29/05/2026
Location: Badar City Saudi Arab
Kashif On Bike JK
غزوہِ بدر۔۔۔ رمضان المبارک 1438
میں بائیک پر لاہور سے بدر شہر پہنچا تو بدر کی پرسکون ہوا اس چھوٹے سے شہر پر چھائی ہوئی تھی۔ اسی سکون کی تلاش میں نکلا تو جبل ملائکہ ، بدر کا میدان ، شہداء بدر کی آرام گاہ دیکھ کر اس شہر کی آب و ہوا کے سکون کی سمجھ آ گئی۔
آج 17 رمضان کا دن آیا تو اس یوم الفرقان کی یاد توشہ ہو گئی۔
2ہجری، 17رمضان المبارک جمعہ کا بابرکت دن تھا جب غزوۂ بدر رونما ہوا، قرآنِ مجید میں اسے ”یوم الفرقان“فرمایا گیا۔ (در منثور ،4/72،پ 10،الانفال تحت الآیہ:41) اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جن کے پاس صرف 2 گھوڑے،70 اونٹ، 6 زرہیں(لوہے کا جنگی لباس) اور 8 تلواریں تھیں جبکہ ان کے مقابلے میں لشکرِ کفار 1000 افراد پر مشتمل تھا جن کے پاس 100گھوڑے، 700 اونٹ اور کثیر آلاتِ حرب تھے۔
(زرقانی علی المواھب، 2/260، معجم کبیر، 11/133، حدیث:11377، مدارج النبوۃ،2/81)
جنگ سے قبل رات حضورسرورعالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نےاپنے چند جانثاروں کے ساتھ بدر کے میدان کو ملاحظہ فرمایا اور زمین پر جگہ جگہ ہاتھ رکھ کر فرماتے : یہ فلاں کافر کے قتل ہونے کی جگہ ہے اور کل یہاں فلاں کافر کی لاش پڑی ہوئی ملے گی۔ چنانچہ راوی فرماتے ہیں: ویسا ہی ہواجیسا فرمایا تھا اور ان میں سے کسی نےاس لکیر سے بال برابر بھی تجاوز نہ کیا۔ (مسلم، ص759، حدیث: 4621) سُبْحٰنَاللہ ! کیا شان ہےہمارے پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی،کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے ایک دن پہلے ہی یہ بتادیا کہ کون کب اور کس جگہ مرے گا۔
اس رات اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مسلمانوں پر اونگھ طاری کر دی جس سے ان کی تھکاوٹ جاتی رہی اوراگلی صبح بارش بھی نازل فرمائی جس سے مسلمانوں کی طرف ریت جم گئی اور پانی کی کمی دور ہو گئی۔ ( الزرقانی علی المواہب ،2/271) آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے تمام رات اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے حضور عجزو نیاز میں گزاری (دلائل النبوۃ للبیہقی،3/49)اور صبح مسلمانوں کو نمازِ فجر کے لئے بیدار فرمایا، نماز کے بعدایک خطبہ ارشاد فرمایا جس سے مسلمان شوق ِ شہادت سے سرشار ہوگئے۔ (سیرت حلبیہ، 2/212)
حضور رحمتِ دوعالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نےپہلے مسلمانوں کے لشکر کی جانب نظر فرمائی پھر کفار کی طرف دیکھا اور دعا کی کہ یا رب! اپنا وعدہ سچ فرماجو تو نے مجھ سے کیا ہے ، اگرمسلمانوں کا یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو روئے زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ (مسلم، ص750، حدیث:4588ملخصاً)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے پہلے ایک ہزار فرشتے نازل فرمائے، اس کے بعد یہ تعداد بڑھ کر تین ہزار اور پھر پانچ ہزار ہو گئی۔ (پ 9،الانفال:9۔ پ4،اٰل عمران،124،125)
پیارےآقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ و اٰلہٖ وسَلَّم نے کنکریوں کی ایک مٹھی بھر کر کفار کی طرف پھینکی جو کفار کی آنکھوں میں پڑی۔ (درمنثور ،4/40،پ 9،الانفال ، تحت الآیہ:17) جانثار مسلمان اس دلیری سے لڑے کہ لشکرِ کفار کو عبرتناک شکست ہوئی، 70 کفار واصلِ جہنم اور اسی قدر(یعنی70)گرفتار ہوئے (مسلم ، ص750، حدیث:4588ملخصاً) جبکہ 14مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ (عمدۃ القاری،10/122)
شہدائے غزوۂ بدر:
غزوۂ بدر میں جامِ شہادت نوش فرمانے والے صحابۂ کرام کے اسمائے مبارک یہ ہیں :(1) حضرت عبید ہ بن حارِث(2) حضرت عمیر بن ابی وَقَّاص (3) حضرت ذُوالشِّمالین عمیر بن عبد عمرو(4) حضرت عاقل بن ابی بکیر (5) حضرت مِہجَع مولیٰ عمر بن الخطاب (6) حضرت صَفْوان بن بیضاء (یہ 6مہاجرین ہیں) (7)حضرت سعد بن خَیْثَمَہ (8)حضرت مبشربن عبدالمُنْذِر (9)حضرت حارِثہ بن سُراقہ (10)حضرت عوف بن عفراء (11) حضرت معوذ بن عفراء (12)حضرت عمیر بن حُمام (13)حضرت رَافِع بن مُعلّٰی (14)حضرت یزید بن حارث بن فسحم(یہ8 انصار ہیں)رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن۔ (سیرت ابنِ ہشام، ص295)
معرکہ بدر کی ہیبت کو سمجھنا ہو تو پرانے مدینہ روڈ پر سفر کرنا چاہیے کہ کہاں سے رمضان میں چل کر کہاں جا کر جنگ لڑی۔۔۔ قسم سے ہم اللہ کی آزمائش نہیں سہہ سکتے ۔۔۔
میرے پاس بدر کے شرکاء کی ہمت کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔۔۔
#بدر