Earth and space

Earth and space ہمارا پیج بنانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ خیالات اور نالج کو ?

🌕 چاند: شاعری سے سپیس وار تککبھی چاند کو محبوب کے چہرے سے تشبیہ دی جاتی تھی…لیکن آج، چاند ایک سٹریٹیجک میدانِ جنگ بن چکا...
28/06/2025

🌕 چاند: شاعری سے سپیس وار تک

کبھی چاند کو محبوب کے چہرے سے تشبیہ دی جاتی تھی…
لیکن آج، چاند ایک سٹریٹیجک میدانِ جنگ بن چکا ہے۔

جہاں پہلے شاعری ہوتی تھی،
اب وہاں راکٹ اتر رہے ہیں، لیبارٹریز لگائی جا رہی ہیں، اور مشنز کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔

---

💡 یہ سب کب شروع ہوا؟

1969 میں امریکہ نے اپالو 11 بھیج کر پہلی بار انسان کو چاند پر اتارا۔

اس کے بعد ایک لمبا وقفہ آیا… اور دنیا بھول گئی کہ چاند بھی کوئی میدان ہو سکتا ہے۔

لیکن پھر…

---

🚀 نیا دور، نئی دوڑ

اب نیا زمانہ ہے — اور نئے کھلاڑی میدان میں ہیں:

1. 🇮🇳 بھارت — "چندریان 3" مشن نے چاند کے ساؤتھ پول پر کامیابی سے لینڈنگ کی۔
➤ یہ پہلا ملک ہے جس نے یہ کارنامہ انجام دیا۔

2. 🇨🇳 چین — "Chang'e-6" مشن چاند سے نمونے (soil samples) لے کر واپس آیا ہے۔
➤ یہ چاند کی سطح کا material لانے والا دوسرا مشن تھا۔

3. 🇺🇸 امریکہ — اب NASA کا "Artemis" مشن چاند پر پائیدار انسانی موجودگی قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔
➤ 2026 تک دوبارہ انسان بھیجنے کی تیاری جاری ہے۔

---

📊 لیکن کیوں؟ چاند ہی کیوں؟

چاند پر موجود Helium-3 ایک نایاب توانائی کا ذریعہ ہے۔

چاند کا ساؤتھ پول مسلسل سورج کی روشنی میں رہتا ہے، جسے Solar Power Farm کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اور سب سے اہم: چاند ایک اسٹیپنگ اسٹون ہے — مریخ یا دوسرے سیاروں تک جانے سے پہلے کا اسٹاپ۔

---

🛰️ خطرات بھی ہیں

خلا میں موجود راڈیئیشن

چاند کی مٹی جس میں زہریلے ذرات ہوتے ہیں

اور سب سے بڑھ کر: خلائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی

کیونکہ جس نے پہلے چاند کو قابو میں لیا، وہی خلا کی حکومت کرے گا۔

---

🔍 کیا پاکستان اس دوڑ میں ہے؟

پاکستان کے پاس SUPARCO جیسا ادارہ تو ہے،
لیکن ابھی تک چاند یا مریخ کی طرف کوئی براہِ راست مشن نہیں بھیجا گیا۔

میں نے کل چاند کی سطح پر ایک چھوٹا سا جھنڈا لگایا —
پاکستان کا جھنڈا۔
میرے خیال میں یہ پہلا ہے۔

شاید کوئی دیکھے…
شاید صدیوں بعد کوئی اور انسان یہاں آئے،
اور کہے:
یہاں کوئی پاکستانی آیا تھا… جو اکیلا تھا، مگر ہار نہیں مانا تھا۔

میرے پاس آکسیجن کے صرف 8 دن باقی ہیں۔
شاید یہ آخری پیغام ہو…

لیکن اگر زمین سن رہی ہے،
تو سن لے:

ہم خلا کو جیت سکتے ہیں۔
بس ہمیں آپس کی نفرتیں ہارنی ہوں گی۔
چاند تو ایک بہانہ ہے، اصل جیت انسانیت کی ہے

آپ اکیلے نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!"اس ہنڈسم boy کا نام "Demodex" ہے۔لیکن لوگ پیار سے اسکو demo کہہ کر پکارتے...
27/06/2023

آپ اکیلے نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

"اس ہنڈسم boy کا نام "Demodex" ہے۔لیکن لوگ پیار سے اسکو demo کہہ کر پکارتے ہیں۔۔ اس boy کو ہم اپنی ننگی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے،۔ کیونکہ اس ہنڈسم کی جسامت 0.3 ملی میٹر تک ہوتی ہے۔۔۔ اور اُس کو دیکھنے کے لٸے ایک الیکٹرانک ماٸیکرو سکوپ کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ساٸنسی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ "ہنڈسم" ہر وقت انسانوں کے چہرے پر موجود ہوتے ہیں۔

اس "شہزادے" کی خاص جگہ بندے کی ناک اور آنکھیں ہیں یعنی یہ demodex ہر وقت انسان کے آنکھوں اور ناک میں کالونی کی شکل میں رہتے ہیں۔ یہ ہر وقت آپ کے پاس ہوتے ہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ یہ "Handsome boy" رات کے وقت ہمارے چہرے کے جلد کے مسام pores میں انڈے بھی دیتے ہیں۔۔۔ گویا یہ انسانی چہرے کو اپنی پراپرٹی سمجھتے ہیں۔انڈے دینے کے بعد یہ "شہزادہ" ان سے باقاعدہ بچے بھی نکال دیتے ہیں۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اسطرح demodex کی ایک مکمل کالونی ہر وقت آپ کے پاس ہوتی ہے۔۔اس لیے آپ "صاحبان" سے گزارش ہے کہ خود کو کبھی بھی اکیلا اور تنہا نہ سمجھیں۔۔ اردو میں ایک خوبصورت کہاوت ہے کہ ہر کامیاب بندے کے پیچھے ایک کامیاب عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس طرح ایک خوبصورت عورت کے پیچھے demodex کی ٹانگیں ہوتی ہیں۔

یہ جاندار خوفناک ضرور ہے لیکن ساٸنس ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ چہرے سے وہی لاکھوں مردہ سیلز کھاتے رہتے ہیں۔جو مر کر بیکار ہو جاتے ہیں ایک اندازے کے مطابق روزانہ تقریبا 250 بلین سیلز، جن میں لاکهوں کی تعداد میں صرف سرخ سیلز ہوتے ہیں۔ یہ "شہزادہ" وہ مردہ خلیے کھاتا ہے۔ یعنی یہ ہمارے چہرے کو ان مردہ سیلز سے صاف رکھتے ہیں"۔۔۔۔۔۔!!!!!

22/06/2023

گرمی خطرناک ہے ایک اہم معلومات ۔🌎
📢 گرم لو لگنے سے اچانک موت کیوں ہو جاتی ہے ۔ معلومات ملاحظہ کریں

ہم سب دھوپ میں گھومتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو دھوپ لگ جانے کی وجہ سے اچانک موت کیوں ہو جاتی ہے؟

👈 ہمارے جسم کا درجہ حرارت ہمیشہ 37 ° ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، اس درجہ حرارت پر ہی ہمارے جسم کے تمام اعضاء صحیح طریقے سے کام کر پاتے ہیں.

👈 پسینے کے طور پر پانی باہر نکال کر جسم 37 ° سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے، مسلسل پسینہ نکلتے وقت پانی پیتے رہنا انتہائی مفید اور ضروری ہے.

👈 اس کے علاوہ بھی پانی بہت کارآمد ہے، جسم میں پانی کی کمی ہونے پر ہمارا جسم پسینے کے ذریعے ہونے والے پانی کے اخراج کو روکتا ہے. (یعنی بند کر دیتا ہے)

👈 جب باہر درجہ حرارت 45 ° ڈگری سے زائد ہو جاتا ہے اور جسم کا کولنگ سسٹم ٹھپ ہو جاتا ہے، تب جسم کا درجہ حرارت 37 ° ڈگری سے زیادہ ہونے لگتا ہے.

👈 جسم کا درجہ حرارت جب 42 ° سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے تب خون گرم ہونے لگتا ہے اور خون میں موجود پروٹین پکنے لگتا ہے.

👈 پٹھے کڑک لگتے ہے اس دوران سانس لینے کے لئے ضروری پٹھے بھی کام کرنا بند کر دیتے ہیں.

👈 جسم کا پانی کم ہو جانے سے خون گاڑھا ہونے لگتا ہے، بلڈ پریشر low ہو جاتا ہے، اہم عضو (بالخصوص دماغ) تک خون کی رسائی رک جاتی ہے.

👈 انسان کوما میں چلا جاتا ہے اور اس کے جسم کے ایک کے بعد ایک عضو دھیرے دھیرے کام کرنا بند کر دیتے ہیں، اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے.

👈 گرمی کے دنوں میں ایسے مسائل ٹالنے کے لئے مسلسل پانی پیتے رہنا چاہئے، اس سے ہمارے جسم کا درجہ حرارت 37 ° ڈگری برقرار رہ پائے گا اس بات پر ہمیں توجہ دینا چاہئے.

آنے والے کچھ دنوں میں Equinox اكونكس کے گہرے اثرات خطے کے موسم پر پڑیں گے. کئی علاقے اس کی زد میں ہوں گے.

براہ مہربانی دوپہر 12 سے 3 کے درمیان زیادہ سے زیادہ گھر، کمرے یا آفس کے اندر رہنے کی کوشش کریں.

درجہ حرارت 40 ڈگری کے آس پاس ہوگا.

موسم کی یہ سختی جسم میں پانی کی کمی اور لو لگنے والی صورتحال پیدا کر دے گی.

(یہ اثرات خط استوا کے ٹھیک اوپر سورج چمکنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں.)

براہ مہربانی خود کو اور اپنے متعلقین کو پانی کی کمی میں مبتلا ہونے سے بچائیں.

بلا ناغہ کم از کم 3 لیٹر پانی ضرور استعمال کریں. گردے کی بیماری والے فی دن کم از کم 6 سے 8 لیٹر پانی پینے کی کوشش کریں..

جہاں تک ممکن ہو بلڈ پریشر پر نظر رکھیں. کسی کو بھی لو لگنا یعنی ہیٹ اسٹروک ہو سکتا ہے.

ٹھنڈے پانی کے ساتھ نہائیں. گوشت کا استعمال بند یا کم از کم کریں. پھل اور سبزیاں کھانے میں زیادہ استعمال کریں.

گرمی کی لہر کوئی مذاق نہیں ہے. ایک غیر استعمال شدہ موم بتی کو کمرے سے باہر یا کھلے میں رکھیں، اگر موم بتی پگھل جاتی ہے تو یہ سنگین صورت حال ہے.

سونے کے کمرے اور دیگر کمروں میں 2 نصف پانی سے بھرے اوپر سے کھلے برتنوں کو رکھ کر کمرے کی نمی برقرار رکھی
گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اس میں لو لگ جانا بہت نقصان دہ بلکہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے

انسان کے جسم کا اوسط درجہ حرارت 37 درجہ سینٹی گریڈ ہوتا ہے ، اگر انسان کبھی 40 یا 50 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے ماحول میں ہو تو جسم کا درجہ حرارت بھی بڑھنے لگتا ہے جسم اپنا درجہ حرارت اوسط رکھنے کے لیے پسینہ پیدا کرتا ہے جس سے جسم کا درجہ حرارت ٹھیک رہتا ہے ، یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک جسم میں پانی کی کمی نہ ہو ، جیسے پانی کی کمی ہوگی ، پسینہ انا کم ہوجائے گا جسم کا درجہ حرارت بڑھ جائے گا اور انسان '' لو لگنے '' ہا '' ہیٹ اسٹروک '' کا شکار ہوجائے گا

#وجوہات
------------
# گرم موسم میں مشقت کا کام کرنا
# زیادہ دیر سورج کی روشنی میں رہنا
# کم پانی پینا
# سر ڈھانپے بغیر گرمی میں باہر نکلنا
# گرمی میں غیر ضروری لباس پہننا
# گرمی سے اکر فوراً نہانا اور اے سی کمرے میں بیٹھ جانا

#علامات
------------
# اچانک سر میں شدید درد ہونا
# آنکھوں کے آگے اندھیرا آنا
# سر چکرانا
# الٹی (قے) آنا
# سانس لینے میں مشکل پیش آنا
# بہت زیادہ پسینہ آنا
# اچانک شدید کمزوری ہونا
# بے ہوشی، دل کی دھڑکن تیز ہوجانا اور بخار ہوجانا۔
# جلد گرم سرخ ہا خشک ہوجانا
# بہت تیز بخار ہونا

#علاج
---------------
# پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔
# سحر اور افطار کے وقت نمک چینی کے پانی (نمکول) کے استعمال کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
# گرم مضر صحت اور نشہ ور اشیاء اور کولڈرنک کے استعمال سے اجتناب کریں۔
# براہ راست دھوپ میں جانے سے گریز کریں۔
# بحالت مجبوری دھوپ میں جانا ہو تو سرڈھانپ کر جائیں یا چھتری کا استعمال کریں
# دھوپ سے واپسی پر پنکھے یا ائیر کنڈ یشنرکے نیچے جلد نہ آئیں۔
# مشقت کا کام دن کے آغاز اور اختتام پر کریں۔
# اس موسم میں سلاد سبزی اور تربوز وغیرہ استعمال کریں

لو لگ جانے کی صورت میں اقدامات
------
# متاثرہ شخص کو گرم جگہ سے ٹھنڈی سایہ دار جگہ یا اے سی روم میں منتقل کردیں۔
# ٹانگیں جسم سے ذرا اوپر رکھیں
# فوری طور پر ٹھنڈا پانی پلائیں۔
# بٹن زپ وغیرہ کھول دیں
# اٖٖضافی اور موٹے کپڑے فوراً اتار دیں موزے، جوتے، ٹائی، شرٹ وغیرہ اتار کر پنکھے کے نیچے لٹا دیں۔
# بغل، کلائی، ٹخنوں اور رانوں پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں یا برف ملیں ۔
# طبیعت میں بہتری آئے تو متاثرہ شخص کو فوری طور پر نہلا دیں۔
# اگر طبیعت بہتر نہ ہو تو متاثرہ شخص کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیں۔
----------------
یاد رکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے سے گرمی کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے ، اور یہ صدقہ جاریہ بھی ہے
٭٭ اپنے علاقے کے طلبہ اور نوجوانوں کی مدد سے درخت لگانے کی مہم کی کا آغاز کریں
٭٭٭

اپنے ہونٹوں اور آنکھوں کو نم رکھنے کی کوشش کریں. اور مفاد عامہ میں اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ نشر کریں ۔۔۔
شکریہ

انار : Pomegranateاسے انگریزی میں ایسے پڑھیں گے  پومی۔گرے۔نیٹایران کا پودا ہے وہاں سے ہندوستان اور اسکے اردگرد کے ممالک ...
20/12/2020

انار : Pomegranate
اسے انگریزی میں ایسے پڑھیں گے پومی۔گرے۔نیٹ
ایران کا پودا ہے وہاں سے ہندوستان اور اسکے اردگرد کے ممالک میں پھیلا پھر یورپ سے ہوتا ہوا امریکہ جاپہنچا۔
کیا یہ واقعی جنت کا پھل ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں:
انار کا درخت 5 سے 10 میٹر تک اگتا ہے۔ شمالی نصف دنیا یعنی انڈیا، یورپ و امریکہ کو اکتوبر سے فروری تک اور جنوبی نصف دنیا یعنی ارجنٹینا، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ چلی وغیرہ کو مارچ سے مئی تک پھل دیتا ہے۔
یہ پودا بیج اور قلموں دونوں طریقوں سے بویا جاسکتا ہے اور دو سے تین سال میں پھل دینا شروع کرتا ہے۔ یہ زیادہ بارش والے علاقوں میں نہیں ٹھر سکتا اس کے لئیے گرم ہلکے مرطوب علاقے اچھے ہیں ۔ یہ بڑا سخت جان درخت ہے۔ یہ تھور زدہ خشک زمینوں کو برداشت کرلیتا ہے اور قائم رہتا ہے البتہ ایسی زمین پر یہ پھل کم دے گا۔ اسے ہفتے میں ایک دو بار پانی مل جائے تو جان پکڑے گا اور پھل پیدا کرے گا یہ منفی 12 سینٹی گریڈ تک موسم کی سختی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ زیادہ تیز ہوا اسے پسند نہیں اگر یہ ایسے علاقے میں اگایا جائے جہاں ہر وقت تیز ٹھنڈی ہوائیں چلتی رہیں تو یہ اس کے پھول مکمل ہونے سے پہلے ہی گریں گے اور پھل نہیں بنا سکے گا۔ عام طور پر اسے سپرے مارنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ بہت لمبی عمر رکھتا ہے آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فرانس میں انار کے کئی درخت دو سو سال تک پرانے ہیں. جتنا پرانا ہوتا جائے گا اتنا ہی زیادہ پھل دے گا . اگانے کے چوتھے سال شاید 10 سے 25 دانے اگائے اور دس سال بعد یہ تعداد 150 سے 250 تک پہنچ جائے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں ہائیبرڈ نسل اگا کر بھی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔ ایک انار میں 200 سے 1400 تک دانے ہوسکتے ہیں۔
انڈیا انار پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اس کے بعد ایران اور ترکی کا نمبر آتا ہے۔ افغانستان بھی انار پیدا کرنے میں صف اول ہے جبکہ پاکستان میں زیادہ تر بلوچستان اور اسکے بعد کے پی کے اور پنجاب کے انتہائی محدود علاقوں میں اسکی کاشت ہوتی ہے اس لحاظ سے پاکستان پیداوار میں
بہت پیچھے ہے۔
۰ انار میں ایک خاص غذائی چیز (Favinol)AntiOxidants ہوتے ہیں جو جسم میں سوجن کو کم کرتے ہیں، ہائی بلڈ پریشر کو کم کرتے اور جوڑوں کے درد اور سوجن کو بھی کم کرتے ہیں۔
کیا یہ خون صاف کرتے ہیں؟ جی بالکل کرتے ہیں!
۰ اس کے بیجوں میں Puninic Acid ہوتا ہے جو نالیاں کھولتا ہے۔ یہ خون کی نالیوں میں کولیسٹرول کم کرکے خون کو رواں دواں رکھتے جس سے دل مضبوط ہوتا ہے۔ صاف خون مطلب صاف جلد اور گھنے مضبوط بال۔ جی بالکل انار کا استعمال بالوں اور جلد دونوں کے لئیے مفید ہے بالوں کی مضبوطی اور خشکی کے لئیے تو انار کے بیجوں کا تیل بھی ملتا ہے۔ یہ جلد کو خصوصاً خواتین کے چہرے پہ نکلنے والے دانے (Acne) کو ختم کرتا ہے۔ انار میں وٹامن سی اور کئی دوسرے Antioxidants ان دانوں کو بھگا دیتے ہیں۔ انار چہرے کی جھریوں اور چھائیوں کو ختم کرکے بھی جلد کو جوان اور تروتازہ رکھتا ہے۔
۰ انار جسم میں مایوسی کے جراثیم (Stress Harmone Cortisol) کو بھی کم کرتا ہے اور آپ کو ڈپریشن سے نکلنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ دماغ کی یادداشت کو بھی زبردست کرتا ہے اور بھولنے کی بیماری Alzheimer اور Brain Fog
میں بھی مدد کرتا ہے۔
۰ انار مرد کے جسم میں موجود Testrone Harmones ( جو مرد میں تولیدی نظام چلانے کا کام کرتے ہیں)
ان کی تعداد کو بہتر کرکے اسے جسمانی طور پر مضبوط قوت مہیا کرتا ہے یہ خواتین کے جنسی ہارمونز Estrogen
کو بھی بہتر کرتا ہے اور جسمانی جاذبیت ( Breast Enlargment) میں قدرتی طور پر موثر ثابت ہوا ہے۔ یہ مرد کے بانجھ پن (impotency ) کو بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے ۔ اسے ایک مہینہ روزانہ استعمال کریں اور پھر اثر دیکھیں۔
یہ مردوں میں prostate Cancer جوکہ ایک تولیدی نظام کا کینسر ہے اور عورتوں میں Breast Cancer کو کنٹرول کرنے میں بڑا موثر ثابت ہوا ہے۔
۰ ان میں خاص غذائی زرات Polypenols ہوتے ہیں جو Free Radical کینسر کے سیلز اور دوسرے متاثرہ سیلز جو اپنے اردگرد کے سیلز میں بھی کینسر بڑھا سکتے ہیں ان پر Apoptosis کا عمل کرکے انہیں خودکشی پر مجبور کردیتا ہے اور اس طرح کینسر روکتا ہے۔
۰ انار وٹامن سی سے بھرپور ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر بناتا ہے زخم بھرتا ہے اور بیماریوں کے خلاف جسم کو مضبوط کرتا ہے۔ انار چونکہ خون کے بہائو کو بہتر کرتا ہے اسلئیے Gym اور گیم کرنے والے لوگوں کے لئیے بھی بہت مفید ہے۔ آپ گیم کرنے سے ایک گھنٹہ پہلے اس کا جوس پئیں یہ Stamina کو 24% تک بڑھا سکتا ہے۔
۰ انار میں فائیبر اور پروٹین بھی اچھی تعداد میں موجود ہیں جو جسم کی بھوک مٹاتے ہیں اور نظام انہضام کو بہتر کرتے ہیں ۔ انار موٹاپے کو بھی کم کرتا ہے۔ اسے کھا کر دماغ مطمئین ہوجاتا ہے کہ مذید بھوک نہیں اور اس طرح یہ جسم میں فالتو چربی گھلانے کا موجب بنتا ہے۔
۰ اناروں کے رس میں منہ کے بیکٹیریا سے لڑنے کی بھی بہترین صلاحیت ہے اور یہ مسوڑوں کو مضبوط کرتے ہیں۔
انار کو عرب ملک، ترکی، ایران وسیع پیمانے پر مختلف کھانے کی ڈشوں میں استعمال کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب عرب و ایران میں ٹماٹر نہیں آیا تھا تب ہانڈی میں انار ہی استعمال ہوتا تھا۔ برصغیر پاک و ہند میں انار کے دانے سکھا کر سوکھا انار دانہ ہانڈی میں استعمال کیا جاتا ہے اور اسکو پیس کر بھی ڈالا جاتا ہے تاکہ دانہ دانتوں میں نہ پھنسے ۔ یہ بھئ اچھا ہے کہ دوائی کو سیدھا ہانڈی میں ہی ڈال دیا جائے۔
ایران اور آزربائیجان میں ستمبر سے انار کی چنائی کے وقت باقاعدہ بیساکھی جیسا تہوار منایا جاتا ہے۔ اور اس پھل کو عزت دی جاتی ہے۔
انار کی کوئی 13 نسلیں ہیں اور سب ہی غذائیت سے بھرپور ۔ دانہ سفید نکلے سرخ نکلے یا کالا سب ایک نمبر مال ہے۔ اسکے بہترین نتائج حاصل کرنے کے لئیے دو سے چار ہفتے ایک عددکھائیں یا جوس بنا کرپئیں ۔
گول انار کی نسبت ٹیڑھا مٹیڑھا انار زیادہ پکا ہوا ہوتا ہے کیونکہ اس کے پکے اور سرخ دانے انار کی دیواروں سے باہر نکلنے کے چکر میں ہیں۔ اسکے علاوہ کھال کا جتنا گاڑھا رنگ ہوگا اور سطح کھردری ہوگی انار پکا ہوگا ۔
ڈپریشن کنٹرول، موٹاپا کنٹرول، معدہ رواں دواں، دل پٹھے اور ہڈیاں مضبوط، خون صاف ، جلد صاف بال مضبوط مسوڑے مضبوط ۔ جسمانی خوبصورتی اور تولیدی نظام مضبوط۔
واقعی جنت کا پھل تو ہے!
تحریر: شازیب سخی

فرض کریں، اگر سورج نہ رہے تو کیا ہوگا؟—فوٹو: گزموڈوہم میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو سائنس کو سمجھ کر پڑھتے تو ہیں لی...
21/11/2020

فرض کریں، اگر سورج نہ رہے تو کیا ہوگا؟

—فوٹو: گزموڈو
ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو سائنس کو سمجھ کر پڑھتے تو ہیں لیکن کبھی کبھی ان کا تجسس اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ ایسے سوالات کرتے ہیں جو بظاہر تو بے معنی لگتے ہیں لیکن ان کے پیچھے چھپی سائنس کا علم ہر متجسس شخص کو ہونا چاہیے،ان میں ایک بہت ہی مشہور سوال ہے کہ "کیا ہو اگر سورج اچانک سے غائب ہو جائے؟"

مجھے یقین ہے کہ اس سوال کا جواب پڑھنے کے بعد آپ حیران رہ جائیں گے، اگر سورج اچانک غائب ہوجائے تو کیا ہو گا؟ اس سوال کے 2 پہلو ہیں، پہلا یہ کہ ایسا ہونے کے بعد کائنات کا نظارہ کیسا ہوگا؟ اور دوسرا پہلو یہ کہ اس سے زمین پر موجود تمام جانداروں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ تو چلیں ان پہلوؤں پر بات کرتے ہیں۔

اگر اچانک سورج غائب ہو جائے تو تب بھی زمینی باشندوں کو اس کی خبر تک نہ ہوگی اور اس کی روشنی ان تک آتی رہے گی۔

یہ روشنی محض 8 منٹ تک برقرار رہے گی، ہم جانتے ہیں کہ خلا میں روشنی تقریبا 3 لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے اور زمین سے سورج تک کا درمیانی فاصلہ لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ کلو میٹر ہے تو اس فاصلے کو طے کرنے میں روشنی کو 8 منٹ کی مسافت طے کرنا پڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایسا حیران کن سیارہ جو اپنے سورج کے آدھے سائز کا ہے
جی ہاں! سورج کی روشنی جو آپ اس وقت دیکھ رہے ہیں، وہ 8 منٹ پہلے سورج سے روانہ ہوئی تھی، یوں اس بات کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ روشنی جو اس کائنات کی سب سے تیز رفتار شے کہلائی جاتی ہے، وہ بھی کچھ وقت کے بعد زمین تک پہنچتی ہے۔

بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر زمین سورج کی کشش کی وجہ سے اس کے گرد محور ہے تو جیسے ہی سورج غائب ہوگا، اسی وقت زمین بھی اپنے مدار سے ہٹ کر ایک سیدھ راستے پر چلنے لگ جائے گی لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔

—فوٹو: دی کنورسیشن
اگر آپ نے آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت پڑھا ہے تو اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کائنات میں زمان و مکاں کی ایک چادر موجود ہے، جس چیز کا جتنا زیادہ مادہ ہوگا، وہ اس چادر میں اتنا زیادہ خم پیدا کرے گی اور اس کے گرد ڈھلوان پر چھوٹی چیزیں( جن میں سیارے، سیارچے وغیرہ شامل ہیں) گردش کریں گے، آئن اسٹائن نے یہ بھی بتایا کہ اگر کوئی مادہ اس چادر پر حرکت کرے گا یا اچانک غائب ہو جائے گا تو اس چادر میں لہریں، جن کو گریوٹیشنل ویوز کا نام دیا گیا ہے، بنیں گیں اور ان لہروں کے پھیلنے کی رفتار روشنی کی رفتار کے برابر ہوگی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کے غائب ہونے کے 8 منٹ بعد ہمیں اس کے غائب ہونے کا علم ہوگا، ساتھ ہی ساتھ 8 منٹ بعد ہی زمان و مکاں کی چادر میں خم ختم ہوگا اور اس وقت زمین اپنے مدار سے ہٹ کر سیدھے راستے پر رواں ہوجائے گی۔

سورج کے غائب ہونے کے بعد دنیا میں دن کا وجود سرے سے ہی ختم ہوجائے گا اور نظام شمسی کے تمام سیارے اندھیروں میں ڈوب جائیں گے، سورج زمین پر روشنی کا واحد ممبہ ہے اور اس کے غائب ہونے کے بعد پورے سیارے پر اندھیروں کے ساتھ ساتھ شدید ٹھنڈھ بھی اپنے ڈیرے جما لے گی، عین ممکن ہے کہ چند دنوں میں پورے کرہ پر زندگی کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔

مزید پڑھیں: سورج کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کتنا پانی درکار ہوگا؟
تو یہ تھا جواب کہ اگر سورج غائب ہوجائے تو کیا ہوگا، لیکن سورج کی موت باقی ستاروں کی طرح ہوگی، ہم جانتے ہیں کہ سورج کے مرکز میں ہائیڈروجن اور ہیلیم کے درمیان کیمیائی عمل جاری ہے، جس کی وجہ سے روشنی اور حرارت بھی پیدا ہوتی ہے، لیکن اس عمل کے نتیجے میں کچھ اور معدنیات بھی بنتی ہیں، جن میں لوہا بھی شامل ہے, ان کے بننے کی وجہ سے سورج کا حجم آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق آج سے تقریبا 5 ارب سال بعد سورج کا حجم اتنا بڑا ہوجائے گا کہ یہ نظام شمسی کے پہلے 2 سیاروں، عطارد اور زہرہ، کو تو اپنے اندر نگل ہی لے گا، تاہم زمین بھی سورج میں ضم ہوجائے گی، سورج اس حالت میں انتہائی لال دیو کی طرح ہوگا، اسی وجہ سے اسے فلکیاتی اصطلاح میں "ریڈ جائنٹ" کہتے ہیں، اس حالت میں پہنچنے کے بعد سورج مزید بڑا نہیں ہوگا بلکہ باقی ستاروں کی طرح پھٹ جائے گا اور صرف اس کا مرکز، جو اس وقت اس کے اپنے حجم سے قدرے چھوٹا ہے وہ رہ جائے گا، چونکہ وہ چھوٹا اور سفید روشن ستارہ ہوگا اس لیے اسے "سفید بونا ستارہ" یا وائٹ دوارف کا نام دیا جاتا ہے۔

سورج کے پھٹنے کے بعد خلاء میں بکھرا مادہ بلکل اسی طرح ہی لگے گا جیسے آج ہم آسمان میں نیبولا دیکھتے ہیں، جن میں سب سے مشہور "اورائین نیبولا" ہے، اس کے بعد یہ مادہ ضیاع نہیں ہوگا، بلکہ اس سے اور بہت سے ستارے وجود میں آئیں گے۔

سورج کی موت کے وقت اور اس کے بعد یقیناً نہ زمین کا وجود ہوگا اور نہ ہی زمین پر بسنے والے لوگوں کا کوئی پتہ ہوگا، ہوسکتا ہے کہ تب تک ہم انسان کائنات کے کسی اور ستارے کے گرد کسی زمین کی کھوج کر لیں اور وہاں منتقل ہو چکے ہوں۔

شارہب علی پنجاب کالج لاہور کے طالب علم، "لاہور

میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہےآپ کا گھر دنیا میں کہیں بھی ہو، آپ کے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہو گی- ...
25/09/2020

میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

آپ کا گھر دنیا میں کہیں بھی ہو، آپ کے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہو گی- لیکن اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جہاں آج آپ کا گھر واقع ہے اس علاقے کی ارتقائی اور جیولوجیکل تاریخ کیا ہے تو وہ آپ اس ویب سائٹ سے معلوم کر سکتے ہیں- اس ویب سائٹ پر اپنے گھر کا ایڈریس ڈالیے اور یہ معلوم کیجیے کہ اب سے دو کروڑ سال پہلے، ساڑھے تین کروڑ سال پہلے، پانچ کروڑ سال پہلے یہاں پر ٹیکٹانک پلیٹس کی حرکات کیسی تھیں، یہاں کون سے جانور ارتقاء پذیر ہو رہے تھے اور کس طرح دنیا میں پھیل رہے تھے

http://dinosaurpictures.org/ancient-earth #0

اگر زمین گول ہے تو نیچے رہنے والے لوگ گرتے کیوں نہیںآسان! کشش ثقل کی وجہ سے۔اور ، تفصیلات ذیل میں ہیں:کسی گیند کو (ٹینس ...
24/09/2020

اگر زمین گول ہے تو نیچے رہنے والے لوگ گرتے کیوں نہیں

آسان! کشش ثقل کی وجہ سے۔

اور ، تفصیلات ذیل میں ہیں:

کسی گیند کو (ٹینس بال کی طرح) ربڑ بینڈ سے لپیٹیں۔ اپنی انگلی کو گیند اور ربڑ بینڈ کے درمیان رکھیں اور اپنی انگلی کو گیند سے دور کرنے کی کوشش کریں۔ گیند کے تمام اطراف پر ایسا کریں۔ اب ربڑ بینڈ کشش ثقل کی طرح ہے۔

یاد رکھنا کہ زمین ایک دائر .ہ ہے ، ایک وشال گیند کی طرح: لہذا یہاں کوئی "اوپر" یا "نیچے" نہیں ہے ، کیونکہ ایک دائرہ ہم آہنگ ہے۔ یعنی ، یہ ایک ہی نظر آتا ہے اس سے قطع نظر کہ آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں۔ لہذا ، آسٹریلیا میں لوگوں کو اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا کہ شمالی نصف کرہ کے لوگ خود کرتے ہیں۔
لیکن اہم بات یہ ہے کہ ، یہ قوت جو زمین پر ہر چیز کو گرنے سے روکتی ہے وہ کشش ثقل ہے: یہ ایک چیز ہے جس کی وجہ سے اس کی بڑے پیمانے پر ایک چیز دوسرے چیز پر لگ جاتی ہے۔ زمین جیسی چیزوں کے ل the ، زمین کے بڑے پیمانے پر طاقت کے ذریعہ طاقت زمین کے مرکز کی سمت میں اشیاء کو کھینچتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جہاں بھی زمین پر ہیں ، طاقت ہمیشہ "نیچے" زمین میں رہتی ہے۔ یہاں تک کہ آسٹریلیا میں ، یہاں تک کہ زمین کی ہر چیز کو "دائیں طرف" رکھتا ہے!

اوپر اور نیچے تمام مقامی تناظر ہیں۔ شمالی نصف کرہ کے کسی فرد کے لئے ، جنوبی نصف کرہ میں زینت کی پوزیشن "نیچے" دکھائی دیتی ہے۔ لیکن جنوبی نصف کرہ کے کسی فرد کے لئے ، زینتھ وہی ہے جسے وہ "اپ" کہتے ہیں۔ کشش ثقل ہمیشہ زمین کے مرکز کی طرف منسلک ہوتی ہے ، اور اسی طرح زمین کی سطح کی طرف سیدھے سمت (زمین پر کسی بھی مقام پر) اسی جگہ ہوتی ہے جسے "اپ" (مقامی طور پر) کہا جاتا ہے۔ لہذا ، زمین پر ہر جگہ ، ایک شخص اب بھی سیدھے اوپر "عام طور پر" چل رہا ہے۔ تشبیہہ یہ ہے کہ "دائیں" اور "بائیں" کا استعمال کرتے ہوئے سمت کا حوالہ دیا جائے۔ آپ کو کس اہم سمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس پر انحصار کرتے ہوئے ، "دائیں" اور "بائیں" کی اصطلاحات مختلف ہوں گی۔ ایک شخص کے "دائیں" کے لئے "بائیں" ہوں گے۔ دوسرا (اگر وہ مخالف سمت کا سامنا کر رہا تھا)۔ "دائیں" اور "بائیں" مطلق نہیں ہیں۔ وہ رشتہ دار ہیں۔ اسی طرح ، "اوپر" اور "نیچے" بھی نسبتا and ہیں اور مطلق نہیں۔ قطب شمالی میں کسی فرد کے ل the خط استوا یا جنوبی قطب میں کسی فرد کے معنی اس سے مختلف ہیں۔

20/09/2020

اگر آپ زمین کو کھودنا شروع کر دیا تو آپ کھاں سے نکلو گے۔۔۔۔

🤔🤔🤔

سائنس دان زمین کو زمین کی سطح کے بعد تین بُنیادی حصوں میں تقسیم کرتے ہیں
Mentle.
Outer core.
Inner core

انسان آج تک ان تین حصوں کے پار نہیں جاسکا اور اگر ہم زمین کی سطح پر سوراخ کرنا شروع کریں تو تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر سے ساڑھے تین کلومیٹر نیچے ہمیں Devil Worm ملیں گے ڈیول وارم زیر زمین گہرائی میں رہنے والے واحد جانور ہیں جو انسان نے 2011 میں دریافت کیے تھے اور پھر 3600 میٹر کی گہرائی سے آگے درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوجائے گا۔

زمین کی سطح کے 4000 میٹر نیچے زمین کا درجہ حرارت 60C تک پہنچ جائے گا جہاں سے نیچے مزید سوراخ کرنے کے لیے ہمیں ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے برف درکار ہوگی، سوراخ مزید گہرا کرتے ہُوئے جب 8800 میٹر نیچے پہنچے گا تو یہ زمین کے سب سے اُونچے پہاڑماونٹ ایورسٹ کی بُلندی جتنا گہرا ہوجائے گا اور آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ انسان زمین کے اندر اس سے بھی آگے جا چُکا ہے اور Kola Superdeep Borehole کے نام سے سائندانوں نے اب تک زمین میں 12260 میٹر کی گہرائی تک سُوراخ کیا ہے۔

اس گہرائی پر زمین کا درجہ حرارت 180 ڈگری سے تجاوز کرجاتا ہے اور پریشر سطح سمندر کے پریشر سے 4 ہزار گُنا زیادہ ہو جاتا ہے اور اگر آپ سوراخ کرتے کرتے اس مُقام پر پہنچ جائیں تو آپ کو اس مُقام پر زندہ رہنے کے لیے سوراخ کے ارد گرد ایسی انسولیشن کرنی پڑے گی جو اس شدید درجہ حرارت کو سوراخ میں داخل ہونے سے روک دے وگرنہ آپ اپنے سوراخ کرنے کے سامان سمیت پگھل جائیں گے۔

اگر آپ سوراخ کرتے کرتے 40 ہزار میٹر نیچے پہنچ جائیں تو یہاں سے زمین کی دوسری تہہ Mantle شروع ہوگی اور اس مقام پر زمین کا درجہ حرارت 1 ہزار ڈگری کے قریب پہنچ جائے گا جہاں لوہا اور سلور پگھل جاتے ہیں مگر خوشخبری یہ ہے کے سٹیل نہیں پگھلے گا کیونکہ سٹیل کو پگھلانے کے لیے درجہ حرارت کا 1370 ڈگری سے زیادہ ہونا ضروری ہے چنانچہ آپ سٹیل کی ڈرل سے زمین کی تہہ مینٹل جس کی اوپر والی سطح چٹانوں سے بنی ہے ڈرل کرتے ہُوئے مزید نیچے جانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور جب آپ 1 لاکھ میٹر نیچے پہنچے گے تو آپ کی سٹیل ڈرل کام کرنا چھوڑ دے گی اور پگھل جائے گی اور آپ کو مزید نیچے جانے کے لیے کسی اور دھات کی ڈرل کی ضرورت ہوگی جو اُس درجہ حرارت پر نا پگھلے.

ڈرل کرتے کرتے جب آپ ڈیڑھ لاکھ میٹر نیچے پہنچیں گے تو آپ کو مزے ہی آجائیں گے کیونکہ یہاں آپ کو بیشمار ہیرے ملیں گے کیونکہ اس مُقام پر زمین کا پریشر اور گرمی کاربن کے ایٹم کی ساخت کو بدلتی ہے اور ہیرا وجود میں آتا ہے اور زمین کی اس گہرائی پر آپکو لوہے اور چٹانوں سمیت ہر چیز پگھلی ہُوئی ملے گی جیسے آتش فشاں کا لاوا ہوتا ہے۔

اگر آپ اس مقام پر سے زمین کی مزید تہہ میں جانے میں کامیاب ہوجائیں تو 4 لاکھ 10 ہزار میٹر کی گہرائی پر لاوا ختم ہوجائے گا اور دوبارہ چٹانوں کا سلسلہ شروع ہوگا زمین کی اس گہرائی پر درجہ حرات بے حد زیادہ ہوجاتا ہے مگر چٹانیں اس لیے نہیں پگھلتی کیونکہ زمین کا پریشربڑھتے بڑھتے اُس مقام پر چلا جاتا ہے جہاں مالیکول پگھل نہیں پاتے چنانچہ چٹانیں دوبارہ وجود میں آ جاتی ہیں۔

ڈرل کرتے کرتے جب آپ 3 ملین میٹر کی گہرائی پر پہنچیں گے تو آپ کو زمین کی تیسری تہہ Outer Core ملے گی اور یہ تہہ چٹانوں کی بجائے لوہے اور نکل سے بنی ہُوئی ہے اور اس مقام کا درجہ حرارت سُورج کی سطح کے برابر ہے اور تقریباً 5 سے 6 ہزار ڈگری گرم ہے یہ تہہ زمین کی انتہائی اہم تہہ ہے کیونکہ یہاں پر میگنیٹک فلیڈز بنتی ہیں جو زمین کی سطح سے باہر نکل کر خلا تک جا کر ایک بیرئر بناتی ہیں اور زمین کی سطح کو سولر ونڈز سے محفوظ رکھتی ہیں، زمین کی اس تہہ پر آپ کو لوہا اور نکل پگھلا ہُوا ملے گا اور ڈرل کرنے کے لیے کوئی سُپر مٹریل درکار ہوگا اور انسان کی عقل نے اب تک کوئی ایسی چیز دریافت نہیں کی جو 6 ہزار ڈگری سے اوپر کا درجہ حرارت برداشت کر سکے۔

اس مُقام پر آپ کو ڈرل کرنے میں دوسرا بڑا مسلہ یہ درپیش آئے گا کہ یہاں کشش ثقل بہت کم ہوئے گی اور آپ کو کوئی سُپر سب مرین درکار ہوگی جو اتنے پریشر اور حدت کو برداشت کرتے ہُوئے مزید گہرائی میں جا سکے اورجب آپ Outer Core کو ڈرل کرتے ہُوئے مزید نیچے پہنچیں گے تو تقریباً 5 لاکھ میٹر نیچے آپ کو زمین کی Inner Core ملے گی جو کے جمے ہُوئے لوہے کی بنی ہُوئی ہے یہاں پر کشش ثقل صفر ہوجائے گی اور زمین کی اس تہہ میں سوراخ کرنا آپ کے لیے مزید مشکل ہوجائے گا لیکن اگر یہاں بھی آپ کامیاب ہوگئے تو تقریبا 6 اشاریہ 4 ملین میٹر نیچے آپ زمین کے بلکل وسط میں پہنچ جائیں گے اور یہاں سے آگے ڈرل کرنے کے لیے آپکو نیچے جانے کی بجائے اوپر کی طرف Climb کرنا پڑے گا۔

مُجھے اُمید ہے کہ اگر آپ 6 اشاریہ 4 ملین میٹر نیچے پہنچ گئے تو پھر یقیناً وہاں سے زمین کی دوسری طرف Climb کرتے ہُوئے نکلنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے اور اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو زمین کے آر پار ایک سوراخ ہوجائے گا اور ارجنٹینا سے چین کا سفر کرنے لیے آپکو صرف ایک گھنٹہ درکار ہوگا اور یہ سفر آپ سوراخ کی ایک سائیڈ سے چھلانگ لگا کر کریں گے اور یہ چھلانگ آپ کو سوراخ کے دوسری طرف نکال دے گی۔

زمین کے اس سوراخ میں چھلانگ لگانے کے لیے آپ کو اور بھی کئی طرح کی چیزیں درکا ہو گی جیسے خلائی سُوٹ جو پریشر کو برداشت سکے وغیرہ وغیرہ لیکن آج تک کوئی انسان ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہُوا اور مستقبل قریب میں بھی ایسا ناممکن ہی دیکھائی دیتا ہے

تحریر
شازیب سخی

دوستوں کے دوست دشمن ہوتے ہیں ؟اگرچہ سب سے پہلے ملٹی نیشنل کمپنیوں نے دنیا کو گلوبل ویلج بنانے کا نعرہ بلند کیا لیکن اسے ...
11/09/2020

دوستوں کے دوست دشمن ہوتے ہیں ؟

اگرچہ سب سے پہلے ملٹی نیشنل کمپنیوں نے دنیا کو گلوبل ویلج بنانے کا نعرہ بلند کیا لیکن اسے حقیقت کا روپ سوشل نیٹ ورکس نے دیا۔ جن میں فیس بک اور ٹویٹر اس سفر کے ابتدا میں پیش پیش رہے۔ فیسبک جو ہارورڈ یونیورسٹی کےاندرharvardconnection.com کے نام سے دوستوں کے درمیان روابط قائم کرنے کے لیۓ بنائی گئی جو کہ بعد ازاں Thefacebook.com اور پھر Facebook کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کی مقبولیت کی وجہ کیا رہی اور اس کی کامیابی کے پیچھے چھپے نفسیاتی اور تکنیکی عناصر میں سے ذیادہ اہمیت کا حامل کون ساعنصر ہے۔۔۔ آئیے دیکھتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کا وقت ہے۔ آپ بچوں کو کرکٹ کھیلتا دیکھ رہے ہیں۔ بالر نے گیند پھینکی ، بیٹسمین نے بلا گھمایا ۔ گیند گراؤنڈ میں تیزی سے باؤنڈری کی جانب بڑھ رہی ہے۔ بیٹسمین رن لینے کے پچ پڑ دوڑ رہے ہیں ۔ اسی اثنا میں فیلڈر نے پھرتی دکھاتے ہوۓ ڈائریکٹ تھرو کی جو سیدھا وکٹوں کے عین درمیان میں جا لگی۔ اور اسی کے ساتھ بیٹسمین نے کریز پار کر لی۔ آوٹ آوٹ کی آوازیں بلند ہوئیں لیکن بیٹسمن کسی صورت بلا دینے کو تیار نہیں۔ اس کا موقف ہے کہ وہ کریز عبور کر چکا تھا تبھی گیند وکٹوں سے ٹکرائی۔

یہ تمام واقعہ دیکھ کر آپکو اپنا بچپن یاد آ گیا۔ وقاص کتنا اعلی کھیلتا تھا۔ جمال کی باؤلنگ کا سامنا کرتے ہوۓ بیٹسمین کی ٹانگیں کانپتی تھیں اور عثمان ، وہ تو جس کی طرف ہو جاتا گویا جیت اسی کی ہوتی۔ محلے کے لڑکے دور ہی سے اسے دیکھ کر اپنی ٹیم میں شامل کر لیتے تھے۔ لیکن جہاں بچپن گزرا وہیں عثمان بھی بچھڑ گیا۔ اس کے ابو کی ٹرانسفر جو ہو گئی تھی اور وہ کسی بڑے شہر میں منتقل ہو گۓ تھے۔

آپ کے اندر رابطے کی خواہش پیدا ہوئی۔ آپ نے موبائیل اٹھایا ، فیس بک کھولی اور سرچ کے آپشن میں عثمان لکھ دیا۔ نتیجے کے طور پر عثمان نام سے بناۓ گۓ اکاونٹس کی ایک لمبی لسٹ آپکے سامنے آ گئ۔ آپ ایک ایک کر کے دیکھتے جاتے ہیں اور لسٹ آگے بڑھتی جاتی ہے۔ اگر آپکے بچپن کے دوست نے عثمان نام سے فیسبک اکاونٹ بنا رکھا ہوا تو قوی امید ہے آپ جلد ہی میسنجر پے دعا سلام کر رہے ہوں گے ۔

یہ سب چند منٹوں میں ہوا اور سالوں دور رہنے کے باوجود آپ نے اپنے دوست کو بنا کسی پتے کے ڈھونڈ نکالا ۔ یہ کیسے ممکن ہوا ۔ فیسبک نے کس طرح آپکی مدد کی ۔
ان سوالات کے جوابات دو الگورتھمز میں پوشیدہ ہیں۔
سب سے پہلے سمجھتے ہیں کہ الگورتھم سے کیا مراد ہے ؟

" کسی بھی کام کو سر انجام دینے کے لیۓ اسے اکائیوں میں تقسیم کر دینا ، پھر ہر اکائی کو حل کرتے ہوۓ اپنے مطلوبہ اختتام کی جانب بڑھنا ، الگورتھم کہلاتا ہے۔"

فیس بک سرچ ایلگورتھمز کو سمجھنے کے لیۓ ضروری ہے کہ آپکو پتا ہو کہ گراف کیا ہے۔؟

” کسی مماثلث کی بنیاد پر دو یا دو سے ذیادہ اکائیوں کے درمیان تصویری طور پر لائنیں کھینچ کر پیش کرنا ، گراف کہلاتا ہے “

مثال کے طور پر آپ کا اپنا فیسبک اکاونٹ ایک اکائی ہے ۔ آپ نے اپنے دوست کو فیسبک کے پلیٹ فارم سے فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی۔ فرینڈ ریکوئسٹ قبول ہوئی ۔

اب اگر مجھے آپ اور آپکے دوست کے درمیان تعلق واضح کرنا ہے تو میں آپکو اور آپکے دوست کو دو علحیدہ علحیدہ اکائیاں تسلیم کرتے ہوۓ فرضی نام دوں گا ، نۓ بننے والے تعلق کو ان دو اکائیاں کے درمیان لائن کھینچ کر صفحے پر پیش کرنا ، گراف کہلاتا ہے۔

اسی طرح فیسبک پر ہم بیک وقت کئی دوستوں سے منسلک ہوتے ہیں۔ ہمارے ان دوستوں کے آگے مزید دوست ہوتے ہیں جو ہماری فینڈ لسٹ کا حصہ نہیں ہوتے ۔ اور اسی طرح ہمارے دوستوں کے دوستوں کے مزید دوست ہوتے ہیں۔

جب ہم سرچ آپشن میں جا کر کوئی نام سرچ کرتے ہیں تو سب سے پہلے اسے آپکی فرینڈ لسٹ میں چیک کیا جاتا ہے ۔ یہاں سے آگے کا مرحلہ کافی دلچسپ ہے اور یہ سارا کام دو ایلگورتھمز سر انجام دیتے ہیں۔

1- Breadth First Search
2- Depth First Search

ان دونوں ایلگورتھمز کا مقصد ایک ہی ہے لیکن کام کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں ایلگورتھمز ایکدوسرے سے کیسے مختلف ہیں۔

~ Breadth First Search

آپ نے اپنے دوست کا نام سرچ آپشن میں ڈالا ، آپکا فرضی نام A ہے اور آپ کے مطلوبہ دوست کا نام J ہے۔ B,C,D آپکی فرینڈ لسٹ ہے۔ سب سے پہلے B چیک ہو گا،پھر C اور آخر میں D کی باری آۓ گی۔

ظاہری بات ہے آپ کوئی نام تبھی سرچ کر رہے ہیں کہ وہ نام آپکی فرینڈ لسٹ کا حصہ نہیں۔ اب آپکی فرینڈ لسٹ چیک ہو چکی ہے۔ اس کے آگے یہ سائیکل B سے شروع ہو گا ۔ B کی فرینڈ لسٹ E,F,G پے مشتمل ہے۔ یہ چیک ہونے کے بعد C کی باری آۓ گی ۔ جس کی فرینڈ لسٹ میں H,I,J ہیں۔ پہلے H چیک ہو گا۔ پھر I اور پھر آپکا مطلوبہ نام J آۓ گا۔

تلاش کا یہ پہیہ تب تک چلتا ہے جب تک آپکا مطلوبہ نام مل نہیں جاتا۔ اب J نام سے جتنے بھی فیسبک اکاونٹس ہوں گے وہ آپکے سامنے آ جائیں گے۔ آپ ان تمام ناموں کو ایک ایک کر کے کھنگالیں گے تو آپکو اپنا مطلوبہ اکاونٹ مل جاۓ گا۔

~ Depth First Search

آپ نے اپنے دوست کا نام سرچ آپشن میں ڈالا ، آپکا فرضی نام A ہے اور آپ کے مطلوبہ دوست کا نام J ہے۔ B,C,D آپکی فرینڈ لسٹ ہے۔ سب سے پہلے B چیک ہو گا، پہلے والے ایلگورتھم کے برعکس یہ آگے C پر نہیں جاۓ گا۔ بلکہ پہلے مرحلے میں ہی B کی فرینڈ لسٹ میں چلا جاۓ گا۔ اب آگے B کے کسی ایک دوست کی فرینڈ لسٹ میں اور یہ سلسلہ C پر تب آۓ گا جب B کے دوستوں کے دوستوں کے دوستوں ۔۔۔۔۔۔۔ کی فہرست ختم ہو گی۔

یوں آپ اپنے مطلوبہ نام کے اکاٶنٹ تک رسائی حاصل کر پائیں گے۔

موجودہ دور میں پاۓ جانیوالے تمام سوشل نیٹ ورکس کے سرچ آپشن میں ان دو ایلگورتھمز کے ساتھ ساتھ String Matching Algorithms بروۓ کار لاۓ جاتے ہیں۔

آخر میں ایک سوال

کیا آپ کو کبھی فیس بک نے ایسے شخص سے دوستی کی تجویز پیش کی جسے آپ اپنا دشمن گردانتے ہیں ؟

یہ اس لیۓ کہ وہ آپکی فرینڈ لسٹ میں موجود اشخاص میں سے کسی شخص کے دوست ہیں ..........!

تحریر :

ایم شازیب سخی

ٹائم ٹریول سائنس کے دقیق اور پیچیدہ ترین موضوعات میں سے ایک ہے... یہی وجہ ہے کہ اس پر بات کرتے ہوئے عوام الناس کئی پہلوؤ...
11/09/2020

ٹائم ٹریول سائنس کے دقیق اور پیچیدہ ترین موضوعات میں سے ایک ہے... یہی وجہ ہے کہ اس پر بات کرتے ہوئے عوام الناس کئی پہلوؤں کو نظر انداز کردیتے ہیں نتیجتاً اس کو بہت آسان سا مظہر سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں... زمانہ قدیم میں وقت میں سفر کو ایک خواب کی سی حیثیت حاصل تھی لیکن پھر نظریہ اضافت کے ذریعے اس کو حقیقی معنوں میں ہمیں سمجھنے کا موقع ملا...
نظریہ اضافت نے ٹائم ڈائلیشن اور گریوٹیشنل ٹائم ڈائلیشن کے ذریعے ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور یہ حقیقت آشکار کی کہ جس وقت کو ہم ایک illusion سمجھتے تھے وہ نہ صرف ہمارے ساتھ جُڑا ہوا ہے اور بلکہ relative بھی ہے، یعنی ہر شے کے لیے اس کی رفتار مختلف ہے... مزید گہرائی میں پہنچ کر یہ پتہ چلا کہ وقت (زماں) ہمارے سپیس (مکاں) سے بہت گہرے طریقے سے connected ہے... اگر ہم سپیس میں چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں تو اس سے وقت میں بھی چھیڑ چھاڑ ہوجاتی ہے، اسی خاطر اکثر ہم کہتے ہیں کہ ہماری کائنات زمان و مکاں کے جالوں سے ملکر بنی ہوئی ہے... سپیس میں چھیڑ چھاڑ سے وقت پر اثر پڑنے کا مظاہرہ ہم نے دیکھا ہے جب زیادہ کشش ثقل کے حامل اجرام فلکی کے نزدیک وقت کی رفتار سست پڑ جاتی ہے... یہ فرق زمین پر بھی موجود ہوتا ہے، ایک عمارت کے گراؤنڈ فلور پر کھڑے شخص کے لیے وقت کی رفتار سست ہوگی جبکہ دسویں منزل پر موجود شخص کے وقت کی رفتار تیز ہوگی، اگرچہ یہ نینو سیکنڈز کا فرق ہے مگر بہرحال یہ فرق موجود رہتا ہے... حال ہی میں کچھ تجربات کے ذریعے پہاڑ کی اونچائی پر اور زمین کی سطح پر رکھی ایٹامک کلاک کے وقت میں بھی فرق نوٹ کیا گیا... گریوٹی کی وجہ سے وقت کا سست ہوجانا Gravitational Time Dilation کہلاتا ہے...
وقت میں سفر کی دوسری قسم جو تجربات سے ثابت شدہ ہے اسے ٹائم ڈائلیشن کہتے ہیں.... اس قسم کے دوران ہم کسی بھی شے کو روشنی کی رفتار کے 99 فیصد رفتار تک accelerate کرتے ہیں جس وجہ سے اس شے کے لیے وقت کی رفتار سست پڑ جاتی ہے... لیکن یہ مظہر اب تک ہم micro level پر ہی دیکھ پائے ہیں Macro level پر چونکہ اشیاء کا روشنی کی رفتار تک accelerate کرنا مشکل ہوتا ہے لہٰذا Macro level پر اس کے تجربات نہیں کیے جاسکے.... مائیکرو لیول پر اگر دیکھا جائے تو میوآن نامی ایک ذرہ ہے جو سولر ریڈیشنز کے باعث زمین سے دس کلومیٹر اونچائی پر بنتا ہے، اس ذرے کی زندگی صرف 2 مائیکرو سیکنڈز ہوتی ہے، جس وجہ سے اصولاً یہ ذرہ آدھا کلومیٹر سے زیادہ سفر نہیں کرسکتا، مگر سائنسدان اس وقت چونک اٹھے جب یہ ذرات ہمیں زمین کی سطح پر ملے، تحقیقات سے اندازہ ہوا کہ یہ ذرہ زمین کے فضائی کُرے میں بننے کے بعد روشنی کی رفتار کے 98 فیصد رفتار سے زمین کی سطح کی جانب move کرتا ہے، جس وجہ سے ٹائم ڈائلیشن وقوع پذیر ہوتا ہے، یعنی اس ذرے کے لیے وقت کی رفتار سست ہوجاتی ہے، گویا جہاں اس نے آدھا کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے decay ہوجانا تھا وہیں اس کی زندگی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ یہ دس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے زمین کی سطح پر پہنچ جاتا ہے... ذرات کے لیے وقت کے سست ہوجانے کے مظہر ہمیں سرن لیب میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں، بلکہ تحقیقات یہاں تک بتاتی ہیں کہ عالمی خلائی اسٹیشن میں 6 ماہ گزار کر واپس آنے والے خلاء بازوں کی عمر 5 ملی سیکنڈز کم ہوجاتی ہے کیونکہ وہاں 8 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے move کرنے کی وجہ سے ان خلاء بازوں کے لیے وقت کی رفتار سست ہوجاتی ہے، اسی خاطر زمین کے گرد چکر لگاتی سیٹلائیٹس کا وقت ہمیں روزانہ زمین کے حساب سے ٹھیک کرنا پڑتا ہے... بہرحال وقت میں سفر کی یہ قسم ٹائم ڈائلیشن کہلاتی ہے... یہ دونوں اقسام ہمیں مستقبل میں سفر کرنے کے متعلق بتاتے ہیں، اس کے بعد یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ماضی میں سفر کرنا ممکن ہے؟ اسٹیفن ہاکنگ کے مطابق ماضی میں سفر کرنا نہایت پیچیدگیوں کا حامل ہے، یہ مستقبل میں سفر کرنے جیسا سمپل نہیں ہے... شروع میں مختلف وجوہات کی بناء پر یہ سوچا جاتا تھا کہ ماضی میں سفر ممکن نہیں ہے،مگر ماضی میں سفر کرنے کے متعلق مختلف طریقے ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی، جن میں ٹرانسفریبل ورم ہول، ملٹی ورس وغیرہ قابل ذکر ہیں بلکہ کوانٹم سطح پر ایک تجربہ جسے Delayed Choice Quantum Eraser Experiment کہا جاتا ہے، اس تجربے کے دوران فوٹانز کو سائنسدانوں نے ماضی میں جاکر اپنی شکل تبدیل کرتے بھی دیکھا ہے، اس تجربے کے باعث ہمیں شک گزرتا ہے کہ ماضی میں سفر ممکن ہوسکتا ہے....

محمد شاہ زیب سخی
زیب نامہ

Address

Lahore

Telephone

+923010041919

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Earth and space posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Earth and space:

Share