Islamic aamaal all

Islamic aamaal all Information

04/10/2022

کسری کے محلات میں زلزلہ
ولادت باسعادت کی شب میں یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ ایوان کسری میں زلزلہ آیا۔ جس سے محل کے چودہ کنگرے گر گئے ۔ اور فارس کا آتش کدہ جو ہزار سال سے مسلسل روشن تھا وہ بجھ گیا اور دریاۓ ساوہ خشک ہو گیا۔ جب صبح ہوئی تو کسری نہایت پریشان تھا۔ شاہانہ وقار اس کے اظہار سے مانع ہورہا تھا ۔۔ بالآ خر وزراء اور ارکان دولت کو جمع کر کے در بار منعقد کیا۔ اثناء دربار ہی میں یہ خبر پہنچی کہ فارس کا آتش کدہ بجھ گیا ہے۔ کسری کی پریشانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ادھر سے موبذان نے کھڑے ہو کر کہا کہ اس رات میں نے یہ خواب دیکھا ہے کہ سخت اونٹ عربی گھوڑوں کو کھینچے لے جارہے ہیں اور دریاۓ دجلہ سے پار ہو کر تمام ممالک میں پھیل گئے ۔ کسری نے موبذان سے پوچھا کہ اس خواب کی کیا تعبیر ہے۔ موبذان نے کہا کہ شاید عرب کی طرف کوئی عظیم الشان حادثہ پیش آۓ گا۔ کسری نے توثیق اور اطمینان کی غرض سے نعمان بن منذر کے نام ایک فرمان جاری کیا کہ کسی بڑے عالم کو میرے پاس بھیجو جو میرے سوالات کا جواب دے سکے۔ نعمان بن المنذر نے ایک جہاندید و عالم ۔ عبد السح غسانی کوروانہ کر دیا۔ عبدالمسح جب حاضر در بار ہوا تو بادشاہ نے کہا کہ میں جس چیز کوتم سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا تم کو اس کا علم ہے۔عبد مسیح نے کہا کہ آپ بیان فرمائیں اگر مجھ کوعلم ہوگا تو میں بتلا دوں گا ورنیسی جاننے والے کی طرف رہنمائی کروں گا ۔ بادشاہ نے تمام واقعہ بیان کیا ۔ عبدالمسیح نے کہا کہ غالبا اس کی تحقیق میرے ماموں سطیح سے ہو سکے گی جو آج کل شام میں رہتے ہیں ۔ کسری نے عبدالمسیح کو حکم دیا کہ تم خود اپنے ماموں سے اس کی تحقیق کر کے آؤ۔ عبدالمسیح اپنے ماموں سطیح کے پاس پہنچا تو سطیح اس وقت نزع کی حالت میں تھا۔ مگر ہوش ابھی باقی تھے۔ عبدالمسیح نے جا کر سلام کیا اور کچھ اشعار پڑھے سطیح نے جب عبدالمسیح کو اشعار پڑھتے سنا تو عبدالمسیح کی طرف متوجہ ہوا اور یہ کہا کہ یہ عبدالمسیح تیز اونٹ پر سوار ہو کر صبح کے پاس پہنچا جبکہ وہ مرنے کے قریب ہے ۔ تجھ کو بنی ساسان کے بادشاہ نے محل کے زلزلہ اور آتش کدہ کے بجھ جانے اور موبذان کے خواب کی وجہ سے بھیجا ہے سخت اور قوی اونٹ عربی گھوڑوں کو کھینچ لے جا رہے ہیں اور دجلہ سے پار ہو کر تمام بلاد میں پھیل گئے ہیں ۔ اے عبدالمسیح خواب سن لے جب کلام الہی کی تلاوت کثرت سے ہونے لگے اور صاحب عصا ظاہر ہو اور وادی س

01/10/2022

ولادت شریفیہ

سرور عالم سید ولد آدم حمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم وعلی الہ وصحبہ وبارک وسلم وشرف وکرم واقعہ فیل کے پچاس یا پچپن روز کے بعد بتاریخ ۸ ربیع الاول یوم دوشنبه مطابق ماہ اپریل ۵۷۰ عیسوی مکہ مکرمہ میں صبح صادق کے وقت ابوطالب کے مکان میں پیدا ہوۓ ۔ ولادت با سعادت کی تاریخ میں مشہور قول تو یہ ہے کہ حضور پرنور۱۲ ربیع الاول کو پیدا ہوئے لیکن جمہور محدثین اور مورخین کے نزدیک راج اور مختار قول یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ر بیع الاول کو پیدا ہوۓ ۔ عبداللہ بن عباس اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم سے بھی یہی معقول ہے اور اسی قول کو علامہ قطب الدین قسطلانی نے اختیار کیا ہے۔ (سیرۃ المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت مولانا سید سلمان ندوی لکھتے ہیں:۔ پیدائش ربیع الاول کے مہینہ میں پیر کے دن حضرت عیسی سے پانچ سوا کہتر برس بعد ہوئی ۔سب گھر والوں کو اس بچہ کے پیدا ہونے سے بڑی خوشی ہوئی۔

عبداللہ کے مرنے کے چند مہینوں کے بعد بی بی آمنہ کے بچہ پیدا ہوا جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم رکھا گیا۔ یہی وہ بچہ ہے جو ہما را رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کے پیدا ہونے کی دعا حضرت ابراہیم نے خدا سے مانگی تھی اور جو ساری دنیا کی قوموں کا رسول بننے والا تھا۔

حضرت مولانامحمد میاں رقم طراز ہیں:۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے جو بشارت دی تھی ۔’یاتی من بعدی اسمه احمد میرے بعد ایک رسول آۓ گا جس کا نام احمد ہوگا ۔۱۲۵ پر میل ۵۷۱ ءکو اس جان آفرین بشارت کا ظہور ہوا۔ صبح کا سہانا وقت تھا۔ ابھی سورج نہیں نکلا تھا کہ ہدایت ورحمت کا بیآ فتاب افق مکہ پر طلوع ہوا۔ شرافت اور انسانیت کے چاہن میں آپ کی تشریف آوری فصل گل کی آمدتھی تو آپ کی پیدائش بھی موسم بہار میں ہوئی ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت مولاناسیدابوالحسن علی میاں ندوی لکھتے ہیں:۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم موسم بہار میں دوشنبہ کے دن بعد از صبح صادق قبل از طلوع آفتاب پیدا ہوۓ ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والدین کے اکلوتے فرزند تھے۔ والد بزرگوار کا آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ عبدالمطلب آنحضرت کے دادا نے خود بھی یتیمی کا زمانہ دیکھا تھا اپنے ۴۴ سالہ نوجوان پیارے فرزند عبداللہ کی اس یادگار کے پیدا ہونے کی خبر سنتے ہی گھر میں آۓ اور بچہ کو خانہ کعبہ میں لے گئ

بابر اعظم کہ فینز کو برا لگے یا اچھا اب بابر اعظم نمبر 1 نہیں رہا پر ایک بار اس کہ بارے میں پڑھ لیں جو نمبر 1 آیا ہے ۔ ہ...
28/09/2022

بابر اعظم کہ فینز کو برا لگے یا اچھا اب بابر اعظم نمبر 1 نہیں رہا پر ایک بار اس کہ بارے میں پڑھ لیں جو نمبر 1 آیا ہے ۔
ہمارا پٹھان بھائی نمبر 1 آیا ہے اپنی محنت سے
یہ وہی شیر ہے جسکی کراچی کنگز میں جگہ نہیں بنتی تھی پر اب یہ دنیا کی کسی بھی ٹیم میں اوپننگ کا حق دار ہے ۔
یہ وہی ہے جسے ٹی ٹونٹی پلیئر آف دی ایئر کا ایوارڈ دیا گیا ۔
یہ وہی ہے جسنے سال میں سب سے زیادہ ٹی ٹونٹی رنز کا ریکارڈ اپنے نام کیا اور پاکستان کا نام روشن کیا ۔
یہ وہی ہے جس کو کہتے تھے چھکا نہیں مار سکتا
اس وقت پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ ٹی ٹونٹی میں رضوان کہ پاس ہے ۔
یہ وہی ہے جس کی اوریج کم تھی اس لیے انٹرنیشنل ٹیم میں جگہ نہیں بنتی
پر اب اسکی اوریج سب سے زیادہ ہے ٹی ٹونٹی کرکٹ ہسٹری میں ۔
اور سب سے اچھی بات یہ وہ کیپر ہے جو لڑنا جانتا ہے پاکستان کی ہسٹری میں ایسا وکٹ کیپر بلے باز نہیں آیا ۔
محمد رضوان کہ فین اس پوسٹ کو ایسے پھیلا دو جیسے جنگل میں آگ ۔
I love u Rizwan brother ❤️❤️❤️

27/09/2022

( ۴۷ ) کیا عورتیں مکر وفریب کی پیر ہیں؟

مد سلام بی عرض ہے کہ بہت سے لوگ عورتوں کو طعنہ دیتے ہیں اور مکر وفریب کی پیکر بتلاتے ہیں اور دلیل میں قرآن کی آیت وران كيدكن عظيم * ( سورۃ یوسف: ۲۸ ) ( بے شک تمہاری چالبازی بہت بڑی ہے ) پیش کرتے ہیں ۔ کیا میچ ہے؟ برائے کرم مطلع

فرمائیں۔(ایک دینی بہن )

جواب بی عزیز مصر کا قول ہے جو اس نے اپنی بیوی کو حرکت قبیحہ ( بری حرکت دیکھ کر عورتوں کی بابت کہا ہے،اللہ نے سورۃ یوسف میں اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ اللہ کا قول ہے اور نہ ہرعورت کے بارے میں صحیح ہے ،اس لیے اسے ہر عورت پر چسپاں کرنا اور اس بنیاد پر عورت
کومکر وفریب کا پتلا باور کرنا قرآن کا ہرگز منشا نہیں ہے ۔ واللہ علم

27/09/2022

۵۴) حضرت لقمان علی اسلام کی حکمت کا عجیب قصہ

قرآن پاک میں ہے:

ولقد اتينا لقمين الحكمة أن أشكر لله » (سورة القمان ۱۲)

اور ہم نے یقینا لقمان کو حکمت دی تھی کہ تو اللہ تعالی کا شکر کر ۔“ حضرت لقمان علیم اللہ کے نیک بندے تھے جنہیں اللہ تعالی نے حکمت یعنی عقل وفہم اور دینی بصیرت میں ممتاز مقام عطا فرمایا تھا ۔ ان سے کسی نے پوچھا تمہیں میں ہم وشعور کس طرح حاصل ہوا؟ انہوں نے فرمایا: راست بازی ،امانت داری اختیار کرنے اور بے فائدہ باتوں سے اجتناب کی وجہ سے ۔

ان کی حکمت کا ایک واقعہ یہ بھی مشہور ہے کہ یہ غلام تھے ان کے آقا نے کہا کہ بکری ذبح کر کے اس کے دو بہترین حصے لاؤ۔ چنانچہ وہ زبان اور دل نکال کر لے گئے ۔ ایک مدت کے بعد پھر آ قا نے اس سے کہا کہ بکری ذبح کر کے اس کے سب سے بدترین حصے لاؤ ، وہ پھر وہی زبان اور دل لے کر آئے ۔ پوچھنے پرانہوں نے بتلایا کہ زبان اور دل اگر بیج ہوں تو بی سب سے بہترین ہیں ، اور اگر یہ بگڑ جائیں تو ان سے بدتر کوئی چیز نہیں ۔ ( تفسیر ابن کثیر )

25/09/2022
25/09/2022

Islamic aamaal all

شہد کے چند فوائدشہد انتہائی مفید و پاکیزہ غذا ہے ۔ شہد غذا کے ساتھ ساتھ دوا کا کام بھی کرتا ہے ۔ شہد کی سب سے اہم خصوصیت...
24/09/2022

شہد کے چند فوائد
شہد انتہائی مفید و پاکیزہ غذا ہے ۔ شہد غذا کے ساتھ ساتھ دوا کا کام بھی کرتا ہے ۔ شہد کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نہ تو خود خراب ہوتا بلکہ شہد کو جس چیز میں بھی ملا دیا جائے وہ چیز بھی خراب نہیں ہوتی۔ شہد ہضم شدہ غذا ہے ۔ اور یہ معدہ میں اُترتے ہی جزو بدن بن جاتا ہے ۔ شہد کھانے کے فوری بعد توانائی کا احساس دیتا ہے اور یہ احساس بہت دیرپا ہوتا ہے۔

ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن علاقوں میں شہد کا استعمال عام ہوتا ہے ۔ اس علاقے کے لوگ طویل عمر گزارتے ہیں ۔

شہد جسم میں موجود زہریلے مادوں کے اخراج میں انتہائی معاون و مددگار ہوتا ہے ۔ جب کہ شہد میں موجود جراثیم کش خصوصیات جسم کو اندرونی و بیرونی طور صاف ، صحت مند اور بہترین بنانے میں انتہائی مددگار ہوتی ہیں۔

جو لوگ بڑھتے ہوئے وزن سے پریشان رہتے ہیں ۔ ان لوگوں کو طبی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی غذا سے چینی کو نکال کر شہد کو شامل کر لیں ۔ کیوں کہ شہد کی مٹھاس میٹابولزم کو بہترین بناتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جسمانی وزن میں بھی کمی لانے میں انتہائی اہم ہے۔

شہد کولیسٹرول سے پاک ہوتا ہے ۔ شہد میں ایسے اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے کا بڑا سبب بنتا ہے

ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہد میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس شریانوں کو سکڑنے سے بچانے میں انتہائی مفید ہے ۔ شریانوں کا سکڑنا‘حرکت قلب کا رک جانا ‘یادداشت کا کمزور ہو جانا یا پھر کثرت سے سردرد رہنا ایسی صورت حال میں ہر روز ایک گلاس پانی میں 2 کھانے کے چمچ شہد کا مکس کر استعمال کرنا چاہیے ۔ اس سے ہمارے یہ تمام مسائل حل ہو جاتے ہیں ۔

چند طبی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہد ہمیں ذہنی تناﺅ سے لڑنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے اور یہ ہمارے دفاعی نظام کو بھی بحال کرتا ہے ۔ شہد کا استعمال یادداشت کو بہتر بنانے میں بھی انتہائی معاون ہوتا ہے ۔

خالی پیٹ ایک چمچ شہد کو کھانا ہمیں نظام ہاضمہ کے امراض سے محفوظ رکھتا ہے ۔شہد پرانی سے پرانی کھانسی کی روک تھام بھی کرتا ہے اور گلے کی تکالیف و مسائل سے بھی نجات دلاتا ہے

Address

Multan
Shah Shams Tabrez
00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic aamaal all posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Islamic aamaal all:

Share