NASR Global Air Services

NASR Global Air Services AIR TICKETING AND VISA

20/07/2023

‏واپڈا آفس کے سامنے ایک شخص کیلے بیچ رہا تھا
واپڈا کے ایک بڑے افسر نے پوچھا کیلے کیسے دیتے ہو؟؟؟

کیلے کس کے لئے خرید رہے ہو صاحب؟؟؟

افسر:۔ کیا مطلب؟؟؟

کیلے والا :۔ مطلب یہ کہ

یتیم خانے کے لئے لے رہے ہو تو 40 روپیہ درجن
اولڈ ہوم کے لئے لے رہے ہو تو 50 روپیہ درجن
بچوں کے ٹفن کے لئے 60 روپیہ درجن
گھر کھانے کے لئے لے رہے ہو تو 70 روپیہ درجن
اگر پکنک کے لئے خریدنے ہوں تو 80 روپیہ درجن

افسر:۔ یہ کیا بیوقوفی ہے؟؟؟
جب سب کیلے ایک جیسے ہیں تو ریٹ الگ الگ کیوں؟؟؟

کیلے والا:۔

جیسے آپ لوگ کا 1 سے 100 یونٹ کا الگ ریٹ...
100 سے 200 کا الگ...
200 سے 300 کا الگ...
300 سے 400 کا الگ...

بجلی تو آپ ایک ہی کھمبے سے دیتے ہو،
تو پھر گھر کے لئے الگ ریٹ
دکان کے لئے الگ ریٹ
کارخانے کا الگ ریٹ
زرعی ٹیوب کیلئے الگ ریٹ کیوں؟؟؟

اور میٹر کی قیمت ہم سے لیکر پھر میٹر کا کرایہ الگ لیتے ہو۔۔۔

انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ہم سے الگ لیتے ہو
سرچارج اور ایکسٹرا سرچارج الگ لیتے ہو اور ان سب پر پھر سیلز ٹیکس لیتے ہو، کیوں؟؟؟

70 سال سے میٹر خرید کر بھی اس کا کرایہ بھر رہا ہوں.... کیوں؟؟؟

‏بعض معاملات میں عربوں کا مقابلہ ہی نہیں الجزائر کے صوبے حنشلہ کا باشندہ "شمس الدین کادہ" جسے لوگ "موكا" کے نام سے جانتے...
20/07/2023

‏بعض معاملات میں عربوں کا مقابلہ ہی نہیں

الجزائر کے صوبے حنشلہ کا باشندہ "شمس الدین کادہ" جسے لوگ "موكا" کے نام سے جانتے اور بلاتے ہیں، پیدائشی اندھا تو ہے ہی، غربت اور افلاس کا مارا بھی ہے۔ شادی کی بات ہوئی، ماں کے ساتھ درزی کے پاس سوٹ کا ناپ دینے گیا تو درزی کے پوچھنے پر ‏غمزدہ لہجے میں شکوہ کر بیٹھا کہ ہم غریبوں کی شادی میں کون شرکت کرے گا، جبکہ میں چاہتا ہوں کہ میری ماں میری خوشیاں اور میری ہونے والی بیوی میرا اہتمام دیکھ کر خوش اور راضی ہوں؟

درزی نے بالکل یہی پیغام موکا کی تصویر کے ساتھ صوبہ حنشلہ کے ایک سوشل میڈیا پیج پر ڈالا، اور پھر ‏اس کے بعد یہ پوسٹ ایسی وائرل ہوئی کہ موکا کی شادی میں صرف جزائری ہی نہیں ساتھ لگتے ملکوں تیونس، لیبیا اور فلسطین کے ہزاروں لوگ بھی شمولیت کیلئے پہنچ گئے۔ موکا کے گھر کو تحائف، سامان، زیورات اور اثاث سے بھر دیا اور اس کی شادی کو جزائر کی تاریخ کی سب سے خوبصورت شادی بنا دیا۔ ‏2 ہزار سے زیادہ کاریں اور ان میں سوار بچے اور ان کے گھر والے ، 100 سے زیادہ سوپر موٹر سائیکل سوار لوگ، 50 کے قریب گھڑ سوار، دسیوں سے زیادہ ہمہ قسم میوزک بینڈز جن میں قبائلی، صحرائی، ماڈرن موسیقی اور شادی بیاہ کیلیئے مخصوص رقص اور بینڈ باجے والے اور 70 کے قریب بارودی مظاہرہ ‏کرنے والی ٹیمیں شامل تھیں۔ ہزاروں لوگ دولہا کو کندھوں پر اٹھائے دولہن کے گھر پہنچے۔ (کل باراتیوں کا تخمینہ 10 ہزار سے زیادہ افراد کا لگایا گیا ہے)۔

اتنا ہی نہیں، باراتیوں کی طرف سے ملنے والے دولہا دولہن کیلیئے ہنی مون پکیجز معمہ بن چکے ہیں کہ وہ دونوں ترکی جائیں یا تیونس۔ ‏بارات میں کچھ لوگوں نے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا: ہاں ہم جزائری ہیں، ہاں ہم بھائی ہیں۔

مختلف ٹی وی چینلز موکا، اس کے ماں باپ اور اس کے بھائیوں کا انٹرویو کرتے رہے۔ جن کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین نہیں آ رہا کہ حنشلہ والے ہمارے بیٹے کی شادی کو ایسا یادگار بنا دیں گے؟
‏فیس بک اور ٹویٹر پر موکا کی شادی کی بہار دیکھنے کیلیئے لفظ ( موكا ) لکھنا ہی کافی ہے۔

Copied

19/07/2023

‏جسم کا اک حصہ ہمیشہ غدار نکلتا ہے بڑی جلدی بِک جاتا ہے نہ کوڑیوں کے بدلے نہ اشرفیوں کے بھاؤ بس اک لفظ" مُحبت"سُن کر قدموں میں جا گِرتا ہے__!!
اور وہ ہے دل

19/07/2023

‏ایک دن بیگم بڑے موڈ میں تھی، کہنے لگی "کیا آپ کی کوئی گرل فرینڈ ہے؟"
میں نے کہا "نہیں"
کہنے لگی "کسی کو آفس میں پسند کرتے ہوں"
میں نے کہا "نہیں"
پھر پوچھا "شادی سے پہلے کوئی افیئر؟"
میں نے کہا "نہیں"
کہنے لگی، "اتنا اچھا لکھتے بولتے ہیں، دِکھنے میں بھی ٹھیک ٹھاک ہیں۔۔۔ ‏یہ کیسے ہو سکتا ہے؟"
میں نےکہا کہ لڑکیاں پیسہ چاہتی ہیں اور وہ میں کسی غیر پہ خرچنا نہیں چاہتا تھا، اس لیے کسی سے دوستی نہیں کی۔
پھر پوچھا "کوئی تو کبھی جوانی میں پسند آئی ہو گی؟"
میں نے کہا "نہیں"
منہ بنا کر بولی، "اس کا مطلب کہ میں ہی پہلی ہوں جو آپ جیسے کو پسند کرتی ہوں ‏"کوئی فلمی ایکٹر تو پسند ہو گی"
میں نے کہا "نہیں، ہاں البتہ بچپن میں ڈنٹونک کی مشہوری میں ایک لڑکی آتی تھی، وہ مجھے اچھی لگتی تھی۔ میں اس وقت 7-6 سال کا تھا۔ لیکن پھر وہ کبھی ٹی وی پہ نظر نہیں آئی"

اس کے بعد بیگم کا پارہ چڑھ گیا اور بولی کہ 35 سال پرانی لڑکی نہیں بھُولی، ‏اب بھی دماغ میں ہے وہ چڑیل، تم سارے مرد ایک جیسے ہو، اس لیے اب تک بچپن کی ساری چیزیں سنبھال کر رکھی ہیں اور راشن میں بھی ہمیشہ ڈنٹونک لاتے ہو، صبح شام بچوں کو دانت صاف کرنے کا کہتے ہو، اس کلموئی کی یاد تازہ کرتے رہتے ہو اور اکثر سوچوں میں گم رہتے ہو۔ سب سمجھتی ہوں،‏یقینا نیٹ پہ بھی اسی کو سرچ کرتے ہو گے، اسی لیے 24 گھنٹے موبائل میں کھبے رہتے ہو مجھے پہلے ہی شک تھا کہ ہو نہ ہو کوئی پرانی عاشقی پال رکھی ہے، سب سمجھتی ہوں، مجھے اب آپ کے ساتھ نہیں رہنا
اور یہ کہہ کر ڈنٹونک اٹھا کر باہر پھینک دیا

Copied

‏سنڈے فنڈے 😁یوسفی صاحب بتاتے ہیں کے راستے میں ایک بار ویسپا سکوٹر پر جاتے ہوئے سامنے ایک کتا آگیا.. اس کو بچانے کے چکر م...
19/07/2023

‏سنڈے فنڈے 😁

یوسفی صاحب بتاتے ہیں کے راستے میں ایک بار ویسپا سکوٹر پر جاتے ہوئے سامنے ایک کتا آگیا..

اس کو بچانے کے چکر میں کنٹرول میری گرفت سے نکل گیا اور میں اسکوٹر سمیت سڑک کی بغل والے نالے میں گر گیا.

بڑی مشکل کے بعد جیسے تیسے میں نالے سے باہر نکلا تو دیکھا ایک خوبصورت خاتون اپنی کار روکے میری طرف دیکھ رہی تھیں.
انہوں نے پوچھا "کہیں لگی تو نہیں"
"نہیں.... نہیں".... میں نے جواب دیا.
"میرا گھر نزدیک ہی ھے" انہوں نے کہا...."چلو کپڑے صاف کرلو اور تھوڑا آرام بھی کر لو, آپ کو زیادہ زخم آئے ھیں یا نہیں یہ بھی چیک کر لیتے ھیں".

میں نے جواب دیا "آپ کا بہت بہت شکریہ... میں ضرور آپ کے ساتھ چلتا لیکن میری بیوی ناراض ہو جائےگی".

"آپ بالکل ٹینشن نہ لیں... میں ایک ڈاکٹر ھوں... چلئے"... انہوں نے زور دے کر کہا.
"میں دیکھنا چاہتی ھوں کے کہیں آپ کو فریکچر تو نہیں ھوا ھے".

در حقیقت وہ اک خوبصورت اور اچھے اخلاق کی خاتون تھیں اور میں نہ نہیں کر پایا.
میں نے کہا "ٹھیک ھے میں چل رہا ھوں لیکن مجھے یقین ھے کے میری بیوی ضرور ناراض ھو جائےگی".

ھم اس کے گھر آئے, کپڑے, ہاتھ پیر صاف کرنے کے بعد انھوں نے میری جانچ کی اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا.

میں نے جوس پیا اور کہا "اب میں پہلے سے بہتر محسوس کر رھا ھوں.... میری بیوی یقینا آگ بگولہ ھو جائے گی.... اب میں چلتا ھوں".

انھوں نے مسکراتے ھوئے کہا
"رک جائیے اب, آپ کی بیوی کو کچھ بھی پتہ نھیں چلے گا..... وہ تو گھر پر بیٹھی ھو گی نا"...

"نہیں..... نہیں..... شاید وہ ابھی بھی نالے میں ہی ھوگی".

😂😂😂🤪🤪🤪

19/07/2023

‏پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم نے سیٹی ماری۔
پروفیسر صاحب نے مڑ کر پوچھا کس نے سیٹی ماری ہے تو کوئی بھی جواب دینے پر آمادہ نہ ہوا۔ آپ نے قلم بند کر کے جیب میں رکھا اور رجسٹر اٹھا کر چلتے ہوئے کہا؛ میرا لیکچر اپنے اختتام کو پہنچا اور بس آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔
پھر انہوں نے تھوڑا سا توقف کیا، رجسٹر واپس رکھتے ہوئے کہا، چلو میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں تاکہ پیریڈ کا وقت بھی پورا ہوجائے۔

کہنے لگے: رات میں نے سونے کی بڑی کوشش کی مگر نیند کوسوں دور تھی۔ سوچا جا کر کار میں پٹرول ڈلوا آتا ہوں تاکہ اس وقت پیدا ہوئی کچھ یکسانیت ختم ہو، سونے کا موڈ بنے اور میں صبح سویرے پیٹرول ڈلوانے کی اس زحمت سے بھی بچ جاؤں۔
پھر میں نے پیٹرول ڈلوا کر اُسی علاقے میں ہی وقت گزاری کیلئے ادھر اُدھر ڈرائیو شروع کردی۔
کافی مٹرگشت کے بعد گھر واپسی کیلئے کار موڑی تو میری نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی، نوجوان اور خوبصورت تو تھی مگر ساتھ میں بنی سنوری ہوئی بھی، لگ رہا تھا کسی پارٹی سے واپس آ رہی ہے۔
میں نے کار ساتھ جا کر روکی اور پوچھا، کیا میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں؟
کہنے لگی: اگر آپ ایسا کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی، مجھے رات کے اس پہر سواری نہیں مل پا رہی۔
لڑکی اگلی سیٹ پر میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی، گفتگو انتہائی مہذب اور سلجھی ہوئی کرتی تھی، ہر موضوع پر مکمل عبور اور ملکہ حاصل تھا، گویا علم اور ثقافت کا شاندار امتزاج تھی۔
میں جب اس کے بتائے ہوئے پتے ہر اُس کے گھر پہنچا تو اُس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے مجھ جیسا باشعور اور نفیس انسان نہیں دیکھا، اور اُس کے دل میں میرے لیئے پیار پیدا ہو گیا ہے۔
میں نے بھی اُسے صاف صاف بتاتے ہوئے کہا، سچ تو یہ ہے کہ آپ بھی ایک شاہکار خاتون ہیں، مجھے بھی آپ سے انتہائی پیار ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے اُسے بتایا کہ میں یونیوسٹی میں پروفیسر ہوں، پی ایچ ڈی ڈاکٹراور معاشرے کا مفید فرد ہوں۔ لڑکی نے میرا ٹیلیفون نمبر مانگا جو میں نے اُسے بلا چوں و چرا دیدیا۔
میری یونیورسٹی کا سُن کر اُس نے خوش ہوتے ہوئے کہا؛ میری آپ سے ایک گزارش ہے۔
میں نے کہا؛ گزارش نہیں، حکم کرو۔
کہنے لگی؛ میرا ایک بھائی آپ کی یونیوسٹی میں پڑھتا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اُس کا خیال رکھا کیجیئے۔
میں نے کہا؛ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، آپ اس کا نام بتا دیں۔
کہنے لگی؛ میں اُس کا نام نہیں بتاتی لیکن آپ کو ایک نشانی بتاتی ہوں، آپ اُسے فوراً ہی پہچان جائیں گے۔
میں نے کہا؛ کیا ہے وہ خاص نشانی، جس سے میں اُسے پہچان لوں گا۔
کہنے لگی؛ وہ سیٹیاں مارنا بہت پسند کرتا ہے۔
پروفیسر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ کلاس کے ہر طالب علم کی نظر غیر ارادی طور پر اُس لڑکے کی طرف اُٹھ گئی جس نے سیٹی ماری تھی۔
پروفیسر صاحب نے اُس لڑکے کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا، اُٹھ اوئے جانور، تو کیا سمجھتا ہے میں نے یہ پی ایچ ڈی کی ڈگری گھاس چرا کر لی ہے کیا؟ منقول

18/07/2023

‏ایک بحری جہاز پر ایک ڈریکولا انسانی روپ میں سوار تھا،رات ہوتے ہی وہ جہاز پر سوار کسی انسان کا خون پیتا اور یوں اپنی پیاس بجھاتا،ایک روز یہ بحری جہاز بیچ سمند میں کسی چٹان سے ٹکرا گیا، لوگ فوراً لائف بوٹس کی طرف بھاگے،یہ ڈریکولا بھی ایک آدمی کی مدد سے ایک لائف بوٹ پر سوار ہو گیا ‏قسمت کی خرابی کہ اس کی لائف بوٹ پر صرف ایک ہی شخص تھا اور یہ ہی وہ شخص تھا جس نے اسے بچایا اور بوٹ یا کشتی میں آنے میں مدد کی
رات ہوئی توڈریکولا کو انسانی خون پینے کی پیاس ہوئی،ڈریکولا نے خود سےکہا کہ یہ بےشرمی ہوگی جو میں اپنے محسن کا خون پیوں،اس نیک بندے نے ہی تو مجھے ڈوبنے سے ‏بچایا ہے،میں کس طرح احسان فراموشی کروں؟
ایک دن،دو دن،تیں دن وہ اسی دلیل سے خود کو روکتا رہا،بالآخر ایک دن دلیل پر فطرت غالب آ گئی،اس کے نفس نے اسے دلیل دی کہ صرف دوگھونٹ ہی پیوں گا اور وہ بھی اس وقت جب محسن انسان نیند میں ہو گا تاکہ اس کی صحت پر کوئی واضح فرق بھی نہ پڑے اور میری ‏پیاس بھی تنگ نہ کرے،یہ سوچ کر روزانہ اس نے دو دو گھونٹ خون پینا شروع کر دیا،ایک دن اس کا ضمیر پھر جاگا اور اس پر ملامت کرنے لگا،تواس شخص کا خون پی رہا ہےجو تیرا دوست ہے،جس نے نہ صرف تجھے بچایا بلکہ جو مچھلی پکڑتا ہے،جو اوس کاپانی جمع کرتا ہے اس میں سے تجھے حصہ بھی دیتا ہے،یقیناً ‏یہ محسن کشی ہے،اس بے شرمی کی زندگی سے تو موت اچھی
ڈریکولا نے فیصلہ کیا کہ اب میں کبھی اپنے محسن کا خون نہیں پیوں گا
ایک رات گزری،دوسری رات گزری،تیسری رات ڈریکولا کا محسن بے چینی سے اٹھا اور بولا تم خون کیوں نہیں پیتے،ڈریکولا حیرت سے بولا کہ تمھیں کیسے پتہ چلا کہ میں ڈریکولا ہوں ‏اور تمہارا خون پیتا تھا
محسن بولاجس دن میں نے تمہیں بچایا تھا اس دن تمہارے ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کر کے میں سمجھ گیا تھا کہ تم انسان نہیں ہو،ڈریکولا ندامت سے بولا،دوست میں شرمندہ ہوں جو میں نے کیا لیکن اب میرا وعدہ ہے میں مر جاؤنگا لیکن تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا
محسن بولا کیوں ‏مجھ سے دشمنی کا اظہار کر رہے ہو؟پہلے پہل جب تم خون پیتے تھے تو مجھے تکلیف ہوتی تھی لیکن میں چپ رہتا کہ کہیں تمہیں پتہ نہ چل جائے اور میں مارا جاوں لیکں اب مجھے خون پلانے کی عادت ہو گئی ہےاور پچھلے تیں دن سے عجیب بے چینی ہے اگر تم نے خون نہ پیا تو میں مر جاوں گا
کتنی حیرت کی بات ‏ہے نا کہ ہم بھی بحیثیت قوم خون پلانے کے عادی ہو چکے ہیں، اپنی مرضی سے خون پینے والوں کو منتخب کرتے ہیں اور اپنا خون پلا پلا کر انہیں پالتے ہیں اور اگر وہ ہمارا خون نہ پئیں تو ہم مر جائیں
اشرافیہ کے فری پیٹرول، فری بجلی کے ساتھ دیگر سہولیات کے لئے خون ہم فراہم کرتے ہیں

18/07/2023

‏*جاٸیداد*
کرونا کی وبا پھیلنے سے پہلے لاہور کی ایک این جی او 30-35 بچوں کو کراچی گھمانے لاٸی ۔ بچے اور بچیاں میٹرک سے لیکر ماسٹر ڈگری کے اسٹوڈنٹ تھے اور شاہراہ فیصل پر ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں ٹھہرے ہوٸے تھے ۔ انسدادِ منشیات کیلیے کام کرنے والی ایک مقامی این جی او کے ایک ہاسپیٹل نے روزانہ 3-4 نامور شخصیات کو بلوانا شروع کیا تاکہ بچوں کو وہ اپنی *Success Stories* سناٸیں ۔ ایک دن نہ جانے مجھ ناچیز کو کیوں دعوت مل گٸی ۔ میں نے ہزار کہا کہ میری ایسی کیا *Success Story* ہوگی جسے سن کر بچے خوش ہوں ۔ میں تو خاک سا ریٹاٸرڈ خاکی ہوں اور میرے پلے ہے کیا ۔
مجھ سے پہلے پاکستان کے ایک بہت بڑے گارمنٹس برانڈ کے مالک نے تقریر کی کہ کس طرح اس نے اپنی غیرملکی بیوی کی مدد سے چھوٹی سی کپڑے کی دوکان سے اپنا برانڈ متعارف کروایا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کے ہر شہر میں اسکی شاخیں کھولتا گیا ۔ بےتحاشہ پیسہ کمانا شروع کیا اور ہر بڑے شہر میں جاٸدادیں ۔ گھر اور اپنے برانڈ کے شوروم خریدتا چلا گیا ۔ میری طرف دیکھ کر کہنے لگا برگیڈیر صاحب اصل خوشی مجھے پچھلے سال اس وقت ہوٸی جب میں نے آپکے سابقہ چیف آف آرمی اسٹاف کا گھر بھی خرید لیا ۔ خوب تالیاں بجیں ۔ اسے خوب داد ملی ۔ کمال کی *Success Story* تھی ۔
میں پریشان بیٹھا تھا کہ میں نے فوج سے ملنے والے پلاٹ بھی بیچ دیے ہیں تو پھر میرے پاس سنانے کو کیا ہے ۔ ماٸیک میرے ہاتھ میں آیا تو میں نے بچوں کو مخاطب کرکے کہا کہ میری کہانی شاٸد کسی کو پسند نہ آٸے نہ تالیاں بجیں نہ داد ملے مگر چلو سناتا ہوں ۔
میں نے پانچویں کلاس اردو پراٸمری مین اسکول نوابشاہ سے پاس کی ۔ اس وقت کلاس میں کچھ بچے زمین پر بچھاٸی دری پر بیٹھتے تھے اور کچھ لکڑی کے بنچ پر ۔ پانچویں کلاس تک ABC کا پتہ ہی نہ تھا بس الف سے انار اور ب سے بکری پڑھتے تھے ۔ چھٹی کلاس کیلیے ڈی سی ہاٸی اسکول نوابشاہ میں داخلہ لیا اور میں نے شہر آکر کرایے کے مکان میں دوسرے کچھ لڑکوں کے ساتھ رہنا شروع کردیا ۔ خود ہی بے ذاٸقہ سا سالن بناتے اور محلے کی ایک تندور والی ماسی کو آٹا دیکر روٹی لگوا لیتے ۔
ان دنوں ڈی سی ہاٸی اسکول کے ہیڈ ماسٹر ایچ ایم خواجہ صاحب تھے جو بعد میں سندھ کے مشہور ماہر تعلیم بھی جانے گٸے تھے ۔ شام کو اسکول میں کھیل بھی ہوتے تھے ۔ اسٹوڈنٹس میں کرکٹ کو بہت پسندیدہ کیا جاتا تھا ۔ میرا داخلے کا دوسرا یا تیسرا دن تھا ۔ میں بھی اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ گراٶنڈ پہنچ گیا ۔ میرے دو شرارتی کلاس فیلوز نثار آراٸیں اور عالمگیر فرحت اللہ جو نوابشاہ میں انگلش میڈیم اپوا اسکول سے آٸے تھے مجھ سے کہنے لگے کہ اگر کرکٹ کھیلنی ہے تو پہلے کرکٹ کی انگلش میں اسپیلنگ بتاٶ ۔ مجھے چونکہ انگلش کا ایک لفظ نہیں آتا تھا تو میں چپ چاپ گراٶنڈ سے نکل کر باہر آ بیٹھا ۔
میں نے اس دن سے کرکٹ کھیلنے کا خیال دل سے نکال دیا اور پڑھاٸی شروع کردی ۔ میں ساتویں کلاس میں پہنچا تو ساری کلاس کو پیچھے چھوڑ دیا اور اب صرف دو تین لڑکوں سے ہی مقابلہ ہونے لگا ۔ میں کرکٹ کی گیند کی بجاٸے کتابوں کے پیچھے بھاگتا رہا ۔ ڈاکٹر بن گیا ۔ فوج میں چلا گیا ۔ کارکردگی کی بنیاد پر یوناٸٹیڈ نیشن مشن سعودیہ گیا ۔ صومالیہ گیا اور پھر بوسنیا بھی پہنچ گیا ۔ دنیا کے 35 ملکوں کی آرمی کے جھرمٹ دیکھے ۔ ایک دن *بوسنیا* میں کام کرنے والی دنیا کی دسیوں NGOs کے سامنے تزلا کینٹ میں پاک بٹالین 2 ہاسپیٹل کی کارکردگی بتا رہا تھا تو میرے نارویجین سینیر کرنل نے کہا کہ آپ پاکستانی ڈاکٹرز انگلش بہت اچھی بولتے ہیں ۔ اس وقت میں اپنے بچپن کے الف سے انار اور ب سے بکری کے سبق کو یاد کرکے مسکراٸے بغیر نہ رہ سکا ۔
میں ریٹاٸر ہوا تو اپنے دو پلاٹ اور آرمی سے ملنے والا گھر بیچ کر نیوی کالونی کارساز میں کرایے کے گھر میں شفٹ ہو گیا ۔ بیٹی کو *راٸیل ہالو وے یونیورسٹی لندن* سے *Journalism & English Creative Writing* میں ڈبل بیچلر کرنے اور بیٹے کو *International Politics & Foriegn Policy *Development میں ماسٹر کرنے *سٹی یونیورسٹی لندن* بھیج دیا ۔ دونوں واپس آٸے تو انکی شادیاں کرکے فارغ ہوگیا ۔ تیس پینتیس سال کی کماٸی سے صرف یہ دو جاٸیدادیں بناٸیں ۔ بیٹی اب *English Creative Writer ہے اور بیٹا *PhD* کیلیے پھر *لَو برو یونیورسٹی لندن* کی خاک چھان رہا ہے ۔
ریٹاٸرمنٹ کے بعد میڈیسن سپلاٸی کا جو کاروبار شروع کیا تھا اس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی برکتیں ڈالیں کہ میں نے صرف تین سال بعد ہی اپنے لیے نیا گھر دوبارہ خرید لیا ۔ اسکے بعد پھر ہر وقت یہ خیال ستاتا رہتا تھا کہ مزید جاٸیداد بنانی چاہیے ۔ میں نے کٸی شہروں سے ہر سال تین سے چار غریب مگر ذہین بچوں کی یونیورسٹی فیس کی ذمہ داری اٹھانی شروع کردی تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرلیں ۔ اب مجھے کاروبار کرتے 11 سال ہوگٸے ہیں ۔ پاکستان کے سات شہروں میں بہترین روزگار سے لگے 17 نوجوان میری جاٸیداد میں شامل ہیں ۔ ان شہروں سے گزروں تو انکے گھر میرے ہی لگتے ہیں ۔ میں ان شہروں سے مزیدار لنچ کیے بغیر کبھی نہیں گزر سکتا ۔
جاٸیداد بنانے کی ایسی لت پڑی ہے کہ میں کبھی کبھی سندھ اور پنجاب کے کسی پسماندہ شہر کے ہاٸی اسکول کا چکر بھی لگالیتا ہوں کہ کسی غریب کا ذہین بچہ فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم ادھوری نہ چھوڑ دے ۔ میری سب سے بڑی جاٸیداد تو اب میرا زاتی تعلیمی ادارہ *اتحاد یونیورسٹی* ہو گا ۔ جس کا چارٹر میں سندھ اسمبلی سے پاس کروا چکا ہوں اور اللہ نے چاہا تو جیتے جی ہی اس میں بچوں کو پڑھتا بھی دیکھونگا۔
چونکہ میری تقریر کے دوران محفل میں مکمل خاموشی تھی تو میں نے ازراہ مزاح یہ بھی کہہ دیا کہ تھر میں لوگوں کیلیے کھودے گٸے آٹھ دس پانی کے کنویں بھی میری جاٸیداد میں شامل ہیں مگر میری اس بات پر بھی قہقہے سناٸی دینے کی بجاٸے محفل میں سناٹا تھا ۔ بس میں نے شکریہ کہہ کر اپنی Success Story ختم کردی ۔
میری زندگی کے وہ لمحے بہت یادگار ہیں جب میری تقریر کے آخر میں سب بچے اٹھ کر میری طرف بھاگے تھے اور مجھے بغیر کوٸی بات کہے زور زور سے جھپیاں ڈال رہے تھے ۔ لگتا تھا انکو میری بناٸی ہوٸی جاٸیداد مجھ سے پہلے مقرر کے چیف آف آرمی اسٹاف کے خریدے خوبصورت گھر سے بھی زیادہ پسند آٸی تھی ۔
*برگیڈیربشیرآراٸیں*

‏“ کتابِ الٰہی سے محبّت “ قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر  میں   اسمِ  مُحمد  سے   اُجالا کردےانجیل اور توریت کو نذر...
17/07/2023

‏“ کتابِ الٰہی سے محبّت “

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ مُحمد سے اُجالا کردے

انجیل اور توریت کو نذر آتش کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا صرف قرآن جلانے کے واقعے پر دُنیا کا دہرا معیار بے نقاب کرنا تھا 32 سالہ شامی نژاد احمد علوش نے آج سوئیڈن میں اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے انجیل اور توریت جلانے کا اعلان کیا تھا وقت مقررہ پر احمد قرآن کا نُسخہ لے کر آیا اُسے احترام سے بوسہ دیا اور سینے سے لگا لیا احمد نے کہا میں ان کتابوں کو کیسے جلادوں جن کی تصدیق میرے قرآن مجید فُرقانِ حمید نےکی ہے.احتجاج کے انوکھے انداز پر دُنیا حیران!
اللّہ کریم ہمیں قرآنِ پاک کے ایک ایک
لفظ کی قدر و منزلت اور اسکے برکات
سے نوازے ۰۰۰ آمین یا ربّ العالمین

‏“ نسلِ انسانی سے محبّت “”میں نے آدھی رات کے وقت ایک معاہدہ لکھا کہ پینسلین میری دریافت، میری ذاتی ملکیت نہیں ہے. یہ ایک...
17/07/2023

‏“ نسلِ انسانی سے محبّت “

”میں نے آدھی رات کے وقت ایک معاہدہ لکھا کہ پینسلین میری دریافت، میری ذاتی ملکیت نہیں ہے. یہ ایک عطیہ ہے جو مجھے امانت کے طور پر ملا ہے. اس دریافت کا عطا کندہ "خدا" ہے. اور اِس کی ملکیت پوری خدائی ہے. میں پینسلین دُنیا تک پہنچانے کا ذریعہ ضرور تھا لیکن میں اس کا موجد نہیں ہوں. صرف اِس کا انکشاف کرنے والا ہوں اور یہ انکشاف بھی میری محنت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خداوند کا کرم اور اُس کی عنایت تھی. اصل میں جتنے بھی انکشافات اور دریافتیں ہوتی ہیں وہ خدا کے حکم اور فضل سے ہوتے ہیں. میں الیگزینڈر فلیمنگ، پینسلین کی دریافت اور اِس انکشاف کے فارمولے کو عام کرتا ہوں. اور اس بات کی قانونی، شخصی، جذباتی اور ملکیتی اجازت دیتا ہوں کہ دُنیا کا کوئی ملک، شہر، انسان، معاشرہ جہاں بھی اِسے بنائے، وہ اُس کا انسانی اور قانونی حق ہوگا اور میرا اٗس پر کوئی اجارہ نہ ہوگا.“ 🤍

_سر الیگزنڈر فلیمنگ

‏ایک گاؤں میں مولوی صاحب رہتے تھے۔مولوی صاحب کا کوئی دوسرا ذریعہ آمدن نہ تھا گاؤں میں رہتے ہو گزارہ بہت مشکل تھا ۔اسی گا...
16/07/2023

‏ایک گاؤں میں مولوی صاحب رہتے تھے۔مولوی صاحب کا کوئی دوسرا ذریعہ آمدن نہ تھا گاؤں میں رہتے ہو گزارہ بہت مشکل تھا ۔اسی گاؤں میں کوئی نیک دل جاگیردار بھی رہتا تھا تو اس نے زمین کا ایک ٹکڑا مولوی صاحب کو ہدیہ کیا کہ ویسے بھی سارا دن آپ فارغ ہوتےہیں تو کھیتی باڑی کریں تاکہ گزارہ ‏اچھا ہو۔ مولوی صاحب نے گندم کاشت کرلی اور جب فصل ہری بھری ہوگئی تو بڑی خوشی ہوتی تھی دیکھ کر اسلئے دن کا اکثر وقت وہ کھیت میں ہی بیٹھے رہتےاور فصل دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے۔ لیکن اچانک ایک ناگہانی مصیبت نے ان کو آن گھیرا …گاؤں کے ایک آوارہ گدھے نے کھیت کی راہ دیکھ لی …‏گدھا روزانہ کھیت میں چرنے لگا۔ مولوی صاحب نے پہلے تو چھوٹے موٹے صدقے دیئے لیکن گدھا منع نہیں ہوا۔پھر اس نے مختلف سورتیں پڑھ پڑھ کر پھونکنا شروع کردیا لیکن گدھا پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ایک دن پریشان حال بیٹھے گدھے کو فصل اجاڑتے دیکھ رہے تھے کہ ادھر سے ایک کسان کا گزر ہوا۔‏گدھے کو چرتا دیکھ کر کسان نے پوچھا .. مولوی صاحب ….آپ عجیب آدمی ہیں گدھا فصل تباہ کر رہا ہے اور آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ جناب ہاتھ پر ہاتھ دھرے کہاں بیٹھا ہوں؟ ابھی تک ایک مرغی اور بکری کے بچے کا صدقہ دے چکا ہوں اور کل سے آدھا قرآن شریف بھی ‏پڑھ کر پھونک چکا ہوں لیکن گدھا ہٹتا نہیں ہے مجھے تو یہ بھی گدھا کافر لگتا ہے، جس پر کوئی شے اثر نہیں کرتی ۔… کسان کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا تھا وہ سیدھا گدھے کے پاس گیا اور گدھے کو دوچار ڈنڈے کس کر مارے تو گدھا کسی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا ہوا بھاگ کھڑا ہوا۔…. کسان نے کھیت سے ‏باہر آکر ڈنڈا مولوی صاحب کے حوالے کرتے ہوئے کہا ….. قبلہ مولوی صاحب قرآن گدھوں کو بھگانے کیلئے نازل نہیں کیا گیا ۔ گدھوں کو بھگانے کیلئے اللہ تعالی نے یہ ڈنڈا بھیجا ہے۔ ہم پاکستانی بھی عجیب ہجوم ہیں۔ہمارے گدھے حکمران کروڑوں نہیں بلکہ اربوں لوٹے چلے جاتے ہیں اور ہم صرف دعاؤں ‏اور صدقات و خیرات کے بل بوتے پہ ان گدھوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ جب تک یہ ہجوم، ایک قوم بن کر ان لٹیروں سے نجات کیلئے ڈنڈا استعمال نہیں کرے گی یہ گدھے ملک و قوم کے تمام وسائل یونہی لوٹتے رہینگے۔

‏یہ سٹار لنک کل میر پور آزاد کشمیر میں دیکھا گیا ہے آسمان پر  آپ لوگوں نے ستاروں کی ایک ٹرین دیکھی ہوگی اب یہ ٹرین آپ با...
16/07/2023

‏یہ سٹار لنک کل میر پور آزاد کشمیر میں دیکھا گیا ہے

آسمان پر آپ لوگوں نے ستاروں کی ایک ٹرین دیکھی ہوگی اب یہ ٹرین آپ بار بار دیکھیں گے اسکو سٹار لنک کہتے ہیں۔ یہ سٹار لنک ہزاروں سیٹلائٹس کا ایک برج ہے یہ سیٹلائٹس ایک سیدھی ٹرین بناتے ہیں۔یہ ایک لمبی ٹرین ہوتی ہے جس میں 54 سے زیادہ سیٹلائٹس ہوتی ہیں۔یہ سیٹلائٹس زمین سے 550 کلو میٹر کی دوری پر ہوتی ہیں۔یعنی اگر یہ خراب بھی ہوجائیں تو نیچے نہیں ائیں گی۔یہ سیٹلائٹس پوری دنیا کا احاطہ کرتی ہیں۔۔ یہ سٹار لنک سیٹلائٹس low مدار میں ہوتی ہیں۔اس سٹار لنک سیٹلائٹس کو ایلن ماسک کمپنی نے بنایا ہے۔۔ اس سیٹلائیٹس کے ذریعے انٹرنیٹ بہت تیز ہوجاۓ گی۔یہ پاکستان میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہوا ہے۔ یعنی پاکستانی حکومت نے سٹار لنک سیٹلائٹس کی اجازت دے دی ہے۔
اسکے ذریعے آپ کو صحراؤں، سمندروں اور جنگلوں میں ہر جگہ تیزترین انٹرنيٹ مہیا ہوگی اور ایک سیکنڈ بھی اسکی رفتار میں کمی نہیں آئے گی کچھ سال بعد سٹار لنک موبائل بھی مارکيٹ میں آئیں گے۔اگر چہ ان کی قیمت باقی موبایلز سے زیادہ ہوگی، لیکن یہ ہر جگہ کام کرے گی۔۔۔ آپ زمین کے جس کھونے میں بھی ہوں گے۔۔۔ وہاں چوبیس 24 گھنٹے تیز ترین انٹرنيٹ آپ کو میسر ہوگی،، اس وقت آپ کے ہاتھ میں جس کمپنی کا موبائل ہے۔یہ بہت جلد ہر کئی پر devalues ہوجائے گی، بالکل CD، DVD، ٹیپ ریکارڈ اور وی سی ار کی طرح،وہ موبائل Iphone کی طرح برینڈ بن کر آئیں گے لیکن حیران ہونے والی بات یہ نہیں۔۔ بلکہ زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ایک سٹار لنک ایلن ماسک مریخ کے لئے بھی روانہ کرے گی۔۔ تاکہ 2050 تک مریخ پر اگر کوئی سٹی بن جاتی ہے، تو اس 'سٹار لنک سیٹلائٹس' کے ذریعے سے وہاں پر رہنے والوں کے لئے انٹرنيٹ کی سہولت دستیاب رہے۔
یہ سٹار لنک سیٹلائٹس ایلن ماسک کی کمپنی "SPACEX" میں "design" کئے جاتے ہیں۔۔۔ اور وہاں سے باقاعدہ اپریٹ کۓ جاتے ہیں۔ایلن ماسک کا کہنا ہے کہ اس سٹار لنک میں ہم تقریبا 42000 سیٹلائٹس لانچ کرنے والے ہیں جو پوری دنیا کو انٹرنيٹ فراہم کریں گے۔۔ یعنی آنے والے وقت میں آپ سے زیادہ لمبی سٹار لنک سیٹلائٹس ٹرین ہر روز دیکھ سکیں گے لیکن فی الحال چونکہ اس کو صرف 52 ممالک نے "allow" کردیا ہے۔ جن میں بعض "اپریشنل" بھی نہیں ہے کیوں کہ یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تک تین ہزار کے قریب سیٹلائٹس لانچ کئے جاچکے ہیں۔۔۔۔۔ جبکہ 39 ہزار سیٹلائٹس باقی ہیں۔۔۔۔ ان کو ہر دو تین ماہ بعد لانچ کرتے رہتے ہیں اور عموما ایسی ٹرینیں (سٹارلنک ) اس وقت نظر آتی ہیں۔ جب SPACEX کمپنی سٹارلنک والے سیٹلائیٹ کا کوئی نیا بیچ لانچ کردیتے ہیں۔ یہ سٹار لنک ہماری زندگی میں ایک انقلاب لانے والا ہے۔
اس ویب سائٹ پر جاکر آپ ملک اور اپنا شہر سیلیکٹ کریں تو آپ کو مکمل تفصیلات مل جائیں گیں کہ آپ کب کب سٹار لنک سیٹلائیٹس اپنے شہر کے اوپر سے گزرتا دیکھ سکتے ہیں !!تحریر ‎

Address

Gul Faraz Market Shop # 2 Takht-e-nasrati Road Amberi Kala Karak
Karak

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923003333003

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NASR Global Air Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to NASR Global Air Services:

Share

Category