07/02/2020
سفرِ حجاز ! 1
الحمدللہ ثُم الحمدللہ اللہ پاک نے مجھ احقر کمتر کو اپنے فصْل و کرم سے ایک بار پھر اپنے مقدس و با برکت گھر اور اپنے پیارے حبیب حصْرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے روصْہ پاک کی زیارت کی سعادت عطا فرمائی, یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے, یہ بڑے نصیب کی بات ہے
مجھ گناہ گار کے پاس سوائے بزرگوں کی دعاؤں کے تو کچھ بھی نہیں, بس اس کا کرم ہی ہے جو مجھ جیسا گنہگار بھی اس مقدس سرزمین تک پہنچا - پہلی بار جب در اقدس کی حاصْری ہوئی تو نوجوانی کا دور تھا اور سوشل میڈیا بھی ابھی اپنے پر نا پھیلا پایا تھا کہ اس سفر کی روداد سنا پاتا لیکن اب کی بار دل میں خیال آیا کے کچھ باتیں سب کے ساتھ بانٹی جائیں کہ جس جس کو بلاوا آئے تو انکے لئیے شاید وہاں کچھ آسانی ہو جائے کیونکہ جو احباب پہلی بار جاتے ہیں انکے لئیے بہت سی چیزوں سے باخبر ہونا بہت صْروری ہوتا ہے کیونکہ ویسے تو وہاں کوئی خاص مسئلہ نہیں ہوتا لیکن کچھ چھوٹی چھوٹی چیزیں جاننا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے -
ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہاں کسی ایسے ایجنٹ کی تلاش کا ہوتا ہے جو آپکی صْرورت کے مطابق آپکی عمرہ پیکج دے سکے, اور صْروریات میں اچھا ہوٹل, حرم سے نزدیک, اچھی ٹرانسپورٹ کی سہولت وغیرہ, ویزہ کا حصول, جہاز کا ٹکٹ یہ سب شامل ہیں, اب باقی سب چیزیں تو ایک جیسی ہیں فرق صرف رہائش کا ہوتا ہے, ہر ایجنٹ آپکو نزدیک ترین اور اچھی رہائش کا وعدہ کرے گا لیکن وہاں پہنچ کر آپکی اس میں لازمی کچھ نا کچھ تھوڑی بہت پریشانی ہو سکتی ہے, اگر تو صرف مرد ہوں تو کوئی مسئلہ نہیں وہ برداشت کر لیتے ہیں, لیکن اگر ساتھ خواتین اور بچے ہوں تو تھوڑی ٹینشن ہو جاتی ہے,
اس ٹینشن سے مجھے بچانے میں, میرے بھائی Faisal Shahzad Maken کے مخلصانہ مشورے نے بہت اہم کردار ادا کیا, انہوں نے جس طرح میرے اس سفر کے انتظامات کی ذمہ داری اٹھائی اور جس محنت سے انہوں نے سب کچھ مکمل کیا اس کے لئے اس با برکت سرزمین پر بھی اور واپس پہنچ کر بھی دل سے دعائیں جاری ہیں, اللہ پاک انکے ایمان, مال, کاروبار صحت میں برکتیں عطا فرمائے -
انکے مشورے پر بلکہ انہوں نے خود ہی میرے لئے آنلائن ہوٹل بکنگ کی, مکہ اور مدینہ دونوں جگہ بہترین صاف ستھرے, سہولیات سے آراستہ اور حرمین سے نزدیک رہائش میسر آئی, فیصل بھائی بہت مشکور ہوں,
آپ سب کے لئیے بھی یہی مشورہ ہے کہ جانے سے پہلے آنلائن ہوٹل بکنگ کرائیں اپنے بجٹ کے حساب سے اور ادائیگی وہاں پہنچ کر خود کریں, باقی ٹکٹ, ویزہ اور ٹرانسپورٹ ایجنٹ کے ذریعے کر لیں,
میری روانگی اسلام آباد سے مدینہ منورہ کے لئیے تھی اور میرے حساب سے عمرہ کے لئیے یہ روٹ بہتر ہے کیونکہ جب آپ کسی دوسرے شہر سے دو تین گھنٹے کا سفر کر کے آئر پورٹ پہنچتے تو وہاں بھی آپ کے تین سے چار گھنٹے اور اگر فلائٹ لیٹ ہو جائے تو اور بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے, پھر چار گھنٹے سے زیادہ کا ہوائی سفر اور آگے مکہ پہنچنے تک مزید دو سے تین گھنٹے لگ جاتے ہیں, تو کل ملا کر پندرہ سولہ گھنٹے کا سفر ہو جاتا ہے اور اسکے بعد عمرہ کرنے کے لئیے آپکی کی ہمت جواب دے چکی ہوتی ہے, پھر ہمارے ہاں ایک بات مشہور ہے کہ مکہ پہنچ کر فوری عمرہ کرنا ہوگا, حالانکہ آپ مکہ پہنچ کر چند گھنٹے آرام کرنے کے بعد بھی عمرہ کر سکتے ہیں, بہر حال اگر پہلا پڑاؤ مدینہ کا ہو جائے تو آپ آرام سے جتنے دن کا اسٹے ہو مدینہ میں رہیں, بارگاہ اقدس میں سلام پیش کریں, نوافل ادا کریں, زیارات کریں, اسکے ساتھ دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ جب حرم میں چلیں پھریں گے تو آپ کے پاؤں اور ٹانگیں سنگ مرمر پر چلنے کے عادی ہو جائیں گے کیونکہ عام حالات میں ہم ننگے پاؤں نہیں چلتے اور اگر جاتے ہی مکہ میں عمرہ کی ادائیگی کے وقت ننگے پاؤں سنگ مر مر پر چلیں گے تو پاؤں اور پنڈلیوں میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے, تو مدینہ پہلے جانے کی وجہ سے جب آپ کچھ دن بعد عمرہ کرتے ہیں تو اس تکلیف سے بچ جاتے ہیں, بہر حال یہ سب کی اپنی مرصْی ہے کہ پہلے کہاں جانا ہے لیکن میرا تجربہ اس لحاظ سے بہتر رہا,
یہاں سے جاتے وقت اپنے ساتھ صْرورت کے مطابق کپڑے, دو جوڑے جوتے , تولیہ اور اپنی ادویات ساتھ لے کر جائیں, ادویات اپنے بڑے بیگ میں رکھیں کیونکہ چھوٹا بیگ جو آپ اپنے ساتھ جہاز میں لے کر جائیں گے اس میں نہیں لے جانے دیں گے, اور سعودی عرب میں ادویات بہت مہنگی ملتی ہیں, سر درد, بخار, نزلہ زکام, پیٹ کے امراض, قے اور پٹھوں کی مالش کی ادویات صْرور ساتھ لے کر جائیں - زیتون کا تیل آپ وہاں سے لے سکتے ہیں کیونکہ ٹانگوں کے پٹھوں کی مالش کے لئے بہترین ہے -
آئر پورٹ پر جہاز میں سوار ہونے سے پہلے کسی سے بھی کوئی سامان نا لیں کیونکہ اس سے بعصْ اوقات آپکے لئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں,
مکہ یا مدینہ پہنچ کر ہوٹل میں سامان رکھیں, کچھ دیر آرام کر کے اور اگر بھوک لگی ہو تو کچھ کھا پی کر حرم کی طرف روانہ ہو جائیں -
میں چونکہ مدینہ منورہ پہلے گیا تو وہاں کے معمولات اگلی قسط میں آپ کے ساتھ شئر کروں گا - ان شاءاللہ