Travel with Salman

Travel with Salman Wanna meet yourself then travel to the mountains.

15/02/2026

محب الوطنی اور دشمن کو سبق سکھانے کے چکر میں جذبات میں آکر امی سے بول دیا کہ "آج انڈیا کو ناکوں چنے چبوا دیں گے اور اگر خدانخواستہ پاکستان ہار گیا تو آج سارے برتن میں دھوؤں گا۔ "
شروع میں تو ٹھیک تھا لیکن اب ہر اوور کے بعد امی الماری سے ،صندوق سے اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے نئے نکور دھلے ہوئے برتن بھی نکال کر رکھ رہی ہیں کہ رکھے رکھے تھوڑی مٹی لگ رہی ہے تو چلو یہ بھی دھل جائیں ۔

سلمان حیدر خان

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے تکلیف میں زندگی گزاری تو پرنس رینڈین کی کہانی پڑھیں 1871 میں پیدا ہونے والے پرنس رینڈین، جنہی...
07/11/2025

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے تکلیف میں زندگی گزاری تو پرنس رینڈین کی کہانی پڑھیں

1871 میں پیدا ہونے والے پرنس رینڈین، جنہیں دنیا "ہیومن کیٹرپلر" (انسانی کیڑا) کے نام سے جانتی ہے، اس بات کا زندہ ثبوت تھے کہ انسانی روح کی کوئی حد نہیں ہوتی۔

وہ ایک نایاب بیماری ٹیٹرا امیلیا سنڈروم (Tetra-Amelia Syndrome) میں مبتلا تھے، جس میں انسان کے بازو اور ٹانگیں نہیں ہوتیں۔
لیکن رینڈین نے اپنی قسمت کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے
بلکہ ناممکن کو ممکن بنا دیا۔

انہوں نے اپنے منہ، ٹھوڑی اور کندھوں کی مدد سے شیو کرنا، پینٹنگ کرنا، لکھنا، حتیٰ کہ سگریٹ بنانا اور جلانا سیکھ لیا۔

1932 میں انہوں نے مشہور فلم “Freaks” میں ایک ایسا منظر پیش کیا جو آج بھی یادگار ہے
انہوں نے بغیر کسی مدد یا چال کے، خود سگریٹ رول کیا اور اسے جلایا۔

مگر رینڈین کی کہانی ہمدردی کی نہیں، طاقت کی کہانی تھی۔
انہوں نے شادی کی، بچے پیدا کیے، اور ایک ایسے معاشرے میں خوش مزاجی اور اعتماد کے ساتھ زندگی گزاری جو ان کے لیے بنا ہی نہیں تھا۔

پرنس رینڈین نے طاقت کے معنی بدل دیے
یہ دکھا کر کہ طاقت پٹھوں یا ہڈیوں میں نہیں ہوتی، بلکہ اس ارادے میں ہوتی ہے جو انسان کو ہر حال میں جینے پر آمادہ رکھتا ہے۔
♥️


میں اپنے خیال میں کہیں جا رہا تھا کہ مجھے ایک میٹھے لہجے کی پرخلوص پکار نے رکنے پر مجبور کیا " لے سلمان تھوڑا سا سیب کھا...
03/11/2025

میں اپنے خیال میں کہیں جا رہا تھا کہ مجھے ایک میٹھے لہجے کی پرخلوص پکار نے رکنے پر مجبور کیا
" لے سلمان تھوڑا سا سیب کھا کر جاؤ "
دیکھا تو "کاکو امیر حیدر" نے جھولی بھر کے سیب میرے سامنے کر دیئے۔ کہنے لگے روزانہ ایک سیب کھاؤ صحت کے لئے بہت فائدہ ہے۔ میں نے بس دو سیب اٹھائے اور باقی کچھ دن بعد لے جانے کا کہا تو کہنے لگے ہاں ہاں آ کر لے جانا ۔
میں دونوں سیب لے کر سارا راستہ سوچتا رہا کہ یار یہاں پہاڑوں میں لوگوں کے اندر کتنا خلوص ہے۔ محبت اور اخلاص سے لبریز رویے ہیں ۔ اگر میری جگہ کوئی سیاح بھی ایسے گزرتے ہوئے جاتا تو کاکو کا رویہ یہی ہوتا ۔ کیوں کہ پہاڑوں کے باسیوں میں بناوٹ نہیں ہے ۔ یہاں پر آپ کے ساتھ مطلب یا لالچ کا تعلق نہیں رکھا جاتا ہے ۔ یہاں لوگوں کا مزاج ہی ایسا نہیں ہے اور چاہ کر بھی ایسا کچھ نہیں کر سکتے ہیں ۔
یہ سیب بہت میٹھے تھے لیکن ان سے ہزار درجہ زیادہ میٹھی وہ پکار تھی جس نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا ۔
وہ اپنائیت اور محبت مٹھاس کی معراج پہ تھی جو کاکو امیر حیدر کے لہجے ، مزاج اور شخصیت کا آئینہ تھی۔

وادیِ نگر ، مناپن

سلمان حیدر خان

پیر سائیں بے روزگاری، مہنگائی، ملکی حالات اور غربت سے دل برداشتہ ہو کر زوہیب بھائی اور بھٹی صاحب ایک بڑے پل سے دریا میں ...
02/11/2025

پیر سائیں

بے روزگاری، مہنگائی، ملکی حالات اور غربت سے دل برداشتہ ہو کر زوہیب بھائی اور بھٹی صاحب ایک بڑے پل سے دریا میں چھلانگ لگانے ہی والے تھے کہ بدقسمتی سے بھٹی صاحب شدتِ غم سے چِلا کر بولے

waiting the jumping cancel because money heist idea hijack my brain

زوہیب بھائی بھٹی کی طرف دیکھ کر انتہائی غصے میں بولے
" ووئے بھٹی خدا تیڈا خانہ خراب کرے۔ نامراد منحوس آ موت دے پل صراط تے وی تیڈے اندر دا باراک اوباما پھٹ پمدے ۔"
ترجمہ : " اوئے بھٹی خدا تیرا بیڑا غرق کرے۔ نامراد منحوس انسان موت کے پل صراط پہ بھی تمہارے اندر کا باراک اوباما اُبل پڑتا ہے۔"

بھٹی صاحب چھلانگ لگا کر پل سے نیچے اترے اور زوہیب بھائی سے کہنے لگے کہ ایک ایسا آئیڈیا میرے ذہن میں آیا ہے جس سے ہم دونوں پیسوں میں کھیلیں گے۔ اتنا زیادہ پیسہ آئے گا کہ تھوک ختم ہو جائے گی گنتے گنتے مگر پیسہ ختم نہیں ہوگا۔
زوہیب بھائی نے معصومیت سے سوال کیا
" لیکن بھٹی ہم غریب اور عام لوگ پاکستانی سیاست دان کیسے بن سکتے ہیں یار ۔"
سیاست نہیں بلکہ ہم پیری مریدی شروع کرتے ہیں اور دیکھو کیسے چند دنوں کے اندر پیسہ برسنا شروع ہوتا ہے۔
زوہیب بھائی نے معصومیت سے بھٹی صاحب کی جانب دیکھتے ہوئے کہا " بھٹی رن مریدی میں تو تیرا کوئی ثانی نہیں لیکن پیری مریدی تھوڑا مشکل کام لگتا ہے یار ۔

بھٹی صاحب نے زوہیب بھائی کی گردن دبوچ کر اسے آسمان کی جانب دیکھنے کا کہا اور چند منٹوں میں آئینہ میں اتار لیا ۔ ایسے سہانے سپنے دکھائے کہ یہ بات بتاتے ہوئے بھٹی صاحب کی آنکھوں میں پیسے کی چمک اور زوہیب بھائی کے منہ سے نسوار کے ساتھ پیسے کی رال بھی ٹپکتے ہوئے صاف دکھ رہی تھی۔
زوہیب بھائی کو پیر بنایا گیا اور بھٹی صاحب اس کے چیلے یعنی خلیفہ بنے۔ پورے علاقے میں منادی کرا دی گئی کہ کسی کو بھی کوئی مسئلہ درپیش ہے وہ بس ایک مرتبہ

" بابا زوہیب نسواری "

کے پاس اپنا مسئلہ لے کر آ جائے اور پھر بابا زوہیب نسواری کے کرامات، براکات اور دم درود سے سارے مسئلوں کا حل لے جائے۔
پورے گاؤں میں یہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایک باکردار، خوش شکل ( اس پہ گاؤں کے سب لوگوں نے اعتراض اٹھایا) اور پڑھا لکھا نوجوان بابا آیا ہے جو لوگوں کے سالوں کے مسائل کو دو دن کے اندر اندر حل کر دیتا ہے۔
زوہیب بھائی نے ایک پرانے نیم کے درخت کے نیچے ایک چادر بچھایا اور بھٹی صاحب نے جلدی جلدی درخت پر ڈھیر سارے دھاگے باندھ دیئے تاکہ دیکھنے والوں کو لگے کہ یہ تو پرانا بابا ہے۔

زوہیب بھائی نے جیب سے نسوار کی پڑیا نکالی ۔ ہتھیلی پر اس پڑیا سے لڈو کے چھکے (dice) جتنی نسوار نکال کر اسے گول مول بنا کر منہ کے اندر جبڑوں میں گُھسیڑ دیا اور بھٹی کو چند واہیات گالیاں نکال کر بولا
" یار بھٹی بس اس تعویز دھاگے سے مجھے اتنا امیر کر دو کہ میں نسوار کی اپنی فیکٹری لگاؤں اور غریبوں ، یتیموں اور ضرورت مندوں میں مفت تقسیم کروں کیوں کہ میں یہ دکھ جانتا ہوں کہ جب نسوار خریدنے کے پیسے نہ ہوں اور نسوار کا نشہ آپ کے ماتھے پہ گھنٹی لگا کر بیٹھا ہو تو کیسا محسوس ہوتا ہے ۔"

بھٹی صاحب نے عزم و استقلال سے داڑھی پر ہاتھ رکھا اور جوشیلے انداز میں بولا

Woye Zohaib Naswaar factory eating money I promise you give and۔۔۔۔۔۔۔

ابھی بھٹی صاحب اپنی انگلش کا پورا جلوہ نہ دکھا پائے تھے کہ زوہیب بھائی نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرا اور ساتھ پڑی اینٹ بھٹی صاحب کی طرف اچھال دی جو بھٹی صاحب کے کان سے زوں کی آواز میں حال احوال کر کے نکل گئی اور پھر زوہیب بھائی بہت سنجیدہ ہو کر بولے
" بھٹی تو نے اگر کلائنٹس کے سامنے یہ پاکستانی سیاستدانوں والی بے ہودہ انگلش بولی نا تو تجھے تختہ دار پر میں اپنے ہاتھوں سے لٹکاؤں گااور زندہ زمین میں گاڑ دوں گا۔"

یہ سن کر بھٹی صاحب جواب میں انگلش کا کوڑہ دان زوہیب بھائی پر پھینکنے ہی والے تھے کہ چند خواتین " بابا نسواری بابا نسواری " کہتی ہوئی درخت کے نیچے بِچھے ہوئے کپڑے پر زوہیب بھائی کے سامنے بڑی عقیدت سے بیٹھ گئیں۔
ان میں سے ایک خاتون نے زوہیب بھائی کو سارا مدعا بیان کیا کہ کیسے اس کا شوہر دوسری عورتوں سے باتیں کرتا ہے اور اسے توجہ نہیں دیتا۔
" بابا یہ دس ہزار روپے میں آپ کے لئے لائی ہوں مجھے کوئی ایسی تعویز دیں کہ میرا شوہر میرے قابو میں آ جائے ۔"
زوہیب بھائی نے پانچ پانچ ہزار کے دونوں نوٹ نسوار کی پڑیا میں ڈالے۔ آنکھیں بند کر کے تھوڑی دیر کے لئے منہ میں کچھ بڑبڑایا جیسے کوئی ورد پڑھ رہے ہوں اور جلال میں آ کر بولے
" بیٹا تو پریشان مت ہو، تیرا یہ مسئلہ دو دن کے اندر اندر حل ہو جائے گا اور تیرا وہ منحوس بدبخت شوہر تیرے اشاروں پر ناچے گا اور وہ بھی نانگن ڈانس کی طرح۔"

بھٹی صاحب فوراً لپک کر قریب آئے۔ زوہیب بھائی کے کان میں سرگوشی کی “ووئے زوہیب نانگن ڈانس نہیں ناگن ڈانس ہوتا ہے”زوہیب بھائی نے آنکھیں بند کیے ہی جواب دیا “ووئے بھٹی ناگن ہو یا نانگن ناچنا تو پڑے گا نا؟ چل شرافت سے دس ہزار والی بی بی کو تعویذ دے۔" بھٹی صاحب نے جلدی سے درخت کے ساتھ بندھا ایک پرانا دھاگا کھولا اسے تین بار جھاڑا اور نہایت عقیدت سے عورت کو تھما دیا۔

“بی بی یہ دھاگا شوہر کے پاجامے کے الٹے پائنچے میں سی دینا۔ تین دن میں بس نتائج دیکھنا اور یہ میرا واٹس ایپ نمبر ہے اس پر سارا احوال واٹس ایپ کر دینا اور اگر کبھی بور ہو رہی ہو تو ہم چیٹ پر بات کرنے کا پارٹ ٹائم کام کرتے ہیں۔" یہ سن کر دونوں خواتین نے ہاتھوں کی پانچوں انگلیاں کھول کر بھٹی صاحب کی جانب اشارے کئے اور بھٹی صاحب کچھ نا سمجھتے ہوئے بولے " بی بی غیر محرم کے ساتھ ہم ہائی فائی صرف واٹس ایپ پہ کرتے ہیں۔"

خواتین تعویز لے کر چلی گئیں اور پیچھے بیٹھے درجنوں مرید ( جو پچاس روپے دیہاڑی اور نسوار کی ڈبی پہ بھٹی صاحب لے آئے تھے) تالیوں اور بابا زوہیب نسواری کے نعروں میں مگن ہو گئے۔ اب لائن میں ایک پریشان حال نوجوان آیا جو کانوں کو ہاتھ لگا کر بولا۔ بابا میری شادی نہیں ہو رہی جہاں بات طے ہوتی ہے پھر کوئی نا کوئی گڑ بڑ ہو کر ٹوٹ جاتی ہے۔

" نامراد یہ تو تجھ پر خدا کی خاص رحمت ہے " زوہیب بھائی نوجوان کو تقریباً جھنجھوڑ کر بولے جو کہ کچھ نا سمجھتے ہوئے شادی کی تعویز کی دہائی دے رہا تھا۔ زوہیب بھائی نے بھٹی صاحب کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا۔ “بھٹی اس کو کوئی ویسا تعویذ دے جیسا تُو نے اپنے لیے بنایا تھا۔”

بھٹی صاحب نے ایک میلی سی پرچی نکالی اس پر دو تین قدرتی نشانات لگائے اور نوجوان سے ہزار روپے کا نوٹ پکڑ کر تعویز تھما دی۔ “بیٹا یہ رات کو اپنے تکیے کے نیچے رکھنا صبح اُٹھ کر دائیں طرف لوٹنا اور پہلی نظر میں جس چیز پر نظر پڑے اسی کا نام لے کر نکاح کی دعا مانگنا۔"

“اگر گدھا نظر آ گیا تو نوجوان نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔"

“تو پھر دعا کی بجائے توبہ مانگ لینا” زوہیب بھائی نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ اسی دوران ایک عمر رسیدہ شخص جو کافی پریشان حال لگ رہا تھا روتے ہوئے آیا اور کہنے لگا “بابا جی میری بکریاں ہر روز چوری ہو رہی ہیں خدا کے واسطے کچھ کریں۔” بھٹی صاحب نے فوراً مسئلہ سمجھ لیا اور زوہیب بھائی کے کان میں کہا۔ “یہ وہی بندہ ہے جس کی بکریاں ہم نے رات کو چرائی تھیں اب معاملہ اچھے طریقے سے سنبھالو”

زوہیب بھائی فوراً اُٹھے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر گرج دار آواز میں بولے “تیرا امتحان تھا جوان تُو کامیاب رہا بابا نسواری کا جلال دیکھنے کے لیے اللہ نے خود تیرے صبر کو آزمایا ۔" میں دعا و تعویز کرتا ہوں جا آج رات تیری ساری بکریاں واپس آ جائیں گی مگر ایک شرط پر۔

“کون سی شرط بابا؟”

“آئندہ کبھی بھی بکریوں کو اکیلا نہ چھوڑنا اور ان کے لیے روزانہ کم از کم دو سیر نسوار خریدنا۔" بوڑھے شخص نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر بھٹی کی طرف دیکھا جو زوہیب بھائی کی پشت پیچھے بیٹھ کر اشاروں میں سمجھا رہا تھا “بس دے دے بابا زیادہ سوال نہ کر" آخر کار بابا زوہیب نسواری کے دربار سے مسائل حل کروا کر لوگ خوشی خوشی جا رہے تھے۔ بھٹی صاحب نے پیسوں کی گنتی شروع کر دی اور زوہیب بھائی نے ایک بڑی سی ڈبی سے مزید نسوار نکال کر منہ میں رکھ لی۔

اتنے میں بھٹی صاحب کے چہرے پر پریشانی کی لہر دوڑ گئی “زوہیب بھائی اگر لوگوں کو پتہ چل گیا کہ ان کے تمام مسائل و پریشانیاں ہماری ہی پیدا کردہ ہیں تو پھر کیا ہوگا ؟" زوہیب بھائی نے نسوار کی ڈبی کو غور سے دیکھا اور فلسفیانہ انداز میں کہا “بھٹی اللہ نے تجھے شکل تو ویسے بھی اچھی نہیں دی ہے۔ کم از کم منہ سے بات تو اچھی نکال لیا کر نامراد کالی زبان ۔ "

اسی لمحے گاؤں کا ایک بچہ جو بھٹی صاحب نے گاؤں کے لوگوں کی مخبری اور لوگوں کے گھروں کی خبریں جمع کرنے کے لئے رکھا تھا ہانپتے ہوئے پہنچا اور چند لمحوں بعد بولا " بابا تمہاری ساری ویڈیوز لیک ہو گئی ہیں "

زوہیب بھائی سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے " پروین پہ مجھے کبھی اعتبار نہیں تھا ہمیشہ کہتی تھی کہ تمہاری ساری چیٹ اور ویڈیوز لیک کر دوں گی۔"

بچے نے مزید وضاحت کی کہ محلے میں جگہ جگہ لگے سی سی ٹی وی کیمروں میں آپ دونوں کی ساری چوریاں پکڑی گئی ہیں ۔ اور پولیس کا ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔

ابھی بچے کی بات پوری ہی نہیں ہوئی تھی کہ پولیس گاڑی کے سائرن کی آواز کہیں سے آنا شروع ہو گئی اور زوہیب بھائی اور بھٹی صاحب وہاں سے دم دبا کر بھاگے اور اب کئی ہفتوں سے روپوش ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ خفیہ پولیس نے دونوں کو پکڑ کر آٹھ دس مزید چوری ڈکیتی کے واردات کی بھی تمام ذمہ داریاں ان پر ڈال دی ہیں اور زوہیب بھائی پولیس سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں کہ یہ سب کچھ بھٹی کا کیا دھرا ہے ۔

لیکن کل مجھے بھٹی صاحب ملے اور بتایا کہ میں نے پولیس کو اصل ملزمان کا تمام اتہ پتہ چٹا کٹا کھول کر بتایا ہے تو انہوں نے مجھے پولیس کی مدد کرنے پر سرکاری گواہ بنا کر آزاد کر دیا۔ میں نے جب زوہیب بھائی کے متعلق پوچھا تو بھٹی صاحب بات کو گول کر گئے اور کہنے لگے " زوہیب بھائی کی جان کو باہر خطرات لاحق ہیں اس لئے پولیس نے اسے اپنے پاس حفاظت سے رکھا ہوا ہے بس بیچارے کو نسوار کی بڑی تنگی ہے۔"

سلمان حیدر خان

خزاں جب آتی ہے تو صرف درختوں کو نہیں ہمارے دلوں کو بھی رنگین کر جاتی ہے۔ زرد، نارنجی اور سرخ پتوں کی یہ برسات جیسے قدرت ...
22/10/2025

خزاں جب آتی ہے تو صرف درختوں کو نہیں ہمارے دلوں کو بھی رنگین کر جاتی ہے۔ زرد، نارنجی اور سرخ پتوں کی یہ برسات جیسے قدرت نے ہمارے ہوم اسٹے کے آنگن میں اپنا عارضی بسیرا کر لیا ہو۔ یہ پتے چند ہفتوں کے مہمان بن کر آتے ہیں۔ مگر ان کی خوشبو ہمارے دلوں میں دیر تک بسی رہتی ہے۔
آپ بھی قدرت کے ان حسین لمحات کے مسافر بن سکتے ہیں۔ آئیے خزاں کی نرم دھوپ میں پہاڑوں کے سائے تلے بیٹھیں ان سے بے ساختہ باتیں کریں اور اپنے اندر کی خاموشیوں کو سنیں۔ یہاں نیچر آپ کے روبرو ہوتی ہے اور انسان خود سے دوبارہ ملتا ہے۔
ہمارے ہوم اسٹے میں آپ کو کچن کی مکمل سہولت حاصل ہے۔ جہاں سے دیران کی برف پوش چوٹی آپ کے سامنے جلوہ افروز رہتی ہے۔
ذرا تصور کیجیے ایک کپ چائے پہاڑوں کی ٹھنڈی ہوا اور قدرت کی خاموش موسیقی۔ یہاں ہر لمحہ آپ کو گھر جیسا سکون اور فطرت جیسی راحت ملتی ہے۔

؀مساتالپور

پورن ماشی کی رات تھی لیکن ہماری قسمت ماشا اللہ شروع سے اماوس والی تھی تو اس بار بھی ایسا ہی کچھ ہوا جب ہم نے اپنی بیگم س...
12/06/2025

پورن ماشی کی رات تھی لیکن ہماری قسمت ماشا اللہ شروع سے اماوس والی تھی تو اس بار بھی ایسا ہی کچھ ہوا جب ہم نے اپنی بیگم سے بڑے فخر سے گویا ہوئے کہ" بیگم ایسی سیریز ڈھونڈھ نکالی ہے کہ دیکھ کر دماغ ہل جائے گا۔"
اور واقعی میں ایسا ہی ہوا دیکھ کر دماغ ہل گیا اور ایسا ہلا کہ واپس اپنی جگہ پہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ سیریز ختم ہوئے تیسرا دن ہے اور دماغ ابھی تک اس بحری بیڑے میں کہیں محو سفر ہے اور اسی جہاز سے ہر صبح ایک آواز جگاتی ہے کہ " اٹھ جاؤ" ۔
خیر جی سیریز کی بات کرتے ہیں تو 1899 سیریز کا نام ہے ۔ ایک بڑا بحری بیڑا 1899 لوگوں کا قافلہ لے کر نیویارک امریکہ کی جانب گامزن ہوتا ہے جس میں دنیا جہان کے لوگ اپنے خوابوں کی تکمیل کی امیدیں لئے اس بحری جہاز کا مزیدار سفر انجوائے کر رہے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر میں نے بیگم کو کہا "آپ کو بھی جلد بحری جہاز کا سفر کرائیں گے"۔ جس پر بیگم کہتی ہیں کہ "جیسا سیزن آپ دکھا رہے ہیں مجھے نہیں لگتا تب تک ہمارا رشتہ ٹکے گا۔"

جہاز کو چلے چند دن ہوتے ہیں کہ کیپٹن کو ایک دوسرے جہاز سے پیغام ملتا ہے جو چار مہینے پہلے سمندر میں کہیں گم ہو گیا تھا جس پر چار سو مسافر سوار تھے جن کا اب تک کوئی سُراغ نہیں ملا ۔ کیپٹن اپنے چند لوگوں کے ہمراہ ایک چھوٹی کشتی پر اس گم شدہ جہاز کی طرف جاتے ہیں لیکن اس جہاز کے اندر کچھ بھی نہیں ہوتا اور کہیں بھی زندگی یا موت کے آثار نہیں دِکھتے کہ اسی دوران ایک بند الماری سے "دھڑ دھڑ "کی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ ایک جہاز جو پچھلے چار ماہ سے لاپتہ ہے جہاں پر زندگی کے کوئی آثار نہیں نظر آ رہے ، اندازہ نہیں ہو پا رہا کہ وہ چار سو لوگ کہاں ہیں اور اسی دوران آپ کو ایک بند الماری سے آواز آئے۔ وہاں موجود سب لوگ چند لمحوں کے لئے ڈر کے مارے بوکھلا گئے پھر کیپٹن نے وصیت کر کے دروازہ کھولنے کی حامی بھری اور دروازہ کھلا تو وہاں ایک دس بارہ سال کا بچہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہٹا کٹا بیٹھا تھا جسے دیکھتے ہی ایک بار پھر وہاں موجود تمام لوگ مارے خوف کے بلبلا اٹھے ۔
وہ بچہ آرام سے الماری سے نکلا اور وہاں موجود لوگوں میں سے ایک خاتون ڈاکٹر کو ( جس کا اپنا دماغی علاج چل رہا ہوتا ہے ) ایک شے پکڑا دیا جو Pyramids of egypt کی شکل کا چھوٹا پتھر کا ایک ٹکڑا تھا ۔

اس کے بعد ایک ایسا گھن چکر شروع ہوتا ہے جسے دیکھتے ہوئے آپ کو بھی چکر آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ میں خود دو دفعہ چکرا کے گرنے لگا تھا پھر یاد آیا صبح سے کچھ کھایا ہی نہیں اس بحری بیڑے کے چکر میں تبھی چکر پہ چکر آ رہے ۔
کیپٹن کو پتہ چلتا ہے کہ وہ خود اس گمشدہ جہاز کا کیپٹن تھا اور ڈاکٹرنی خاتون بھی اس سفر میں شامل تھیں لیکن انہیں کچھ بھی یاد نہیں آتا جیسے میرے دوستوں کو کبھی آج تک میرے پیسے دینا یاد نہیں آیا ۔
سیریز کی پہلی تین اقساط اس حد تک تجسس ، دلچسپی ، فکشن اور بہترین اداکاری سے لبریز ہیں اور ہر قسط کے آخر میں ایسی جاندار پہیلی چھوڑ دی جاتی ہے کہ کچھ نا سمجھ آتے ہوئے بھی آپ اپنے آپ کو اگلی قسط دیکھنے سے نہیں روک پاتے ۔ ہر قسط کے بعد دماغ یہی کہتا ہے کہ ایک قسط اور شاید یہ مورکھ سمجھ آ جائے اور دل کہتا ہے بھائی چھوڑ دے اور جا کے بیوی سے معافی مانگ ۔
اگر آپ کو سائنس فکشن اور تھوڑے ٹائم ٹریول والے معملات میں دل چسپی ہے تو آپ اس سیریز کو دیکھ سکتے ہیں لیکن آخر میں سمجھ ککھ نہیں آنا کیوں کہ میری بیگم تین دنوں سے مجھ سے ناراض ہے کہ میں نے کیوں اسے یہ گورکھ سیریز دکھا دی ہے۔

سلمان حیدر خان

آج دو پیاری سی دوشیزائیں ہمارے ہوم اسٹے میں تشریف لائیں جنہیں دیکھ کر میں وہ مشہور زمانہ شعر " تم آئے تو آیا مجھے یاد گل...
23/04/2025

آج دو پیاری سی دوشیزائیں ہمارے ہوم اسٹے میں تشریف لائیں جنہیں دیکھ کر میں وہ مشہور زمانہ شعر

" تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا"

سنانے ہی لگا تھا کہ مسا آ گئیں اور میری حسرت ادھوری ہی رہ گئی پھر میں نے غالب کا سہارہ لیتے ہوئے وہ شعر پڑھ ڈالا

" ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خوہش پہ دم نکلے "

خیر ان دوشیزاؤں کے ساتھ ایک اور خاص شخصیت بھی آئی ہے ۔ ایک نہایت خوبصورت سا کتا!
اب اصل بات سنیں۔ یہ کتا صاحب اب تک تیس (30) ملک گھوم چکے ہیں!
جی ہاں، تین اور صفر!
یعنی تیس ممالک کے پاسپورٹ پر ویزے لگوا کے دنیا ناپ چکے ہیں۔۔ اور ہمارا ٹھپا کہاں ہے ؟😂
ہم ابھی گلگت تک نہیں پہنچ سکے؟۔ نارتھ کا نام سن کر صرف انسٹاگرام پر ہی کام چلایا جا رہا ہے؟۔ یعنی حضور! یہ کتا بھی ہم سے دو نہیں پورے تیس قدم آگے نکل گیا— گھومنے پھرنے میں!
خیر جی چلیں اب تیاری پکڑیں اور کچھ دن خود کو بھی “ٹریٹ” دیں جو کہ بہت ناگزیر بن چکا ہے اب ۔ ورنہ اگلی بار کتا ہمیں سفری مشورے دے رہا ہو گا۔ 😂

سلمان حیدر خان

Minapin, Nagar Valley

29/10/2024

چند سال پہلے کا قصہ ہے کہ میں گاؤں گیا وہاں سے کچھ سامان اٹھایا اور واپس شہر میں اپنے فلیٹ پر پہنچا۔ اب جیسے ہی دروازہ کھولنے لگا تھا تو اُسی وقت چھوٹے بھائی کے نمبر سے کال آئی۔ میں نے موبائل کان سے لگایا تو آگے سے امی کی گرجدار آواز نے میرے کانوں کے پردوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
" تمہیں حیا نہیں ہے، ذرا برابر لحاظ شرم نام کی کوئی چیز تمہارے اندر نہیں۔ اسی دن کے لئے میں نے تمہیں پال پوس کر بڑا کیا تھا، میں نے تو سمجھا تھا کہ تم سب بچوں سے زیادہ سمجھدار ہو اور بڑے ہو کر ہمارا نام روشن کرو گے لیکن تم نے ہی مجھے سب سے زیادہ دکھ پہنچایا ہے۔"
میں نے ہڑبڑا کر پوچھا کہ "امی آخر ہوا کیا ہے ، میں نے ایسا کیا کر دیا ؟"
مجھے لگا شاید امی کو زوہیب بھائی کے ساتھ میری دوستی کا پتہ چل گیا تبھی یہ قیامت ٹوٹی ہے کہ کیسے کیسے لوفروں اور معاشرے کے آوارہ لونڈوں کی صحبت اختیار کر لی ہے میں نے۔
" پورے تیس سالوں سے سنبھال کر رکھا تھا میں نے، ایک مرتبہ بھی اُس صندوق سے سامان باہر نہیں نکالا، جہیز میں ملے خالص چاندی کے برتن ہیں اور آج کے دور میں ایسے خالص برتن کہاں ملتے ہیں، ہمارے وقت میں ساری خواتین میرے جہیز کے سامان سے جلتی تھیں اور تم بے شرم انسان میرے ہی جہیز کا سامان چرا لے گئے۔ اس سے پہلے کہ میں تمہیں عاق کر دوں فوراً جا کر وہ برتن واپس رکھو ۔"

میں اُسی وقت کڑاکے کی سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے موٹر سائیکل پر واپس گاؤں گیا اور چند برتن جو میں نے امی کے جہیز والے سامان سے بقول امی کے چرائے تھے ، شرافت سے انہیں واپس اُسی صندوق میں رکھا جو پچھلے تیس سالوں سے بند پڑا پتہ نہیں کون سا چلا کاٹ رہا ہے اور واپس اپنے فلیٹ پر آ گیا ۔ اس کے باوجود بھی مجھے پورا ایک ہفتہ لگا امی کو منانے میں اور یہ یقین دہانی کرانے میں کہ دوبارہ کبھی بھول کر بھی میں اُس جہیز والے صندوق کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا ۔ تب جا کر کہیں امی مجھ سے راضی ہوئی لیکن اُس دن دیہاڑے ڈکیتی کے طعنے مجھے اب تک بھی گاہے بگاہے ملتے رہتے ہیں ۔

سلمان حیدر خان

Shot of the year 💥
27/10/2024

Shot of the year 💥

Hunza you Ishq❣️
26/10/2024

Hunza you Ishq❣️

لڑکیاں تھیں کہ میرے نام پہ لڑ پڑتی تھیں تم نے دیکھا نہیں کالج کا زمانہ میرا
26/10/2024

لڑکیاں تھیں کہ میرے نام پہ لڑ پڑتی تھیں
تم نے دیکھا نہیں کالج کا زمانہ میرا

Address

Lahore

Telephone

03353412890

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Travel with Salman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Travel with Salman:

Share