Stay and Travel

Stay and Travel Travel brings power and love back into your life.

27/12/2025
19/07/2024

خوبصورت مصنوعی آبشار ۔۔۔کنڈل شاہی
آبشار ایک بلندی سے گرتے پانی کے جھرنے کو کہتے ہیں جو کہ بہت بلندی سے بھی کرسکتا ہے اور دس بارہ فٹ بلندی بھی کسی جھرنے کو آبشار میں بدلنے کیلیے کافی ہوتی ہے ۔۔۔
مظفر آباد سے نکل کر چلہانہ کے مقام پر باقاعدہ وادی نیلم شروع ہوجاتی ہے ۔۔۔جلد ہی کنڈل شاہی کا بازار آجاتا ہے ۔۔یہاں جاگراں نالے پر بنا پل عبور کرتے ساتھ ہی ایک راستہ بائیں ہاتھ مڑ جاتا ہے جو سیدھا کنڈل شاہی آبشار اور پھر آگے کٹن ،جاگراں اور پھر بابون کی طرف نکل جاتا ہے ۔۔
جولائ کے ایام میں پورا پنجاب بلکہ پورا پاکستان جیسے کشمیر امڈ آیا تھا ۔۔کنڈل شاہی پل سے لیکر کنڈل شاہی آبشار تک قریبا دو کلو میٹر کا فاصلہ جو عام دنوں میں پانچ منٹ لیتا ہے وہ ایک گھنٹے میں طے کرنا پڑا ۔۔۔گاڑیوں کی روکاوٹ کی اصل وجہ وہ کوسٹر بسیں تھیں جو مختلف ٹوور ازم کمپنیوں کی جانب سے آئ ہوئ تھیں ۔۔نہ آگے پارکنگ تھی اور نہ ہی سڑک کے دامن میں اتنی گنجائش ۔۔تو پھر جس کا جہاں جی چاہا گاڑی کھڑی کی ۔۔۔دروازے لاک کیے اور نکل کھڑے ہوئے ۔۔۔آبشار کی سیر کو ۔۔۔پچھلے جائیں بھاڑ میں ۔۔۔
مقامی انتظامیہ کے کچھ ذمہ دار ملے ان سے بھی میں نے یہی گزارش کی کہ یہاں تو اتنی وسیع پارکنگ بنانا ممکن نہیں ۔۔آپ نیچے کنڈل شاہی میں دریا کنارے وسیع پارکنگ بنائیں ۔۔اور وہاں گاڑی پارک کرکے جو حضرات آبشار پر آنا چاہیں وہ آجائیں ۔۔۔اگر کوئ کٹن یا جاگراں کا چکمہ دیکر آبشار پر آئے تو اسے یہاں ہرگز گاڑی کھڑی نہ کرنے دی جائے نہ آبشار پر آنے دیا جائے ۔۔۔
خیر میری پہلے کب کسی نے مانی ہے جو یہ لوگ مانیں گے ۔۔گاڑیوں میں عورتوں کو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ خوار ہوتے دیکھ کر کافی تکلیف ہوئ ۔۔۔گوکہ اس راہ پر سبزہ اور ہریالی بہت ہے ۔۔اخروٹ کے درخت نہیں بلکہ اخروٹ کا گھنا جنگل موجود ہے ۔۔۔یخ بستہ پانی بھی موجود ہے ۔۔۔لیکن جب ان سب کا مقابلہ جون ،جولائ کے سورج سے ہوتو دن کے اوقات میں سورج ہمیشہ جیت جاتا ہے ۔۔ہاں اگر جنگل ،پانی کا ساتھ دینے بادل آجائیں تو صورتحال بدل جاتی ہے اور سورج کا پلڑا اوپر اٹھ جاتا ہے۔۔۔۔یہ بھی جولائ کا ایک گرم دن تھا ۔۔۔اور اتنی خلقت سے مجھے تو ویسے بھی کوفت ہوتی ہے ۔۔۔گرتا پڑتا آبشار کے ایک تنہا گوشے میں پہنچ ہی گیا جہاں مجھ سے پہلے صرف دو چار لوگ موجود تھے ۔۔۔قریبا ایک گھنٹہ وہاں سکون کرنے اور دو درجن تصاویر بنوانے کے بعد یہاں سے نکلنے میں عافیت سمجھی۔۔۔اس عہد کے ساتھ کہ اگلی بار ستمبر یا اکتوبر میں آؤں گا اور اس مصنوعی آبشار سے دل کھول کر لطف اندوز ہونگا ۔۔۔
کنڈل شاہی آبشار کو بہت سے لوگ کٹن آبشار بھی کہتے ہیں ۔۔لیکن چونکہ وہاں موجود مختلف جگہوں پر کنڈل شاہی آبشار لکھا تھا تو معروف کا خیال کرتے ہوئے اسے کنڈل شاہی آبشار کہنا ہی زیادہ موزوں ہے ۔۔۔کنڈل شاہی قصبہ جاگراں نالے کے دونوں اطراف پھیلا ہوا ہے اور انتہائ خوبصورت اور سر سبز وشاداب ہے اگر اسے سیاحت کی نظر نہ لگ گئ تو ۔۔۔سیاحت سے میری مراد فیس بکی سیاحت ہے ۔۔جس کی نہ تربیت ہے نہ ترتیب ۔۔۔بس چند سیلفیاں اور ان کے حصول کے لیے شہروں کی غلاظت سے پہاڑوں اور جھیلوں ،جنگلوں کو پراگندہ کرنا ۔۔۔یہ ہے بیسویں صدی کی فیس بکی سیاحت ۔۔۔
یہ آبشار باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نہیں بنائ گئ بلکہ معرض وجود میں آگئ ۔۔اس کی پیدائش بھی بغیر منصوبہ بندی کے پیدا ہونیوالے بچے کی سی ہے ۔۔۔کنڈل شاہی پاور پروجیکٹ کے لیے پانی کی ایک تیز ندی چاہیے تھی جو بلندی سے گرتی اور ٹربائنوں کو چلانے میں مددگار ہوتی ۔۔پاور پراجیکٹ سے ایک کلومیٹر اوپر اونچائی پر پانی کو روک کر ایک ندی کی صورت میں جاگراں نالے سے الگ کیا گیا اور پھر اسے بلندی سے پستی کی جانب کنڈل شاہی پاور پلانٹ کی جانب لایا گیا ۔۔۔اس سارے عمل کے دوران ایک خوبصورت آبشار پیدا ہوچکی تھی جوکہ بعد میں پاکستان وکشمیر کی خوبصورت ترین آبشار کہلائی ۔۔اور مصروف ترین بھی ۔۔۔بلکہ اگر اسے خونی آبشار بھی کہا جائے تو بھی غلط نہ ہوگا ۔۔۔کیونکہ یہی وہ آبشار ہے جس پر تصاویر بناتے اور اٹھکیلیاں کرتے میڈیکل کالج کے طلباء وطالبات ہنستے کھیلتے موت کے منہ میں چلے گئے ۔۔۔جاگراں ندی پر کنڈل شاہی آبشار کے اوپر معلق پل جو ندی کے دوسری جانب موجود آبادی کی نقل و حمل کے لیے بنایا گیا تھا زیادہ وزن نہ برداشت کرسکا اور ٹوٹ گیا ۔۔سولہ افراد موت کے منہ میں چلے گئے ۔۔غلطی کس کی تھی یہ موضوع بحث نہیں ۔۔لیکن اس آبشار اور نالے کے کھاتے میں ایک دن میں سولہ افراد کی لاشوں کا وزن ضرور جاتا ہے ۔۔۔ہمارے واہ کینٹ کے ایک سرکاری ملازم کی بیٹی اور بیٹا بھی اسی آبشار کی نظر ہوئے ۔۔اور انتہائ دکھ اس بات کا کہ ماں باپ کے سامنے ہوئے ۔۔۔بلکہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے بچوں کو بچاتے باپ بھی جان کی بازی ہار گیا تھا ۔۔۔
بہرحال یہ ایک خوبصورت جگہ ہے اگر سیاحتی عروج کا زمانہ نہ ہو تو ضرور یہاں آنا چاہیے اور آبشار اور پانی سے دور رہ کر اس سے لطف اندوز بھی ہوں اور تصاویر بھی بنائیں ۔۔۔خصوصا گرمی کے دنوں میں جب اوپر سے گلیشئر پگھلتے ہیں تو اس کا پانی بہت دہشتناک انداز میں ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے ۔۔تب یہ کسی کا زور نہیں مانتا ۔۔ہاں سردیوں میں اس کے ساتھ مناسب چھیڑ چھاڑ کرکے بتایا جاسکتا ہے کہ اشرف المخلوقات ہم ہیں تم نہیں ۔تم مصنوعی ہو اور ہماری تخلیق ہو ۔۔لیکن گرمیوں میں سر جھکانے میں ہی عافیت ہے ۔۔۔

بشکریہ
نوید اشرف خان
واہ کینٹ

Visit to Bhamala, Khanpur
25/06/2024

Visit to Bhamala, Khanpur

I have reached 500 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
04/12/2023

I have reached 500 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

19/08/2023

آج کل کے حالات میں ۔۔۔

16/08/2023

پیٹرولیم مصنوعات کی جو صورتحال چل رہی
کیوں نا اگلا ٹور سائیکل پر کیا جائے

Address

Rawalpindi Cantonment

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Stay and Travel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share