05/06/2026
آزاد کشمیر بھر میں ۹ جون کو عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کی کال دی گئی ہے، لیکن اس احتجاج میں ابھی کئی دن باقی ہیں۔
دوسری جانب پورا کشمیر اس وقت سیاحوں سے بھرا ہوا تھا اور عین سیزن کے دوران چار روز پہلے ہی حکومتی اداروں کی جانب سے سیاحت کو عملی طور پر بند کر دینا ہزاروں سیاحوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اگر حکومتی اداروں کو ممکنہ صورتحال کا علم تھا تو ان کی ذمہ داری تھی کہ بروقت اور واضح اطلاع جاری کرتے۔
محکمہ سیاحت، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے پاس باقاعدہ کمیونیکیشن سسٹم موجود ہے، اس کے باوجود سیاحوں اور ٹور کمپنیوں کو پیشگی آگاہ نہیں کیا گیا۔
تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ہزاروں سیاح مختلف انٹری پوائنٹس پر پھنسے ہوئے ہیں۔ درجنوں ٹور کمپنیوں کی پچاس سے زائد کوسٹرز اور بسیں لاہور سمیت پاکستان کے مختلف شہروں سے سفر کرکے کشمیر کے داخلی راستوں تک پہنچ چکی ہیں، مگر انہیں نہ آگے جانے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی مناسب متبادل فراہم کیا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس انتظامی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے۔۔۔؟؟؟
اگر پابندی یا بندش ناگزیر تھی تو کم از کم دو سے تین دن پہلے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا تاکہ ٹور آپریٹرز اپنے پروگرام تبدیل کر لیتے اور سیاحوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
سیاحت آزاد کشمیر کی معیشت کا اہم ستون ہے۔ ایسے فیصلے بغیر پیشگی اطلاع کے نہ صرف سیاحوں بلکہ مقامی کاروبار، ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور ہزاروں خاندانوں کے روزگار کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو اس معاملے پر وضاحت دینی چاہیے ؟