Seet Pur Heritage Club

Seet Pur Heritage Club We Proudly welcome Heritage Lovers across the Globe to explore the rich cultural legacy of our historic 14th-century tomb.

As ambassadors of heritage and hospitality, we share stories of the past while creating meaningful connections for the future.

02/09/2026

کی جانب سے ٹیلنٹ کی پذیرائی

آج سیت پور ہیریٹیج کلب کی جانب سے ہمارے سیت پور کے باصلاحیت Solo Traveller اور Vlogger امجد خان وکھرا ولاگر کو سرائیکی اجرک پہنا کر ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
امجد خان وکھرا ولاگر نے اپنے منفرد ٹیلنٹ، سفرناموں اور ولاگنگ کے ذریعے سرائیکی وسیب کی ثقافت، تہذیب، ادب، روایات اور خوبصورتی کو دنیا بھر تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک خوبصورت مثال بھی ہے۔

سیت پور ہیریٹیج کلب سمجھتا ہے کہ ہمارے وسیب کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان کے ٹیلنٹ کو پہچانا جائے، سراہا جائے اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

اسی جذبے کے تحت سیت پور ہیریٹیج کلب مستقبل میں بھی سیت پور کے باصلاحیت افراد، نوجوانوں، فنکاروں، لکھاریوں، ولاگرز، محققین اور ثقافتی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

یہ سرائیکی اجرک امجد خان وکھرا ولاگر کے لیے صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ سرائیکی ثقافت، وسیب سے محبت اور اپنی شناخت کو دنیا تک پہنچانے کی ان کی کاوش کا اعتراف ہے۔ ❤️

ہم امجد خان وکھرا ولاگر کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ سرائیکی وسیب کی آواز اور ثقافت کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچاتے رہیں۔
منجانب:
میاں طارق احسان
محمد عباس ملک
سیپ پور ہیریٹیج کلب سیت پور










01/09/2026

وادئ سندھ کے قدیم شہر سیت پور کی قدامت
کا ایک شاندار قلمی حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ
ہمارے تاریخی شہر کو پورے ملک میں
پزیرائی حاصل ہو۔



Mian Tariq Ehsan Abbas Malik

Seet Pur Heritage Club

**عید میلاد النبی ﷺ مبارک**12 ربیع الاول کے پُرنور موقع پر ** Seet Pur Heritage Club** کی جانب سے تمام اہلِ اسلام کو دل ...
26/08/2026

**عید میلاد النبی ﷺ مبارک**

12 ربیع الاول کے پُرنور موقع پر ** Seet Pur Heritage Club** کی جانب سے تمام اہلِ اسلام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔

حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے محبت، امن، رواداری اور حسنِ اخلاق کا روشن پیغام ہے۔

**اللہ تعالیٰ ہمیں آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔**

#عیدمیلادالنبیﷺ
Regards:
Mian Tariq Ehsan (Founder & Patron-In-Chief)
Abbas Malik (Co-Founder & Chief Organizer)
Seet Pur Heritage Club

میرے محسن و عزیز جناب  شمشیر حسین صاحب کی بہترین کاوش شہر سلطان کی تاریخ بہت خوبصورت انداز  تحریر میں قارئین کی نذر پیش ...
31/07/2026

میرے محسن و عزیز جناب شمشیر حسین صاحب کی بہترین کاوش شہر سلطان کی تاریخ بہت خوبصورت انداز تحریر میں قارئین کی نذر پیش کرتا ہوں امید سیت پور ہیرٹیج گروپ کے فالورز کی یہ تحریر و تصاویر ضرور پسند آئیں گی۔
دو سلطانوں کا شہر۔۔۔
شہر سلطان۔۔۔ چار صدیوں پر محیط داستان۔۔۔

عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کی آواز میں مشہور گیت
'نکی جئی گل توں رسدیں
ڈھولا تیڈی کمال اے"
آپ میں سے ہر ایک نے سنا ہوگا بلکہ ہم نے تو اس گانے کو صرف سنا ہی نہیں بلکہ سر دھنتے ہوئے سرشاری کے عالم میں گنگنایا بھی ہے۔ اس قدر معروف گیت کے تخلیق کار کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے ہی وسیب کے خوب صورت علاقے شہر سلطان کے باسی جناب اللہ وسایا مہجور بخاری ہیں۔
کون جانتا تھا کہ قیام پاکستان سے نو سال پہلے 1938ء میں شہر سلطان جیسے غیر معروف اور پس ماندہ علاقے میں جنم لینے والا اللہ وسایا ایک دن مہجور کا تخلص اختیار کر کے جسم و جاں کے تمام تر جذبوں کو روح کے رتھ پر سوار کر کے ایسی ایڑ لگائے گا کہ سارا گردوپیش حیرت زدہ ہو کر گرد رہ بن جائے گا۔ کہتے ہیں کہ بڑی روحیں خاکی جسم میں بے چین رہتی ہیں بالکل اسی طرح جیسے عین سیلاب کے عالم میں بپھرے دریا کم ظرف کناروں کا حلقہ توڑ کر سمندروں کی طرح بے حد و حساب رقبے پر پھیل جانا چاہتے ہیں۔ سو ہر بڑی روح کی طرح اللہ وسایا مہجور کی روحانی بے چینی نے بھی شعر و ادب کو اپنی سیلانی فطرت کی تسکین کا ذریعہ بنایا۔
غالب نے کہا تھا۔۔۔
بقدر شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
چنانچہ مہجور نے بھی اپنی بے چین فطرت کی سیرابی کے لیے کسی ایک صنف شاعری کی بجائے کافی، نظم، دوہرے، رباعی اور قطعات جیسی متنوع اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔
شاعری میں فطری دل چسپی رکھنے کی وجہ سے اللہ وسایا مہجور نے تحصیل جتوئی کے نامور شاعر استاد جانباز جتوئی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا تو یہ گویا عروج کی طرف ایک بڑا قدم تھا۔
انھی اللہ وسایا مہجور نے یوم عاشور اور کربلا کے حوالے سے نوحے اور قصیدے بھی لکھے جو وسیب میں انتہائی ذوق اور عقیدت سے پڑھے جاتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ بعض شاگرد اپنے استاد سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جناب مہجور نے بھی اپنے فن ایسی مہارت حاصل کی کہ لوگ انھیں جانباز ثانی قرار دینے لگے۔

جب ہم تاریخ کے اوراق الٹتے ہیں انھی مہجور کے شہر سلطان کو آج سے چار سو سال پہلے مغل بادشاہ جہانگیر کے دور حکومت میں پھلتا پھولتا دیکھتے ہیں۔ چناب اور سندھ کے درمیان آباد شہر سلطان کی بنیاد کس شخصیت نے رکھی اور اس کا نام شہر سلطان کیوں رکھا گیا اس حوالے سے مستند تاریخ واضح نہیں تاہم سینہ بہ سینہ چلنے والی علاقائی روایات کے مطابق چار سو سال پہلے موجودہ شہر سلطان سے تین چار کلومیٹر مشرق کی طرف دریائے چناب کے کنارے سلطان چھجڑہ نامی شخص نے کئی مربع زمین کو آباد کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ مزید لوگ آتے گئے اور یوں چناب کنارے ایک ایسی آبادی وجود میں آئی جسے سلطان چھجڑہ کے نام پر شہر سلطان کا نام دیا گیا۔
کسی شاعر نے شاید سلطان چھجڑہ کے اس طرح شہر آباد کرنے کو دیکھ کر ہی کہا تھا کہ۔۔۔
شہر بدر ہو جانے سے کیوں گھبراتے ہو
ہم دونوں سے ایک قبیلہ بن سکتا ہے

سو، اکیلا سلطان چھجڑہ پہلا قطرہ بن کر دریا کنارے آیا، نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کی، اور یوں۔۔۔۔

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کاروں بنتا گیا

کے مصداق شہر سلطان وجود میں آیا۔ غور کریں تو یہ صرف شہر سلطان کی نہیں بلکہ پاکستان کے بہت سے قصبوں کی داستان ہے۔

اسی دوران سیت پور کے بخآری خاندان سے سید علم الدین بخاری المعروف جناب عالم پیر ہجرت کر کے شہر سلطان پہنچے تو سلطان چھجڑہ نے ان کی عزت افزائی کی، انھیں ہر طرح کی آسانی اور سہولت مہیا کی اور پھر مرنے سے پہلے اپنی تمام جاگیر جناب عالم پیر بخآری کے نام کر دی۔
سید عالم پیر بخآری نے سلطان چھجڑہ کو دعا دی کہ جب تک دنیا آباد ہے یہ شہر تیرے نام پر آباد رہے گا۔ کہتے ہیں کہ وہ دن اور آج کا دن یہ علاقہ شہر سلطان کہلاتا ہے۔

ایک اور روایت کے مطابق نواب غازی خان نے یہ علاقہ حضرت سلطان احمد قتال کو بطور جاگیر عطا کیا اور انھی کے نام پر اسے شہر سلطان کہا جانے لگا۔ یاد رہے کہ 1542 ء میں اچ شریف کے سادات خاندان میں پیدا ہونے والے سلطان احمد قتال دراصل موجودہ شہر سلطان میں مدفون بزرگ عالم پیر بخآری کے والد تھے جو کچھ عرصہ شہر سلطان میں رہنے کے بعد چناب کو عبور کر کے مشرقی جانب رہائش پذیر ہوئے اور شہر سلطان میں اپنے بیٹے عالم پیر بخآری کو چھوڑ گئے۔ بیٹے نے شہر سلطان کو سنبھالا تو باپ نے چناب کے مشرقی کنارے موجود ویرانے کو زندگی بخشنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جلال پور پیر والا شہر کی بنیاد رکھی۔ آج سلطان احمد قتال بزرگ اسی علاقے میں اپنے مزار کے اندر ابدی نیند سو رہے ہیں۔

عالم پیر بخآری 1594ء میں وفات پا گئے تو ان کی خانقاہ پرانے شہر سلطان میں بنائی گئی۔ بعد میں ان کے دو بیٹے بھی ان کے ساتھ دفن کیے گئے۔ آج بھی ان کی نسل سے بخآری سادات محلہ شہر سلطان میں آباد ہیں۔

وقت پر لگا کر اڑتا جاتا ہے اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ 1750 ء میں قدیم شہر سلطان کو چناب کے سیلاب نے مکمل طور پر تباہ کر کے غرق کر دیا۔ چنانچہ شہر کو تین چار کلومیٹر مغرب کی طرف موجود جگہ پر دوبارہ آباد کیا گیا۔ عالم پیر بخآری کا اصل مزار بھی سیلاب کی زد میں آگیا تو ان کے جسد خاکی کو وہاں سے نکال کر موجودہ مزار والی جگہ پر دفن کیا گیا۔ عالم پیر بخآری کے مزار کی موجودہ عمارت سلطان احمد ولد دیوان محمد غوث نے 1903ء میں تعمیر کروائی جہاں ان کے دو بیٹے بھی ان کے ساتھ ہی مدفون ہیں۔ باہر سے آنے والوں کے لیے یہ مزار شہر سلطان کی سب سے اہم جگہ ہے جہاں ہر سال عرس اور میلہ منعقد کیا جاتا ہے۔

ماضی میں شہر سلطان جلال پور کے دیوان خاندان کی دلچسپیوں کا بھی مرکز رہا کیونکہ دریا کے اس طرف بھی ان کی زمینیں موجود تھیں۔ ایک وقت تھا کہ شہر سلطان کے دیوان محلے میں دیوان عباس کی شاندار حویلی ہوا کرتی تھی لیکن یہ سب ماضی کا حصہ ہے۔ دیوان خاندان نے شہر سلطان سے ناطہ توڑ کر جلال پور پیر والا کو اپنی سیاست کا محور بنایا جو آج تک جاری و ساری ہے۔

ماضی کا سفر کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں تو شہر سلطان کبھی سیت پور کی نہڑ ریاست کا حصہ نظر آتا ہے تو کبھی ریاست سیت ہور سے غداری کرنے والے مخدوم خاندان کے ہاتھ آجاتا ہے۔ اور کچھ وقت بعد ریاست بہاول پور کے نواب اس پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ گویا ہمارا شہر سلطان۔۔۔

ٹوٹا کاسہ رستے پر ہو جیسے، میرا دل
آتے جاتے پر اک سے یہ کھا لیتا ہے ٹھوکر

کی تصویر نظر آتا ہے۔

انیسویں صدی میں شہر سلطان دریائے سندھ اور چناب کے درمیان ہونے کی وجہ سے اہم تجارتی مرکز بن گیا کیونکہ یہ سندھ اور چناب کے درمیان ایک اہم راستے پر واقع تھا۔ اس دور میں بااثر ہندو گوگیا خاندان نمایاں تجارتی اہمیت رکھتا تھا۔ گوگیا خاندان نے اپنا علیحدہ محلہ قائم کیا کہ جو بند دروازوں کے اندر قائم تھا۔ آج بھی یہ قدیم ترین محلہ اپنی پرانی عمارتوں کے ساتھ اپنے شاندار ماضی کے قصے سناتا نظر آتا ہے اور محلے کو بند کر کے رکھنے والے کئی دروازوں میں سے ایک دروازہ گھنٹی دروازے کے نام سے زمانے کے سرد و گرم کا مقابلہ کرتا نظر آتا ہے۔

گوگیا خاندان نے گزرنے والے مسافروں اور تجارتی قافلوں کے لیے مسافر خانے تعمیر کیے۔ انھی میں سے ایک تاریخی مسافر خانے کی عمارت آج بھی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے اور آج کل اس میں گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول نمبر 2 قائم ہے۔

تاریخ کا یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ 1838ء میں اسی محلے میں ہندو عبادت کے لیے ہنومان مندر قائم کیا گیا جو پونے دو سو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی شہر سلطان میں موجود ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ہندؤوں کے چلے جانے پر یہ مندر ویران ضرور ہو گیا لیکن قائم رہا۔
بعد میں اس جگہ گورنمنٹ پرائمری سکول شہر سلطان قائم کیا گیا تو یہ مندر سکول کے احاطے کے اندر آگیا۔ آج یہ سکول گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول شہر سلطان کے نام سے جانا جاتا ہے اور وہ تاریخی ہنومان مندر آج بھی سکول کے احاطے میں سینہ تانے کھڑا ہے
ہے اور ہمیں تاریخ کا سبق دے رہا ہے کہ۔۔۔
دیکھو مجھے جو دیدہء عبرت نگاہ ہو۔۔۔

روایات کے مطابق شہر میں کچھ اور مندر بھی موجود تھے جن کا اب نام و نشان تک۔ باقی نہیں رہا۔

انگریز دور میں شہر سلطان ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل سیت پور کا حصہ رہا، بعد میں جب تحصیل سیت پور ختم کر دی گئی تو یہ تحصیل علی پور کا حصہ بنا۔ 1996ء میں جب نئی تحصیل جتوئی بنائی گئی تو شہر سلطان کو جتوئی میں شامل کر دیا گیا۔ آج کل یہ جتوئی کی ایک میونسپل کمیٹی ہے۔

انگریز دور میں بنائے گئے قدیمی پرائمری سکول، تھانہ، ڈاک خانہ اور کینال ریسٹ ہاؤس بھی شہر سلطان کی شاندار تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان میں سے کینال ریسٹ ہاؤس کی تاریخی عمارت آج کل گورنمنٹ گرلز کالج کے طور استعمال کی جا رہی ہے۔

موجودہ شہر اور اس کے مرکزی بازار میں داخلے کے چار اہم دروازے ہیں جنھیں آج کل خلفائے راشدین کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ چاروں راستے شہر کے مرکزی بازار میں جا کر باہم مل جاتے ہیں۔ بازار کے اندر ہی عالم پیر بخآری کا مزار ہے جس کے ساتھ ہی تاریخی قبرستان ہے جس کے دونوں اطراف تھلے بنے ہوئے ہیں جہاں پر محرم الحرام کی مجالس اور زیارات برآمد ہوتی ہیں۔ مزار کے صحن میں بوہڑ کا ایک قدیم درخت موجود ہے جو دیکھنے والوں پر ہیبت طاری کر دیتا ہے۔

علی پور مظفر گڑھ روڈ پر واقع شہر سلطان علی پور سے 20 کلومیٹر جبکہ مظفر گڑھ سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر بر لب سڑک واقع ہے۔ مشرق میں سپر بند شہر کو چناب کے سیلابی پانی سے بچانے کی سعی کرتا نظر آتا ہے۔ شہر سلطان سے کراچی اور لاہور دونوں طرف کے لیے بڑی ٹرانسپورٹ آسانی سے دستیاب ہے۔

شہر میں کئی تاریخی مساجد اور ایک مرکزی امام بارگاہ اور دو عید گاہیں بھی موجود ہے۔ قدیمی قبرستان میں روڈ کے کنارے واقع ہے۔

شہر میں بوائز گرلز کالج، ہائی اسکول، دفتر 1122, تھانہ، ڈاک خانہ، ٹی ایچ کیو لیول ہسپتال کی جدید عمارت وغیرہ موجود ہیں۔

تاریخی جنج خانہ، قیام پاکستان سے پہلے کی تاریخی عمارتیں، تاریخی مساجد، تاریخی ہنومان مندر، اور مزار عالم پیر بخآری سیاحوں کے لیے دل چسپی کا ذریعہ ہیں۔
اسی طرح خواجہ سویٹس، المدینہ فوڈز کیفے، حافظ بریانی پوائنٹ، پاکیزہ ہوٹل اینڈ تکہ شاپ وغیرہ اپنے ذائقوں کے لیے مشہور ہیں۔

شہر کے اہم ترین مسائل میں علی پور مظفرگڑھ قاتل روڈ کی دو رویہ تعمیر، شہر سلطان سے جلال پور پیر والا کے درمیان چناب پل کی تعمیر، عالم پیر بخآری یونیورسٹی آف ایگری کلچر اینڈ لائیو سٹاک کا قیام، اور سلطان احمد انڈسٹریل ایریا کی تشکیل کے ذریعے بے روزگاری کا خاتمہ شامل ہیں۔

دوستو آج آپکوسیت پور ہائ سکول کے مالک اور اسکے خاندان کی کہانی جو بڑی مشکل اوربہت تحقیق کے بعد ملی ہے آپکو پڑھاتے ہیںدیو...
14/06/2026

دوستو آج آپکوسیت پور ہائ سکول کے مالک اور اسکے خاندان کی کہانی جو بڑی مشکل اوربہت تحقیق کے بعد ملی ہے آپکو پڑھاتے ہیں
دیوان ٹیک چند آف سیت پورکی نواسی کی یادیں

اندرا پسریچا 17 جنوری 1917 کو مظفر گڑھ ضلع کے سیت پور میں ہندو دیوان فیملی میں پیدا ہوئیں۔انکی والدہ کا تعلق سیت پور سے تھا جبکہ والد بھیرہ کے رہنے والے تھے
اندرا نے کنیئرڈ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 28 اپریل 1940 کو لاہور میں پریم پسریچا سے شادی کی۔ تقسیم ہند کے وقت انکے خاندان نے لاہور سے ہجرت کی اور دہلی مقیم ہوۓ
وہ ایک سماجی کارکن تھیں اور انہوں نے نئی دہلی میں 1984 میں فسادات کے دوران سکھوں کو بچانے میں فعال کردار ادا کیا۔ اس نے اور اس کے شوہر پریم پسریچا نے ایکل ودیالیہ اور آئی کیمپ لگانے میں اڑیسہ کے قبائلیوں کی مدد کی۔2015 میں 98 سال کی عمر میں دہلی میں انکا انتقال ہوا۔مرنے سے چند ماہ پہلے انہوں نے ایک خاتون صحافی نیرا بورا کو انٹرویو دیا جو پیش خدمت ہے ۔۔۔(مترجم )

اندرا پسریچا ۔نیودہلی 2015

میرے نانا دیوان ٹیک چند کا تعلق ملتان کے نزدیک ضلع مظفرگڑھ کے علاقے سیت پور سے تھا۔ انکے آباٶاجداد ریاست سیت کے والیان کے دربار کے ساتھ بطور وزیر وابستہ رہے تھے اور سیت پور میں جاگیر کے مالک تھے
وہ بہت پرعزم اور علم کے شیداٸی تھے۔ انہوں نے ابتداٸی تعلیم سیت پور سے حاصل کی
ملتان میں ایمرسن کالج سے گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد وکالت کے لیے انگلینڈ چلے گئے۔قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ آئی سی ایس کے امتحان میں شریک ہوۓ اور امتحان پاس کرکے امپریل سول سروس کا حصہ بنے۔ وہ صوبہ پنجاب کے پہلے شخص تھے جو آٸی سی ایس آفیسر بنے وہ مختلف اضلاع میں ڈپٹی کمشنر رہے جبکہ گوجرانوالہ اور انبالہ کے کمشنر رہے تھے
جب وہ انگلینڈ میں تھے تو ان کی بیوی اپنے دو بچوں کے ساتھ اپنے والدین کے ساتھ رہنے چلی گئی۔ بڑا بیٹا کھیم چند تھا اور چھوٹا بیٹی میری ماں رام دیوی تھا۔ جب میرے نانا انگلستان سے واپس آئے تو انہیں شدھی ہونے (تطہیر کی رسم) کے لیے ہری دوار جانا پڑا ۔ وہ کسی مرکزی شہر میں بسنا چاہتا تھے جہاں اچھے اسکول ہوں اور آب و ہوا بھی اچھی ہو۔ انھوں نے دہرہ دون میں 14، نیو روڈ پر ایک مکان خریدا اور سیت پور میں اپنی حویلی اور خاندانی جاٸیداد چھوڑکر دیرہ دون منتقل ہوۓ۔سیت پور کی اپنی حویلی انہوں سرکاری سکول کو دے دی
میری والدہ کے بھائی کرنل براؤن کے سکول گئے۔ لیکن میری والدہ کو مسوری کے واورلے کانونٹ میں بھیج دیا گیا کیونکہ دیرہ دون میں لڑکیوں کے لیے کوئی اچھا اسکول نہیں تھا۔ وہ وہاں ہوسٹل میں رہتی تھیں۔ ویورلے کانونٹ میں گوشت پیش کیا جاتا تھا، لیکن ایک ہندو ہونے کے ناطے وہ گائے کا گوشت نہیں کھا سکتی تھیں۔ چنانچہ اس کا کھانا دھوبن (کپڑے دھونے والی عورت) نے پکایا کرتی تھی Waverley میں اس نے فرانسیسی اور انگریزی کی تعلیم حاصل کی، اور پیانو بجانا سیکھا۔ جب دیرہ دون میں کنیا مہاودیالیہ (لڑکیوں کا اسکول) کھولا گیا تو اس نے واورلی چھوڑ کر اس میں شمولیت اختیار کی

میری والدہ کے بعد، میرے نانا نانی کے ہاں تین اور بچے دہرہ دون میں پیدا ہوئے - نانک چند، شاستری چند اور مصری چند۔ میرے دادا عربی سیکھنے مصر (مصر) گئے تھے اور اسی وجہ سے ان کے بیٹے کا نام مصری چند رکھا گیا۔ ماما چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں اور وہ اپنے والد کی بہت لاڈلی تھیں۔ وہ ڈاک ٹکٹ جمع کرتی تھیں، ایک بہت اچھی گھڑ سوار تھی اور شطرنج میں بھی بہت اچھی تھیں۔ میرے ماموں کھیم قانون کی تعلیم حاصل کرنے انگلینڈ گئے۔ پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو اسے واپس بلایا گیا۔ وہ بہت خوش قسمت تھا۔ وہ اپنا سامان بحری جہاز پر چھوڑ کر پڑھنے کے لیے کتاب خریدنے چلا گیا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ جہاز چلا گیا تھا۔ بعد میں وہی جہاز دشمن کے ہاتھوں تباہ ہوگیا
وہ لاہور واپس آئے، اور ماڈل ٹاؤن کی تخلیق کے پیچھے محرک قوت تھے۔ وہاں بنایا گیا پہلا گھر ہمارا تھا۔ وہاں مالٹے کے بہت سے درخت تھے۔ کبھی ہم وہاں جا کر ویک اینڈ گزارتے تھے۔ چاروں طرف جنگل تھے۔ چچا کھیم کا ایک بیٹا تھا، پریم، جو مجھ سے ایک سال بڑا تھا، اور ایک بیٹی وید کماری، جو میرے بھائی جگجیت کے برابر تھی۔ وہ آٹھ سال کی عمر میں مر گیا. ہم صبح بہت جلدی جایا کرتے تھے۔ پریم اپنی شاٹ گن لے کر جایا کرتا تھا جب وہ جنگل صاف کر رہے تھے۔ اس کے بعد چچا کھیم دہلی اور شاہدرہ کے درمیان دلشاد نامی جگہ پر ٹھہرے۔ وہ پرانی دہلی میں کمشنر ہاؤس میں ٹھہرے۔ وہ اکیلا نہیں رہ سکتا تھا اس لیے اس نے مدراس ہوٹل کے نیچے کناٹ سرکس میں کرائے پر جگہ لے لی۔ کونے کے آس پاس اس کے بھائی نانک کا دفتر تھا۔ نانک چند ایک انجینئر تھے جنہوں نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی تھی۔ ماموں کھیم کو پرانی چیزیں جمع کرنے میں دلچسپی تھی۔ اس نے ایک تہہ کرنے والا چرخہ خریدا تھا جو میں نے اس سے لیا تاکہ میں کاتنا شروع کر سکوں۔ شوگر کے مرض میں اچانک ان کا انتقال ہوگیا۔
اپنے کیریئر کے ایک مرحلے میں، میرے نانا امبالہ کے کمشنر تھے۔ ہم وہاں سے شملہ جایا کرتے تھے۔ میری نانی ، جسے ہم اماں جی کہا کرتے تھے ، ان کا بیٹا پریم اور بیوی (میری مامی) بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں تھیں۔ ایک بار اماں جی ہمیں ایک کھلونوں کی دکان پر لے گئیں جہاں بہت سارے دلکش کھلونے تھے اور ہمیں وہ سب پسند آئے۔ اماں جی نے ہمیں بتایا کہ وہ ہم میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھلونا دیں گی۔ لیکن ہم اتنے متوجہ تھے کہ ہم فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ ہم کس کو لیں گے۔ پھر ہم شملہ گئے۔ سفر کے دوران ہمیں گاندھی جی کو ملنے کا موقع ملا۔ میرے نانا وہیں رک گئے اور گاندھی جی سے کچھ باتیں کیں۔ (ایڈیٹر کا نوٹ: یہ غالباً 1920 کی دہائی کے اوائل یا وسط میں تھا۔) جب میرے نانا امبالہ کے کمشنر تھے، انہوں نے کروکشیتر میں گیتا بھون بنوایا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں اپنے والدین کے ساتھ انبالہ گٸی تھی جب گیتا بھون کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا تھا۔ میری عمر تقریباً 8 یا 9 سال تھی۔اسکے بعد جب 2013 میں، میں اپنے دادا، پروفیسر روچی رام ساہنی کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹ کے اجراء کے لیے چندی گڑھ گٸی تو میں نے اپنے کزن رمن آنند سے کہا کہ وہ مجھے کروکشیتر لے جائیں کیونکہ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ ہال میں میرے نانا دیوان ٹیک چند کی تصویر لٹکی ہوئی ہے لیکن اس پر کوئی نام نہیں تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ کس کی تصویر ہے۔ چندی گڑھ میں، میں نے اپنے کزن کوکو سے کہا کہ وہ مجھے خاندانی تصویریں دکھائیں اور جلد ہی مجھے ایک تصویر مل گئی جس میں میرے دادا اور نانا موجود تھے۔ میں نے اس سے تصویر لی اور گیتا بھون کے حکام کو دکھائی۔ میں اس جگہ تک گٸی جہاں تصویر رکھی تھی اور انہیں اپنے نانا کی تصویر دکھائی۔ وہ سب "ایک جیسی ہے" کے نعرے لگا رہے تھے۔ وہ حیران تھے کہ مجھے اتنے سال پہلے کا انبالہ جانا یاد ہے۔ اگلے دن مقامی اخبار نے اطلاع دی کہ نامعلوم تصویر کا معمہ حل ہو گیا ہے۔
میرے نانا دوران سروس انتقال کرگٸے تھے انکے بیٹے دیوان مصری چند برٹش انڈین ایٸر فورس میں پاٸلٹ تھے
تقسیم ہند سے پہلے ہمارا خاندان لاہور منتقل ہوگیا تھا
1947 سے پہلے ہم سیت پور آتے جاتے رہتے تھے کیونکہ میری والدہ کے رشتہ دار وہاں مقیم تھے تقسیم ہند کے بعد پھر کبھی سیت پور جانے کا اتفاق نہ ہوا
میری نانی میری والدہ اور دیگر رشتہ دار سیت پور کو بہت یاد کرتے تھے میری والدہ اور نانی گھر میں سراٸیکی زبان بولتی تھیں۔
تحریر و تحقیق میاں محمد طارق احسان

سیت پور تاریخی شہر کی عظیم علمی درسگاہ جو پرائمری سکول سے شروع ہو گر آج ہائ سکول بن چکا ہے انشاءاللہ جلد کالج کا درخہ بھ...
13/06/2026

سیت پور تاریخی شہر کی عظیم علمی درسگاہ جو پرائمری سکول سے شروع ہو گر آج ہائ سکول بن چکا ہے انشاءاللہ جلد کالج کا درخہ بھی پائے گا ۔اس سکول کی عمارت کے بارے میں کچھ معلو مات آپکو دیتے ہیں یہ عمارت دیوان ٹیک چند کی کوٹھی ڈیرہ اور گھر تھا دیوان صاحب کا پیدائش سیت پور کی تھی اور خاندان بھی سیت پور میں آباد تھا دیوان ٹیک چند نے آعلی تعلیم لاہور اور دہلی سے حاصل کی اسکے بعد وہ ضلع کلیکڑ تعینات ہوئے بعد میں کمشنر پنجاب بن گئے جن انڈیا کا ابنالہ امرتسر پاکستانی پنجاب کا حصہ تھا 1847 میں پاکستان بنا تو دیوان صاحب لاہور میں پارٹیشن کلیکڑ لگا دیا گیا جسکے ذمہ مہاجریں ہندو و مسلم کا ریکارڈ اور انکی جائداد کے گوشوارے بنانا ذمہ تھا پاکستان بننے کے پہلے سال دیوان صاحب سیت پور سے اپنا خاندا ہندوستان کے شہر کلکتہ کے لیے لے فئے اور اپنے گھر کو تعلیمی سر گرمیوں کے لیے وقف کر گئے یہ عمارت انتہائ خوبصورت تھی جسمیں چھ کمرے تھےدو ہال کمرے اور چہار جانب محرابی برامدہ جسمیں بہترین لکڑی کی بالکونیاں بنی ہو ئ تھیں ہر کمرے میں آتش داناور انگھیٹھیاں بنی تھیں ان چھ بڑے کمروں کے ساتھ تین چھوٹے کمرے اور ڈبل منزل پر ایک آٹھ در کمرہ بنا ہوا تھا اوپر جانے کے لیے خوبصور مینار جسمیں گھماو دار سیڑھیاں بنی ہوئ تھیں دوسری منزل کو مینار سے ملانے کے لیے لکڑی کا ایک خوبصورت پل بنا ہوا تھا جسے دیکھ کر کسی شاہی محل کا گمان ہوتا تھا یہ عمارت اور اسکا سڑکچر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا مگر شومئ قسمت اب اس عظیم عمارت کو ختم کر دیا گیا ہے ایک تاریخ دشمن ہیڈ ماسڑ نےاس عمارت کی دیار کی بہترین لکڑی اور پختہ اینٹوں کے بیچنے کے لیے اس عمارت کو گرا کر تاریخ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا اب ان تصویروں کو دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔
تحریر میاں محمد طارق

تاریخی شہر سیت پور کی ایک خوبصورت عمارت جو ہندءوں نے پارٹیشن سے پہلے بنوائ تھی۔تحریر و تصویر میاں محمد طارق
13/06/2026

تاریخی شہر سیت پور کی ایک خوبصورت عمارت جو ہندءوں نے پارٹیشن سے پہلے بنوائ تھی۔
تحریر و تصویر میاں محمد طارق

تاریخی شہر سیت پور میں قدیم قبرستان مخدوم کیمیا نظر سائیں میں ایک شکستہ مسجد موجود ہے جسکی لمبائ چوڑائ خانہ کعبہ کی لمبا...
13/06/2026

تاریخی شہر سیت پور میں قدیم قبرستان مخدوم کیمیا نظر سائیں میں ایک شکستہ مسجد موجود ہے جسکی لمبائ چوڑائ خانہ کعبہ کی لمبائ و چوڑائ سے مشابہت رکھتی ہے اور شنید ہے یہ مسجد محمد بن قاسم جب سندھ دریا کے راستے پنجاب میں داخل ہوا اس نےدریا کنارے قدیم تاریخی شہر میں قیام کیاجسکے ثبوت کے طور پر آج بھی عرب نسل کی کچھ کھجوروں کے درخت موجود ہیں محمد بن قاسم یا اسکے کسی امیر نے یہ مسجد تعمیر کرائ اس مسجد کی ساخت مشہور تحقیق دان مورخ جناب مرزا حبیب احمد خانپوری کے مطابق خانہ کعبہ سے مشہابت اور پاکستان میں ایسی ایک مسجد سندھ کے آروڑ میں شکستہ حالت میں موجود ہونے کی نشان دہی فرمائ اب یہ تاریخی ورثہ اپنی شکستگی کی وجہ سے اور نامناسب دیکھ بھال کی وجہ سے شاید چند سالوں کا مہمان ہے اس مسجد کے نیچے تہ خانہ بنا ہوا ہے جسمیں طلبا تعلیم حاصل کرتے تھے۔
تحریر و تحقیق میاں محمد طارق

سیت پور ہیریٹیج کلب کی جانب سے عید الاضحیٰ کے پُرمسرت موقع پر سیت پور کے تمام عزیز شہریوں کو، خواہ وہ بیرونِ ملک مقیم ہو...
27/05/2026

سیت پور ہیریٹیج کلب کی جانب سے عید الاضحیٰ کے پُرمسرت موقع پر سیت پور کے تمام عزیز شہریوں کو، خواہ وہ بیرونِ ملک مقیم ہوں یا پاکستان کے مختلف شہروں میں رہ رہے ہوں، دل کی گہرائیوں سے عید مبارک۔
آپ سب ہماری پہچان، ہمارا فخر اور ہماری محبت ہیں۔ فاصلے چاہے کتنے ہی ہوں، آپ ہمیشہ ہمارے دلوں کے قریب رہتے ہیں۔
ہم آپ سب کو بے حد یاد کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی زندگیوں کو خوشیوں، کامیابیوں، امن اور برکتوں سے بھر دے۔
سیت پور ہیریٹیج کلب
آپ سب سے محبت کرتا ہے اور ہمیشہ آپ کی خیر و عافیت کا طلبگار ہے۔
عید الاضحیٰ مبارک 🌙✨

18/04/2026

🌍 World Heritage Sites Day | 18 April
آج دنیا بھر میں UNESCO کے زیرِ اہتمام World Heritage Sites Day منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی ثقافتی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

Address

Seet Pur
Muzaffargarh
34480

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Seet Pur Heritage Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category