21/05/2026
جی بی اے حلقہ 5 میں سخت مقابلہ، ووٹ تقسیم فیصلہ کن عنصر بننے کا امکان
جی بی اے حلقہ 5 میں اس بار انتخابی مقابلہ غیر معمولی طور پر سخت اور پیچیدہ صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں متعدد مضبوط امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ حلقے میں سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مختلف دھڑوں میں ووٹوں کی تقسیم نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ریاض اکبر اس دوڑ میں ایک منظم انتخابی مہم کے ساتھ نمایاں نظر آ رہے ہیں۔ سمائیر ، اسقرداس ، شایار اور ہوپر میں ان کی سرگرمیاں خاصی بڑھ گئی ہیں۔ وہ مجلس وحدت المسلمین کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں، جو پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہے۔ ان کی تعلیمی قابلیت اور منظم مہم کو ان کی مضبوطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جاوید منوا مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔ وہ سابق وزیر خزانہ رہ چکے ہیں اور ماضی میں آزاد اور پی ٹی آئی کے ساتھ بھی وابستہ رہے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ان کا ریکارڈ موجود ہے، تاہم اس بار انہیں اپنے ہی قریبی آزاد امیدوار کی وجہ سے ووٹ تقسیم ہونے کے چیلنج کا سامنا ہے۔
وزیر جہانگیر کو ایک متحرک اور عوامی سطح پر مضبوط رابطہ رکھنے والا امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ خاص طور پر نوجوانوں میں مقبول ہیں اور کمیونٹی مسائل پر ان کی مسلسل سرگرمی انہیں ایک مضبوط دعویدار بناتی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ذوالفقار مراد بھی اس انتخاب کا حصہ ہیں۔ وہ گزشتہ 15 سال سے سیاست میں سرگرم ہیں تاہم ابھی تک کسی انتخابی کامیابی سے محروم رہے ہیں۔ اس بار بھی پارٹی کے اندر مکمل اتحاد نہ ہونے کے باعث ان کی پوزیشن مشکل بتائی جا رہی ہے۔
اسی حلقے میں سابق پیپلز پارٹی عہدیدار عباس نگری آزاد حیثیت میں انتخاب لڑ رہے ہیں، جس سے پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک میں مزید تقسیم پیدا ہو گئی ہے اور اس کا براہ راست اثر ذوالفقار مراد کی انتخابی مہم پر پڑ سکتا ہے۔
پرنس قاسم بھی اس انتخاب میں اہم امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وہ آئی ٹی پی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں اور نگر کے سابق حکمران خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگرچہ وہ ماضی میں کوئی انتخاب جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، تاہم ان کا خاندانی اثر و رسوخ بعض علاقوں میں اب بھی موجود ہے۔
مجموعی طور پر حلقے کی صورتحال اس وقت انتہائی غیر یقینی ہے، جہاں ووٹوں کی تقسیم کسی بھی امیدوار کی واضح برتری کو مشکل بنا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق فیصلہ کن کردار چھوٹے فرق اور آخری مرحلے کی سیاسی جوڑ توڑ ادا کر سکتی ہے۔