20/04/2025
کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے میں اس دنیا کے ہنگاموں سے دور جنگل میں اک چھوٹا سا لکڑیوں کا گھر بناؤں جہاں اس جدید دنیا کی کوئی آسائش نہ ہو نا موبائل نہ کمپیوٹر نہ ٹی وی اس چھوٹے سے گھر میں رہوں اور ایک گائے اور کچھ بکریاں پالوں جنہیں صبح ہوتے ہی چراگاہ میں چھوڑ دوں اور گائے کا دودھ مکھن ہو اور سادہ روٹی ہو میں کتابیں پڑھا کروں نئی نظمیں لکھا کروں چاند کے نیچے کھلے آسمان تلے میں بانسری بجایا کروں جنگل کے جانور میرےاس پاس گھومتے رہیں میں جنگل کی خاموشی کا شور سنوں جگنووں کے پیچھے بھاگا کروں ہد ہد بلبل ہمیں گیت سنائے جب بہت تیز بارش ہو تو میں اپنے چھوٹے سے گھر کا آنگن کھول دوں بھیگتے ہوئے جانوروں کو پناہ دوں ۔۔
دنیا مجھ سے بے خبر ہو اور میں دنیا کی فکروں سے آزاد ہوں۔کاش یہ تخیل سچ ہو جاتے ۔۔🥀♥️🌲🌳