Tourism Craze

Tourism Craze Tourism is my passion and i will tell you about the less cost tour espicially on bike so be ready :)

Eid Mubarak
10/04/2024

Eid Mubarak

08/02/2024

Ready to go.
07/02/2024

Ready to go.

Mera beta Munawar zaman ap ko kya surprise dena chahta he. Dekhye
29/08/2023

Mera beta Munawar zaman ap ko kya surprise dena chahta he. Dekhye

*یاد رکهیں بناوٹ کی تاریخ سے کسی بهی ٹائر کی محفوظ زندگی 5 سال تک ہوتی ہے۔* اب آپ سوچیں گے ٹائر تیار ہونے کی تاریخ کس طر...
18/05/2021

*یاد رکهیں بناوٹ کی تاریخ سے کسی بهی ٹائر کی محفوظ زندگی 5 سال تک ہوتی ہے۔* اب آپ سوچیں گے ٹائر تیار ہونے کی تاریخ کس طرح جان سکتے ہیں؟

یہ ہر ٹائر پر چار ہندسوں کے طور پر لکھی ہوتی ہے۔ پہلے دو ہندسے تیاری کے ہفتے کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ آخری دو تیاری کا سال بتاتے ہیں۔ یہ چار ہندسے ٹائر پر الگ لکهے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ حروف تہجی شامل نہیں کیے جاتے۔ یاد رہے کچھ کمپنیاں چار ہندسوں سے پہلے اور بعد میں سٹار کا نشان (*) بهی بناتی ہیں۔

*مثال کے طور پر‌* اگر یہ چار ہندسے 4314 ہیں تو ان کا مطلب ہے کہ ٹائر سال 2014 کے 43 ویں ہفتہ یعنی ( نومبر کے تیسرے ہفتے) میں تیار کیا گیا تھا۔ یعنی‌اس ٹائر کی محفوظ میعاد 2019 کے 43 ویں ہفتہ میں ختم ہو جائے گی۔ لہذا آپ کو اس تاریخ کے بعد ٹائر بدلنا ہوگا۔

کچھ کمپنیوں کے ٹائر پر تیاری کی تاریخ نہیں بتائی جاتی۔ یہ ایک سنگین جرم ہے مگر چین کے کچھ برانڈز میں عام ہے۔ مینوفیکچرنگ کی تاریخ دیکهے بغیر ٹائر خریدنا ایسا ہی ہے جیسے مدت میعاد دیکهے بغیر ادویات کا استعمال‌ کرنا۔ مگر میرا خیال ہے کہ یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ خراب ادویات تو صرف آپ کو تکلیف پہنچا سکتی ہیں۔ جبکہ ٹائر کا پهٹنا گاڑی کے تمام مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

*نوٹ:* اب جب آپ یہ جان چکے ہیں تو تهوڑی سی تکلیف کریں، اپنی‌ گاڑی کے پاس جائیں، اور جهک کر اپنے ٹائر کی تیاری کی تاریخ کو چیک کریں، اور اس کے بعد سے 5 سال تک کی مدت میعاد یاد رکهیں، تاکہ آپ اور آپ کے پیارے ہر سفر میں محفوظ ہوں۔

*درخواست:* اس تحریر کو صدقہ جاریہ سمجھ کر آگے پهیلا‌ئیں‌۔ اپنے پیاروں اور انسانوں کے تحفظ کے لیے ان تک یہ آگاہی ضرور پہنچائیں۔

#منقول

Heartiest Congratulations to.SirbazToday on Wednesday 12 May 2021 at 6:05, Sirbaz Khan successfully climbed Mount Everes...
12/05/2021

Heartiest Congratulations to.Sirbaz
Today on Wednesday 12 May 2021 at 6:05, Sirbaz Khan successfully climbed Mount Everest 8848-M. This is Sirbaz Khan's 7×8000m Mountain. Sirbaz has summited 2×8000m peaks in the last 26 days.
The 32 years old climber Sirba Khan who hails from Aliabad, Hunza began his profession to climbing career in 2016 and credits Nazir Sabir (the first Pakistani to climb the Everest) and Ashraf Aman (the first Pakistani to reach the summit of K2) as his inspiration. In 2019, Sirbaz became the first Pakistani to summit Mount Lhotse, the world’s fourth-highest mountain at 8,516m in Nepal without the use of supplementary oxygen. His other 8,000m summits include K2, Nanga Parbat, Broad Peak ,Manaslu.
and Anapurna. On four of his 8,000m peaks expeditions, Khan had accompanied Muhammad Ali Sadpara. Their last expedition together was in Nepal to Manaslu.
He is aiming to become the first Pakistani to climb all 14 x8000.

List of Summits
Nanga Parbat 8125-M 2017
K2 8611-M 2018
Broad Peak 8047-M 2019
Manaslu 8163-M 2019
Lhotse Peak 8516-M 2019
Anapurna 8091- M 2021
Everest 8848 – M 2021

پاکستانی نوجوان کوہ پیما Shehroze Kashif  نے دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو کامیابی سے سر کرلیشہروز کاشف ماؤنٹ...
11/05/2021

پاکستانی نوجوان کوہ پیما Shehroze Kashif نے دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو کامیابی سے سر کرلی
شہروز کاشف ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی کم عمر پاکستانی کوہ پیما بن گے.

رائیڈ کا عنوان : کراچی سے  لیکر گوادر تک ( ایران بارڈر )                     قسط نمبر: 3اسلام علیکم !صبح جب ہم نیند سے ب...
10/04/2021

رائیڈ کا عنوان : کراچی سے لیکر گوادر تک ( ایران بارڈر )
قسط نمبر: 3
اسلام علیکم !

صبح جب ہم نیند سے بیدار ہوئے تو جتنی دیر میں ہم نے منہ ہاتھ دھوئے ہمارا ناشتہ تیار تھا پر تکلف ناشتے کا لطف اُٹھانے کے بعد ہم نے آج کے دن کا شیڈول دہرایا اور اضافی سامان عطاء اللہ صاحب کے گھر پر چھوڑ کر ضروری سامان اپنے ساتھ لے لیا کیونکہ آج رات ہمیں پھر اسی جگہ قیام کرنا تھا اور اپنے پہلے ٹارگیٹ( بارڈر 250 ) کی جانب روانہ ہو گئے جو کہ پاکستان اور ایران کا بارڈر ہے۔ سربندر سے ہم نے اپنے سفر کا آغاز کیا - تھوڑا سا ہی آگے جا کر سڑک دو حصوں میں بٹ گئی ۔ ایک راستہ گوادر شہر کی جانب جبکہ دوسرا جیونی اور بارڈر کی جانب جاتا ہے۔ اس مقام سے جیونی اور بارڈر دونوں ہی تقریباً 80 کلو میٹر دور ہیں لیکن ان دونوں میں آپس کا فاصلہ 60 کلو میٹر ہے ۔ ہمیں دونوں جگہوں پر جانا تھا لیکن پہلے ہم نے بارڈر کا انتخاب کیا ہمیں ایک مرتبہ پھر پیٹرول ڈلوانے کی ضرورت محسوس ہوئی اور چونکہ ہمیں معلوم تھا کہ یہاں پر صرف ایرانی پیٹرول ہی دستیاب ہے اور پاکستانی پیٹرول شاید گوادر سٹی میں مل جائے اسی لئے ہم نے آدھی ٹنکی پیٹرول بھروایا۔ ہم پہلے اس بات کا ذکر کر چکے ہیں کہ ایرانی پیٹرول قیمت میں تو کم ہوتا ہے لیکن غیر فلٹر شدہ اور ریفائین کے ناقض کوالٹی میں دستیاب ہوتا ہے جس میں کچرا واضح طور پر نظر بھی آتا ہے اسی لئے جب پیٹرول ڈالا جاتا ہے تو فلر یا تو کسی جالی سے چھانتا ہے یا پھر کسی کپڑے سے ۔ بہرحال ایک بار پھر ہم نے ڈرتے ڈرتے پیٹرول ڈلوالیا لیکن اس مرتبہ خدشہ درست ثابت ہوا ۔ پیٹرول ڈلوانے کے بعد ہم کچھ ہی دور گئے تھے کہ موٹر سائیکل نے جھٹکے لینے شروع کر دئیے لیکن خیر جھٹکہ کافی دیر کے بعد لیتی تھی اس لئے ہم آگے بڑھتے رہے تقریباً 50 کلومیٹر سفر طے کرنے کے بعد پھر سے دو راستے آجاتے ہیں ایک پاک ایران بارڈر کی طرف جبکہ دوسرا جیونی کی طرف جاتا ہے ۔ اس مقام سے جیونی اور بارڈر یکساں 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں چونکہ ہمیں بارڈر کی جانب جانا تھا اس لئے بغیر مڑے ناک کی سیدھ میں آگے بڑھتے رہے ۔ سفر کے ساتھ ساتھ مکینک کی تلاش میں بھی تھے کہ کہیں ہم اپنی موٹر سائیکل دکھا دیں تاکہ کبھی کبھی والے جھٹکوں سے ہماری جان چھوٹ جائے لیکن ہم مکینک کو صرف ڈھونڈتے ہی رہ گئے بھلا اس ویرانے میں بھی کوئ دوکان ہوسکتی ہے کیا ؟ ( دل ہی دل میں ہم سوچتے رہے ) بالآخر ہم 250 بارڈر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ۔ہم نے چیک پوسٹ سے تھوڑا پہلے ہی موٹر سائیکل روکی جیسا کہ ہم ہر بارڈر پر کرتے ہیں اور پیدل جا کر پوچھا کہ ہم موٹر سائیکل کہاں تک لے جا سکتے ہیں حیران کن طور پر انہوں نے ہمیں کہا کہ آپ موٹر سائیکل پاکستان کی آخری حد تک لے جا سکتے ہیں ۔ ہم نے بھی فوراً سے گاڑی سٹارٹ کی پہلے آرمی چیک پوسٹ کراس کی پھر لیویز چیک پوسٹ پھر بلوچستان پولیس چیک پوسٹ کراس کر کے موٹر سائیکل وہیں روکی اور پھر آخری چیک پوسٹ( جو کہ رینجرز کی تھی ) کو پیدل ہی کراس کر کے پاکستان کے آخری کنارے تک پہنچ گئے۔

اس بارڈد پر سختی نہ ہونے کے برابر تھی اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ شاید یہاں پر سیاح کی آمدورفت کم ہی ہوتی ہے بہرحال ہم سکون سے آخری حد تک پہنچے۔کچھ تصاویر اور ویڈیوز بنائ اس کے بعد ہم واپسی کے رستے پر گامزن ہوگئے۔جب ہم اپنی موٹر سائیکل کے پاس پہنچے تو وہاں بلوچستان پولیس کے جوانوں نے ہمارے لئے چائے ناشتے کا بندوست کر رکھا تھا۔ہم نے کافی انکار کیا لیکن وہ اس بات پر بزد تھے کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور بغیر اس کے آپ یہاں سے جا نہیں سکتے۔

بارڈر کے حوالے سے ویڈیو لنک میں موجود ہے
https://youtu.be/icFKgczmqPM

اب ہمارا رخ جیونی کی جانب تھا 30کلو میٹر تو ہم اسی پوائنٹ تک گئے جہاں سے دو رستے جاتے ہیں اسی لئے اب ہم دائیں جانب مڑ گئےہم مسلسل مکینک کی تلاش میں لگے رہے کیونکہ گاڑی میں مسئلہ بڑھتا جارہا تھا۔اب تو کبھی کبھی بند بھی ہوجاتی تھی لیکن دوبارہ سٹارٹ کرنے پر بسہولت سٹارٹ ہوجاتی تھی۔اس سڑک پر بھی مکمل سناٹا چھایا تھا حتیٰ کہ جیونی آگیا ، ہم سے مسلسل رابطے میں رہنے والے ہمارے جیونی کے میزبان ماسٹر الہیٰ بخش صاحب نے بھی یہی بتایا کہ آپ کو راستے میں مکینک کی سہولت میسر نہیں ہوگی لہٰذا ہم الہیٰ بخش صاحب کے پاس پہنچے وہاں سے وہ میری ہمشیرہ کو اپنے گھر لے گئے جبکہ اپنے فرزند کو میرے ہمراہ مکینک کے پاس بھیج دیا۔مکینک نے تھوڑا چیک کر کے ہمیں موٹر سائیکل وہیں پر چھوڑ کر ایک گھنٹے بعد آنے کا کہا۔ہمارے پاس تو اتنا ٹائم ہی نہیں تھا کہ ہم ایک گھنٹا انتظار میں ہی گزار دیں ہماری اسی پریشانی کو بھانپتے ہوئے ہمارے میزبان نے ہمارے لئے ایک گاڑی منگوائی اور کہا کہ جب تک آپ کی موٹر سائیکل بنے گی ہم گاڑی میں جیونی کی سیر کر لیتے ہیں موقع کی مناسبت سے ہم نے بھی اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا۔ماسٹر صاحب ہمیں جیونی کے تین مختلف پوائنٹ پر لے کر گئے اگر ان کا ساتھ نہ ہوتا تو شاید ہم یہ ساری جگہیں نہ دیکھ پاتے اور نہ ہی جیونی کے بارے میں (ان سے جو جانا)وہ جان پاتے ماسٹر صاحب نے ہمیں وہاں کے لوگوں کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا۔

جیونی پاکستان کے انتہائی جنوبی ساحلی پٹی پر واقع ہے یہ علاقہ دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کے زیر تسلط تھا جس کے نشانات ابھی تک اس علاقے میں ملتے ہیں۔دوسری جنگ عظیم کے دوران اس علاقے میں بحری راستے سے تیل آیا کرتا تھا جو کہ پورے برصغیر میں سپلائ ہوتا تھا۔جیونی گوادر کے برعکس مسقط کا علاقہ کبھی نہیں رہا یہاں پر خان آف قلات کی ہی حکومت رہی یہ علاقہ زرعی علاقہ ہے جہاں مختلف قسم کی فصلیں اگتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ بارانی علاقہ ہے بارش ہوتی ہے تو فصل ہوتی ہے جس سال بارش نہ تو یہ علاقہ بنجر رہتا ہے اور یہاں میٹھے پانی کی قلت بھی ایک اہم مسلہ ہے مقامی لوگوں کا روزگار ماہی گیری سے وابستہ ہے۔

جیونی کی ویڈیو لنک میں موجود ہے
https://youtu.be/7VGuFKQRCMk

ساحل کی سیر کرنے کے بعد ہم ماسٹر صاحب کے گھر واپس آئے تو کھانا تیار تھا۔ماسٹر صاحب نے بہت عزت دی اور کشادہ دسترخوان لگایا جہاں مختلف قسم کے لوازمات کے ساتھ ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ مختلف قسم کی تلی ہوئی مچھلیاں ہمارے سامنے موجود تھیں اور اتنی لذیذ کہ ہم نے اپنے شہر میں کبھی ایسا مزہ نہیں چکھا۔کھانے سے فارغ ہوئے کے بعد ہماری روانگی کا وقت آچکا تھا ہماری موٹر سائیکل پہلے سے ہی تیار کھڑی تھی بس ہم نے اپنا سامان باندھا ماسٹر صاحب اور ان کے اہل و عیال سے اجازت طلب کی اور بہت عزت اور محبت کے ساتھ انہوں نے ہمیں رخصت کیا۔

ہماری ہمیشہ سے ہی ایک کوشش ہوتی ہے کہ ہم ایک راستے سے آئیں اور واپسی کے لئے کسی مختلف راستے کا انتخاب کریں یہاں پر بھی ہم نے کچھ ایسا ہی کیا اور گوادر کی جانب راستے کا انتخاب بزریعہ پشو کان اور گنز سے کیا ۔ یہ سڑک کچھ بہت پیاری تو نہ تھی جگہ جگہ کھڈے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آئی ، لیکن جو راستے میں خوبصورت مقامات دیکھنے کو ملتے ہیں وہ بھولنے کے قابل نہیں خاص طور پر گنز کے پہاڑ جو کہ اس طرح ترتیب سے کھڑے ہوئے نظر آ رہے تھے گویا کسی انسانی ہاتھوں نے اسے تراش کر خوبصورت ڈیزائن بنایا ہے ۔ اس راستے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ مسلسل آپ کو دائیں جانب نیلا سمندر بہتا ہوا نظر آئے گا ۔ ہم گنز کی جادوئی بستی میں مدہوش اپنے سفر پر رواں دواں تھے کہ اچانک گاڑی کا انجن بند ہو گیا ہم نے گاڑی کنارے پر روکی اور پریشانی کے عالم میں دو تین مرتبہ کک ماری جب ہم نے پیٹرول کی ٹنکی کا ڈھکن کھولا تو خالی ٹنکی ہمیں منہ چڑانے لگی میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا اصل میں مسئلہ کچھ یوں ہوا کہ میں ہمیشہ بٹن آن پر رکھتا ہوں جب پیٹرول ختم ہو نے لگتا ہے تو ریزرئو پر لگا دیتا ہوں جس میں تقریباً ایک لیٹر پیٹرول موجود ہوتا ہے میں اسی خوشی فہمی میں تھا کہ پیٹرول آن پر ہے لیکن شاید مکینک نے موٹر سائیکل بناتے ہوئے ریزرو پر لگا دی تھی جس کا مجھے بلکل بھی اندازہ نہ تھا اب اس سنسان سڑک پر کسی کی مدد کا انتظار کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا ۔
..........جاری ہے۔.........


Address

Karachi
75080

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tourism Craze posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tourism Craze:

Share