10/09/2022
حضرت امام بری رحمتہ اللّه علیہ_
سر زمین پاکستان اس لحاظ سے بڑی خوش نصیب ہے_ کہ یہاں اللّه تبارک و تعالی کے مقبول و منظور بندوں نے، کئی اولیاء کرام نے قیام فرمایا ہے_ تاریخ گواہ ہے کہ بزرگان دین اور اولیائے کرام کا کردار نہ صرف برصغیر پاک و ہند میں بلکہ پورے عالم اسلام میں قابل تحسین رہا ہے_ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے_کہ اسلام کی تبلیغ میں جہاں اس کے اعلی اصولوں اور لاثانی ضابطہ حیات کا حصہ ہے_ وہاں بزرگان دین کی جد و جہد اور روحانی کمالات کا بھی بڑا کردار ہے_
سلسلہ قادریہ کے عظیم المرتبت بزرگ حضرت سیّد شاہ عبداللطیف المشہدی کاظمی المعروف بری امام ؒ سرکار_ برصغیر پاک و ہند کے ان اولیاءکرام اور صوفیاءکرام میں شامل ہیں_ جنہوں نے مغل بادشاہ جہانگیر کے عہد میں اس ملک کے مختلف اطراف میں نور اسلام پھیلانے کیلئے انتھک جد و جہد کی_
حضرت سید شاہ عبدالطیف کاظمی ؒ 1026 ہجری بمطابق ؒ1617ءمیں تحصیل چکوال ضلع جہلم کے علاقے چولی کرسال میں پیدا ہوئے_آپؒ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے_ آپ سادات کے ایک مایہ ناز گھرانے کے چشم و چراغ تھے_آپ کا شجرہ نسب حضرت امام موسی کاظم ؒ سے ہوتے ہوئے حضرت علی المرتضی کرم اللّه وجہہ سے جا ملتا ہے_حضرت امام موسی کاظم کی اولاد ہونے کے ناطے سے آپ کو کاظمی سید کہا جاتا ہے_ آپ کے والد گرامی کا اسم مبارک سید سخی محمودؒ بادشاہ کاظمی اور والدہ ماجدہ کا نام سیدہ غلام فاطمہ کاظمی تھا_آپ کے والد گرامی بھی ایک ولی تھے_
آپؒ ابھی دس بارہ سال ہی کے تھے_ کہ آپ کے والد ماجد حضرت سیّد محمود شاہ ؒ موضع کرسال ضلع جہلم سے بعض وجوہات کی بناء پر ہجرت کر کے موضع باغ کلاں (موجودہ اسلام آباد) آگئے_اور یہاں آکر حسب سابق کھیتی باڑی شروع کردی_شاہ عبدالطیف ؒ نے کافی عرصہ گلہ بانی بھی کی_آپ ؒ نے ابتدائی علوم ظاہر و باطن اپنے والد بزرگوار سے حاصل کئے سید محمود بادشاہ جو کہ نجف اشرف سے فارغ التحصیل تھے_ اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ی تھی_پھر آپ ؒ کو غورغشتی بھیج دیا گیا_جو اس زمانے میں علم کا بڑا مشہور مرکز تھا_یہاں آپؒ نے حدیث ، منطق ، فقہ ، ریاضی ، علم الکلام ، علم ادب، علم معانی اور علم طب حاصل کئے_یہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد آپ ؒ کشمیر، بدخشاں مشہد مقدس ، نجفِ اشرف ، کربلائے معلی ، بغداد ، بخارا ،مصر ، دمشق اوردوسرے اسلامی ممالک میں تشریف لے گئے_اور وہاں موجود جید علماءاور اولیاء سے مزید دینی علوم اور روحانی فیوض حاصل کئے_اس کے بعد آپ مدینہ منورہ میں روضۂ رسول ﷺ پر حاضری اور مکہ معظمہ سے حجِ بیت ﷲ کے بعد بارہ سال کے طویل سفر کرکے واپس تشریف لائے_
جب آپ سید کسران میں واپس آئے تو آپ کی کشف و کرامات کا تذکرہ ہر طرف ہونے لگا_جس کی وجہ سے آپ کی شہرت ہر سو پھیل گئی_لوگ دور دراز علاقوں سے سید عبدالطیف کاظمیؒ کی خدمت اقدس میں حاضری دیتے_اور آپ کی تعلیم و تبلیغ ، و عظ و نصیحت اور پند و نصائح سے فیض یاب ہوتے_کچھ عرصہ یہاں گزارنے کے بعد آپؒ نے اس وقت کے ضلع راولپنڈی کے شمالی علاقے کا رخ کیا_اور باغ کلاں (موجودہ آبپارہ مارکیٹ اسلام آباد) میں اقامت پذیر ہوئے_باغ کلاں کے باشندوں نے عزت و احترام کے ساتھ آپ کا خیر مقدم کیا اور کچھ اراضی بطور نذرانہ عقیدت پیش کی_
سید شاہ عبدالطیف کاظمیؒ نے کچھ عرصہ یہاں قیام کیا_اور تبلیغ دین میں مصروف رہے_یہاں بسنے والے سب لوگ آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے_یہاں پر آپ سے کئی کرامات ظاہر ہوئیں_ان ہی دنوں کا واقعہ ہے_ کہ ایک روز آپ عبادت الہی میں مشغول تھے_توجہ کے ارتکاز کی وجہ سے آپ کو پتہ ہی نہ چل سکا کہ کس وقت آپ کے مویشی زمیندار کے کھیت میں گھس گئے_اور انہوں نے ساری فصل تباہ کر دی_فصل کا مالک شکایت لے کر آپ کے والد بزرگوار سید محمود شاہ ؒکے پاس آیا_آپ کے والد زمیندار کے ہمراہ آپ کے پاس آئے_اور سرزنش کی کہ آپ کی بے توجہی کی وجہ سے زمیندار کی فصل برباد ہوگئی ہے_اس پر تھوڑی دیر آپ خاموش رہے_آپ کے والد نے انہیں مزید ڈانٹا_جب آپ کے والد نے اچھی طرح سرزنش کرنے کے بعد خاموشی اختیارکی_تو آپ نے بڑے سکون کے ساتھ آہستہ سے سر اوپر اٹھایا اور نہایت ٹھہرے ہوئے انداز میں گویا ہوئے_
ابا جی….! ذرا فصل کی طرف تو دیکھئے_جونہی آپ کے والد محترم نے فصل کی طرف دیکھا_وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے_کہ چند لمحے پہلے جو فصل تہس نہس تھی اب ایک سر سبز و شادات کھیت کی صورت میں لہلہاتی ہوئی نظر آ رہی تھی_یہ دیکھنا تھا کہ زمیندار کی حالت عجب ہوگئی وہ آپ کے قدموں میں گر کر گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا_
حضرت سید شاہ عبدالطیف کاظمیؒ ، حضرت حیات المیر ؒ سے بیعت تھے_ جو غوث اعظم کے پوتے تھے_اور ان کا سلسلہ طریقت قادریہ تھا_جب تک سخی حیات المیر حیات رہے یہ ان کی صحبت میں رہے_ کہتے ہیں کہ نور پور شاہاں کے قریب ایک مقام ہے_جس کا نام ، لوئے دندی ، ہے_یہاں بیٹھ کر حضرت بری امام ؒ اکثر عبادت الہی میں مصروف رہے_جب آپ عبادت میں مصروف ہوتے تو ایک جن آ کر آپ کو پریشان کرنے لگا_اور آپ کی عبادت میں خلل ڈالنے لگا_جب وہ جن اپنی شرارتوں سے کسی صورت باز نہ آیا تو آپ نے اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے دعا کی_جن وہیں پتھر بن گیا_ یہ نشانی،لوئے دندی، کے مقام پر آج بھی موجود ہے_اور ملک بھر سے ہزاروں لوگ حضرت امام ؒ کی یہ کرامت دیکھنے نور پور شاہاں جاتے ہیں_اور اس مقام کی زیارت کرتے ہیں جہاں بیٹھ کر آپ عبادت کیا کرتے تھے_
حضرت بری امامؒ جن دنوں ندی نیلاں میں چلہ کشی کر رہے تھے_اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ کچھ کھا پی نہیں سکتے تھے_صرف دودھ پیا کرتے تھے_ گوجر قوم کا ایک عقیدت مند روزانہ آپ کو دودھ دینے آتا تھا_جس بھینس کا دودھ وہ گوجر آپ کے پاس لاتا وہ چند دنوں میں مر جاتی ہے_گوجر دھن کا پکا تھا اپنی زبان سے یہ بات بری امام ؒ کو نہیں بتائی_آخر کار ایک ایک کرکے تمام بھینسیں ختم ہوئیں_ تو اگلے روز دودھ کی خاطر تمام گاؤں میں پھرا مگر ہر طرف سے مایوس ہوا چنانچہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی داستان سنائی_
آپ مسکرائے اور فرمایا جاؤ ندی کے کنارے چلتے جاؤ_اور اپنی بھینسوں کے نام پکارتے جاؤ_سب تمہارے پیچھے چلی آئی گی_مگر خیال رکھنا کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا_چنانچہ اس گوجر نے ایسا ہی کیا_جب آخری بھینس کا نام لیا جو کہ ندی سے نکل رہی تھی_تو گوجر نے پیچھے موڑ کر دیکھ لیا_بھینس اسی جگہ پتھر کی بن گئی_گوجر پہلے تو پریشان ہوا مگر باقی بھینسوں کو دیکھ کر خوشی خوشی گھر چلا آیا_
ایک روز آپ ؒ نور پور شاہاں کے جنگل میں ایک سوکھے درخت کے نیچے عبادت ِالہی میں مصروف تھے_کہ غیر مسلموں کا ایک گرہ وسیع سازو سامان سے لداپھندا آپ کے قریب سے گزرا_آپ نے ان سے پوچھا_کہ آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں_انہوں نے کہا ہم اپنے گناہوں کو دھونے کیلئے دریا میں نہانے کیلئے جا رہے ہیں_
حضرت بری امام ؒ نے فرمایا_ کہ انسانوں کے گناہ دریاؤ میں نہانے سے نہیں دھلتے بلکہ یہ گناہ عبادت الہی اور اعمال صالح سے جھڑتے ہیں_
اس پر ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ اگر آپ کی بات درست ہوتی تو آپ جو یہاں سالہا سال سے عبادت الہی میں مصروف ہیں_اس کا کچھ تو اثر ظاہر ہوتا_کم از کم اتنا ہی ہو جاتا کہ جس درخت کے نیچے بیٹھ کر آپ عبادت کر رہے ہیں_وہی سر سبز و شاداب ہو جاتا تاکہ آپ سکون سے عبادت تو کر سکتے_بارش دھوپ اور دوسری موسمی سختیوں سے آپ عبادت کرتے ہوئے محفوظ رہتے_
یہ بات سن کر حضرت بری امام ؒ نے فرمایا_اس کے قبضہ قدرت میں تو سب کچھ ہے_ہم نے اس سے کچھ مانگا ہی نہیں_اس کے بعد آپ نے درخت کی طرف رخ کرکے دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیئے_اور دیکھتے ہی دیکھتے درخت سر سبز و شاداب ہوگیا_ان لوگوں نے جب یہ دیکھا تو اس قدر متاثر ہوئے کہ اسی وقت سارا گروہ آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہو کر آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگیا_
تیرا کرم کی بری سرکار ہویا_
جنگل بنجر پہاڑ گلزار بن گئے_
تسیں آپ سرکار سو صدیاں توں_
جہڑے کول آئے، سرکار بن گئے_
ہ
Found on Google from commons.wikimedia.org