Ma Sha Allah Travels Multan

Ma Sha Allah Travels Multan Travel with Purpose returns with Peace

مدینۂ منورہ میں، کئی سال پہلے کا ایک ایسا لمحہ آج بھی میرے دل پر نقش ہے جو میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔سبحان اللہ… وہ منظر ...
16/02/2026

مدینۂ منورہ میں، کئی سال پہلے کا ایک ایسا لمحہ آج بھی میرے دل پر نقش ہے جو میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔

سبحان اللہ… وہ منظر واقعی بہت عجیب اور روح کو ہلا دینے والا تھا۔

میں نے مسجدِ رسول ﷺ میں سلطانِ برونائی کو دیکھا۔
عام طور پر ہم جانتے ہیں کہ اسطرح کے بادشاہ ، وزیراعظم اور طاقتور شخصیات اور حکمرانوں کو روضۂ رسول ﷺ کے سامنے کھڑے ہونے اور سلام پیش کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
کچھ لوگ ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں،
اور کچھ خاموشی اور وقار کے ساتھ اپنا سلام عرض کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں اُس دن سلطان نے کیا کیا؟

اللہ گواہ ہے، وہ منظر بے حد خوبصورت ادب کا مظہر تھا۔

میں نے دیکھا کہ سلطان روضۂ اقدس ﷺ کے مبارک دروازوں تک پہنچے،
اور پھر…
انہوں نے اُن دروازوں کو گلے لگا لیا
اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔

ایک بالغ مرد۔
ایک بادشاہ۔
دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک۔
جسے دنیا کی کسی چیز کی کوئی کمی نہیں۔

لیکن وہ دروازوں سے لپٹ کر اس طرح رو رہے تھے جیسے
کوئی یتیم بچہ اگر کبھی اپنے باپ کو زندہ پا لے تو وہ اسکے سامنے ٹوٹ جائے۔

وہ مسلسل درود و سلام پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے:
“الصلاۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ﷺ”

وہ منظر دیکھ کر وہاں موجود پوری دنیا حیران تھی۔

اور آپ جانتے ہیں کیوں؟

کیونکہ وہ جانتے تھے کہ
رسول اللہ ﷺ ہی اولین و آخرین سب مخلوقات کے سردار ہیں،
عرب و عجم کے حقیقی قائد ہیں،
جنہیں اللہ نے ساری کائنات عطا فرمائی،
اور جن کی شفاعت کے سب محتاج ہیں۔

ساری مخلوق اُن کی محتاج ہے۔
ہر بادشاہ، ہر فقیر، ہر طاقتور اور ہر کمزور۔

اصل سلطان وہی ہیں۔
اصل بادشاہ وہی ہیں۔
اور ساری تخلیق میں سب سے عظیم ہستی وہی ہیں ﷺ۔

اُس لمحے میری آنکھیں بھی بھر آئیں
اور میرے دل میں یہ خیال آیا:

“فقیر اور بادشاہ… دونوں ایک ہی در پر آتے ہیں،
اُن کی رحمت کے طلبگار بن کر!”

ہم کتنی خوش نصیب امت ہیں…
کہ ہمیں محمد ﷺ کی امت ہونے کا شرف عطا ہوا۔

Ready to embark on a spiritual journey? 🌟 Join our Umrah groups with Saudi Airline departing from Multan! ✈️ Limited sea...
05/02/2026

Ready to embark on a spiritual journey? 🌟 Join our Umrah groups with Saudi Airline departing from Multan! ✈️ Limited seats available:

SV 12 FEB MUX JED
SV 05 MAR JED MUX
(07 Seats Available)

SV 18 FEB MUX JED
SV 10 MAR JED MUX
(12 Seats Available)

SV 26 FEB MUX JED
SV 18 MAR JED MUX
(08 Seats Available)

Secure your spot for an unforgettable experience. Call us for fares and booking details at 📞 0308-7317417. Don't miss out! 🙏✨

23/01/2026
مدینہ منورہ کے رہائشی سیدحسین العرفالی نے ایک انٹرویو میں اپنے وہ لمحات بیان کیے جب وہ روضۂ رسول ﷺ میں حاضر ہوئے۔ یہ وا...
22/01/2026

مدینہ منورہ کے رہائشی سیدحسین العرفالی نے ایک انٹرویو میں اپنے وہ لمحات بیان کیے جب وہ روضۂ رسول ﷺ میں حاضر ہوئے۔ یہ واقعہ تقریباً پچیس سے ستائیس سال پہلے کا ہے، مگر آج بھی اُن کی روح ہر اس لمحے کو سوچ کر تازہ دم ہے۔

شاہ فہد کے دور میں ایک نایاب اور غیر معمولی شاہی اجازت کے ذریعے، اور ایک نہایت ذاتی تعلق کی بنا پر، جس میں اُن کے ایک بیمار دوست کا معاملہ بھی شامل تھا اور اُس کے والد کی بادشاہ سے قربت تھی، ایک چھوٹے سے گروپ کو ایک نہایت مقدس مقام تک رسائی دی گئی: مسجدِ نبوی ﷺ کے اندر “حجرۂ مبارکہ/روضۂ اقدس” کا وہ حصہ جسے عام طور پر “حجرۂ شریفہ” کہا جاتا ہے۔ وہ مقام جہاں رسولِ اکرم ﷺ آرام فرما ہیں۔ اس حاضری کا مقصد یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے وسیلے سے شفا یابی کی دعا کی جائے۔

یہ ایک ایسی زیارت تھی جس میں شفا کے لیے ہاتھ اٹھائے گئے اور دل اللہ کے حضور، زمین کے سب سے باعزت مقام میں، پوری عاجزی کے ساتھ اٹھائے گئے۔ سید حسین بیان کرتے ہیں کہ اندر داخل ہونے کا لمحہ اتنا پرہیبت اور دل ہلا دینے والا تھا کہ صرف وہ نہیں، بلکہ اُن کے ساتھ داخل ہونے والا ہر شخص اس کیفیت میں ڈوب گیا۔ سب نے کچھ عجیب ہی محسوس کیا۔ دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ رعب و جلال نے ہر ایک کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ وہ رونے لگے اور کہا کہ اُن سب نے اس جگہ کے گرد ستر ہزار فرشتوں کی موجودگی محسوس کی—محض خیال یا تصور نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت جو ہر طرف سے اُن پر دباؤ ڈال رہی تھی، جیسے فضا خود عبادت اور اطاعت سے زندہ ہو۔

اور ایسا کیوں نہ ہوتا، جب وہ تمام مخلوق میں سب سے افضل، سب سے معزز، سب سے بابرکت اور سب سے بڑے آقا ﷺ کے حضور کھڑے تھے۔ سید حسین کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو آگے بڑھانے کی ہمت نہ کر سکے۔ اس لیے نہیں کہ کسی نے روکا ہو، بلکہ اس لیے کہ خود ادب و تعظیم ایک دیوار بن گئی۔ مقام کی حرمت نے اُن کی روح پر ایسا بوجھ ڈالا کہ آگے قدم بڑھانا ممکن نہ لگا۔ محبت، خوف، عاجزی اور شرف—سب احساسات ایک ساتھ اُن کے دل میں ٹکرا گئے۔

سیدنا علیؓ کا قول ہے کہ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دور سے دیکھا وہ ہیبت سے بھر گئے، اور جنہوں نے آپ ﷺ کو پہچانا وہ آپ ﷺ سے محبت کرنے لگے۔

اللہ ہمیں بھی ایسے دل عطا فرمائے جو اپنے نبی ﷺ کی محبت سے لرزیں، اور ایسے دل جو مقدس مقامات کی عظمت اور وزن کو پہچانیں۔ اے اللہ! اگرچہ ہم اس کے اہل نہیں—پھر بھی ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں بھی حجرۂ شریفہ میں حاضری کی سعادت عطا فرما۔

Fajr Salah images | 22 Jan 2026
22/01/2026

Fajr Salah images | 22 Jan 2026

فرزدق شاعر کا بادشاہ کے سامنے سید سجاد امام زین العابدین علیہ السلام کو خراج عقیدتایک سال ہشام بن عبدالملک بن مروان حج ک...
20/01/2026

فرزدق شاعر کا بادشاہ کے سامنے سید سجاد امام زین العابدین علیہ السلام کو خراج عقیدت

ایک سال ہشام بن عبدالملک بن مروان حج کے لئے آیا۔طوافِ کعبہ کر رہا تھا اور چاہتا تھاکہ حجرِ اسود کو بوسہ دے لیکن اژدہام میں وہاں تک پہنچنے کی راہ نہ ملتی تھی۔ جب وہ منبر پر خطبہ دینے کھڑا ہوا تو حضرت زین العابدین بن الحسین بن علی رضوان اللہ علیھم اجمعین مسجدِ حرام میںاس جاہ و جلال سے داخل ہوئے کہ آپ کا چہرہ درخشاں، رخسار مبارک تاباں اور لباس مبارک معطر تھا۔جب آپ طواف کرتے ہوئے حجرِ اَسود کے قریب پہنچے تو آپ کے احترام و تعظیم میں حجرِ اَسود کے گرد سے تمام لوگ ہٹ کر کھڑے ہو گئے تاکہ آپ حجر اسود کو بوسہ دے سکیں۔
شامیوں نے جب آپ کی یہ شان و شوکت دیکھی تو وہ ہشام سے کہنے لگے‘اے امیر المومنین!لوگوں نے تمہیں حجرِ اَسود کو بوسہ دینے کی راہ نہیں دی‘ باوجودیکہ تم امیر المومنین تھے لیکن اِس خوبرو نوجوان کے آتے ہی سب لوگ حجرِ اَسود کے پاس سے ہٹ گئے اور انہیں راستہ دے دیا۔ہشام نے ازراہِ تجاہلِ عارفانہ کہا‘ میں نہیں جانتاکہ یہ شخص کون ہے؟اس انکار کا مقصد یہ تھا کہ شامی لوگ انہیں پہچان نہ سکیں اور کہیں ان کی پیروی اختیار نہ کر لیںں جس سے اس کی امارت خطرے میں پڑ جائے۔
فرزوق شاعر اس وقت وہیں کھڑا تھا ۔اس اہانت سے اس کی غیرتِ ایمانی جوش میں آئی اور ببانگِ دُہل کہنے لگا‘میں انہیں خوب جانتا ہوں۔شامیوں نے پوچھا‘اے ابو فراس ( کنیتِ فرزوق ) ! بتائو یہ کون ہے کہ اس سے بڑھ کر پروقار اور دبدبہ والا نوجوان ہم نے نہیں دیکھا؟ فرزوق شاعر نے کہا:کہ کان کھول کر سُن لو‘میں ان کے اوصاف بتاتا ہوں اور ان کے نسب کو بیان کرتا ہوں‘ اس کے بعد فی البدیہہ قصیدہ موزوں کر کے پڑھا۔

ھٰذَا الّذی َتعرِفُ البَطحَائُ وَ طَا َٔ ئتہ
وَالبَیتُ یَعرِفُہ وَالحِلُّ وَالحَرَم

یہ وہ شخص ہے جس کے نشانِ قدم کو اہلِ حرم پہچانتے ہیں
خانہ کعبہ اور حلّ و حرم سب اسے جانتے ہیں

ھٰذَا اِبنُ فَاطِمَۃَ ااِن کُنتَ جَاھِلُہُ
وبِجَدِّہِ انبیائُ اللّٰہِ قَدخَتِم

اگر تو نہیں جانتا تو سن!یہ فاطمہ زہرا کے جگر گوشہ ہیں
ان کے نانا پر اللہ نے نبیوں کا سلسلہ ختم فرمایا ہے

ھٰذَا اِبنُ خَیرِ عِبادِ اللّٰہِ کُلِّھِم
ھٰذَا التَّقِیُّ النَّقَیُّ الطَّاہَرُ العَلَم

یہ خدا کے بندوں میں سے بہترین بندے کا فرزند ہے
سب سے زیادہ متقی،پاک و صاف اور بے داغ نشان والا ہے

یَنشَقُّ نُورُ الدّجٰی عَن نُورِ طَلعَتِہ
کَاالشَّمسِ ینجَابُ عَن اَشرَاقِہَاالظُّلَم

اِن کی منوّر پیشانی سے نورِ ہدایت اس طرح جلوہ فگن ہے
جیسے آفتاب کی روشنی سے تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں

یُغضِی حَیَائً وَیُغضٰی مِن مَّھَابَتَہ
فَمَا یُکَلِّمُ الاحِینَ یَبتَسِم

یہ اپنی آنکھیں حیا سے نیچی رکھیں اور لوگ ہیبت سے ان کی طرف آنکھیں اونچی نہیںکر سکتے
اور جب یہ بات کریں ‘ تو منہ سے پھول جھڑیں

یَنمِی اِلٰی ذُروَ ۃِ العِزَّالَّتِی قَصَرَت
عَن نَّیلِہَا عَرَبُ الِاسلَامِ وَالعَجَم

یہ عزت و منزلت کی ایسی بلندی پر فائز ہیں
کہ عرب و عجم کا کوئی مسلمان اِن سے ہمسری نہیں کر سکتا

اِذَارَاَتَہُ قُرَیشُ قَالَ قَائِلُہَا
اِلٰی مَکَارِمِ ھٰذَایَنتَہِی الکَرَم

جب کوئی قریش انہیں دیکھتا ہے تو وہ بول اٹھتا ہے
کہ اِن پر تمام خوبیاں تمام ہو چکی ہیں

مَن جَدَّہ رَانَ فَضلُ الاَنبِیَائِ لَہ
وَفَضلَ اُمَّتِہ وَاَنتَ لَہ الاُمَم

اِن کے نانا تمام نبیوں سے افضل ہیں
اور اُن کی اُمت تمام اُمتوں سے افضل ہے اور تُو بھی اُن کی اُمت کا ایک فرد ہے

یَکَادَ یَمسِکُہ عِرفَانَ رَاحَتِہ
رُکنُ الحَطِیمِ اِذَامَاجَائَ یَستَلِم

جب حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے قریب ہوں
توعین ممکن ہے کہ وہ اِن کی انگلیوں کی راحت پہچان کر اِنہیں تھام لے

فِی کَفِّل خَیزُرَ ان رِیَحُہَا عَبَق’‘
مِن کَفِّ اَروَعُ فِی عِرینِہ ثَمَم

اِن کے دستِ مبارک میں چھڑی ہے جس کی خوشبو دِلنواز ہے
اِن کی ہتھیلی کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی ہے

مُشتَقَّتُہ عَن رَسُولِ اللّٰہِ نَبعَثُہ
طَابَت عَنِاصِرُہ وَالخَیَم وَالشِّیَم

اِن کے اوصافِ حمیدہ کا پودا‘ اللہ کے رسول سے نکلا ہے
اِن کے عناصرپاک ہیں ‘ اِن کی خُو بُو پاکیزہ ہے اور یہ خوش خصال ہے

فَلَیسَ قَولُکَ مَن ہٰذَا بِضَائِرِہ
اَلعَرَبُ تَعرِفُ مَن اَنکَرتَ وَالعَجَم

اے ہشام ! تیرا انکار کرنا انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا
انہیں تو عرب و عجم سب پہچانتے ہیں

کِلتَا یَدَیہِ غِیَاث’‘ عَمَّ نَفعَہُمَا
تَستَو کَفَانِ فَلا یَعرُوہُمَاالعَدَم

اِن کے دونوں ہاتھ ایسے ہیں جن کا فیض بارش کی مانند عام ہے
اِن کی بخشش ہر وقت جاری ہے حتیٰ کہ تنگدستی میں بھی ختم نہیں ہوتی

عَمَّ البَرِیَّۃَ بِالِاحسَانِ فَانقَشَعَت
عَنہُ الغِیَابَۃُ وَالِاملَاقُ وَالظَّلَم

خدا کی تمام مخلوق پر اِن کا احسان عام ہے
جس سے گمراہی ، تنگدستی اور ظلم و زیادتی کافور ہو گئے ہیں

لَا یَستَطِیعُ جَوَاد’‘ بَعدَ غَایَتَہُم
وَلَا یُدانِیہِم قَوم’‘ وَاِن کَرَم

کسی سخی کی سخاوت اِن کی بخشش کی حد تک نہیں پہنچ سکتی
اور کوئی قوم اِن کے برابر نہیں پہنچ سکتی اگرچہ شمار میں کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو

ہُمُ الغُیُوثُ اِذَامَااَزمَۃ’‘ اَزِمَت
وَالَاُسدُ اُسدَ الشَّرَیٰ والنّاسُ مُح تَدَم

یہ وہ ہیںجو قحط سالی کے زمانہ میں بارش کی مانند سیراب کرتے ہیں
اورجب میدانِ جنگ گرم ہو تو یہ شیر ببر ہیں

سَہلُ الخَلِیفَۃِ لاَ یُخفٰی بَوَادِرَہ
یُزِینُہُ اثنَانِ حُسنُ الخَلَقِ وَالشِّیَم

یہ نرم خُو ہیں‘خفگی و غصہ کا اِن سے کوئی اندیشہ نہیں
یہ اپنی دو فوجوں سے یعنی حسنِ اخلاق اور پاکیزہ خصلت سے آراستہ ہیں

مِن مَّعشَرٍ حُبُّہُم دِین’‘ وَ بُغضُہُم
کُفر’‘ وَ قُربُہُم مَنجَا’‘ و مَعتَصَم
'
یہ اُس گروہ سے ہیں جن سے محبت کرنا دین اور اِن سے بغض رکھناک۔ف۔ر ہے
اور ان سے وابستہ رہنا نجات اور پناہ دینے والا ہے

اِن عُدَّ اَہلُ التُّقٰی کَانوااَئِمَّتُہُم
اَوقِیلَ مَن خَیرُاَہلِ الَارضِ قِیلَ ہُم

اگر تم اہلِ تقویٰ کو جمع کیا جائے تو یہ اِن سب کے امام ہوں گے
اگر اہلِ زمین سے اچھے لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے تو سب کہیں گے کہ یہی ہیں

لَایَنقُصُ العُسرِ بَسطًا مِن اَکُفِّہِم
سَیَّانَ ذَالِکَ اَن اَثَرُوا وَاِن عَدَمُوا

تنگدستی اِن کے ہاتھوں کی فراخی کو کم نہیں کرتی
اِن کے لئے تونگری و مفلسی دونوں برابر ہیں

اللّٰہُ فَضَّلَہ کَرَمَاً وَّشَرَّفَہ
جَرٰی بِذَالِک لَہُ فِی اللّوحِ وَالقَلَم

اللہ نے انہیں فضیلت دی اور اِن کو شرافت و بزرگی سے نوازا
اور لوح و قلم میں اِن کے لئے یہی حکم نافذ ہو چکا ہے

مُقَدَّ م’‘ بَعدَ ذِکراللّٰہِ ذکرُہُم
فِی کُلِّ بَدئٍ وَّ مَختُوم’‘ بِہ الکَلَم

اِن کا ذکر ‘ ذکرِ خدا کے بعد مقدم ہے
اِنہی کلماتِ ذکرسے ہر ابتداہے اوراِنہی پر اختتام !!

مَن یَعرِفُ اللّٰہَ یَعرِفُ اَولِیَّتُہ
وَالدِّینَ مِن بَیتٍ ہٰذَانا لَہ الُامَم

جسے خدا کی معرفت ہے وہ اِن کی برتری کو پہچانتا ہے
چونکہ اِن کے گھر سے دین ساری اُمت کو پہنچا ہے

اَیُّ القَبَائِلِ لَیسَت فِی رِقَابِہِم
اِمَّا لَابَائِہ ھٰذا اَولَہ نِعَم
ارحج المطالب ص 554
کشف المعجوب

20/01/2026

ایک شخص نے گوہ کا شکار کیا اور اسے اپنے گھرلیجانے کے لیے چل پڑا ۔راستے میں اس نے لوگوں کوایک جگہ جمع ہوئے دیکھا تو کسی سے پوچھا: یہ لوگ کس کے گرد جمع ہیں؟ لوگوں نے کہا: اس کے گرد جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے( یعنی نبی کریم ﷺ) ۔
وہ لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا حضور ﷺ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: میں آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لاؤں گا جب تک یہ گوہ آپ پر ایمان نہیں لاتی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے گوہ حضور ﷺکے سامنے پھینک دی ۔
تو حضور ﷺنے فرمایا: اے گوہ(کلام کر)! تو گوہ نے ایسی واضح اورفصیح عربی میں کلام کیا کہ جسے تمام لوگوں نے سمجھا۔ اس گوہ نے عرض کیا: اے دوجہانوں کے رب کے رسول! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ حضور ﷺنے اس سے پوچھا: تم کس کی عبادت کرتی ہو؟ اس نے عرض کیا: میں اس کی عبادت کرتی ہوں جس کا عرش آسمانوں میں ہے، زمین پر جس کی حکمرانی ہے اور سمندر پر جس کا قبضہ ہے، جنت میں جس کی رحمت ہے اور دوزخ میں جس کا عذاب ہے۔ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: اے گوہ! میں کون ہوں؟ اس نے عرض کیا: آپ دو جہانوں کے رب کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ جس نے آپ کی تصدیق کی وہ فلاح پاگیا اور جس نے آپ کو جھٹلایا وہ ذلیل و خوار ہوگیا۔
اعرابی یہ دیکھ کر بول اٹھا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ جب میں آپ کے پاس آیا تھا تو روئے زمین پر آپ سے بڑھ کر کوئی شخص مجھے ناپسند نہ تھا اور بخدا اس وقت آپ مجھے اپنی جان اور اولاد سے بھی بڑھ کر محبوب ہیں۔
حضورﷺ نے فرمایا: اس اللہ کے لئے ہی ہر تعریف ہے جس نے تجھے اس دین کی طرف ہدایت دی جو ہمیشہ غالب رہے گا اور کبھی مغلوب نہیں ہوگا۔ اس دین کو اللہ تعالیٰ صرف نماز کے ساتھ قبول کرتا ہے اور نماز قرآن پڑھنے سے ہی قبول ہوتی ہے۔ پھر حضور ﷺ نے اسے سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص سکھائیں۔
پھر وہ اعرابی حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ سے باہر نکلا اور واپس گھر کی طرف چل پڑا ۔ راستے میں اسے ایک ہزار اعرابی ملے ۔ اس نے ان سے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اس سے لڑنے جا رہے ہیں جو غلط بیانی سے کام لیتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ۔
اس اعرابی نے ان سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے کہا: تم نے بھی نیا دین اختیار کرلیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے نیا دین اختیار نہیں کیا (بلکہ دین حق اختیار کیا ہے) پھر اس نے انہیں (گوہ سے متعلق) تمام واقعہ بیان کیا ۔
یہ سن کر ہر کوئی کہنے لگا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ تک جب یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ انہیں ملنے کے لئے (تیزی سے) بغیر چادر کے باہر تشریف لائے۔
وہ آپ ﷺ کو دیکھ کر اپنی سواریوں سے کود پڑے اور حضور نبی اکرمﷺ کو چومنے لگے اور ساتھ ساتھ کہنے لگے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سارے عرب میں صرف بنو سلیم کے ہی ایک ہزار لوگ بیک وقت ایمان لائے ۔

(دلائل النبوہ لابی نعیم ج؛ 1 ص؛ 376 ملخصاً (

❤❤❤

💚 وہ گنبد جو آپ  دیکھ رہے ہیں… اس کا کوئی ہمسایہ نہیں، یہ شہر کی پہچان ہے، اور اسی کے نیچے محبوب ﷺ آرام فرما رہے ہیں۔یہ ...
20/01/2026

💚 وہ گنبد جو آپ دیکھ رہے ہیں… اس کا کوئی ہمسایہ نہیں، یہ شہر کی پہچان ہے، اور اسی کے نیچے محبوب ﷺ آرام فرما رہے ہیں۔
یہ گنبد سب سے پہلے سفید رنگ میں بنایا گیا تھا
سلطان المملوکی قلاوون الصالحي کے دور میں،
پھر عثمانیوں کے دور میں اسے سبز رنگ سے رنگا گیا،
اور تب سے اسے "سبز گنبد" کے نام سے جانا جانے لگا—
اس کا رنگ دل میں سکون بھرتا ہے، جیسے یہ کہہ رہا ہو:
"یہاں آرام فرما ہے وہ ہستی جس نے زمین کو روشنیِ رسالت سے منور کیا۔" 💚
🕌 اس پاکیزہ گنبد کے نیچے رسول اللہ ﷺ آرام فرما رہے ہیں
اور ان کے ساتھ صحابہ کرام، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔
گنبد پر ایک خوبصورت نقش بھی ہے جو نبی ﷺ کی عظمت بیان کرتا ہے
اور زائرین کو یاد دلاتا ہے کہ یہ جگہ کسی عام جگہ کی طرح نہیں…
یہ سکون، آنسو اور محبت کی جگہ ہے۔
🌿 جو بھی اس گنبد کو دیکھتا ہے، محسوس کرتا ہے کہ
اس کی روح جسم سے پہلے ہی وہاں جا پہنچی ہے،
اور سبز گنبد صرف ایک عمارت نہیں…
بلکہ محبت اور وصال کی علامت ہے،
اور خیر البشر ﷺ کے ساتھ تعلق کا پیغام ہے۔
صلی اللہ علیہ وسلم ❤
اللَّهُــمَّ صَلِّ وَسَـــلِّمْ وَبَارِك علــى نَبِيِّنَـــا مُحمَّد ﷺ ❤
اللہ ہمیں اور آپ کو نبی ﷺ کی شفاعت اور جنت میں اُن کی رفاقت نصیب فرمائے… {ﷺ} 🍂🤍
آمین

🕋 میقات کی اقسام (5 مشہور میقات)1️⃣ ذوالحُلیفہ (ابیارِ علی)📌 اہلِ مدینہ کے لیے🛣 مدینہ → مکہ📏 مکہ سے تقریباً 400 کلومیٹری...
20/01/2026

🕋 میقات کی اقسام (5 مشہور میقات)
1️⃣ ذوالحُلیفہ (ابیارِ علی)
📌 اہلِ مدینہ کے لیے
🛣 مدینہ → مکہ
📏 مکہ سے تقریباً 400 کلومیٹر
یہ سب سے دور کی میقات ہے
آج کل یہاں بڑی مسجد ذو الحیفہ ہے اور احرام کی مکمل سہولت موجود ہے
2️⃣ الجُحْفَہ
📌 اہلِ شام، مصر، مغرب کے لیے
موجودہ متبادل: رابغ
📏 مکہ سے تقریباً 190 کلومیٹر
3️⃣ قرن المنازل (السَّیل الکبیر)
📌 اہلِ نجد (ریاض، طائف)
📏 مکہ سے تقریباً 90 کلومیٹر
طائف کے قریب واقع ہے
4️⃣ یَلَمْلَم
📌 اہلِ یمن اور جنوبی علاقوں کے لیے
📏 مکہ سے تقریباً 50–80 کلومیٹر
آج کل اکثر لوگ سعدیہ یا احرام پوائنٹ سے احرام باندھتے ہیں
5️⃣ ذاتِ عِرق
📌 اہلِ عراق کے لیے
📏 مکہ سے تقریباً 85 کلومیٹر
نسبتاً کم استعمال ہوتی ہے
🕋 حرم اور حل کی وضاحت (نقشے کے مطابق)
🔴 حرم
مکہ مکرمہ کا مقدس علاقہ
اس میں:
شکار حرام
درخت کاٹنا منع
خاص احترام واجب
🟡 حل
حرم سے باہر کا علاقہ
عمرہ کرنے والا شخص حل سے احرام باندھ کر حرم میں داخل ہوتا ہے
مثالیں:
تنعیم (مسجد عائشہؓ) – 7 کلومیٹر
جِعرانہ – 16 کلومیٹر
حدیبیہ (شمَیسی) – 22 کلومیٹر
✨ اہم فقہی نکتہ
جو شخص میقات کے اندر رہتا ہے وہ اپنے گھر سے احرام باندھے گا
جو میقات سے باہر رہتا ہے وہ میقات پر احرام باندھے گا
#رِحمتہُ_اللّعَالمِین_مُحمدﷺ

ملتان کا قلعہ، جسے "قاسم فورٹ" بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے قدیم ترین قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تعمیر کے بارے میں کوئی ایک ...
19/01/2026

ملتان کا قلعہ، جسے "قاسم فورٹ" بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے قدیم ترین قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تعمیر کے بارے میں کوئی ایک حتمی تاریخ یا ایک شخص کا نام لینا مشکل ہے کیونکہ یہ ہزاروں سالوں میں مختلف ادوار سے گزرا ہے۔
تاریخی حقائق کے مطابق اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

1. قدیم بنیادیں (ہزاروں سال پہلے)

تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ ملتان کا قلعہ "ملوئی" (Malhi) قوم نے تعمیر کیا تھا، جو سکندرِ اعظم کے حملے (326 قبل مسیح) کے وقت یہاں آباد تھی۔ اس وقت یہ مٹی کا ایک بہت بڑا ٹیلہ تھا جسے دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

2. ہندو دور (کٹوچ خاندان)

بعض روایات کے مطابق، اس قلعے کی باقاعدہ مضبوط تعمیر کٹوچ خاندان کے ہندو راجاؤں نے کی تھی۔ اس دور میں یہ قلعہ اپنی بلندی اور مضبوطی کی وجہ سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا اور اس کے اندر مشہور "سورج مندر" (Sun Temple) بھی واقع تھا۔

3. اسلامی دور اور قلعے کی پختگی

• محمد بن قاسم (712ء): جب محمد بن قاسم نے ملتان فتح کیا، تو قلعے کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اس دور میں قلعے کی مرمت کی گئی اور اسے ایک مضبوط فوجی چھاؤنی بنایا گیا۔ اسی نسبت سے اسے آج "قاسم فورٹ" کہا جاتا ہے۔

• مغل دور: مغل بادشاہوں (خاص طور پر اکبر اور شاہجہاں) کے دور میں اس قلعے کی فصیل کو پختہ کیا گیا اور اس کے اندر شاہی عمارتیں، باغات اور مسجدیں تعمیر کی گئیں۔

4. نواب مظفر خان اور سکھ دور

• نواب مظفر خان شہید: 18ویں صدی کے آخر میں ملتان کے افغان گورنر نواب مظفر خان نے قلعے کی دیواروں کو مزید بلند اور مضبوط کیا تاکہ سکھوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

• رنجیت سنگھ: 1818 میں رنجیت سنگھ کی افواج نے ایک طویل محاصرے کے بعد قلعہ فتح کیا اور اس کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔

5. برطانوی دور (تباہی اور موجودہ شکل)
موجودہ دور میں ہمیں قلعے کی جو شکل نظر آتی ہے، وہ برطانوی دور کی باقیات ہیں۔

• 1848-49 کی جنگ: انگریزوں اور ملتان کے گورنر مولراج کے درمیان ہونے والی جنگ میں انگریزوں کی شدید بمباری سے قلعے کی دیواریں اور اندرونی عظیم الشان محلات (جیسے شیش محل) مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے۔

• جنگ کے بعد انگریزوں نے قلعے کو دوبارہ تعمیر کرنے کے بجائے اسے ایک چھاؤنی میں بدل دیا اور اس کے گرد موجود فصیل کو گرا دیا تاکہ مستقبل میں کوئی بغاوت نہ ہو سکے۔

قلعے کی خاص بات
یہ قلعہ ایک مصنوعی ٹیلے پر واقع ہے جس کی اونچائی سطح سمندر سے تقریباً 710 فٹ ہے۔ کسی زمانے میں اس کے گرد دریائے راوی کی ایک شاخ بہتی تھی جو اسے ایک جزیرے کی شکل دے دیتی تھی۔

Multan Fort, also known as "Qasim Fort", is one of the oldest forts in the world. It is difficult to give a definitive date or name a person for its construction as it has gone through various periods over thousands of years.
The details of it according to historical facts are as follows:

1. Ancient Foundations (Thousands of Years Ago)

Historians believe that Multan Fort was built by the "Malhi" tribe, who inhabited the place at the time of Alexander the Great's invasion (326 BC). At that time, it was a huge mound of earth used for defensive purposes.

2. Hindu Period (Katoch Dynasty)

According to some traditions, this fort was formally fortified by the Hindu kings of the Katoch dynasty. During this period, this fort was considered impregnable due to its height and strength and the famous "Sun Temple" was also located inside it.

3. Islamic period and the fortification of the fort

• Muhammad bin Qasim (712 AD): When Muhammad bin Qasim conquered Multan, the importance of the fort increased further. During this period, the fort was renovated and made into a strong military garrison. For this reason, it is called "Qasim Fort" today.

• Mughal period: During the reign of the Mughal emperors (especially Akbar and Shah Jahan), the walls of the fort were fortified and royal buildings, gardens and mosques were built inside it.

4. Nawab Muzaffar Khan and the Sikh period

• Nawab Muzaffar Khan Shaheed: In the late 18th century, Nawab Muzaffar Khan, the Afghan governor of Multan, further raised and strengthened the walls of the fort to counter the Sikhs.

• Ranjit Singh: In 1818, Ranjit Singh's forces conquered the fort after a long siege and damaged its buildings.

5. British Era (Destruction and Present Form)
The form of the fort that we see in the present era is the remnants of the British era.

• War of 1848-49: In the war between the British and the Governor of Multan, Mulraj, the walls of the fort and the inner grand palaces (like Sheesh Mahal) were completely destroyed due to the heavy bombardment of the British.

• After the war, instead of rebuilding the fort, the British converted it into a cantonment and demolished the wall around it so that there would be no rebellion in the future.

Special feature of the fort
This fort is located on an artificial mound whose height is about 710 feet above sea level. At one time, a branch of the Ravi River flowed around it, which gave it the appearance of an island.

18/01/2026

*MaShaAllah Travels Multan*

*SAUDI AIRLINE*

*_UMRAH GROUPS_*

SV 12 FEB MUX JED
SV 05 MAR JED MUX
(26 Seats)

SV 18 FEB MUX JED
SV 10 MAR JED MUX
(20 Seats)

SV 26 FEB MUX JED
SV 18 MAR JED MUX
(23 Seats)

*Fare on Call*

📞 0308-7317417

Ramadan Kareem Umrah 202626 February to 18 March 2nd and 3rd Ashra Saudi Airline Mux Jedd MuxBest Price with Services
18/01/2026

Ramadan Kareem Umrah 2026
26 February to 18 March
2nd and 3rd Ashra
Saudi Airline Mux Jedd Mux
Best Price with Services

Address

Shah Rukn E Alam
Multan
66000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ma Sha Allah Travels Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share