10/06/2026
🌿 **حسن بصری رحمہ اللہ کا ایک خوبصورت قول**
ایک شخص حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس آیا اور عرض کیا:
*"میں بہت پریشان ہوں، میرے لیے دعا کیجیے۔"*
ہم نہیں جانتے کہ اس کی پریشانی کیا تھی۔ ممکن ہے وہ بیماری میں مبتلا ہو، کسی آزمائش سے گزر رہا ہو، شدید اضطراب اور بے چینی کا شکار ہو، یا زندگی کے کسی ایسے مرحلے میں ہو جہاں اسے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آ رہا ہو۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے اس کی بات سن کر فرمایا:
*"تم اس وقت ایسی حالت میں ہو کہ خود اللہ تعالیٰ سے مانگو۔"*
پھر انہوں نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی:
*﴿أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ﴾*
*"بھلا کون ہے جو بے قرار اور بے بس شخص کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف دور کر دیتا ہے؟"* (النمل: 62)
🔅 حسن بصری رحمہ اللہ نے توجہ دلائی کہ تم اس وقت *"مضطر"* ہو۔ *مضطر* وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بے بسی کو محسوس کر لے، جس کے ظاہری سہارے کمزور پڑ جائیں، اور جو دل کی گہرائی سے صرف اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔ ایسی کیفیت میں بندہ اپنے رب کو جس سچائی، عاجزی اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ پکارتا ہے، وہ عام حالات میں نصیب نہیں ہوتی۔
🔅 اس واقعے نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم اکثر اپنی پریشانیوں میں لوگوں سے دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں، حالانکہ بعض اوقات ہماری وہی پریشانی، بے بسی اور اضطرار اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ بن جاتی ہے۔ گویا جس حالت کو ہم اپنی کمزوری سمجھتے ہیں، اللہ تعالیٰ اسی حالت کو دعا کی قبولیت کا دروازہ بنا دیتا ہے۔
💫 **اس واقعے سے حاصل ہونے والا سبق:**
• بیماری، پریشانی، اضطراب اور آزمائش کا وقت اللہ سے قریب ہونے کا وقت ہے۔
• مضطر کی دعا اللہ تعالیٰ کے ہاں خاص مقام رکھتی ہے۔
• جب تمام سہارے ختم ہوتے نظر آئیں تو اللہ کا سہارا سب سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔
• انسان کی اصل طاقت اس کی بے بسی کا اعتراف اور اپنے رب کی طرف رجوع ہے۔
• بعض اوقات اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش کے ذریعے اپنے دروازے تک لے آتا ہے۔
📎 *اگر انسان اپنی پریشانی میں لوگوں کے بجائے سب سے پہلے اپنے رب کا دروازہ کھٹکھٹانا سیکھ لے، تو اس کی بے بسی ہی اس کے لیے رحمت اور قبولیتِ دعا کا سبب بن سکتی ہے۔* 🌷