Kashif On Bike

Kashif On Bike I am Ph.D Scholar and Principal in Govt School
M.Ed. https://www.facebook.com/profile.php?id=100003753310780
(1)

MA Pak Study
Lecturer at COTHM
Lecturer at PU
Lecturer at Superior
Iran On Bike 3 times
Umrah On Bike 2023
Central Asia On Bike 2025
🇶🇦 🇧🇭 🇰🇼 🇹🇷 🇯🇴 🇮🇶 🇸🇦 🇦🇫 🇹🇯 🇰🇬 🇺🇿 🇮🇷 🇦🇪 🇾🇪

Every road, every struggle, every milestone leads to a destination.”Kashif On Bike JK
29/05/2026

Every road, every struggle, every milestone leads to a destination.”
Kashif On Bike JK

Guess the place...?Kashif On Bike JK
29/05/2026

Guess the place...?
Kashif On Bike JK

29/05/2026

Location: Badar City Saudi Arab
Kashif On Bike JK
غزوہِ بدر۔۔۔ رمضان المبارک 1438
میں بائیک پر لاہور سے بدر شہر پہنچا تو بدر کی پرسکون ہوا اس چھوٹے سے شہر پر چھائی ہوئی تھی۔ اسی سکون کی تلاش میں نکلا تو جبل ملائکہ ، بدر کا میدان ، شہداء بدر کی آرام گاہ دیکھ کر اس شہر کی آب و ہوا کے سکون کی سمجھ آ گئی۔
آج 17 رمضان کا دن آیا تو اس یوم الفرقان کی یاد توشہ ہو گئی۔
2ہجری، 17رمضان المبارک جمعہ کا بابرکت دن تھا جب غزوۂ بدر رونما ہوا، قرآنِ مجید میں اسے ”یوم الفرقان“فرمایا گیا۔ (در منثور ،4/72،پ 10،الانفال تحت الآیہ:41) اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جن کے پاس صرف 2 گھوڑے،70 اونٹ، 6 زرہیں(لوہے کا جنگی لباس) اور 8 تلواریں تھیں جبکہ ان کے مقابلے میں لشکرِ کفار 1000 افراد پر مشتمل تھا جن کے پاس 100گھوڑے، 700 اونٹ اور کثیر آلاتِ حرب تھے۔

(زرقانی علی المواھب، 2/260، معجم کبیر، 11/133، حدیث:11377، مدارج النبوۃ،2/81)

جنگ سے قبل رات حضورسرورعالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نےاپنے چند جانثاروں کے ساتھ بدر کے میدان کو ملاحظہ فرمایا اور زمین پر جگہ جگہ ہاتھ رکھ کر فرماتے : یہ فلاں کافر کے قتل ہونے کی جگہ ہے اور کل یہاں فلاں کافر کی لاش پڑی ہوئی ملے گی۔ چنانچہ راوی فرماتے ہیں: ویسا ہی ہواجیسا فرمایا تھا اور ان میں سے کسی نےاس لکیر سے بال برابر بھی تجاوز نہ کیا۔ (مسلم، ص759، حدیث: 4621) سُبْحٰنَاللہ ! کیا شان ہےہمارے پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی،کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے ایک دن پہلے ہی یہ بتادیا کہ کون کب اور کس جگہ مرے گا۔

اس رات اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مسلمانوں پر اونگھ طاری کر دی جس سے ان کی تھکاوٹ جاتی رہی اوراگلی صبح بارش بھی نازل فرمائی جس سے مسلمانوں کی طرف ریت جم گئی اور پانی کی کمی دور ہو گئی۔ ( الزرقانی علی المواہب ،2/271) آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے تمام رات اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے حضور عجزو نیاز میں گزاری (دلائل النبوۃ للبیہقی،3/49)اور صبح مسلمانوں کو نمازِ فجر کے لئے بیدار فرمایا، نماز کے بعدایک خطبہ ارشاد فرمایا جس سے مسلمان شوق ِ شہادت سے سرشار ہوگئے۔ (سیرت حلبیہ، 2/212)

حضور رحمتِ دوعالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نےپہلے مسلمانوں کے لشکر کی جانب نظر فرمائی پھر کفار کی طرف دیکھا اور دعا کی کہ یا رب! اپنا وعدہ سچ فرماجو تو نے مجھ سے کیا ہے ، اگرمسلمانوں کا یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو روئے زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ (مسلم، ص750، حدیث:4588ملخصاً)

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے پہلے ایک ہزار فرشتے نازل فرمائے، اس کے بعد یہ تعداد بڑھ کر تین ہزار اور پھر پانچ ہزار ہو گئی۔ (پ 9،الانفال:9۔ پ4،اٰل عمران،124،125)

پیارےآقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ و اٰلہٖ وسَلَّم نے کنکریوں کی ایک مٹھی بھر کر کفار کی طرف پھینکی جو کفار کی آنکھوں میں پڑی۔ (درمنثور ،4/40،پ 9،الانفال ، تحت الآیہ:17) جانثار مسلمان اس دلیری سے لڑے کہ لشکرِ کفار کو عبرتناک شکست ہوئی، 70 کفار واصلِ جہنم اور اسی قدر(یعنی70)گرفتار ہوئے (مسلم ، ص750، حدیث:4588ملخصاً) جبکہ 14مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ (عمدۃ القاری،10/122)

شہدائے غزوۂ بدر:

غزوۂ بدر میں جامِ شہادت نوش فرمانے والے صحابۂ کرام کے اسمائے مبارک یہ ہیں :(1) حضرت عبید ہ بن حارِث(2) حضرت عمیر بن ابی وَقَّاص (3) حضرت ذُوالشِّمالین عمیر بن عبد عمرو(4) حضرت عاقل بن ابی بکیر (5) حضرت مِہجَع مولیٰ عمر بن الخطاب (6) حضرت صَفْوان بن بیضاء (یہ 6مہاجرین ہیں) (7)حضرت سعد بن خَیْثَمَہ (8)حضرت مبشربن عبدالمُنْذِر (9)حضرت حارِثہ بن سُراقہ (10)حضرت عوف بن عفراء (11) حضرت معوذ بن عفراء (12)حضرت عمیر بن حُمام (13)حضرت رَافِع بن مُعلّٰی (14)حضرت یزید بن حارث بن فسحم(یہ8 انصار ہیں)رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن۔ (سیرت ابنِ ہشام، ص295)

معرکہ بدر کی ہیبت کو سمجھنا ہو تو پرانے مدینہ روڈ پر سفر کرنا چاہیے کہ کہاں سے رمضان میں چل کر کہاں جا کر جنگ لڑی۔۔۔ قسم سے ہم اللہ کی آزمائش نہیں سہہ سکتے ۔۔۔

میرے پاس بدر کے شرکاء کی ہمت کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔۔۔
#بدر

Guess the place...?Kashif Bhatti JK
29/05/2026

Guess the place...?
Kashif Bhatti JK

سات میں سے تین ریاستوں کا نظارہ ۔۔۔Kashif Bhatti JK
28/05/2026

سات میں سے تین ریاستوں کا نظارہ ۔۔۔
Kashif Bhatti JK

Location: Castle of Saddam Hussein Baghdad Iraq Kashif Bhatti JK عراق کے سابق صدر Saddam Hussein کو 30 دسمبر 2006 کو پھا...
28/05/2026

Location: Castle of Saddam Hussein Baghdad Iraq
Kashif Bhatti JK
عراق کے سابق صدر Saddam Hussein کو 30 دسمبر 2006 کو پھانسی دی گئی تھی۔

انہیں 2003 میں عراق جنگ کے دوران اقتدار سے ہٹایا گیا، بعد ازاں گرفتار کیا گیا اور پھر عراقی عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنائی۔ ان کی پھانسی بغداد کے قریب عمل میں لائی گئی، اور یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ کی جدید تاریخ کے اہم ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔
عراق کے سابق صدر اور طاقتور حکمران صدام حسین کے محلات آج بھی مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ، طاقت اور سیاست کی ایک بڑی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ بغداد، تکریت اور عراق کے مختلف شہروں میں بنائے گئے یہ محلات اپنی شاندار تعمیر، وسیع ہالز، خوبصورت نقش و نگار اور سخت سیکیورٹی کے باعث دنیا بھر میں مشہور رہے۔

صدام حسین کے دور میں یہ محلات صرف رہائش گاہیں نہیں تھے بلکہ اقتدار، حکمرانی اور طاقت کی علامت تصور کیے جاتے تھے۔ 2003 میں عراق جنگ کے بعد ان میں سے کئی محلات کو نقصان پہنچا، کچھ فوجی اڈوں میں تبدیل ہوئے جبکہ کچھ آج بھی تاریخ کے خاموش گواہ بنے کھڑے ہیں۔

ان محلات کی دیواریں عراق کی سیاسی تاریخ، جنگوں، اقتدار کے عروج و زوال اور ایک پورے دور کی کہانی سناتی ہیں۔ عراق کی سرزمین پر موجود یہ مقامات آج بھی سیاحوں، تاریخ دانوں اور ایکسپلوررز کے لیے خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔

کاشف آن بائک کے ساتھ دنیا کی تاریخ، ثقافت اور پوشیدہ مقامات کو ایک نئے انداز میں دریافت کیجیے۔

بقلم : ڈاکٹر حافظ محمد کاشف بھٹی انٹرنیشنل بائیکر جہاں گرد

بامیان کی سرزمین اپنی خوبصورت وادیوں، بلند پہاڑوں اور تاریخی ورثے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ جولائی 2025 میں بائک ...
27/05/2026

بامیان کی سرزمین اپنی خوبصورت وادیوں، بلند پہاڑوں اور تاریخی ورثے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ جولائی 2025 میں بائک پر کیا گیا یہ مینی ٹرپ زندگی کے خوبصورت ترین سفرناموں میں سے ایک تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں، خاموش پہاڑ، سبز میدان اور ہر موڑ پر فطرت کا نیا رنگ دل کو سکون دیتا رہا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں صدیوں پہلے عظیم بدھا کے مجسمے پہاڑوں کو تراش کر بنائے گئے تھے، جو کبھی دنیا کے سب سے بڑے کھڑے بدھا مجسموں میں شمار ہوتے تھے۔ یہ مجسمے قدیم بدھ تہذیب، ثقافت اور شاہراہِ ریشم کی تاریخی اہمیت کی یاد دلاتے ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ انہیں نقصان پہنچا، لیکن Destruction of the Buddhas of Bamiyan کے بعد بھی بامیان آج تاریخ، ثقافت اور امن کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔

بائک پر ایسے تاریخی اور قدرتی مقامات کو ایکسپلور کرنا صرف سفر نہیں بلکہ یادوں، تاریخ اور فطرت کو محسوس کرنے کا ایک خوبصورت تجربہ ہے۔ 🏍️⛰️✨

بقلم : ڈاکٹر حافظ محمد کاشف بھٹی انٹرنیشنل بائیکر جہاں گرد

مسجد نمرہ میدان عرفات مکہ مکرمہ لاہور تا مکہ مکرمہ Kashif Bhatti JK
27/05/2026

مسجد نمرہ میدان عرفات مکہ مکرمہ
لاہور تا مکہ مکرمہ
Kashif Bhatti JK

Guess the Place..?Kashif Bhatti JK
26/05/2026

Guess the Place..?
Kashif Bhatti JK

Location: Gazzi Pass Connected Kharan to Washuk Balochistan Kashif Bhatti JK
26/05/2026

Location: Gazzi Pass Connected Kharan to Washuk Balochistan
Kashif Bhatti JK

26/05/2026

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashif On Bike posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kashif On Bike:

Share