کے برتن،گلاس،سّکے،شراب اور مختلف رنگ درآمد کرتے۔

1ء تک جنوبی ایشیا و چین اور سلطنت ِروما کے مابین ہونے والی اس تجارت کا سب سے ایک بڑا مرکز بھنبھور کی بندرگاہ بن گئی۔وجہ یہ ہے کہ وہی اپولوجس(Apologus)، عدن،سکندریہ اور رومیوں کی دیگر اہم بندرگاہوں کے نزدیک ترین واقع تھی۔چنا چہ چین،افغانستان،تبت اور ہندوستان سے کثیر سامان پہلے بھنبھور پہنچتا اور پھر بحری جہازوں کے ذریعے باہر چلا جاتا۔رومیوں نے اس بندرگاہ کو’’بربریکون‘‘ (Barbarikon)کا نام دیا۔ اسی تجارت کے باعث کیرتھر کی گذرگاہ نے بہت اہمیت اختیار کر لی،کیونکہ بیرون سندھ سے آنے والے بیشتر تجارتی قافلے وہیں سے گذر کر بھنبھور جاتے تھے۔سو اس اہم تجارتی راستے کو دشمنوں کی دسترس سے محفوظ کرنے کی خاطر سیتھیوں نے بستی امری کے نزدیک ایک بہت بڑا قلعہ بنایا جہاں مستقل طور پہ بڑی فوج قیام کر سکے۔

یوں قلعہ رانی کوٹ وجود میں آیا۔ رفتہ رفتہ سیتھی اور بستی امری قصہ ِپارنیہ بن گئے مگر قلعہ قائم رہا۔تب اس میں برج موجود نہ تھے۔یہ 45 برج1812ء میں سندھ کے دو تالپور حکمرانوں(میر کرم خان اور میر مراد علی خان)نے تعمیر کرائے تاکہ وہاں توپیں رکھی جا سکیں۔یہ قلعہ آج عظمت ِرفتہ کی یاد دلاتا ہے۔اس کا نظارہ اور سیاحت کرنے ضرور جائیے۔ سیتھی 400ء تک موجودہ پاکستان اور بھارت کے علاقوں پہ حکومت کرتے رہے۔تاہم آہستہ آہستہ ان کی سلطنت سکڑتی رہی۔آخر چندر گپت موریہ نے ان کی حکومت ختم کر ڈالی مگر سیتھیوں کے آثار ختم نہ ہوئے ۔ ماہرینِ بشریات کی رو سے جٹ، گوجر، آہیر، راجپوت،لوہاراورترخان نسلیں انہی سیتھیوں کی اولاد ہیں۔

Jacobabad Junction
08/11/2017

Jacobabad Junction

SP Chowk -Larkana
23/05/2017

SP Chowk -Larkana

Hand Fan - Sindhi Traditional Fan
22/05/2017

Hand Fan - Sindhi Traditional Fan

Beautiful View of (Victoria Tower Jacobabad)
22/05/2017

Beautiful View of (Victoria Tower Jacobabad)

Address

Madras Society Chowrangi, Gulshan E Iqbal
Karachi
75300

Telephone

+923041790813

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when My Beautiful Sindh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category