22/09/2023
حضرت شیخ صدوق علیہ الرحمہ باسناد خود زرارہ بن اعین سے اور وہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ جناب نے ایک حدیث کے ضمن میں فرمایا کہ جب خدائے جلا جلالہ نے حضرت آدم ع کو مٹی سے پیدا فرمایا اور پھر ان کی خاطر جناب حوا کو خلق فرمایا تو انہیں جناب آدم ع کے پیچھے بٹھایا تا کہ ہمیشہ عورت مرد کے تابع رہے۔
جناب آدم ع نے بارگاہ ربوبیت میں عرض کیا:
پروردگار! یہ حسین و جمیل مخلوق کون ہے جس کا قرب اور جس کی طرف نگاہ کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔
ارشاد قدرت ہوا: اے آدم! یہ میری کنیز حوا ہے اور کیا تم چاہتے ہو کہ یہ تمہارے ہمراہ رہے؟ تم سے باتیں کر کے تمہیں مانوس کرے اور تمہارے حکم کی تعمیل کرے؟
جناب آدم ع نے عرض کیا: ہاں میرے پروردگار! اور میں تازیست اس احسان پر تیرا شکر ادا کرتا رہوں گا!
ارشاد قدرت ہوا: تم مجھ سے اس کی خواستگاری کرو۔ کیونکہ یہ میری کنیز ہے۔ اور تمہاری جنسی خواہش کی تسکین کے لیے زوجہ بننے کے قابل بھی ہے۔
خدا نے ان میں جنسی خواہش کی ودیعت کر دی۔ اور اس سے پہلے انہیں تمام امور کی معرفت بھی عطا فرما دی۔
اس پر جناب آدم ع نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! میں تم سے اس کی خواستگاری کرتا ہوں۔ اب تیری مرضی کیا ہے؟
خدائے تعالٰی نے فرمایا: میری مرضی یہ ہے کہ آپ اسے دین کی معلومات دیں۔
جناب آدم ع نے عرض کیا: پروردگار! اگر تو میرے لیے اسے پسند فرمائے تو میں ضرور ایسا کروں گا۔
ارشاد رب العزت ہوا: میں نے اسے پسند کیا اور تم سے اس کی تزویج کر دی ہے۔ پس تم اسے اپنے ساتھ ضم کر لو۔ (الفقیہ، کذافی العلل)
📖 وسائل الشیعہ جلد 14، باب 1، حدیث نمبر 1