Kaleem - Kot Bachna کوٹ بچنا

Kaleem - Kot Bachna کوٹ بچنا Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kaleem - Kot Bachna کوٹ بچنا, Tourist Information Center, Kot Bachna/Tehseel shakargarh District Narowal, Shakargarr.

11/06/2024

‏کبھی کبھی ایسے واقعات ہوتے ہیں جن پر کچھ کہنے کو الفاظ نہیں ہوتے، عمران ریاض کی حج بیت اللہ پر جاتے گرفتاری افسوسناک ہے۔

09/06/2024

‏جہاں ناانصافی ہو وہاں کامیابی نہیں ہوتی

03/06/2024

‏سائفر کیس سے عمران خان اور شاہ محمود قریشی بری

09/05/2024

‏وقت برباد کرنے والوں کو ۔۔۔۔
‏وقت برباد کر کے چھوڑے گا

08/05/2024

‏"ایک جرگہ " (جس میں سلیم صافی' غریده فاروقی ' جاوید لطیف اور رانا ثنا الله بنے مہمان )

‏پوری پریس کانفرنس جب ختم ہوئی تو میں منتظر ہی تھا کہ اس آخر میں ڈی جی آئ ایس پی آر کہیں گے کہ "جرگہ " کی اس قسط سے سلیم صافی کو دیجیے اجازت الله حافظ " - کیوں کہ پورے دو گھنٹوں میں کہی بھی ایسا محسوس نہی ہوا کہ کسی نیوٹرل آئینی ادارے کا ترجمان بیٹھا ہوا ہے بلکہ ایسا لگا کہ کوئی سلیم صافی جرگہ کر رہا ہے ' یا کوئی غریده فاروقی تحریک انصاف کو "ختم شد " کی گردان سنا رہی ہے اور کئی جگہوں پر تو رانا ثنا الله مجھے " انتشاری ٹولہ ' پروپیگنڈہ " بولتے ہویے بھی محسوس ہویے - میں نے پنجاب پولیس کو پرائیویٹ باڈی گارڈ بنتے دیکھا تھا لیکن کبھی نہیں سوچا تھا کہ پاکستان کی فوج کو اتنی جلدی پنجاب پولیس بنتے بھی دیکھونگا - افسوس اس بات کا ہے کہ انہوں نے عمران خان کی نفرت اور بغض میں خود کو اتنا نیچا کیسے کرلیا کہ آئ جی پنجاب اور ڈی جی آئی ایس پی آر میں تھوڑا سا فرق بھی باقی نہ رہا ؟

‏یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ اس طرح کی پریس کانفرنس میں بیٹھے سب صحافی منظور نظر ہوتے ہیں جن کو سوال کرنے سے پہلے بولنا سکھایا جاتا ہے - یہی وجہ ہے کہ آج جتنے بھی سوال تھے وہ نو مئی کے حوالے سے تھے جب کہ چھے ججوں کے خط والا سوال بس منہ میں ہی رہ گیا - میں یہاں وہ نکات لکھ رہا ہوں جو میرے بہت سے صحافی بھایوں کے بس منہ میں ہی رہ گیے اور پاخانے میں نکل گیے -

‏اس پریس کانفرنس میں ڈی جی آئ ایس پی آر مختلف کرداروں میں نظر ایے جو سیاسی ' صحافتی ' سب تھے مگر نیوٹرل نہیں تھے -ڈی جی صاحب سے جب نو مئی پر "جوڈیشل کمیشن " بنانے کا سوال کیا گیا تو انہوں نے جس طرح اس سے پہلو تہی کی تو وہاں مجھے وہ میاں جاوید لطیف کے روپ میں نظر آیے جو ایسے ہی کسی کمیشن کے مطالبے پر کہتے تھے کہ "تحقیق کرنا ہے تو پیچھے سے شروع کریں"- اور اکثر ایسا کرتے ہویے وہ نقطہ آغاز بھی بڑا کسٹمایذڈ قسم کا اپنی مرضی کا دیتے تھے - آج اسی طرح ڈی جی صاحب نے بھی کہا کہ بنائیں کمیشن پر 2014 کے دھرنے کی بھی تحقیق کریں ' 2022 کے جلوسوں کی بھی تحقیق کریں - یہ کسی کام سے پہلو تہی کرنے کی ایک ٹیکٹک ہوتی ہے ' کیوں کہ نہ کوئی 2014 سے شروع ہوگا اور نہ نو مئی پر جوڈیشل کمیشن بنے گا - لیکن سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ اگر ڈی جی صاحب فوجی عمارتوں پر مبینہ حملے کی تحقیق کی بات کرتے کرتے کیلنڈر پلٹتے پلٹتے 2014 تک چلے ہی گیے تھے تو کچھ اور سال ریورس کرلیتے اور 3 نومبر 2007 کو ججوں کو ذلیل کرکے نکال کر ایمرجنسی لگانے اور 12 اکتوبر 1999 کو وزیر اعظم ہاؤس پر بوٹوں سے چڑھنے اور اس کو یرغمال بنانے کے مکروہ فعل کی تحقیق کا کام بھی اسی کمیشن پر ڈال دیتے - اور پیچھے جانے کا جی کرتا تو "حمود ارحمن " کمیشن کھول لیتے اور 1971 میں سقوط ڈھاکہ کا راز بھی کھول ہی دیتے - لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ ایک " جذباتی " طریقہ ہوتا ہے ' پہلو تہی کا اور "میاں جاوید لطیف " بننے کا - سو یہاں وہ میاں لطیف بنے نظر آیے -

‏پریس کانفرنس میں مجھے ڈی جی صاحب الیکشن کمیشن کے کنور دلشاد بنے بھی نظر آیے جب انہوں نے الیکشن کے نتائج کی اپنے ہی انداز میں تشریح کرکے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ تحریک انصاف پاکستان کی مقبول ترین جماعت نہیں کیوں کہ اس نے بس 31 فیصد وووٹ ہی لئے ہیں جب باقی 69 فیصد باقی جماعتوں نے لئے ہیں - لیکشن نتائج کی اس تشریح کو دیکھ کر مجھے مریم نواز یاد آگئیں جب انہوں نے ایک سروے کے نتائج کی تشریح یوں کی تھی کہ کیا ہوا کہ عمران خان اسی فیصد مقبول ہیں ' اگر اسی سروے میں میری اور شہباز شریف' نواز شریف اور زرادری کی مقبولیت کو ملا لیں تو ہم 111 فیصد بنتے ہیں ' سو ہم زیادہ مقبول ہیں -یعنی ایک جماعت کے نتائج کا باقی 23 جماعتوں سے موازنہ کرکے یہ بتایا جارہا ہے کہ باقی جماعتوں نے سب نے مل کر 69 فیصد ووٹ لیے ہیں ' سو یہ مقبولیت والا بیانیہ " پروپیگنڈا " ہے - ہاں البتہ یہ بات فخر سے بتائی گئی کہ سروے میں اسی فیصد عوام نے ہمیں سب سے قابل اعتماد ادارہ قراردیا ہے' وہ الگ بات ہے کہ اس سروے میں کل لوگ جنکا انٹرویو کیا گیا تھا وہ پورے ایک ہزار تھے -

‏یہ "ریاضی نامہ " بس یہاں نہیں رکا - تحریک انصاف کے ووٹ کو پورے ملک کی آبادی سے موازنہ کرکے یہ بھی ثابت کیا گیا کہ یہ ووٹ پوری قوم کا بس سات فیصد بنتے ہیں ' سو یہ عوامی مقبولیت والا سب چورن ہے - یہ سنتے ہویے مجھے اپنا ایک کلاس فیلو یاد اگیا جو ریاضی میں بہت کمزور تھا اور آئ ایس بی بی کے امتحان میں ٹاپ کر گیا تھا - آج کل کرنل ہوتا ہے - یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اس ملک کی کل آبادی کا 66 فیصد اٹھارہ سال سے کم ہے ' جس کا شناختی کارڈ بھی نہیں بنا ہوا ہے ' لیکن اس طبقے کو بھی نہ کسی کرنل کا نام پتا ہے ' نہ کسی میجر جرنل کا ؛ اگر اس کو پتا ہے تو عمران خان کا پتا ہے - آپ انے اس معصوم طبقے کو جس کا ابھی ووٹ بھی نہیں بنا ؛ اپنی کہانی میں شامل کرلیا -

‏اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں بس دس ہزار افراد مسنگ پرسن ہیں جبکہ دنیا کے ملکوں میں لاکھوں لوگ مسنگ ہوتے ہیں - بصد احترام ' کسی ایک ایسے جمہوری ملک کا نام بتادیں جہاں لاکھوں لوگ مسنگ ہوں اور وہاں امن و شانتی ہو ؟ میں حیران ہوں کہ سامنے بیٹھے کسی ایک دانشور کو بھی توفیق نہیں ہوئی کہ جرنل صاحب سے افریقی ملکوں کے علاوہ کسی ملک کی مثال مانگ لیتے - یہاں بھی مسنگ پرسن کے مسلے کو "پروپیگنڈا " قرار دے کر فلم آگے چل پڑی-

‏پریس کانفرنس میں یہ سوال بھی پوچھا گیا کہ "ٹویٹر " کی پابندی میں کیا فوج کا ہاتھ ہے ؟ جواب تو نہ ملا لیکن آئین کے آرٹیکل١٩ کی اپنی سی تشریح ضرور سننے کو ملی کہ جو بھی سوشل میڈیا ملکی سلامتی کے خلاف ہوگا اس کی گنجائش نہیں ہوگی ' اور "ملکی سلامتی " کے خلاف ہونے کی تشریح بس ہم ہی کریں گے -

‏آخر میں اس پریس کانفرنس میں مجھے رانا ثنا اللہ بھی نظر آیے جو بار بار " انتشاری سیاسی ٹولہ " کہتے رہے - تب میں یہ سوچ رہا تھا کہ جب رانا ثناالله صاحب تحریک انصاف کیلئے ایسے سیاسی الفاظ استعمال کرتے تھے تو رد عمل میں ان کو بھی بہت کچھ سننے کو ملتا تھا جیسے کہ "مچھڑ' رانا باندری" وغیرہ (ذاتی طور پر میں نے کبھی ان کو ایسا نہیں کہا )' اور اس طرح القابات اور ان کے رد عمل کو "سیاسی جملے بازی " کے احاطے میں محیط کیا جاتا تھا - تو اب اگر "جنکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں " وہ بھی سیاسی جملے بازی کر سکتے ہیں تو پھر ان کو رد عمل میں انے والے جواب سننے کیلئے بھی تیار رہنا چاہیے-

‏پوری پریس کانفرنس میں آج کل سپریم کورٹ میں سرگرم کیس یعنی ایجنسیوں کی طرف سے عدلیہ کو دھمکانے کے معاملے پر چھے ججوں کے خط کا کسی صحافی نے نہیں پوچھا کہ کیا آپ اس الزام کی تصدیق یا تردید کریں گے ؟ یہ سوال تو سننے کو نہ ملا لیکن جو ملا وہ تھا " نو مئی ' پروپیگنڈا ' انتشار ' سیاسی ٹولہ " -

‏ اس کانفرنس کی ایک مثبت بات بھی تھی اور وہ یہ تھی کہ چھپن چھپائی کے کھیل کو چھوڑ کر پہلی دفعہ خود سامنے آکر یہ سب الفاظ استعمال کیے گیے جو اس سے پہلے غریدہ فاروقی ⁦‪‬⁩ ' سلیم صافی ' حسن ایوب ⁦‪‬⁩ ' جیسے اپنے ماہانہ تنخواہ دار عملے کے ذریعے ہم عوام تک پہنچایے جاتے تھے - اس کانفرنس کو سنتے ہویے جو شخصیت مجھے سب سے ذیادہ یاد آئیں وہ مرحومہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ تھیں -

‏ پریس کانفرنس کا اختتام بہت حیران کن تھا کیونکہ پریس کانفرنس جب ختم ہوئی تو پریس کانفرنس کرنے والا اپنی سیاسی پارٹی کے نام' منشور اور انتخابی نشان کا اعلان کیے بغیر ہی چلا گیا -
‏⁦‪ ‬⁩

‏تحریر از ڈاکٹر⁩ وقاص نواز

29/03/2024

میرا نام کلیم اللہ خاں ہے اور میں شکرگڑھ نارووال کا رہاٸشی ہوں۔۔
بچپن سے تاحال مختلف ادوار گزرے جن میں عزیز ، رشتہ دار، دوست ، ہمجولی، ہم جماعت، تعلق دار، دفتری رفقاء کار ، افسران و ماتحت افراد سے تعلق و معاملات چلتے رہے ہیں۔ ان افراد میں سے بعض کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیا ، بعض کے ساتھ کم ہوا اور باقی افراد کے ساتھ رابطہ اور معاملات چل رہے ہیں۔ جس کو بھی میری زندگی کے کسی بھی مرحلے پر مجھ سے ملنے کا موقع ملا وہ کم از کم میرے بارے میں کچھ جانتا ہے۔ ہمارا اب زیادہ رابطہ نہیں ہے۔ میں نے "دوستوں کے درمیان دوبارہ اتحاد" نامی ایک تجربے میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ تصویر کے بغیر پوسٹ کون پڑھتا ہے، کیونکہ ہم جلدی میں رہتے ہیں اور اپنے اہم لمحات کو بھول جاتے ہیں۔
اگر کوئی اس پیغام کو نہیں پڑھتا ہے تو یہ صرف ایک سماجی تجربہ ہو گا، لیکن اگر آپ کو اسے آخر تک پڑھنے کو ملتا ہے، تو میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے بارے میں ایک لفظ لکھیں، جیسے کوئی چیز، کوئی جگہ، کوئی شخص، ایک لمحہ، کوئی ایسی چیز جس سے مراد وہ رشتہ ہے جو ہمارا تھا یا ہمارے پاس ہے۔ پھر متن کو کاپی کریں اور اسے اپنے پروفائل کے طور پر رکھیں۔ میں آپ کی وال پر جاؤں گا کہ وہ لفظ لکھوں گا جو مجھے آپ کی یاد دلاتا ہے۔ براہ کرم تبصرہ نہ کریں اگر آپ کے پاس اسے کاپی کرنے کا وقت نہیں ہے کیونکہ اس سے تجربہ برباد ہو جائے گا۔ آپ کا شکریہ، اور شروع میں اپنا نام تبدیل کرنا یاد رکھیں، بالکل آپ کی طرح، لوگ آپ کو بتائیں گے کہ وہ آپ کو کیسے یاد کرتے ہیں۔

19/03/2024

‏یہ جنگ ہار نہ جائے سپاہ ، قید میں ہے
‏غلام تخت پہ قابض ہیں شاہ قید میں ہے

‏پرندے اس لئے زنداں کے گرد گھومتے ہیں
‏کہ ان کی ڈار کا اک بے گناہ قید میں ہے

‏ترے حقوق کی کوئی نہیں ضمانت اب
‏غریب شہر ، ترا خیر خواہ قید میں ہے

‏سخن کی ہم کو اجازت ، نہ حکم دیکھنے کا
‏قلم اسیر سلاسل ، نگاہ قید میں ہے

‏سوال کون اٹھائے گا منصفوں پہ حضور
‏بری ہوئے سبھی مجرم گواہ قید میں ہے

‏یہ عرش و فرش کو اک دن ہلائے گی کومل
‏درون دل جو مری سرد آہ قید میں ہے

‏کومل جوئیہ

10/02/2024

‏شوکت خانم ديا پُترا قسم چوا لے اسساں ايڈی ايمانداری نال اج تک کوئی ہور ڈيوٹی نہيں دتی✌

Voted
08/02/2024

Voted

Address

Kot Bachna/Tehseel Shakargarh District Narowal
Shakargarr

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kaleem - Kot Bachna کوٹ بچنا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share