13/05/2026
لڑکوں کی شادیوں میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ یہ نہیں کہ اچھی لڑکیاں نہیں ملتیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم رشتے کو آسان بنانے کے بجائے غیر ضروری معیار، اعتراضات اور توقعات سے مشکل بنا دیتے ہیں۔
میں نے اپنی زندگی میں ایک ایسے شخص کو قریب سے دیکھا جس نے اپنے دونوں بیٹوں اور چار بیٹیوں کی شادیاں نہایت سادگی، سمجھداری اور بروقت کیں۔ انہوں نے کبھی کسی کی بیٹی میں بے جا نقص نہیں نکالا، نہ گھر، رنگ، عمر یا ظاہری خوبصورتی کو فیصلہ کن معیار بنایا۔ ان کا اصول تھا کہ اگر خاندان شریف ہو، لڑکی بااخلاق اور تربیت یافتہ ہو، تو رشتہ قبول کر لینا چاہیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے تمام بچے اپنی ازدواجی زندگی میں خوش اور مطمئن ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جس گھر میں بیٹیاں ہوں، وہاں دوسروں کی بیٹیوں کو رد کرتے وقت بہت احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ جو رویہ ہم دوسروں کے ساتھ اختیار کرتے ہیں، اکثر وہی ہمارے اپنے گھر لوٹ کر آتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اکثر لڑکے سادہ اور پرسکون شادی چاہتے ہیں۔ انہیں نہ جہیز کی خواہش ہوتی ہے، نہ بڑے گھروں کی، نہ غیر حقیقی حسن کے معیار کی۔ وہ صرف ایک سمجھدار، بااخلاق اور گھر کو اپنا سمجھنے والی شریکِ حیات چاہتے ہیں۔ لیکن اکثر فیصلوں میں مائیں، بہنیں اور دیگر رشتہ دار ایسی توقعات شامل کر دیتے ہیں جو رشتے کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔
رنگ، قد، عمر، گھر، علاقے یا معمولی باتوں کی بنیاد پر رشتے رد کرنا ایک ایسا رویہ ہے جو نہ صرف دوسروں کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے بلکہ اپنے بچوں کی شادی میں تاخیر کا بھی باعث بنتا ہے۔
کامیاب شادی خوبصورتی، دولت یا اعلیٰ ملازمت سے نہیں چلتی، بلکہ اچھے اخلاق، تربیت، برداشت، سمجھداری اور ایک دوسرے کو قبول کرنے سے قائم رہتی ہے۔
اگر والدین حقیقت پسندانہ توقعات رکھیں، دوسروں کی بیٹیوں کا احترام کریں اور مناسب عمر میں سادگی کے ساتھ شادی کر دیں، تو بہت سے لڑکے اور لڑکیاں بروقت اپنے گھروں کے ہو سکتے ہیں۔
یاد رکھیں، کامل انسان کہیں نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم خامیوں کے بجائے خوبیوں کو دیکھیں اور رشتوں کو آسان بنائیں، مشکل نہیں۔