01/07/2026
ناران کا یہ حادثہ بتاتا ہے کہ قدرت کتنی طاقتور ہے اور ضروری نہیں کہ ہر فور بائی فور گاڑی کہیں بھی چلی جائے۔دریا کے کنارے پر ہی اتنا زیادہ اور تیز پانی تھا کہ وہ گاڑی کو لمحوں میں بہا کر لے گیا۔اگر وہاں کے مقامی فوری طور پر رافٹنگ بوٹ کو استعمال نہ کرتے تو گاڑی میں موجود کسی فرد کا بچنا مشکل تھا۔کیونکہ جتنی تیزی سے یہ واقعہ ہوا کسی امداد کا کہیں دور سے آنا نا ممکن تھا۔سیاحتی مقامات کے چپے چپے پر ریسکیو ٹیموں اور سامان کو کھڑا کرنا دنیا کے کسی بھی ملک کےلیے ناممکن ہے۔ وڈیو میں بہت ساری گاڑیاں دریا کے پاٹ میں کھڑی ہیں۔ان میں سے کسی کو وہاں کھڑا نہیں ہونا چائیے۔اگر یکدم پانی آ جائے تو ان میں سے کسی کو بھاگنے کا موقع بھی نہیں ملے گا بلکل اسی طرح جس طرح پچھلے سال سوات کا افسوس ناک حادثہ ہوا تھا۔
دریاوں سے دور رہیں خصوصا اس انتہائی گرمی کے موسم میں جب پہاڑوں پر برف تیزی سے پگھل رہی ہےاور وقت بے وقت طوفانی بارشیں ہو رہی ہیں۔
یہ کل شام (30/06/2026) پانچ بجے کا واقعہ ہے۔ گاڑی ابھی تک دریا ہی میں ہے۔اج شاید اسے نکالنے کی کوشش کی جائے۔
ریسکیو کرنے والے وہاں کے مقامی رافٹنگ چلانے والے نوجوان تھے جنھوں نے فوری طور پر حاظر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک عام رافٹ بوٹ پر یہ جانیں بچائیں ۔ان نوجوانوں کی بہادری اور حاظر دماغی کو سلام ۔حکومت وقت کو چائیے کہ ان نوجوانوں کی بہادری کا اعتراف کرے۔