21/09/2021
17 ستمبر 2201 سے لے کر 19 ستمبر 2021 تک کراس روٹ انٹرنیشنل کلب کی ایک بائیک ریلی کا انعقاد کیا گیا جو کہ لاہور سے شروع ہوکر فورٹ منرو تک گئی اس راستے کی سب سے خوبصورت اور قابل دید چیز نیا بننے والا ایشیا کا دوسرا بڑا سٹیل پل تھا یقین کریں اس پر بائیک چلانا ایک بڑا ھی قابل فخر احساس تھا۔آئیے اس کے بارے میں آپ کو کچھ بتاتے ہیں۔
پاکستان میں ملتان سے لوارلائی روڈ پر واقع یہ سٹیل کا پل ایشیا کا دوسرا بڑال سٹیل برج ہے ، جبکہ ایشیا کا سب سے بڑا برج چین میں واقع ہے ۔ یہ جاپان اور پاکستان کے انجینئرز کا ایک خوبصورت شاہکار ہے ۔ یہاں سٹیل کے چھوٹے بڑے آٹھ پل ہیں۔ یہاں تک پہنچنے کیلئے شروع میں بہت تنگ راستے تھے اب بھی کچھ جگہوں پر صرف ایک ٹرک ہی گزر سکتا ہے لیکن اب سڑک کافی بہتر ہوچکی ہے ۔ویسے تو سنسان علاقہ ہے لیکن سڑک کے کنارے کہیں کہیں چھوٹی دکانیں بھی مل جائیں گی جہاں آپ ضرورت کی چیزیں پانی یا کھانا لے سکتے ہیں ، ٹائر کو پنکچر بھی لگایا جاتا ہے، سکیورٹی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں اس لئے سیاح یہاں بلاجھجک آسکتے ہیں ۔ انگریز دور میں یہ روڈ بہت تنگ تھا لیکن اب روڈ کے ایک طرف موجود چٹانوں کو کاٹ کر راستہ کھلا کیا گیا ہے۔ سڑک کے دوسری جانب گہری کھائی ہے، سڑک پر سفر کرتے ہوئے یہاں کی قدرتی خوبصورتی کااحساس ہوتا ہے ۔ ایک طرف سرسبز و شاداب پہاڑ ہیں تو دوسری طرف خشک چٹانیں۔ اگر یہاں بارش ہوجائے تو کمال کا منظر دیکھنے کو ملتا ہے ۔ پل کے قریب بل کھاتی کھلی سڑکیں عجب ہی سماں لیئے ہوتی ہیں جس پر یک لخت انجینئرز کی تعریف کرنے کو دل کرتا ہے کہ اس پرخطر اور تنگ راستوں کو جس مہارت سے کاٹ کر اور پھر پلرز پر پل کھڑے کئے گئے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان پلوں کے پلر150فٹ تک بلند ہیں اور وہاں سڑک گول دائروں کی شکل میں اوپر جاتی ہے۔یہ سڑک بننے سے پہلے اوورلوڈ ٹرک اوپر چڑھتے ہوئے کافی مشکلات کا شکار ہوتے تھے اور بہت سا وقت لگ جاتا تھا لیکن یہ پل اور سڑک بننے سے یہ تمام مشکلات ختم ہوچکی ہیں اور چند منٹوں میں آپ نیچے سے اوپر پہاڑوں پر آجاتے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان سے فورٹ منرو پچاس ساٹھ کلومیٹر سفر کرنے کے بعد آپ اس پل کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ فورٹ منرو جنوبی پنجاب کا مری بھی کہلاتا ہے ۔ سڑک کے ساتھ کچھ مقامات پر چٹانوں سے لگے بلاک بھی ملتے ہیں ۔ بنیادی طور پر یہ لینڈ سلائیڈنگ کو روکنے کیلئے لگائے جاتے ہیں۔ یہاں کی خاص بات ٹھنڈا موسم اور آلودگی سے پاک ماحول ہے ۔این ایچ اے کے ڈائریکٹرتعمیرات کا کہنا تھا کہ ان پلوں کی میعاد 100برس تک ہے۔ اگر احتیاط برتی جائے اور گزرنے والی ٹریفک پر اوورلوڈنگ نہ ہوتو ان پلوں کی میعاد مزید بڑھ جائے گی۔
تحریر : عون محمد، ہاشم لغاری بلوچ