DUNYA KO DYKHO

DUNYA KO DYKHO Myra name farhan ali hy or ap k liy is page ma apny world k bary ma information laoo gaa

25/12/2025

19/12/2025

Bhawlpur ka chupa howa Heera

قلعہ اسلام گڑھ (Islamgarh Fort) پاکستان کے صحرائے تھر (ضلع رحیم یار خان) میں واقع ایک قدیم اور تاریخی قلعہ ہے، جو اپنی خ...
17/12/2025

قلعہ اسلام گڑھ (Islamgarh Fort) پاکستان کے صحرائے تھر (ضلع رحیم یار خان) میں واقع ایک قدیم اور تاریخی قلعہ ہے، جو اپنی خوبصورت طرزِ تعمیر اور تزویراتی اہمیت کی وجہ سے مشہور ہے۔
​ذیل میں اس قلعے کی مکمل تاریخ اور معلومات فراہم کی گئی ہیں:
​۱. محلِ وقوع (Location)
​یہ قلعہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خانپور سے تقریباً 170 کلومیٹر دور صحرائے چولستان (روہی) کے وسط میں واقع ہے۔ یہ قلعہ بھارتی سرحد کے بالکل قریب ہے، جس کی وجہ سے اس کی فوجی اہمیت ہمیشہ سے بہت زیادہ رہی ہے۔
​۲. قلعے کی مختصر تاریخ
​اسلام گڑھ قلعہ کی تاریخ کافی قدیم اور دلچسپ ہے:
​قدیم نام: اس قلعے کا پرانا نام "بھوں ور" (Bhiwar Fort) تھا۔
​تعمیر: اسے اصل میں راول بھوم سنگھ نے 1665ء (1075 ہجری) میں تعمیر کروایا تھا۔
​نام کی تبدیلی: جب ریاست بہاولپور کے حکمران اختیار خان نے اسے فتح کیا، تو اس کا نام تبدیل کر کے "اسلام گڑھ" رکھ دیا گیا۔
​سکھ دور: ایک وقت میں یہ قلعہ سکھ راجہ رنجیت سنگھ کے زیرِ اثر بھی رہا، لیکن بعد میں نواب آف بہاولپور نے اسے دوبارہ حاصل کر لیا۔
​۳. تعمیراتی خصوصیات
​قلعہ اسلام گڑھ اپنی مضبوط ساخت اور منفرد فنِ تعمیر کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے:
​مٹی اور اینٹیں: اس کی دیواریں چھوٹی پختہ اینٹوں اور مقامی مٹی سے بنی ہیں۔ صحرائی موسم کی سختی برداشت کرنے کے لیے اسے کافی چوڑا بنایا گیا تھا۔
​فصیل اور برج: قلعے کی فصیل (دیواریں) بہت اونچی ہیں اور اس کے چاروں کونوں پر بڑے بڑے برج بنے ہوئے ہیں جو نگرانی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
​پانی کا انتظام: صحرا کے درمیان ہونے کی وجہ سے قلعے کے اندر پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے بڑے حوض اور کنویں بنائے گئے تھے تاکہ محاصرے کی صورت میں پانی کی کمی نہ ہو۔
​۴. موجودہ حالت
​بدقسمتی سے، دیگر تاریخی مقامات کی طرح اسلام گڑھ قلعہ بھی وقت کی ستم ظریفی اور دیکھ بھال کی کمی کا شکار ہے:
​قلعے کے بیشتر حصے اور دیواریں اب شکستہ ہو چکی ہیں۔
​یہ علاقہ اب پاک فوج کے زیرِ انتظام ہے کیونکہ یہ سرحد کے انتہائی قریب (تقریباً 8 کلومیٹر دور) واقع ہے۔
​سیاحوں کے لیے یہاں تک رسائی تھوڑی مشکل ہے کیونکہ یہ ایک دور افتادہ ریگستانی علاقہ ہے اور یہاں جانے کے لیے خصوصی اجازت یا فور بائی فور (4x4) گاڑی کی ضرورت ہوتی ہے۔
​۵. سیاحوں کے لیے اہم معلومات
​اگر آپ وہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ باتیں ذہن میں رکھیں:
| خصوصیت | تفصیل |
| :--- | :--- |
| بہترین وقت | نومبر سے فروری (سردیوں کا موسم) |
| راستہ | خانپور سے صحرائی جیپ کے ذریعے |
| ضروری اشیاء | وافر مقدار میں پانی، ایندھن اور کھانے پینے کا سامان |
​کیا آپ اس قلعے کی تاریخ کے کسی خاص دور (جیسے نوابینِ بہاولپور کے دور) کے بارے میں مزید تفصیل جاننا چاہتے ہیں؟

ارفع کریم ٹاور (جسے باضابطہ طور پر ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کہا جاتا ہے) پاکستان کے شہر لاہور میں واقع ایک مشہور فل...
15/12/2025

ارفع کریم ٹاور (جسے باضابطہ طور پر ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کہا جاتا ہے) پاکستان کے شہر لاہور میں واقع ایک مشہور فلک بوس عمارت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مرکز ہے۔ یہ عمارت پاکستان میں آئی ٹی کی ترقی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
​اس ٹاور کی تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں:
​1. تعارف اور نام کی وجہ
​پرانا نام: اس کا پرانا نام "سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک" یا "لاہور ٹیکنالوجی پارک" تھا۔
​نئی وجہ تسمیہ: 15 جنوری 2012 کو وزیراعلیٰ پنجاب نے اس عمارت کا نام تبدیل کر کے ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک رکھ دیا۔ یہ نام پاکستان کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل (MCP) ارفع کریم رندھاوا کے اعزاز میں رکھا گیا، جن کا انتقال 16 سال کی عمر میں ہوا تھا۔
​افتتاح: اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح فروری 2012 میں کیا گیا۔
​2. محل وقوع (Location)
​یہ عمارت لاہور کی اہم ترین شاہراہ، فیروز پور روڈ پر واقع ہے۔
​یہ ماڈل ٹاؤن اور گلبرگ کے سنگم کے قریب ہے، جس کی وجہ سے یہاں تک رسائی بہت آسان ہے۔
​3. تعمیراتی ڈھانچہ اور خصوصیات
​یہ عمارت جدید فن تعمیر کا شاہکار ہے اور اس کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
​اونچائی: اس کی بلندی تقریباً 106 میٹر (348 فٹ) ہے۔
​منزلیں: یہ عمارت 17 منزلوں پر مشتمل ہے۔
​حیثیت: یہ پنجاب کی سب سے بڑی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) کی عمارت ہے۔ کچھ عرصہ تک یہ لاہور کی بلند ترین عمارت بھی رہی۔
​4. ٹاور کے اندر موجود سہولیات
​ارفع ٹاور میں بین الاقوامی معیار کی سہولیات موجود ہیں:
​آئی ٹی دفاتر: یہاں درجنوں سافٹ ویئر ہاؤسز اور بین الاقوامی آئی ٹی کمپنیوں کے دفاتر ہیں۔
​آڈیٹوریم: کانفرنسز اور سیمینارز کے لیے جدید آڈیٹوریم۔
​ڈیٹا سینٹر: ٹائر-3 (Tier-III) ڈیٹا سینٹر کی سہولت۔
​سکیورٹی: جدید ترین سکیورٹی سسٹم اور 24 گھنٹے نگرانی۔
​دیگر سہولیات: جم، فوڈ کورٹ، اور بینکنگ کی سہولیات بھی عمارت کے اندر موجود ہیں۔
​5. اہم ادارے اور دفاتر
​اس ٹاور میں کئی اہم سرکاری اور نجی ادارے کام کر رہے ہیں، جن میں شامل ہیں:
​پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB): پنجاب حکومت کا آئی ٹی کا مرکزی ادارہ یہیں قائم ہے۔
​انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی (ITU): یہ ایک مشہور یونیورسٹی ہے جو اسی ٹاور کے اندر قائم کی گئی ہے۔
​پلان 9 (Plan9): یہ پاکستان کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی انکیوبیٹر (Incubator) ہے جو نئے سٹارٹ اپس (Startups) کی مدد کرتا ہے۔
​سافٹ ویئر کمپنیاں: یہاں ٹیک لاجکس (Techlogix)، سسٹمز لمیٹڈ (Systems Ltd) اور دیگر کئی بڑی کمپنیوں کے دفاتر موجود رہے ہیں۔
​خلاصہ
​ارفع کریم ٹاور نہ صرف ایک عمارت ہے بلکہ یہ پاکستان کے ٹیکنالوجی کے مستقبل کا مرکز ہے۔ یہ نوجوانوں، خاص طور پر آئی ٹی کے طلباء اور پروفیشنلز کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔
​اگر آپ کو اس ٹاور کے کسی خاص دفتر (جیسے ITU یا PITB) کے بارے میں مزید تفصیل چاہیے تو میں وہ بھی فراہم کر سکتا ہوں۔

چین میں شیشے کے بہت سے پل ہیں، لیکن سب سے زیادہ مشہور اور اونچا پل ژانگجیاجی گرانڈ کینین گلاس برج (Zhangjiajie Grand Can...
14/12/2025

چین میں شیشے کے بہت سے پل ہیں، لیکن سب سے زیادہ مشہور اور اونچا پل ژانگجیاجی گرانڈ کینین گلاس برج (Zhangjiajie Grand Canyon Glass Bridge) ہے، جو ہنان صوبے (Hunan Province) میں واقع ہے۔
​اس پل کے بارے میں اہم معلومات درج ذیل ہیں:
​🌉 ژانگجیاجی گلاس برج (Zhangjiajie Glass Bridge) کی تفصیلات
​مقام:
​یہ پل چین کے ہنان صوبے (Hunan Province) میں ژانگجیاجی گرانڈ کینین (Zhangjiajie Grand Canyon) پر واقع ہے۔
​یہ علاقہ اولنگ یوان (Wulingyuan) کے خوبصورت پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے، جس نے مشہور ہالی ووڈ فلم "اوتار" (Avatar) کے لیے بھی تحریک کا کام کیا تھا۔
​افتتاح:
​یہ پل اگست 2016 میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔
​تعمیراتی خصوصیات:
​لمبائی: تقریباً 430 میٹر (1,410 فٹ)۔
​چوڑائی: تقریباً 6 میٹر (20 فٹ)۔
​بلندی (گہری کھائی سے اونچائی): یہ پل وادی کے فرش سے تقریباً 300 میٹر (980 فٹ) اوپر معلق ہے۔
​ڈیزائن: اسے اسرائیلی آرکیٹیکٹ ہیم دوتان (Haim Dotan) نے ڈیزائن کیا تھا۔
​شیشہ: پل میں تین تہوں والا، بہت مضبوط ٹیمپرڈ گلاس استعمال کیا گیا ہے تاکہ مضبوطی اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
​ریکارڈز اور مقاصد:
​جب یہ پل کھلا، تو یہ دنیا کا سب سے لمبا اور سب سے اونچا شیشے کی تہہ والا پیدل پل ہونے کا اعزاز رکھتا تھا۔ تاہم، بعد میں کچھ دیگر پلوں نے لمبائی کا ریکارڈ توڑ دیا۔
​یہ سیاحوں کی توجہ کا ایک بڑا مرکز ہے اور یہ دل دہلا دینے والے تجربے کے ساتھ وادی کے شاندار پینورامک مناظر پیش کرتا ہے۔
​اس پل پر دنیا کی سب سے اونچی بنجی جمپنگ (Bungee Jump) کی سہولت بھی موجود ہے۔
​🛑 چند اہم نکات
​سیاحوں کا ہجوم: اپنے افتتاح کے فوراً بعد، پل کو روزانہ صرف 8,000 افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، لیکن اس کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے اسے عارضی طور پر بھی بند کرنا پڑا تھا تاکہ نظام کو بہتر بنایا جا سکے اور زیادہ سیاحوں کی آمد کو سنبھالا جا سکے۔
​دیگر پل: چین میں 2,500 سے زیادہ شیشے کے پل، اسکائی واک اور سلائیڈیں موجود ہیں، جن میں ہیبئی صوبے (Hebei Province) میں ہونگیاگو گلاس برج (Hongyagu Glass Bridge) بھی شامل ہے، جس نے بعد میں لمبائی کا ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔
​اگر آپ کسی مخصوص چینی شیشے کے پل کے بارے میں مزید تفصیلات جاننا چاہتے ہیں، تو آپ پوچھ سکتے ہیں۔

13/12/2025
13/12/2025

I received over 50 reactions on my posts last week, thank you all for your support!

13/12/2025

مسجد اقصیٰ (جسے بیت المقدس بھی کہا جاتا ہے) اسلام کا تیسرا سب سے مقدس ترین مقام ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کی غیر معمولی مذہبی اور تاریخی اہمیت ہے۔ یہ فلسطین کے شہر یروشلم (القدس) کے پرانے شہر میں واقع ہے۔
​مسجد اقصیٰ کے بارے میں مکمل اور تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں:
​1. مسجد اقصیٰ کیا ہے؟ (اہم وضاحت)
​اکثر لوگ گنبدِ خضریٰ (گرے گنبد والی مسجد) یا قبۃ الصخرۃ (سنہری گنبد) کو ہی پوری مسجد اقصیٰ سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ:
​پورا احاطہ: مسجد اقصیٰ دراصل اس پورے احاطے (Compound) کا نام ہے جو 144 ڈونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبے پر محیط ہے۔
​اس چار دیواری کے اندر جتنی بھی عمارتیں، میدان، گنبد، اور درخت ہیں، وہ سب مسجد اقصیٰ کا حصہ ہیں اور وہاں نماز پڑھنے کا ثواب برابر ہے۔
​2. مذہبی اہمیت (اسلامی نقطہ نظر)
​مسجد اقصیٰ کی اہمیت قرآن و حدیث سے ثابت ہے:
​قبلہ اول: تحویلِ کعبہ سے پہلے مسلمانوں نے تقریباً 16 سے 17 ماہ تک مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی، اسی لیے اسے "قبلہ اول" کہا جاتا ہے۔
​واقعہ معراج: نبی کریم ﷺ کو معراج کے سفر پر مسجد حرام (مکہ) سے مسجد اقصیٰ لایا گیا، جہاں آپ ﷺ نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی اور پھر یہاں سے آسمانوں کا سفر کیا۔
​قرآن میں ذکر: قرآن پاک کی سورہ بنی اسرائیل (اسراء) کی پہلی آیت میں اس کا ذکر ہے:
​"پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے گئی جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے۔"
​تین مساجد کا سفر: حدیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مساجد ایسی ہیں جن کی زیارت کے لیے خاص طور پر سفر کرنے کی فضیلت ہے: مسجد حرام، مسجد نبوی، اور مسجد اقصیٰ۔
​3. مسجد اقصیٰ کے اہم مقامات (Key Structures)
​اس احاطے کے اندر کئی اہم عمارتیں ہیں:
​جامع القبلی (Al-Jami Al-Aqsa): یہ وہ عمارت ہے جس کا گنبد سرمئی (Grey/Silver) رنگ کا ہے۔ امام صاحب جمعہ اور جماعت کی نماز عموماً یہیں پڑھاتے ہیں۔ یہ احاطے کے جنوبی حصے میں واقع ہے۔
​قبۃ الصخرۃ (Dome of the Rock): یہ سنہری (Golden) گنبد والی عمارت ہے۔ اس کے نیچے وہ چٹان (صخرہ) ہے جہاں سے روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ معراج کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ یہ احاطے کے بالکل وسط میں ہے۔
​مصلّٰی مروانی: یہ زمین کے نیچے واقع ایک بہت بڑا ہال ہے جسے نماز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
​دیوارِ براق (Western Wall): یہ مسجد کی مغربی دیوار ہے جہاں نبی کریم ﷺ نے براق باندھا تھا۔ (یہودی اسے دیوارِ گریہ کہتے ہیں اور ان کے لیے بھی یہ مقدس ہے)۔
​4. تاریخی پس منظر
​تعمیر: احادیث کے مطابق اسے حضرت آدم علیہ السلام یا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا (کعبہ کی تعمیر کے 40 سال بعد)۔ بعد ازاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی عظیم الشان تعمیر نو کی۔
​فتح بیت المقدس: 637 عیسوی میں مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق (رض) نے پرامن طریقے سے یروشلم فتح کیا اور مسجد اقصیٰ کے مقام کو صاف کرکے وہاں نماز ادا کی۔
​اموی دور: موجودہ تعمیرات (قبۃ الصخرۃ اور جامع مسجد) زیادہ تر اموی خلفاء (عبدالملک بن مروان اور ان کے بیٹے ولید) کے دور میں تعمیر ہوئیں۔
​صلیبی جنگیں اور صلاح الدین ایوبی: صلیبیوں نے 1099 میں القدس پر قبضہ کرکے مسجد کو اصطبل اور محل میں تبدیل کر دیا تھا۔ 1187 میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسے دوبارہ فتح کیا اور مسجد کی حرمت بحال کی۔
​5. موجودہ صورتحال
​انتظامی کنٹرول: مسجد اقصیٰ کا انتظام و انصرام اردن کی وزارتِ اوقاف (Waqf) کے پاس ہے۔
​سیکیورٹی کنٹرول: مسجد کے داخلی راستوں اور سیکیورٹی کا کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے، جس کی وجہ سے اکثر کشیدگی رہتی ہے۔
​مسجد اقصیٰ اس وقت شدید سیاسی اور فوجی تنازعات کی زد میں ہے، اور فلسطینی مسلمان اس کی حفاظت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
​خلاصہ
​مسجد اقصیٰ صرف ایک عمارت کا نام نہیں بلکہ مسلمانوں کی تاریخ، عقیدے اور ثقافت کا ایک اہم ستون ہے۔ یہ انبیاء کی سرزمین ہے اور قیامت تک مسلمانوں کے لیے مرکزِ محبت رہے گی۔
​کیا آپ مسجد اقصیٰ کی تاریخ کے کسی خاص دور (جیسے صلاح الدین ایوبی کا دور) کے بارے میں مزید تفصیل جاننا چاہیں گے؟

Address

41 Civic Center D Block Johar Town
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DUNYA KO DYKHO posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share