31/07/2026
میرے محسن و عزیز جناب شمشیر حسین صاحب کی بہترین کاوش شہر سلطان کی تاریخ بہت خوبصورت انداز تحریر میں قارئین کی نذر پیش کرتا ہوں امید سیت پور ہیرٹیج گروپ کے فالورز کی یہ تحریر و تصاویر ضرور پسند آئیں گی۔
دو سلطانوں کا شہر۔۔۔
شہر سلطان۔۔۔ چار صدیوں پر محیط داستان۔۔۔
عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کی آواز میں مشہور گیت
'نکی جئی گل توں رسدیں
ڈھولا تیڈی کمال اے"
آپ میں سے ہر ایک نے سنا ہوگا بلکہ ہم نے تو اس گانے کو صرف سنا ہی نہیں بلکہ سر دھنتے ہوئے سرشاری کے عالم میں گنگنایا بھی ہے۔ اس قدر معروف گیت کے تخلیق کار کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے ہی وسیب کے خوب صورت علاقے شہر سلطان کے باسی جناب اللہ وسایا مہجور بخاری ہیں۔
کون جانتا تھا کہ قیام پاکستان سے نو سال پہلے 1938ء میں شہر سلطان جیسے غیر معروف اور پس ماندہ علاقے میں جنم لینے والا اللہ وسایا ایک دن مہجور کا تخلص اختیار کر کے جسم و جاں کے تمام تر جذبوں کو روح کے رتھ پر سوار کر کے ایسی ایڑ لگائے گا کہ سارا گردوپیش حیرت زدہ ہو کر گرد رہ بن جائے گا۔ کہتے ہیں کہ بڑی روحیں خاکی جسم میں بے چین رہتی ہیں بالکل اسی طرح جیسے عین سیلاب کے عالم میں بپھرے دریا کم ظرف کناروں کا حلقہ توڑ کر سمندروں کی طرح بے حد و حساب رقبے پر پھیل جانا چاہتے ہیں۔ سو ہر بڑی روح کی طرح اللہ وسایا مہجور کی روحانی بے چینی نے بھی شعر و ادب کو اپنی سیلانی فطرت کی تسکین کا ذریعہ بنایا۔
غالب نے کہا تھا۔۔۔
بقدر شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
چنانچہ مہجور نے بھی اپنی بے چین فطرت کی سیرابی کے لیے کسی ایک صنف شاعری کی بجائے کافی، نظم، دوہرے، رباعی اور قطعات جیسی متنوع اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔
شاعری میں فطری دل چسپی رکھنے کی وجہ سے اللہ وسایا مہجور نے تحصیل جتوئی کے نامور شاعر استاد جانباز جتوئی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا تو یہ گویا عروج کی طرف ایک بڑا قدم تھا۔
انھی اللہ وسایا مہجور نے یوم عاشور اور کربلا کے حوالے سے نوحے اور قصیدے بھی لکھے جو وسیب میں انتہائی ذوق اور عقیدت سے پڑھے جاتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ بعض شاگرد اپنے استاد سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جناب مہجور نے بھی اپنے فن ایسی مہارت حاصل کی کہ لوگ انھیں جانباز ثانی قرار دینے لگے۔
جب ہم تاریخ کے اوراق الٹتے ہیں انھی مہجور کے شہر سلطان کو آج سے چار سو سال پہلے مغل بادشاہ جہانگیر کے دور حکومت میں پھلتا پھولتا دیکھتے ہیں۔ چناب اور سندھ کے درمیان آباد شہر سلطان کی بنیاد کس شخصیت نے رکھی اور اس کا نام شہر سلطان کیوں رکھا گیا اس حوالے سے مستند تاریخ واضح نہیں تاہم سینہ بہ سینہ چلنے والی علاقائی روایات کے مطابق چار سو سال پہلے موجودہ شہر سلطان سے تین چار کلومیٹر مشرق کی طرف دریائے چناب کے کنارے سلطان چھجڑہ نامی شخص نے کئی مربع زمین کو آباد کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ مزید لوگ آتے گئے اور یوں چناب کنارے ایک ایسی آبادی وجود میں آئی جسے سلطان چھجڑہ کے نام پر شہر سلطان کا نام دیا گیا۔
کسی شاعر نے شاید سلطان چھجڑہ کے اس طرح شہر آباد کرنے کو دیکھ کر ہی کہا تھا کہ۔۔۔
شہر بدر ہو جانے سے کیوں گھبراتے ہو
ہم دونوں سے ایک قبیلہ بن سکتا ہے
سو، اکیلا سلطان چھجڑہ پہلا قطرہ بن کر دریا کنارے آیا، نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کی، اور یوں۔۔۔۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کاروں بنتا گیا
کے مصداق شہر سلطان وجود میں آیا۔ غور کریں تو یہ صرف شہر سلطان کی نہیں بلکہ پاکستان کے بہت سے قصبوں کی داستان ہے۔
اسی دوران سیت پور کے بخآری خاندان سے سید علم الدین بخاری المعروف جناب عالم پیر ہجرت کر کے شہر سلطان پہنچے تو سلطان چھجڑہ نے ان کی عزت افزائی کی، انھیں ہر طرح کی آسانی اور سہولت مہیا کی اور پھر مرنے سے پہلے اپنی تمام جاگیر جناب عالم پیر بخآری کے نام کر دی۔
سید عالم پیر بخآری نے سلطان چھجڑہ کو دعا دی کہ جب تک دنیا آباد ہے یہ شہر تیرے نام پر آباد رہے گا۔ کہتے ہیں کہ وہ دن اور آج کا دن یہ علاقہ شہر سلطان کہلاتا ہے۔
ایک اور روایت کے مطابق نواب غازی خان نے یہ علاقہ حضرت سلطان احمد قتال کو بطور جاگیر عطا کیا اور انھی کے نام پر اسے شہر سلطان کہا جانے لگا۔ یاد رہے کہ 1542 ء میں اچ شریف کے سادات خاندان میں پیدا ہونے والے سلطان احمد قتال دراصل موجودہ شہر سلطان میں مدفون بزرگ عالم پیر بخآری کے والد تھے جو کچھ عرصہ شہر سلطان میں رہنے کے بعد چناب کو عبور کر کے مشرقی جانب رہائش پذیر ہوئے اور شہر سلطان میں اپنے بیٹے عالم پیر بخآری کو چھوڑ گئے۔ بیٹے نے شہر سلطان کو سنبھالا تو باپ نے چناب کے مشرقی کنارے موجود ویرانے کو زندگی بخشنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جلال پور پیر والا شہر کی بنیاد رکھی۔ آج سلطان احمد قتال بزرگ اسی علاقے میں اپنے مزار کے اندر ابدی نیند سو رہے ہیں۔
عالم پیر بخآری 1594ء میں وفات پا گئے تو ان کی خانقاہ پرانے شہر سلطان میں بنائی گئی۔ بعد میں ان کے دو بیٹے بھی ان کے ساتھ دفن کیے گئے۔ آج بھی ان کی نسل سے بخآری سادات محلہ شہر سلطان میں آباد ہیں۔
وقت پر لگا کر اڑتا جاتا ہے اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ 1750 ء میں قدیم شہر سلطان کو چناب کے سیلاب نے مکمل طور پر تباہ کر کے غرق کر دیا۔ چنانچہ شہر کو تین چار کلومیٹر مغرب کی طرف موجود جگہ پر دوبارہ آباد کیا گیا۔ عالم پیر بخآری کا اصل مزار بھی سیلاب کی زد میں آگیا تو ان کے جسد خاکی کو وہاں سے نکال کر موجودہ مزار والی جگہ پر دفن کیا گیا۔ عالم پیر بخآری کے مزار کی موجودہ عمارت سلطان احمد ولد دیوان محمد غوث نے 1903ء میں تعمیر کروائی جہاں ان کے دو بیٹے بھی ان کے ساتھ ہی مدفون ہیں۔ باہر سے آنے والوں کے لیے یہ مزار شہر سلطان کی سب سے اہم جگہ ہے جہاں ہر سال عرس اور میلہ منعقد کیا جاتا ہے۔
ماضی میں شہر سلطان جلال پور کے دیوان خاندان کی دلچسپیوں کا بھی مرکز رہا کیونکہ دریا کے اس طرف بھی ان کی زمینیں موجود تھیں۔ ایک وقت تھا کہ شہر سلطان کے دیوان محلے میں دیوان عباس کی شاندار حویلی ہوا کرتی تھی لیکن یہ سب ماضی کا حصہ ہے۔ دیوان خاندان نے شہر سلطان سے ناطہ توڑ کر جلال پور پیر والا کو اپنی سیاست کا محور بنایا جو آج تک جاری و ساری ہے۔
ماضی کا سفر کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں تو شہر سلطان کبھی سیت پور کی نہڑ ریاست کا حصہ نظر آتا ہے تو کبھی ریاست سیت ہور سے غداری کرنے والے مخدوم خاندان کے ہاتھ آجاتا ہے۔ اور کچھ وقت بعد ریاست بہاول پور کے نواب اس پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ گویا ہمارا شہر سلطان۔۔۔
ٹوٹا کاسہ رستے پر ہو جیسے، میرا دل
آتے جاتے پر اک سے یہ کھا لیتا ہے ٹھوکر
کی تصویر نظر آتا ہے۔
انیسویں صدی میں شہر سلطان دریائے سندھ اور چناب کے درمیان ہونے کی وجہ سے اہم تجارتی مرکز بن گیا کیونکہ یہ سندھ اور چناب کے درمیان ایک اہم راستے پر واقع تھا۔ اس دور میں بااثر ہندو گوگیا خاندان نمایاں تجارتی اہمیت رکھتا تھا۔ گوگیا خاندان نے اپنا علیحدہ محلہ قائم کیا کہ جو بند دروازوں کے اندر قائم تھا۔ آج بھی یہ قدیم ترین محلہ اپنی پرانی عمارتوں کے ساتھ اپنے شاندار ماضی کے قصے سناتا نظر آتا ہے اور محلے کو بند کر کے رکھنے والے کئی دروازوں میں سے ایک دروازہ گھنٹی دروازے کے نام سے زمانے کے سرد و گرم کا مقابلہ کرتا نظر آتا ہے۔
گوگیا خاندان نے گزرنے والے مسافروں اور تجارتی قافلوں کے لیے مسافر خانے تعمیر کیے۔ انھی میں سے ایک تاریخی مسافر خانے کی عمارت آج بھی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے اور آج کل اس میں گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول نمبر 2 قائم ہے۔
تاریخ کا یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ 1838ء میں اسی محلے میں ہندو عبادت کے لیے ہنومان مندر قائم کیا گیا جو پونے دو سو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی شہر سلطان میں موجود ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ہندؤوں کے چلے جانے پر یہ مندر ویران ضرور ہو گیا لیکن قائم رہا۔
بعد میں اس جگہ گورنمنٹ پرائمری سکول شہر سلطان قائم کیا گیا تو یہ مندر سکول کے احاطے کے اندر آگیا۔ آج یہ سکول گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول شہر سلطان کے نام سے جانا جاتا ہے اور وہ تاریخی ہنومان مندر آج بھی سکول کے احاطے میں سینہ تانے کھڑا ہے
ہے اور ہمیں تاریخ کا سبق دے رہا ہے کہ۔۔۔
دیکھو مجھے جو دیدہء عبرت نگاہ ہو۔۔۔
روایات کے مطابق شہر میں کچھ اور مندر بھی موجود تھے جن کا اب نام و نشان تک۔ باقی نہیں رہا۔
انگریز دور میں شہر سلطان ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل سیت پور کا حصہ رہا، بعد میں جب تحصیل سیت پور ختم کر دی گئی تو یہ تحصیل علی پور کا حصہ بنا۔ 1996ء میں جب نئی تحصیل جتوئی بنائی گئی تو شہر سلطان کو جتوئی میں شامل کر دیا گیا۔ آج کل یہ جتوئی کی ایک میونسپل کمیٹی ہے۔
انگریز دور میں بنائے گئے قدیمی پرائمری سکول، تھانہ، ڈاک خانہ اور کینال ریسٹ ہاؤس بھی شہر سلطان کی شاندار تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان میں سے کینال ریسٹ ہاؤس کی تاریخی عمارت آج کل گورنمنٹ گرلز کالج کے طور استعمال کی جا رہی ہے۔
موجودہ شہر اور اس کے مرکزی بازار میں داخلے کے چار اہم دروازے ہیں جنھیں آج کل خلفائے راشدین کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ چاروں راستے شہر کے مرکزی بازار میں جا کر باہم مل جاتے ہیں۔ بازار کے اندر ہی عالم پیر بخآری کا مزار ہے جس کے ساتھ ہی تاریخی قبرستان ہے جس کے دونوں اطراف تھلے بنے ہوئے ہیں جہاں پر محرم الحرام کی مجالس اور زیارات برآمد ہوتی ہیں۔ مزار کے صحن میں بوہڑ کا ایک قدیم درخت موجود ہے جو دیکھنے والوں پر ہیبت طاری کر دیتا ہے۔
علی پور مظفر گڑھ روڈ پر واقع شہر سلطان علی پور سے 20 کلومیٹر جبکہ مظفر گڑھ سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر بر لب سڑک واقع ہے۔ مشرق میں سپر بند شہر کو چناب کے سیلابی پانی سے بچانے کی سعی کرتا نظر آتا ہے۔ شہر سلطان سے کراچی اور لاہور دونوں طرف کے لیے بڑی ٹرانسپورٹ آسانی سے دستیاب ہے۔
شہر میں کئی تاریخی مساجد اور ایک مرکزی امام بارگاہ اور دو عید گاہیں بھی موجود ہے۔ قدیمی قبرستان میں روڈ کے کنارے واقع ہے۔
شہر میں بوائز گرلز کالج، ہائی اسکول، دفتر 1122, تھانہ، ڈاک خانہ، ٹی ایچ کیو لیول ہسپتال کی جدید عمارت وغیرہ موجود ہیں۔
تاریخی جنج خانہ، قیام پاکستان سے پہلے کی تاریخی عمارتیں، تاریخی مساجد، تاریخی ہنومان مندر، اور مزار عالم پیر بخآری سیاحوں کے لیے دل چسپی کا ذریعہ ہیں۔
اسی طرح خواجہ سویٹس، المدینہ فوڈز کیفے، حافظ بریانی پوائنٹ، پاکیزہ ہوٹل اینڈ تکہ شاپ وغیرہ اپنے ذائقوں کے لیے مشہور ہیں۔
شہر کے اہم ترین مسائل میں علی پور مظفرگڑھ قاتل روڈ کی دو رویہ تعمیر، شہر سلطان سے جلال پور پیر والا کے درمیان چناب پل کی تعمیر، عالم پیر بخآری یونیورسٹی آف ایگری کلچر اینڈ لائیو سٹاک کا قیام، اور سلطان احمد انڈسٹریل ایریا کی تشکیل کے ذریعے بے روزگاری کا خاتمہ شامل ہیں۔