04/09/2023
وائے ناکامی! متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ایک ماہ قبل گھر کا پمپ کرنٹ ہو گیا۔ ایک مسلمان الیکٹریشن کو کال کی، خود جا کر بھی ملا مگر اس نے آتے آتے چار پانچ دن گزار دیے۔ ایک روز اسے پکڑ کر لایا تو اس نے پمپ کا بغور جائزہ لیا اور بولا کہ اسکی تمام سیلیں لیک ہیں، لہٰذا میں اسکو اتار کر ساتھ لیکر جاؤں گا اور خشک کر کے، نئی سیلیں ڈال کر دونگا جسکا خرچہ کم از کم 1500 روپے ہے۔ یہ بتا کر وہ شام کو دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے چلا گیا (اور دوبارہ آیا بھی نہیں).
چھوٹا بھائی بولا کہ اگلے بازار میں ایک عیسائی لڑکا الیکٹریشن ہے، اسکو بلا لاؤں؟ میں نے کہا ٹھیک بلا لاؤ۔
اس لڑکے نے آ کر پمپ کو دیکھا اور بتایا کہ اسکا اوپر والا نٹ لوز ہو گیا ہے جسکی وجہ سے پانی لیک ہو رہا ہے اور کیپسٹر خراب ہونے کی وجہ سے پمپ کرنٹ ہو گیا ہے۔ اس نے نیا کیپسٹر ڈالا اور نیا نٹ لگا کر پمپ چیک کیا تو مکمل صحت یابی کی نوید سنائی۔
گھر میں دو فرشی پنکھے بھی خراب تھے، وہ چیک کروائے تو معلوم ہوا کہ دونوں کے کیپسٹرز خراب ہیں اور وہ بھی نئے ڈال دیے گئے اور ساتھ پنکھے کو پھیرما کرنے والی کلیاں بھی نئی لگا دیں۔ میں نے ٹوٹل خرچہ پوچھا تو بولا 1100 روپے دے دیں۔
میں حیران ہوا کہ نہ تو اس لڑکے نے لارا لگایا اور نہ خجل کیا اور کتنے معقول پیسوں میں ایک پمپ اور دو پنکھے آدھے پونے گھنٹے میں ٹھیک کر کے چلا بھی گیا۔
کیا ہم مجموعی طور پر چور اور کام چور نہیں ہو گئے الا ما شاء اللہ، کیا ہر بندہ دوسرے کو دھوکہ دینا اور لوٹنا اپنا حق نہیں سمجھتا، کیا ہم ہر وہ بزنس کرنے کو ترجیح نہیں دیتے جس میں اولا زیادہ ہو اور ہزار والی چیز دو ہزار میں فروخت کر سکیں۔ شاید بلکہ یقیناً ہم کلی طور پر بد دیانت، خود غرض اور ہڈ حرام ہو چکے ہیں جسکا خمیازہ بھی بھگت رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہم اس سب تنزلی اور تنگی کا زمہ دار دوسروں کو ہی ٹھہراتے ہیں اور خود کو سدھارنے کا، توبہ و استغفار کرنے کا کبھی دل میں خیال تک نہیں آتا۔😅
(نوٹ: تمام مسلمان بے ایمان نہیں ہوتے اور تمام غیر مسلم ایماندار نہیں ہوتے لیکن سچی بات ہے کہ دھوکہ بازی میں ہم ان سے بہت آگے نکل گئے ہیں).😢
شہباز اختر