M.I.B News Pakistan

  • Home
  • M.I.B News Pakistan

M.I.B News Pakistan Please Like Follow & Comment..?

14/07/2026

Ashik or ashki ...

14/07/2026

سیف اللہ جھیل کالام میں لاپتہ لڑکی کی تلاش، آپریشن 13ویں روز بھی جاری

برسوات: سیف اللہ جھیل کالام میں لاپتہ ہونے والی لڑکی بشری سموئی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن مسلسل 13ویں روز بھی جاری ہے۔

ریسکیو ٹیموں نے قندیل کے مقام سے جدید آلات کی مدد سے جھیل اور اس کے اطراف میں سرچ آپریشن کیا۔ ممکنہ تمام مقامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق لاپتہ لڑکی کی بازیابی تک سرچ آپریشن بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ بشری سموئی کو خیریت سے بازیاب فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبر و حوصلہ عطا کرے۔

14/07/2026

اُمِّ رباب چانڈیو: تین جنازوں، 392 پیشیوں، آٹھ سالہ مقدمے اور ایک نئی لاش کے درمیان انصاف کی بے رحم آزمائش

پاکستان میں بعض مقدمات صرف عدالت کی فائل نہیں رہتے، وہ پورے نظام کا پوسٹ مارٹم بن جاتے ہیں۔ اُمِّ رباب چانڈیو کا مقدمہ بھی ایسا ہی ایک آئینہ ہے جس میں پولیس کی تفتیش، سیاسی اثرورسوخ کے الزامات، کمزور استغاثہ، عدالتی تاخیر، گواہوں کا خوف، جاگیردارانہ طاقت اور عام شہری کی بے بسی سب ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

ایک نوجوان بیٹی نے اپنے والد، دادا اور چچا کے جنازے اٹھائے، ننگے پاؤں عدالتوں تک پہنچی، برسوں پیشیاں بھگتیں، بااثر ناموں کے مقابل کھڑی رہی، قانون کی تعلیم حاصل کی اور اپنے گھر کے مقدمے کو سندھ کے سرداری نظام کے خلاف ایک علامتی جنگ بنا دیا۔ مگر آٹھ سال اور سینکڑوں سماعتوں کے بعد جب تمام نامزد ملزمان بری ہوگئے تو سوال یہ نہیں رہا کہ اُمِّ رباب مقدمہ ہار گئی یا جیت گئی؛ اصل سوال یہ بن گیا کہ تین انسانوں کو دن دہاڑے قتل کرنے والا آخر کون تھا؟

یہاں قانونی وضاحت ضروری ہے: جن افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا، انہوں نے الزامات سے انکار کیا اور 30 مارچ 2026ء کو دادو کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے استغاثہ کی جانب سے الزام ثابت نہ کیے جانے پر تمام ملزمان کو بری کردیا۔ بریت کے خلاف اپیل سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ عمل ہے، اس لیے کسی نامزد شخص کو حتمی عدالتی فیصلے کے بغیر قاتل قرار دینا درست نہیں۔ تاہم ریاست سے یہ سوال ضرور کیا جاسکتا ہے کہ جب تین قتل ثابت شدہ حقیقت ہیں تو اصل ذمہ داروں کی شناخت اور سزا کہاں ہے؟

17 جنوری 2018ء کی صبح سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل میہڑ میں اُمِّ رباب کے والد تمندار مختار احمد چانڈیو، دادا رئیس کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل حسین چانڈیو اپنے گھر یا اوطاق کے باہر موجود تھے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق صبح تقریباً نو بجے مسلح افراد گاڑیوں میں وہاں پہنچے اور فائرنگ کردی۔ تینوں شدید زخمی ہوئے اور بعد میں جانبر نہ ہوسکے۔ واقعے کا مقدمہ خاندان کے رکن پرویز احمد چانڈیو کی مدعیت میں درج ہوا۔

مقدمے میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقتولین نے علاقے کے روایتی سرداری ڈھانچے کے مقابل ’’تمندار کونسل‘‘ قائم کی تھی اور انہیں مبینہ طور پر سرگرمیاں روکنے کے لیے دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ ایف آئی آر میں متعدد افراد کے ساتھ سردار احمد خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو کے نام بھی شامل کیے گئے، جو پیپلز پارٹی سے وابستہ سیاسی شخصیات اور صوبائی اسمبلی کے ارکان رہے۔ نامزد افراد نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں سیاسی، قبائلی یا ذاتی دشمنی کی وجہ سے غلط طور پر مقدمے میں شامل کیا گیا۔

یہیں سے پولیس اور نظامِ تفتیش کے کردار پر پہلا بڑا سوال پیدا ہوا۔ ابتدائی تحقیقاتی افسر نے سردار احمد خان اور برہان خان کے نام چالان کے کالم نمبر دو میں ڈالے، یعنی ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی سفارش نہیں کی۔ برہان خان کے متعلق موبائل فون ریکارڈ اور حیدرآباد میں موجودگی کا دفاع پیش کیا گیا، جبکہ دوسرے ملزم کے خلاف مبینہ سازش کے شواہد کو ناکافی سمجھا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے ابتدائی طور پر پولیس کی اس سفارش کو قبول کرلیا۔

لیکن جون 2018ء میں سندھ ہائی کورٹ کے سکھر بینچ نے یہ حکم منسوخ کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جائے وقوعہ پر عدم موجودگی کا دفاع محض تفتیشی مرحلے پر حتمی طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا؛ اسے باقاعدہ مقدمے اور شہادت کے ذریعے ثابت ہونا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ایف آئی آر، گواہوں کے بیانات اور رابطوں سے متعلق مواد کو ٹرائل میں پرکھنا ضروری ہے، لہٰذا دونوں افراد کو ملزم کی حیثیت سے مقدمے میں شامل کیا جائے۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت تھا کہ تفتیش کے ابتدائی مرحلے ہی میں پولیس اور عدالت کے جائزے کے درمیان ایک سنجیدہ اختلاف موجود تھا۔

اگلا سوال گرفتاریوں کا تھا۔ متعدد نامزد ملزمان طویل عرصے تک پولیس کی گرفت سے باہر رہے۔ سندھ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ بعض مفرور افراد بلوچستان کے علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ مارچ 2020ء میں سپریم کورٹ نے عدم گرفتاری پر ناراضی ظاہر کی اور پولیس کو مفرور ملزمان گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ جولائی 2020ء میں عدالتِ عظمیٰ نے ان کی جائیدادیں ضبط کرنے اور فرنٹیئر کور کو سندھ پولیس کی مدد کرنے کی ہدایت بھی دی۔ ایک ایسے مقدمے میں، جس میں صوبائی پولیس، اعلیٰ عدلیہ اور نیم فوجی فورس تک کو حرکت میں آنا پڑا، یہ سوال اپنی جگہ موجود رہا کہ مطلوب افراد برسوں قانون سے بچتے کیسے رہے؟

اس دوران اُمِّ رباب چانڈیو کی شناخت ایک سوگوار بیٹی سے بڑھ کر مزاحمت کی علامت بن گئی۔ 2019ء میں عدالت تک ننگے پاؤں چلنے کی ان کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خاموش احتجاج انصاف کی تاخیر، طاقت ور حلقوں کے مبینہ دباؤ اور ایک عام شہری کی بے بسی کے خلاف تھا۔ ان کے ننگے پاؤں دراصل اس ریاست سے سوال تھے جس کے بڑے بڑے ایوان تو سنگِ مرمر سے بنے ہیں، مگر عام مدعی کے لیے انصاف تک پہنچنے کا راستہ آج بھی کانٹوں سے بھرا ہے۔

مقدمہ کبھی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت اور کبھی عام فوجداری عدالت کے دائرۂ اختیار کے سوال میں الجھا، مختلف عدالتوں میں منتقل ہوتا رہا اور ایک مرحلے پر معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ 2022ء میں ماڈل ٹرائل کورٹ نے دو ارکانِ صوبائی اسمبلی سمیت دیگر نامزد ملزمان پر فردِ جرم عائد کی۔ سب نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور مقدمہ باقاعدہ شہادت کے مرحلے میں داخل ہوا۔

پھر آٹھ سال گزر گئے۔

تقریباً 392 سماعتیں ہوئیں۔ مقدمہ نوشہروفیروز، دادو، سکھر اور میرپور ماتھیلو سمیت مختلف عدالتوں سے گزرتا ہوا دوبارہ دادو کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ پہنچا۔ بعض ملزمان حراست میں رہے اور بعض ضمانت پر تھے۔ 30 مارچ 2026ء کو ایڈیشنل سیشن جج حسین کلوڑ نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام آٹھ نامزد ملزمان کو بری کردیا۔ عدالتی مؤقف یہ تھا کہ استغاثہ دستیاب شواہد سے الزامات کو شک سے بالاتر ثابت نہیں کرسکا۔

یہاں پاکستانی فوجداری قانون کا بنیادی اصول سمجھنا ضروری ہے۔ قتل کا مقدمہ عوامی غصے، سیاسی وابستگی یا سوشل میڈیا کے فیصلے پر نہیں بلکہ قابلِ قبول شہادت پر طے ہوتا ہے۔ عدالت ملزم کو اس وقت سزا دے سکتی ہے جب استغاثہ جرم کو شک سے بالاتر ثابت کرے۔ اگر گواہی میں تضاد ہو، جائے وقوعہ سے شواہد محفوظ نہ کیے گئے ہوں، اسلحہ اور فرانزک مواد کی کڑی مکمل نہ ہو، کال ریکارڈ قانونی معیار پر ثابت نہ ہو یا تفتیش میں ایسے خلا رہ جائیں جو معقول شک پیدا کردیں تو عدالت کے پاس بریت کے سوا راستہ محدود ہوسکتا ہے۔

لیکن یہی اصول ریاست کو بری الذمہ نہیں کرتا۔ جب تین شہری قتل ہوئے اور مقدمے میں تمام نامزد افراد بری ہوگئے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ جرم ہوا ہی نہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پولیس، استغاثہ یا شہادت کا نظام اصل مجرم تک پہنچنے یا جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے ملزمان کو بری کیا، مگر تین مقتولین کے قاتل آج بھی قانون کی کتاب میں بے نام ہیں۔

فیصلے کے بعد اُمِّ رباب نے اعلان کیا کہ وہ ہائی کورٹ اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ جائیں گی۔ 28 اپریل 2026ء کو انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں بریت کے خلاف اپیل دائر کردی۔ ان کا مؤقف تھا کہ مقدمے میں 17 گواہوں اور تین عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ ہوئے تھے، جن کا دوبارہ عدالتی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپیل کی سماعت سے متعلق ان کی درخواست بھی منظور کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔

ابھی یہ زخم بند بھی نہیں ہوا تھا کہ 9 جولائی 2026ء کو میہڑ میں ایک اور خون بہا۔ ریاض چانڈیو نامی اُمِّ رباب کے قریبی رشتہ دار کو فائرنگ کے واقعے میں قتل کردیا گیا۔ مختلف خبروں میں انہیں کہیں اُمِّ رباب کا چچا زاد بھائی اور کہیں کزن کا شوہر بتایا گیا، اس لیے رشتے کی نوعیت پر رپورٹنگ یکساں نہیں؛ البتہ یہ متفقہ طور پر بتایا گیا کہ وہ خاندان کے قریبی فرد اور سابق مقدمے سے متعلق مشیر تھے۔

پولیس کا ابتدائی مؤقف تھا کہ واقعہ زرعی زمین کے تنازع پر چانڈیو برادری کے دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران پیش آیا۔ اُمِّ رباب نے اس کے برعکس الزام لگایا کہ مسلح افراد نے ان کے رشتہ داروں پر حملہ کیا اور سابق مقدمے میں نامزد رہنے والے بعض افراد کے نام لیے۔ الزام کی زد میں آنے والے فریق نے ان دعوؤں کی تردید کی اور کہا کہ انہیں بلاجواز شامل کیا جارہا ہے۔ اس نئے قتل کی ایف آئی آر مقتول کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ فریدآباد میں درج کی گئی، جس میں دس نامزد اور دو نامعلوم افراد شامل کیے گئے۔ یہ الزامات ابھی زیرِ تفتیش ہیں اور کسی عدالت نے ان پر جرم ثابت نہیں کیا۔

یہ نیا واقعہ سب سے زیادہ پولیس کے لیے امتحان ہے۔ پولیس کو نہ اُمِّ رباب کے بیان کو خودبخود حتمی سچ سمجھنا چاہیے، نہ بااثر افراد کے دفاع کو۔ اسے جائے وقوعہ محفوظ کرنا، خ*ل اور ہتھیار قبضے میں لینا، موبائل مقامات اور ویڈیو ریکارڈ قانونی طریقے سے حاصل کرنا، زخمیوں اور غیر جانب دار گواہوں کے بیانات فوری محفوظ کرنا اور ثبوت کی ہر کڑی کو عدالت تک قابلِ قبول حالت میں پہنچانا ہوگا۔ بصورتِ دیگر چند سال بعد ایک اور عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ جرم تو ہوا مگر استغاثہ یہ ثابت نہ کرسکا کہ کس نے کیا۔

اُمِّ رباب کا مقدمہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں انصاف صرف جج کے فیصلے کا نام نہیں۔ انصاف کی پہلی اینٹ پولیس کی تفتیش رکھتی ہے، دوسری فرانزک ادارے، تیسری استغاثہ، چوتھی گواہوں کا تحفظ اور آخری عدالت۔ پہلی چار اینٹیں کمزور ہوں تو آخری ادارہ خواہ کتنا ہی دیانت دار کیوں نہ ہو، قانونی طور پر سزا دینا مشکل ہوجاتا ہے۔

پاکستان کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ طاقت ور اور کمزور کے لیے بظاہر ایک ہی قانون ہونے کے باوجود قانون تک پہنچنے کی صلاحیت یکساں نہیں۔ ایک بااثر شخص بہترین وکلا، سیاسی روابط، سیکیورٹی، طویل قانونی کارروائی اور ہر حکم کے خلاف اپیل کا خرچ برداشت کرسکتا ہے۔ ایک عام شہری زمین بیچتا، قرض لیتا، شہر شہر سفر کرتا اور تاریخ پر تاریخ بھگتتا ہے۔ یوں مقدمہ جرم کے تعین کے بجائے مدعی کی برداشت کا امتحان بن جاتا ہے۔

یہ صرف ایک خاندان کا تاثر نہیں۔ عالمی قانون کی حکمرانی کے اشاریے میں پاکستان 2025ء میں 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر تھا، جبکہ فوجداری انصاف، بدعنوانی، حکومتی اختیارات پر پابندی اور بنیادی حقوق جیسے شعبوں میں اس کی کارکردگی کمزور رہی۔ دسمبر 2025ء کے سرکاری عدالتی اعدادوشمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں تقریباً 19 لاکھ مقدمات زیرِ التوا تھے۔ ایسے نظام میں آٹھ سال تک چلنے والا قتل کا مقدمہ استثنا نہیں، بلکہ بڑی بیماری کی نمایاں علامت ہے۔

اس مقدمے پر غصے میں پوری عدلیہ کو مجرم کہنا بھی مسئلے کا حل نہیں۔ عدالتیں عوامی خواہش پر سزائیں دینا شروع کردیں تو بے گناہوں کے لیے قانون باقی نہیں رہے گا۔ مگر عدالت، پولیس اور حکومت کو تنقید سے بالاتر سمجھنا بھی خطرناک ہے۔ آزاد معاشرے میں سوال یہ ہونا چاہیے کہ تفتیش میں کون سی خامیاں رہیں؟ فرانزک ثبوت کیوں ناکافی ہوئے؟ مفرور افراد برسوں کیوں گرفتار نہ ہوئے؟ گواہوں کی حفاظت کس نے کی؟ بار بار منتقلی اور التوا کیوں ہوا؟ اور اگر تمام نامزد افراد بے قصور تھے تو ریاست نے اصل قاتلوں کی تلاش کہاں تک پہنچائی؟

اس کیس کا منصفانہ حل نعروں یا قبائلی لشکروں سے نہیں نکلے گا۔ سندھ ہائی کورٹ کو اپیل کی سماعت غیر ضروری التوا کے بغیر کرنی چاہیے، ٹرائل کورٹ کے مکمل فیصلے، گواہیوں اور فرانزک مواد کا باریک جائزہ لیا جانا چاہیے، اور اگر تفتیشی غفلت یا شواہد ضائع کرنے کے آثار سامنے آئیں تو ذمہ دار افسران کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ نئے قتل کی تحقیق کسی ایسے آزاد اور پیشہ ور افسر کے سپرد ہونی چاہیے جس کا مقامی سیاسی یا قبائلی گروہوں سے تعلق نہ ہو۔ گواہوں، اُمِّ رباب اور دونوں فریقوں کے غیر مسلح اہلِ خانہ کو مؤثر تحفظ دینا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اُمِّ رباب کو ہمدردی سے زیادہ ایک فعال، غیر جانب دار اور جواب دہ نظام چاہیے۔ انہیں ایسا فیصلہ چاہیے جو صرف یہ نہ بتائے کہ کس کے خلاف ثبوت ناکافی تھے، بلکہ یہ بھی بتائے کہ ان کے والد، دادا اور چچا کو کس نے قتل کیا۔ ریاض چانڈیو کے قتل کی بھی ایسی تحقیق چاہیے جو چند گرفتاریوں اور پریس کانفرنسوں پر ختم نہ ہو بلکہ عدالت میں قائم رہنے والے ثبوت پیدا کرے۔

اُمِّ رباب چانڈیو کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف کھڑی ہیں۔ ان کی اصل طاقت یہ ہے کہ انہوں نے بندوق کے مقابل بندوق نہیں اٹھائی؛ انہوں نے ایف آئی آر، عدالت، اپیل اور آئین کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے اپنے دکھ کو ذاتی انتقام میں تبدیل کرنے کے بجائے ریاست سے انصاف مانگا۔
مگر اب ریاست کے سامنے فیصلہ کن سوال کھڑا ہے:
کیا پاکستان کا قانون ایک بیٹی کو صرف پیشیاں دے سکتا ہے، یا قاتل بھی تلاش کرسکتا ہے؟
کیا پولیس صرف مفرور ملزمان کے گھروں پر چھاپے مارنے کی تصویریں بنائے گی، یا عدالت میں قائم رہنے والی تفتیش بھی کرے گی؟
کیا طاقت ور کے لیے شک کا فائدہ اور کمزور کے لیے انتظار ہی اس نظام کا مقدر ہے؟
اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر اُمِّ رباب جیسی پڑھی لکھی، باہمت اور پورے ملک کی توجہ رکھنے والی خاتون کو آٹھ سال بعد بھی حتمی جواب نہیں ملتا تو سندھ کے کسی دور افتادہ گاؤں کی وہ بے نام ماں کس دروازے پر جائے جس کی آواز کبھی ذرائع ابلاغ تک پہنچتی ہی نہیں؟
اُمِّ رباب کی کہانی صرف تین یا چار قتلوں کی کہانی نہیں۔ یہ پاکستان کے نظامِ انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کی کہانی ہے۔ اس مقدمے میں صرف ملزمان کا ٹرائل نہیں ہوا؛ پولیس، استغاثہ، سیاست، سرداری نظام اور ریاست کا بھی ٹرائل ہوا ہے—اور اس ٹرائل کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

14/07/2026

امریکہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹالیہ جب گوجرانوالہ کے ایک قبرستان میں دو قبروں پر پہنچے تو انہیں بوسے دیتے ہوئے اور زار و قطار روتے ہوئے دیکھ کر ہر کوئی حیران رہ گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر یہ قبریں کن کی ہیں، تو انہوں نے ایک ایسی داستان سنائی جو تقسیمِ ہند کے اندھیروں میں بھی انسانیت کی روشنی بن کر سامنے آتی ہے۔

ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹالیہ کے مطابق، تقسیم کے دوران جب فسادات اپنے عروج پر تھے، تو انہی قبروں میں مدفون ایک مسلمان خاندان نے ان کے دادا دادی اور باقی فیملی کو اپنے گھر میں پناہ دی۔ اس خاندان نے نہ صرف انہیں اپنے گھر میں محفوظ رکھا بلکہ ان کے کپڑے بھی گھر ہی میں سی کر انہیں دیے تا کہ کسی کو شک نا ہو۔

لیکن کچھ عرصے بعد لوگوں کو شک ہو گیا کہ اس گھر میں کسی سکھ یا ہندو خاندان کو چھپایا گیا ہے۔ ایک دن جب اس خاندان کا ایک فرد مسجد گیا تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا اس نے کسی سکھ یا ہندو کو پناہ دی ہوئی ہے؟ اس نے جواب دیا، “نہیں، وہ میرے بھائی کی فیملی ہے۔”

اس سے کہا گیا کہ اگر یہ بات سچ ہے تو قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاؤ۔ اس شخص نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھا اور کہا، “وہ میرا بھائی ہے۔” ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹالیہ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹی قسم نہیں تھی، یہ سچی قسم تھی، کیونکہ وہ واقعی میرے دادا کو اپنا بھائی سمجھتے تھے۔

آج انہی محسنوں کی قبروں پر آ کر ان کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اسی محبت، احسان اور انسانیت کا قرض ادا کرنے کی ایک عاجزانہ کوشش تھے۔

14/07/2026

کھاریاں کینٹ: اے ٹی ایم سے 98 لاکھ روپے کی بڑی چوری، پولیس کی تحقیقات شروع
​کھاریاں: کھاریاں کینٹ میں چوری کی ایک بڑی واردات سامنے آئی ہے جہاں نامعلوم ملزمان ایک بینک کی اے ٹی ایم (ATM) سے 98 لاکھ روپے کی خطیر رقم اڑا کر فرار ہو گئے ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس نے مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
​سیکیورٹی اہلکاروں کے پہنچنے سے پہلے فرار:
ذرائع کے مطابق، شاطر ملزمان نے انتہائی مہارت کے ساتھ اے ٹی ایم کو نشانہ بنایا۔ وہ سیکیورٹی الارم یا اہلکاروں کے حرکت میں آنے سے پہلے ہی رقم سمیٹ کر موقع سے نو دو گیارہ ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
​سی سی ٹی وی فوٹیج اور شواہد کی مدد سے سراغ لگانے کی کوشش:
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس اور دیگر اہم شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے اے ٹی ایم اور آس پاس کے علاقوں کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق، ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے تمام زاویوں سے کارروائی جاری ہے۔
​سیکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان:
اس ہائی پروفائل چوری کے بعد اے ٹی ایمز کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ متعلقہ بینک انتظامیہ اور حفاظتی ادارے اب نگرانی کے نظام (Monitoring System) کو مزید سخت کرنے اور مستقبل میں ایسی وارداتوں کے سدباب کے لیے ہنگامی اقدامات پر غور کر رہے ہیں

06/07/2026

🚨بریکنگ نیوز 🚨
سانحہ راولاکوٹ کے سرغنہ کپیٹن لیاقت ملک آئی جی پولیس کشمیر کی اہلیہ نے طلاق لے لی
طلاق لینے کی وجوہات آئی جی کی بربریت جھوٹ فراڈ کی وجہ بنی زرائع

06/07/2026

🚨 کراچی: ایک ہی گھر کی 3 سگی بہنیں لاپتہ! دل دہلا دینے والا معاملہ 💔 زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟
شہرِ قائد کے علاقے سول لائنز سے تین سگی بہنیں بیک وقت پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ آخر اتنے مختصر وقت میں گمشدگی کے اتنے کیسز کیسے سامنے آ رہے ہیں۔ والدین کے لیے بچوں کی نگرانی اولین ترجیح ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ دردناک واقعہ پیش آ گیا، جس نے پورے خاندان کو جیتے جی مار دیا ہے۔ 😭💔
📋 لاپتہ بچیوں کی تفصیلات:
👤 والد کا نام: سجاد حسین
📍 آخری لوکیشن: تھانہ سول لائنز کی حدود (ضلع ساؤتھ، کراچی)
بچیوں کے نام اور عمریں:
👧🏻 شگفتہ بی بی (عمر: تقریباً 15 سال)
👧🏻 مریم بی بی (عمر: تقریباً 12 سال)
👧🏻 عرفہ بی بی (عمر: تقریباً 09 سال)
📞 رابطہ اور مدد کی اپیل! 🤝
حوا کی ان تینوں معصوم بیٹیوں کو بحفاظت ان کے والدین تک پہنچانا ہم سب کا فرض ہے۔ اگر کسی بھی شخص کو ان تینوں بہنوں کے بارے میں کوئی بھی معلومات حاصل ہوں، یا یہ کہیں نظر آئیں، تو برائے مہربانی انسانی ہمدردی کے تحت فوری رابطہ کریں:
👮‍♂️ تھانہ سول لائنز (Civil Lines Police Station) یا قریبی پولیس اسٹیشن کو مطلع کریں۔
📱 یا پولیس ہیلپ لائن مددگار 15 پر فوری اطلاع دیں۔
📌 ایک سیکنڈ نکال کر لازمی شیئر کریں! 📲
آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے کہ اس پیغام کو کراچی کے تمام واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پیجز پر زیادہ سے زیادہ شیئر (Share) کریں۔ آپ کا ایک شیئر ان تینوں بہنوں کو ان کے روتے بلکتے ماں باپ سے ملانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ 🤲
اللہ پاک شگفتہ، مریم اور عرفہ کی حفاظت فرمائے اور انہیں خیریت کے ساتھ جلد اپنے گھر والوں سے ملائے۔ آمین! ✨

06/07/2026

اپنی بیٹیوں کو باحیا اور بہادر بنائے ۔
بیٹی کو صرف یہ نہ سکھائیں کہ دنیا سے ڈر کر جینا ہے۔ بلکہ یہ بھی سکھائیں کہ عزت، حیا، ہمت اور شعور کے ساتھ اپنا دفاع کیسے کرنا ہے۔
اس کے دل میں خوف نہیں، اعتماد پیدا کریں۔
اسے یہ احساس دیں کہ وہ کمزور نہیں، بلکہ اللہ کی عطا کردہ عزت اور وقار کی امین ہے۔
لڑنا صرف ہاتھ اٹھانے کا نام نہیں، بلکہ صحیح وقت پر "نہیں" کہنا، غلط کو پہچاننا، اپنی حفاظت کرنا، اور ظلم کے سامنے خاموش نہ رہنا بھی بہادری ہے۔
ایک باہمت، باکردار اور بااعتماد بیٹی معاشرے کی طاقت بنتی ہے، بوجھ نہیں۔
بھوکے اور باؤلے کتوں کا زمانہ ہے۔اپنے پریوں کو ڈرنا نہیں بلکہ لڑنا سکھاؤ۔۔

06/07/2026

اگر کوئی ثابت کردے کہ ہم نے ویڈیو بنانے کیلئے ڈالہ دریا میں اتارا تو اسے 50 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا، ٹک ٹاکر سلطان ورک کا چیلنج

06/07/2026

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر زائرین کی سہولت اور شہر کی خوبصورتی کے لیے داتا دربار توسیعی منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔

وزیراعلیٰ کی مشیر ذیشان ملک نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری پیغام میں کہا کہ انہوں نے ڈی جی ایل ڈی اے کے ہمراہ Data Darbar میں جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz Sharif کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ زائرین کو جدید اور بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

یہ منصوبہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (Lahore Development Authority) کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے جس کا مقصد مذہبی سیاحت اور شہری سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔

Address


Telephone

+923451861292

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.I.B News Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to M.I.B News Pakistan:

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed Travel Agency?

Share