Arshman Saleem

Arshman Saleem Just here to post whatever comes to mind.

Our mission is to ignite the passion of teaching by creating a platform that empowers educators from all walks of life to share their expertise and knowledge with students around the world. We believe that every educator has the power to inspire 10,000 lives, and our goal is to provide them with the tools and resources they need to share their knowledge and skills with learners.

16/05/2026

Tag your Mutton Partner👬

14/05/2026
لڑکوں کی شادیوں میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ یہ نہیں کہ اچھی لڑکیاں نہیں ملتیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم رشتے کو آسان بنانے کے بجا...
13/05/2026

لڑکوں کی شادیوں میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ یہ نہیں کہ اچھی لڑکیاں نہیں ملتیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم رشتے کو آسان بنانے کے بجائے غیر ضروری معیار، اعتراضات اور توقعات سے مشکل بنا دیتے ہیں۔

میں نے اپنی زندگی میں ایک ایسے شخص کو قریب سے دیکھا جس نے اپنے دونوں بیٹوں اور چار بیٹیوں کی شادیاں نہایت سادگی، سمجھداری اور بروقت کیں۔ انہوں نے کبھی کسی کی بیٹی میں بے جا نقص نہیں نکالا، نہ گھر، رنگ، عمر یا ظاہری خوبصورتی کو فیصلہ کن معیار بنایا۔ ان کا اصول تھا کہ اگر خاندان شریف ہو، لڑکی بااخلاق اور تربیت یافتہ ہو، تو رشتہ قبول کر لینا چاہیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے تمام بچے اپنی ازدواجی زندگی میں خوش اور مطمئن ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس گھر میں بیٹیاں ہوں، وہاں دوسروں کی بیٹیوں کو رد کرتے وقت بہت احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ جو رویہ ہم دوسروں کے ساتھ اختیار کرتے ہیں، اکثر وہی ہمارے اپنے گھر لوٹ کر آتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اکثر لڑکے سادہ اور پرسکون شادی چاہتے ہیں۔ انہیں نہ جہیز کی خواہش ہوتی ہے، نہ بڑے گھروں کی، نہ غیر حقیقی حسن کے معیار کی۔ وہ صرف ایک سمجھدار، بااخلاق اور گھر کو اپنا سمجھنے والی شریکِ حیات چاہتے ہیں۔ لیکن اکثر فیصلوں میں مائیں، بہنیں اور دیگر رشتہ دار ایسی توقعات شامل کر دیتے ہیں جو رشتے کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔

رنگ، قد، عمر، گھر، علاقے یا معمولی باتوں کی بنیاد پر رشتے رد کرنا ایک ایسا رویہ ہے جو نہ صرف دوسروں کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے بلکہ اپنے بچوں کی شادی میں تاخیر کا بھی باعث بنتا ہے۔

کامیاب شادی خوبصورتی، دولت یا اعلیٰ ملازمت سے نہیں چلتی، بلکہ اچھے اخلاق، تربیت، برداشت، سمجھداری اور ایک دوسرے کو قبول کرنے سے قائم رہتی ہے۔

اگر والدین حقیقت پسندانہ توقعات رکھیں، دوسروں کی بیٹیوں کا احترام کریں اور مناسب عمر میں سادگی کے ساتھ شادی کر دیں، تو بہت سے لڑکے اور لڑکیاں بروقت اپنے گھروں کے ہو سکتے ہیں۔

یاد رکھیں، کامل انسان کہیں نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم خامیوں کے بجائے خوبیوں کو دیکھیں اور رشتوں کو آسان بنائیں، مشکل نہیں۔

13/05/2026

کاش یہ زندگی آخر سے شروع ہوتی۔۔
اور ہم بوڑھے پیدا ہوتے پھر محبت کی صورت میں جوان ہوتے۔۔
اور پھر معصوم بچے کی صورت میں کسی رات ماں کی پیار بھری آغوش میں دم توڑ جاتے۔۔

11/05/2026

آج کے دور میں ہمارے پڑھے لکھے نوجوان(اساتذہ) اور دوسری طرف سنگر اور ٹک ٹاکر
معلومات کے مطابق ذیشان خان روکھڑی ایک پروگرام سے 40 لاکھ جب کہ مہک ملک ایک ہفتہ میں 30 لاکھ کما لیتی ہے، کئی مشہور ٹک ٹاکرز ماہانہ 30،30 لاکھ کما رہے ہیں۔۔۔۔ دوسری طرف ایک عام تعلیم یافتہ نوجوان جس کے پاس ڈگریاں، تہذیب و اخلاق، سلیقہ سب کچھ ہو ایک ماہ میں 20 سے 50 ہزار کما رہا ہے۔۔ پڑھی لکھی لڑکیاں پرائیویٹ اسکولز میں 10 سے 15 ہزار تنخواہ پر پڑھا رہی ہیں۔۔ ہمارے معاشرے کی ترجیحات چیک کریں۔۔

درحقیقت، مسئلہ کسی کے رزق پر اعتراض کا نہیں بلکہ اس سماجی بگاڑ کا ہے جہاں شہرت کو علم پر اور نمائش کو کردار پر فوقیت دی جا رہی ہے۔۔۔ جب معاشرہ تالیوں کی گونج کو کتاب کی خاموشی سے زیادہ عزت دینے لگے تو نوجوان نسل قدرتی طور پر اسی راستے کا انتخاب کرتی ہے جہاں محنت کم اور صلہ زیادہ نظر آئے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے دربدر نہ پھریں تو ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔ ایک قوم کے طور پر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تفریح دل بہلانے کے لیے تو ٹھیک ہےلیکن تہذیبیں علم، اخلاق اور استاد کی تکریم سے ہی پروان چڑھتی ہیں...!!

تحریر: عرشمان سلیم

11/05/2026

Ab ye kis ne keh diya hai 😄😅

Address

Karachi

Telephone

+923306100034

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arshman Saleem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Arshman Saleem:

Share